Featured Original Articles

ایک کہانی کے پاؤں تلے سب کی دُم آگئی ہے – عامر حسینی

ابھی تھوڑی دیر پہلے عارفہ شہزاد کے ناول “میں تمثال ہوں” کو مکمل پڑھ لیا اور یوں ایک نشست میں ہی اس ناول کو پڑھ ڈالنے پہ مجبور ہوا، کیونکہ متن آپ کو مجبور کرتا ہے کہ اسے پورے کا پورا پڑھ ڈالیے

ناول کی ہیئت/فارم پر ہمیشہ سے سوال اٹھتے رہے ہیں اور ناول ہے کہ وہ نت نئی فارم/ہیئت کے ساتھ ہمارے سامنے آتا رہتا ہے اور ہم ہر مرتبہ ناول کی فارم کی تعریف میں بدلاؤ لاتے رہتے ہیں اور کئی ایک اس کے ناول ہونے نہ ہونے پہ اعتراض وارد کرتے رہتے ہیں – “میں تمثال ہوں” کی فارم /ہیئت بیک وقت مصنف کی ڈائری کی سی بھی ہے تو ساتھ ساتھ یہ برقی خطوط کی سی بھی ہے جو ناول کی مرکزی کردار تمثال اور اس ناول میں موجود دیگر کرداروں میں سے ایک کردار ماہر نفسیات ڈاکٹر احسن کے درمیان ہوتے ہیں جبکہ باقی کے برقی مراسلوں کے تبادلے کا ہمیں یا تو تمثال کی ڈائری سے پتا چلتا ہے یا پھر آخری ابواب میں اس کے بیان سے معلوم پڑتا ہے

ایک بات تو درست ہے کہ اس ناول کے جتنے بھی کردار ہیں بشمول تمثال وہ واقعی مثل آئینہ ہیں اور ہر آئینے میں جو عکس ہے وہ ہمارے اپنے ہی معاشرے کا ہے اور جو تضادات ہم کرداروں میں دیکھتے ہیں وہ ہمارے اپنے سماج میں آدمیوں کے اپنے کردار میں موجود ہیں

ناول کے اکثر کردار درمیانے طبقے کی پروفیشنل پرت کے ہیں اور اُن کی سائیکی جس میں اُن کا مخصوص طبقاتی کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے کا بہت ہی سلجھے ہوئے انداز میں بیان کرتا ہے

ڈیجیٹل دنیا کا یہ دور جس میں ریلشن شپ کا زیادہ حصہ سماجی رابطے کی ایپس میں بنے میسنجرز اور ویب سائٹس پہ تشکیل پاتا ہے اور یہ ہمارے اندر کبھی کبھی مالیخولیائی رجحانات کو جنم دیتے ہیں جو ہمارے ریلشن شپ کو کبھی کبھی تو برباد کر ڈالتا ہے جیسے اس ناول میں ہم ہوتا دیکھتے ہیں لیکن یہی ڈیجیٹل دور ہمیں خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں بھی رکھتا ہے اور تمثال اس کی مدد سے سات میں سے کئی ایک عشق دریافت کرپاتی ہے اور ساتوں کے ساتوں عشق بہرحال اس ڈیجیٹل دنیا سے جڑے رہتے ہیں بلکہ اس دوران جو جاں پہ بنتی ہے، اس کا کیتھارسس کرنے کے لیے یہ برقی مراسلہ نگاری کام آتی ہے کہ کینیڈا میں بیٹھے ماہر نفسیات سے رابطہ استوار ہوتا ہے تو فیس بُک پہ راحمہ و رعنا جیسے دو کردار ملتے ہیں اور یہ تینوں کبھی ملے نہیں ہوتے لیکن ایک دوسرے کے دوست، غمگسار و چارہ ساز بن جاتے ہیں اگرچہ پھر ایک گدھ نما مرد اپنے داؤ کے کارگر نہ ہونے اور بھانڈا پھوٹ جانے کے ڈر سے اپنی بیوی راحمہ کو “تمثال” سے متنفر کرتا ہے اور یوں بظاہر پائیدار لگنے والا رشتہ دوستی ایک دم چھناک سے ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوجاتا ہے

