Featured Original Articles

تراب (افسانہ) – عامر حسینی

یہ صبح کا وقت تھا اور کراچی یونیورسٹی کے مین گیٹ پر ایک کے بعد ایک شٹل آرہی تھی جس میں طلباء و طالبات ، اساتذہ اور یونیورسٹی ایمپلائز سوار تھے اور گیٹ پر اس شٹل سروس سے اترنے والوں میں بہت سے لڑکے ، لڑکیوں اور مرد و عورتوں نے اپنے بازؤں پر کالی پیٹاں باندھی ہوئی تھیں اور اس نے دیکھا ایک عورت کے بازو کی طرف تو کالی پٹی پر سفید رنگ سے لکھا تھا

I am present ” O ” Hussain

اس نے اس عورت سے پوچھا کہ آج اتنی بڑی تعداد کیوں بازو پر کالی پٹی باندھے اور ” آئی ایم پریذنٹ آو حسین ” لکھے آئی ہے

اس عورت نے اس کی جانب ایسے دیکھا جیسے اسے اس کی دماغی حالت پر شک ہوا ہو

تمہیں نہیں معلوم کہ یہ ایام عاشوراء ہیں اور یہ سیاہ پٹی عاشورا والوں سے اظہار عقیدت اور قاتلان اہل عاشوراء سے اظہار بیزاری کی علامت ہے

اس نے یہ سنا اور چپ ہوگیا

اتنے میں اسے کسی نے آواز دی

ھادی قبیسی ۔۔۔۔۔۔۔

اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو اسے ” شہر بانو ” کھڑی نظر آئی

بلیو کلر کی جینز اور اس کے اوپر سیاہ رنگ کا کرتہ جو گھٹنوں سے بہت نیچے تک تھا اور آنکھوں پر سیاہ رنگ کا فینسی چشمہ لگائے اور اپنے گھنے سیاہ لمبے بالوں کا جوڑا بنائے وہ اسے ابتک کے تمام عقیدت مندان اہل عاشوراء سے زیادہ بڑی عقیدت مند نظر آئی ، یہ اور بات کے اس کے بازو پر سیاہ پٹی نہیں بندھی ہوئی تھی اور اس پر کہیں نہیں لکھا تھا