اس ناول میں بظاہر بیانیہ جتنا سادہ لگتا ہے اُتنا ہے نہیں بلکہ تہہ داری اس سادگی میں چھپی ہے اور یہ تہہ داری ہمیں اس ناول میں عشق، محبت، جنس، تخلیقی وفور، عورت و مرد، ادب، مذھب سمیت کئی اقدار بارے سوالات جو کرداروں کے باہمی تفاعل اور اُن کی زہنی کشمکش سے سامنے آتے ہیں میں نظر آجاتی ہے

اس ناول کا ایک اہم موڑ جو مجھے بہت دلچسپ لگتا ہے اور ہمارے ہاں ایک پرانی بحث سے جڑا ہوا ہے وہ ہے جب کینیڈا میں بیٹھا ایک ماہر نفسیات مشرق جس میں پاکستان بھی شامل ہے اور مغربی سماجوں کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے مشرقی معاشروں کو مبتلائے نفاق بتاتا ہے تو تمثال خود تو اس پہ زرا کم تنقید کرتی ہے لیکن اپنی ایک ماہر نفسیات دوست سے رائے مانگتی ہے جو جواب میں مغربی معاشرے کے اپنے اندر نفاق اور اُن نفسیاتی الجھنوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو جبلت جنس کو شُتر بے مہار کرنے سے جنم لیتی ہیں اور اس سے جو سماجی المیے جنم لیتے ہیں اُس کا تذکرہ بھی کرتی ہے- لیکن اس الزامی جواب سے جس صورت حال سے مشرقی معاشرے کی تمثال گزر رہی ہے اُس کا حل تو نظر نہیں آتا، ہاں توجیہ و تعلیل اور خود کو اپنی حالت زار پہ قانع رہنے کے مشورے کا تاثر ابھرتا ہے

اس ناول کی تہہ میں ایک سوال ٹین ایج میں سنِ بلوغت کو پہنچ کر تبدیلیوں سے گزرنے والے بچے اور بچیوں کی سیکس ایجوکیشن کا بھی ابھر کر سامنے آتا ہے اگرچہ تمثال اور اُس سے سہمت کئی ایک کردار یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس غیر روایتی طریقے اور سُن سناکر اپنی جسمانی تبدیلیوں بارے ہمارے سماج میں بچے اور بچیاں آگاہ ہوتے ہیں، اُس سے کوئی ابنارملٹی جنم نہیں لیتی لیکن تمثال اور اس کے ساتھ ریلشن میں آنے والے کردار جنسی جدلیات کی جس منجدھار میں پھنسے نظر آتے ہیں وہ ہمارے سماج میں جنسیاتی آگاہی کے روایتی طریقہ کار کی خامیوں کا پول کھولنے کے لیے کافی ہے

کیا جنس بالذات “گناہ” یا “گندی” شئے ہوتی ہے جیسا کہ لفظ “گندا” کو ہم جنسی جبلت کے اظہار کے موقعہ پر یا اس جبلت کے تحت پیدا جذبے کے بعد تمثال کو استعمال کرتے دیکھتے ہیں یا اپنے یونیورسٹی فیلو کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں اس جبلت کے تحت اٹھائے کسی قدم کے بعد روتے ہوئے یا تلافی ما فات کے نمازیں پڑھ کر معافی مانگتے دیکھتے ہیں

ہم درمیانے طبقے کے مذھبی شعور جو صرف مذھبی متون کی قرآت کی دین نہیں ہوتا بلکہ اس میں خاندان سے لیکر کام کی جگہ پہ پائی جانے والی اخلاقیات سب شامل ہوتی ہیں اور جنسی جبلت کی جدلیات کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والا ٹکراؤ دیکھتے ہیں اور اس میں حتمی جیت کس کی ہوتی ہے؟ یہ سوال اس ناول میں سوال ہی رہ جاتا ہے کیونکہ ایک نامختتم سماجی و نفسیاتی مظہر کی مختتم تعریف کرنا کیسے ممکن ہے؟