او حسین آئی ایم پریذینٹ فار یو
قبیسی ! یہاں کیوں کھڑے ہو ؟
شہر بانو نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے کہا
بس یونہی ، سیاہ پٹیاں باندھے اور ” حسین ” کو اپنی حاضری لگواتے معتقدین ” کو دیکھ رہا تھا
قبیسی نے شہر بانو کو جواب دیا
شہر بانو یہ سنکر تھوڑا سٹپٹائی اور پھر کہنے لگی
لگتا کہ تم پھر سٹک گئے ہو ، یار ہر ایک کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے انداز میں عقیدت کا آظہار کرے
نہیں ! تم غلط سمجھی ہو کہ میں ان پر کوئی طنز کررہا ہوں ، بلکہ مجھے تو میلان کنڈیرا کے ناول ” ام مار ٹیلٹی ” کی کچھ سطریں یاد آگئیں تھیں جن کو میں تھوڑی سی ترمیم سے تمہیں پیش کردیتا ہوں
” ہم ایسوں کا کچھ حصّہ ایسا ہوتا ہے جو ہمیشہ زمان کی حدود سے باہر رہتا ہے اور ہمیں کبھی ایک خاص لمحے میں اپنی مکاں میں موجودگی اور اپنی عمر کا احساس ہوتا ہے اور اکثر ہم اپنے مکاں سے اور اپنی عمر سے پرے رہتے ہیں اور جس زمان میں کوئی حسین قتل ہوتا ہے تو اس وقت ” او حسین آئی ایم پریذنٹ فار یو ” کہنے والے بہت ہی قلیل ہوتے ہیں لیکن جب اس قتل کو کئی زمانے اور یگ بیت جاتے ہیں تو کئی اپنی موجودگی کا احساس دلانے ” اس زمان گزشتہ ” میں جانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں “
یار ھادی ، تم انگریزی میں کیوں کہہ رہے ہو
I am present for you “O ” Hussain “.
سیدھے سبھاؤ
لبیک یا حسین
کیوں نہیں کہتے
شہر بانو نے تھوڑا جھنجھلا کر کہا
مجھے اس جملے کی عربی میں ادائیگی عرب سامراجیت کی لسانی قبضہ گیری آگے سرنگوں ہونے کے مترادف لگتی ہے
ہادی قبیسی نے زرا انارکسٹ سے لہجے میں کہا
اور یہ تمہارا ” نام “
نام ، یہ مجھے انہوں نے دیا جنہوں نے اس دنیا میں مجھے لانے کا فیصلہ مری مرضی و منشاء کے خلاف کیا
ہادی قبیسی نے فوری جواب دیا
تو بدل ڈالو ، تبدیلی نام کا اشتہار ہی تو دینا ہوگا
میں اپنا یہ جسم اور وجود جب بدل نہیں سکتا جو مری مرضی و منشاء کے بغیر اس دنیا میں لایا گیا تو پھر میں کیسے یہ نام بدل ڈالوں ، میں اپنے باغی شعور کے ساتھ اس نام کو صرف ان کو آئینہ دکھانے کے لئے باقی رکھے ہوئے ہوں جو مجھے یہ نام دے گئے
ہادی نے کہا
اچھا ، اب کیا ساری باتیں یہیں کرڈالو گے
چلو ،چلتے ہیں ، کلاس لینی ہے کیا ؟
شہر بانو نے اس کا بازو پکڑا اور اسے گھسیٹنا شروع کردیا
مجھے آج ” سعید عالم ” کی خشک منطق ” کا سبق نہیں لینا اور ظفر عارف کی ” بلو دی بیلٹ ہٹ کرنے کی ” انقلابی ٹیکٹس ” کا پرچار بھی نہیں سننا اور ” عالیہ امام ” کی کھوکھلی “ش” سے بھرے فلسفے کی ” سرانڈ ” سے اپنے دماغ متعفن زدہ نہیں کرنا
ہادی نے انتہائی ناراضگی والے لہجے میں کہا
شہر بانو ، زرا کھلکھلا کر ہنسی اور فوری کہا
کربلاء والو! اس ہنسی پر مجھے معاف کرنا ، مگر ہادی نے بات ہی ایسی کی کہ میں اپنی جبلت کے تقاضے کو فراموش نہ کرسکی
اچھا چلو ! پھر کہاں چلنا ہے
اس واحد گھنے درخت کے سائے میں بنے بنچ پر چلتے ہیں ، جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہاں آسیب ڈیرہ ڈالے ہوئے ہيں
ہادی نے کہا
دونوں وہآں سے چل کر فلسفہ ڈیپارٹمنٹ کی عمارت کے ساتھ سے گزرتے ہوئے وہاں چلے گئے جہاں وہ گھنا درخت اکیلا سیدھا کھڑا تھا جبکہ اس کی شاخیں چاروں طرف پھیلی ہوئی تھیں نیچے ایک لکڑی کا پرانا سا بنچ تھا ، جس پر وہ دونوں بیٹھ گئے
تم رات امام بارگاہ نظر نہیں آئے ، عقیل ترابی نے بہت ہی دلنشین انداز میں اور دہلی کے داستان گو میر باقر کے سے انداز میں دو ہجری کے واقعات سنائے اور کمال کردیا ، شہر بانو نے بیٹھتے ہی کہا
ہاں جانتا ہوں کہ کیسے انہوں نے تمہیں ” عتبہ ، شیبہ اور ولید ” کے سامنے ” حمزہ و عبیدہ و علی ” کے آنے کا قصّہ سنایا ہوگآ اور پھر ” ہند ” کا تناظر دیتے ہوئے تمہیں ” صحیح شعور تاریخ اسلام ” دینے کی کوشش کی ہوگی
ہادی نے کہا
تم تو وہاں تھے نہیں ، تمہیں کیسے پتہ ؟
شہر بانو حیرت زدہ لہجے میں بولی
یار ! میں نے یہ قصّہ اس سے پہلے کئی مجالس میں اسی طرح سے ” صحیح شعور تاریخ اسلام ” کے نام سے سن چکا ہوں اور مرے ذھن میں تاریخ کو اسی ڈائمنشن میں مقید کرنے کے خلاف جذبات بیدار ہوتے رہتے ہیں
ہادی نے کہا
میں کچھ سمجھی نہیں ، کس ” بعد ” کی بات تم کررہے ہو ، کیا کوئی اور ابعاد تمہارے ذھن میں ہیں ؟ شہر بانو نے الجھے ہوئے انداز میں سوال کیا
شہر بانو ! اپنے نام کے حساب سے تو تمہیں کسی ” حسین ” سے وابستہ ہونا چاہئیے تھا اور تم یہاں ” ہادی قبیسی ” کے ساتھ بیٹھی ہو ، جسے کل رات ڈاکٹر رفیق زکریا کی کتاب
” سردار پٹیل اور ہندوستانی مسلمان “
کے صفحات پر بھی لفظوں کے اندر سے تم نکلتی نظر آتی رہی ہو اور حرام ہے جو ایک لفظ سمجھ پایا ہو یہ ہادی قبیسی
اس نے بہت ہی اداس لہجے میں کہا
میں نے تمہیں کبھی ہادی قبیسی کے طور پر دیکھا ہی نہیں ، مرے حسین ہو تم اور میں تمہیں دل میں بس ” اپنا حسین ” کہہ کر بلاتی ہوں
شہر بانو کی رو پلٹ گئی تھی ، اس نے بہکے بہکے لہجے میں کہا
مگر یار مجھے بتاؤنا تم کیا کہنا چاہتے ہو ؟ شہر بانو نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کہا
یار ! صحرا کی وہ رات کس قدر روشن رات ہوگی جب ہلال بن نافع تلوار بدست امام کے پیچھے پیچھے جارہا تھا اور امام صحرا کے بیچ جاکر رک گئے تھے ، اک نظر انہوں نے ” لشکر ظلام ” کی جانب دیکھا ، اک نظر دور اپنے خیموں پر ڈالی ، اور پھر اس وادی ” عقر ، بستی ننیوا اور وادی کرب و بلاء ” کے صحرا کے زروں پر نظر گاڑ دی تھی ، نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ ہم ابھی تک ” جلال و جمال کربلاء ” کی اس جہت کو دریافت نہیں کرپائے ، جس جہت سے ہلال بن نافع اس رات کو آشنا ہوگیا تھا
ہادی نے شہر بانو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ، وہ کچھ کھویا ، کھویا سا لگ رہا تھا
ہادی ! رکو مت ، کہتے رہو ، بولتے رہو ، تم نے اس دن کو رات کرڈالا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ منبر لگ چکا ، عزادار آچکے ، اور بس تمہارے مسند نشین ہونے کی دیر ہے ، شہر بانو کا لہجہ نیم خوابی کی حالت میں کئے جانے والے تکلم کے دوران لہجے جیسا ہوا جاتا تھا ، اور دور ، دور تک خاموشی سی چھائی لگتی تھی
” ہمارے ہآں کربلاء کو ” حزن ” سے اور ایرانی انقلاب کے بعد مڈل ایسٹ میں ” کربلاء ” کو ” ثورۃ ” کے اندر ” مقید اور محصور ” کرنے کی روایت چل نکلی ہے