اس ناول کے آخر میں مجھے سہیل نبراس کے پورے کے پورے مضمون کو ڈالنا اور کچھ جگہوں پر بعض لوگوں کی کیفیات سے اپنی کیفیات کی مماثلت کو یکساں دکھانے کے لیے اجمال و اختصار کی راہ کو ترک کرکے طوالت کو اختیار کرنا بے جا اور بوریت کا سبب بنتا دکھائی دیتا ہے (یہ میرا احساس ہے ہوسکتا ہے دوسرے اس سے متفق نہ ہوں) لیکن یہ احساس تو مجھے بعض اوقات کئی بڑے فکشن نگاروں کو پڑھتے ہوئے بھی ہوا اور اُس سے وہ فن پارے کم قیمت نہیں ہوئے

عارفہ شہزاد جو اردو اور پنجابی کی شاعرہ ہونے کے حوالے سے ادبی حلقوں میں معروف تھیں اپنے پہلے طبع زاد ناول کی وجہ سے وہ ادبی پہچان کی ایک نئی جہت کے ساتھ ہمارے سامنے ہیں – اور وہ خوش قسمت بھی ہیں کہ انھیں رحمان عباس جیسے اردو کے معروف اور عصر کے بڑے فکشن نگار کی طرف سے اس ناول پہ تعریفی کلمات سُننے کو ملے ہیں، قاسم یعقوب، حفیظ تبسم سمیت جتنے ریویو میں نے اس ناول پہ منظر عام پہ آتے دیکھے (ماسوائے چند ایک قدامت پرستوں اور ادب کو اخلاقیات کے تابع کرنے پہ مصر لوگو‍ن کے) وہ سب تعریفی ہیں

میں اپنا ریویو مکمل کرچُکا تھا کہ نیوز فیڈ بیک فیس بک پہ عارفہ شہزاد کی اپنی آڈی پہ ایک پوسٹ سامنے آئی جس میں اُن کی نظم ہے جو اس ناول سے متعلق ہے

کہانی نہیں سوچتی

عارفہ شہزاد

عورتیں عورتیں،دندناتی ہوئیں

اپنی تقدیس کے گیت گاتی ہوئیں

ان میں ہیں سب مہیلائیں،سیتائیں

راون کا منھ نوچ کر ہیں کھڑیں

سب کی سب

اپنے اک دیوتا کے ہی چرنوں سے لپٹی ہوئیں

سرسوتی کا ہیں روپ دھارن کیے

ہند کی دیویوں سا اچارن لیے

عورتیں عورتیں ،جھوٹ بکتی ہوئیں

بکتی جھکتی ہوئیں

جیسے سچ جھوٹ کا فیصلہ ان کے ہی ہاتھ ہے

ان میں کچھ ہیں ذرا سی جھجکتی ہوئیں

اپنی حیرانیوں میں ہی گم ہو گئیں

خلوت ذات کو

ایک دیوار پر لکھے نعرے کی صورت بھی ہیں پڑھ چکیں

پھر بھی ہمدرد بن کر نقب زن ہوئیں

پیٹتے پیٹتے چاک ان کے گریباں

اور ادھڑے ہوئے پیرہن

کیسی عریانیاں؟ سیمگوں تن ہوئیں

عورتیں عورتیں

سٹیج پر کیسے ہیں آج تن کر کھڑیں

کف اڑاتی ہوئیں

سنسکرتی کا بھاشن سناتی ہوئیں

اور پنڈال میں مرد ہی مرد ہیں

اپنی محبوب ان عورتوں کا

انھیں درد ہی درد ہے

بلبلائے ہوئے،چوٹ کھائے ہوئے

چیختے مرد ہیں

اک کہانی کے پاوں تلے

سب کی دم آگئی