انتظار حسین کو ” تبدیلی ” سے چڑ اور ماضی کے تذکرے میں ” ریڈیکل بدلاؤ : کی روح تلاش کرنے سے نفرت ہے تو وہ ” برصغیر ” میں ” کربلاء اور عاشوراء ” کی ثقافت کو صرف ” حزن و گریہ ” سے جوڑتا ہے اور مودودی کیمپ کو اس سے وہ ” انقلاب ” برآمد کرنا تھا جس سے آج مسلم دنیا میں ” اژدھا نکل ” آیا ہے اور اس کی زبان سے لپکتے شعلے سارے سماج کو جلاکر بھسم کرنے کی کوشش کررہے ہیں
تم کہنا یہ چاہ رہے ہو کہ کربلاء سے ” ثورۃ اور حزن ” کی ابعاد تلاش کرنا کار عبث ہے ؟ شہر بانو بول پڑی
نہیں یہ دونوں ابعاد کربلاء سے جڑی ہیں مگر ان میں ” کربلاء ” کو مقید کرنا ” عاشوراء والوں ” کے قد کو چھوٹا کرنا ہے
ہادی نے جلدی سے کہا
دیکھو شہر بانو ! تم اور میں محبت کے جس مرکز سے جڑے ہیں ، اس مرکز کی کوئی ایک طرف نہیں ہے بلکہ یہ اطراف کئی ہیں اور اب کوئی اسے ” ہماری عمر ” کا تقاضا کہے تو یہ ایک جہت حقیقت ہے مگر یہ ساری جہتوں کو گھیرے ہوئے تو نہیں ہے نا – ہادی نے شہر بانو کو ہاتھ سے پکڑتے ہوئے کہا
ہاں نا : شہر بانو نے مسحور ہوتے ہوئے کہا                     
مجھے نہیں پتہ کہ تم نے نیلی جینز کے ساتھ یہ گہرے سیاہ رنگ کا کرتہ کیوں پہنا اور اس پر گہرے سیاہ لمبے بال ، لیکن مجھے لگا کہ نیلے آسمان تلے اور اس پر یہ سرخ و سپید سورج کی طرج دھکتا رخ روشن ، اس کے نیچے یہ ” سیاہ ، سیاہ رنگ ” ایک آفاقی ماتم اور گریہ ہے جو تم نے اپنے آپ میں مجسم کرڈالا اور عاشوراء والوں سے مل گئی ہو ، اس میں مری شہر بانو ، مری نگاہوں کا مرکز بھی ہے اور مرا عشق بھی لیکن یہ سب اس ” آفاقی ماتم و گریہ ” میں گھل مل گیا ہے اور یہ آفاقیت ہی مجھے اس کا قطب نظر آتی ہے اور یہ تمہاری آنکھوں میں دوڑتے سرخ ڈورے اور پپٹوں پر ہلکی ہلکی سوجن ہوسکتا ہے تمہارے رت جگے کا اظہار ہو مگر مجھے یہ ” گریہ ” کی دین لگتی ہے
تم جس طرح تمہیں کسی ایک مفرد کے ساتھ میں مقید کرنہیں سکتا تو پھر کیسے میں کربلاء کے جلال و جمال کو ” ثورۃ ( انقلاب ) و حزن ” میں مقید کرسکتا ہوں
حسین ! شہر بانو بارے تمہاری یہ طلسم نگاری دیکھ کر میں سوچنے لگتی ہوں کہ یہ مادیت پرستی کی کون سی قسم ہے جو تمہارے ہاں پائی جاتی ہے ؟ تم ایک ملحد ہو ، ایک سماج واد اشتراکی ہو اور تاریخی مادیت کے عاشق ہو ، یہ کیا ہے جو تمہارے ہاں اچانک کہیں سے آن ٹپکتا ہے اور تم تو مجھے میجک رئیلزم کے ایک اور عاشق بے مثال نظر آنے لگتے ہو ، کیا تمہاری دادی اور نانی بھی تمہیں گبیرئل گارشیا مارکیز کی دادی اور نانی کی طرح اپنے ” توہماتی قصّے ، کہانیاں ” سنایا کرتی تھیں ؟ جن کو تم حقیقت کے ایک اور رخ کے طور پر پیش کرتے کبھی تھکتے نہیں ہو ، ظاہر ہے تمہاری دادی اور نانی کا لینڈ سکیپ اودھ ہوگا اور اعظم گڑھ کی گلیوں اور محلوں اور پرانی شکستہ حویلیوں سے وہ اپنا ” کربلاء ” نمودار کرتی ہوں گی اور اونچے نیچے ٹیلوں کے درمیان بنے ” ون اور ریت ” کو وہ ” صحرائے کرب و بلا ” میں بدل دیتی ہوں گی اور تم ان سے ہی ” اپنی کہانی ” تراشتے ہوں گے
شہر بانو بار بار ہادی کو حسین کہہ کر مخاطب کررہی تھی اور اس وقت وہ ایک وجد کی کیفیت کا شکار تھی
ہاں ، میں نے جب شعور سنبھالا تو اپنے ارد گرد صرف ایک مرد کو پایا اور وہ مرے دادا تھے ، باقی سب عورتیں تھیں ، مری دادی زھرہ ، مرے دادا کی بھابی ” رباب ” اور مری پھوپھی ” فضّہ ” یہ سب عورتیں ” فنتاسی اور اسطور ” گھڑنے کی ماہر تھیں ، رنگ برنگے خیالات کی بنت کاری میں بچپن سے کرنے لگا تھا ، ہمارا گھر کیا تھا وہ ایک ” طلسمات ” تھا
ہماری بیٹھک ہر وقت مزدوروں ، طالب علموں ، شاعروں اور دانشوروں سے بھری رہتی تھی اور اس بیٹھک سے آگے ایک بڑا ہال نما کمرہ جس کے چاروں طرف لکڑی کی الماریاں اور ان کے ریکس کتابوں سے ھرے رہتے تھے ، سامنے دروازے سے داخل ہوتے ہی ایک بڑی سی چوکی دھری ہوتی ، جس پر ایک سفید رنگ کی مورتی دھری رہتی ، یہ سرسوتی دیوی کی مورتی تھی اور اس کے پاس دھرا ایک مٹی کا چراغ جس کی لو میں نے کبھی مدھم پڑتے نہیں دیکھی اور مغربی جنوب کی سمت ایک اور چوکی جس پر دھرا علم عباس اور شبیہ ضریح علی و حسین مری دادی کی خواہش و آرزو کی تکمیل تھی اور اس کے مشرقی سمت ” ابوزر ” کی ایک فرضی تصویر جس میں وہ ” ربذہ ” میں ایک پھٹے پرانے کپڑے سے بنے خیمے کے اندر اپنی بیوی کے پہلو میں سر رکھے لیٹے نظر آرہے تھے اور چہرے پر سخت غم و اندوہ کے آثار نقش نظر آتے تھے ، باہر بندھی ایک بکری اور دور دور تک لق و دق صحرا اور اوپر لگا ” سرخ رنگ ” کا جھنڈا جس پر ایک تصویر میں سپارٹیکس کے غلاموں کی بغاوت کا ایک منظر مصور کی ” خلاق ” طبعیت کو ظاہر کرتا تھا ، سآتھ ہی ایک بڑی سی تصویر میں تھری پیس سوٹ پہنے کلین شیو ” ڈاکٹر علی شریعتی ” براجمان تھے اور ساتھ دیوار پر بنی ایک تصویر جس میں انتینو گرامچی کوئلے سے دیواروں پر کچھ لکھتا دکھائی دیتا تھا اور ایک تصویر جس میں نوجوان کارل مارکس اور جینی دکھائی دے رہے تھے اور نوجوان کارل مارکس ، جینی کو ” پریم پتر ” دے رہا تھا ، ایک اور دیوار پر زار شاہی روس کی فوج روسی کسانوں پر مظالم توڑتی نظر آتی تھی اور چھت کے اندرونی حصّے پر غدر پارٹی کے سپاہی برطانوی فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑے نظر آتے تھے اور ایک جگہ سبھاش چندر بوس نقش تھے
وہ ہال دادا ، دادی کے کرانتی کاری ، کلاکاری پن ، سماج واد پن ، اسطور و متھ کے اسیر ہونے کا عکاس تھا ، یہ ہال کم اور نگار خانہ زیادہ تھا ۔ میں نے اس ماحول میں آنکھ کھولی تھی اور یہی ماحول تھا جس نے مجھے فوجی بوٹوں کی ہر ایک ضرب کو ہنس کر کراہتے ہوئے سہنا سکھایا تھا اور اس روز جب تم نے مجھے ” لہو لہان ” کیمپس میں سرخ ہے سرخ کے نعرے مارتے دیکھا تھا تو تب بھی یہ ” نگار خانہ ” مجھے اپنی پناہ میں لئے ہوئے تھا ، شہری بود باش چھوڑ کر یہ جو میں بار بار تھر کا رخ کرتا اور ماؤ کی طرح بندوق کی نالی سے انقلاب برآمد کرنے کا پرچارک بنتا تو یہ بھی اسی نگار خانے کا ایک اثر تھا
تمہیں یاد ہے شہر بانو کہ میں تمہیں جب پہلی بار اس گھر لیکر گیا تھا تو میں نے تمہیں اپنی دادی ” زھرہ ” کی اجرک کے ٹکڑے پر بنی ایک تصویر دکھائی تھی ، یہ دادی نے کئی ماہ پہلے شروع کی اور یکم مئی آنے سے صرف چار گھنٹے پہلے رات تیار کی تھی ، اجرک پر بنا ماؤ ، ماؤ کم اور سندھ کا کوئی ہاری زیادہ لگتا تھا ، اور مجھے لگتا تھا کہ دادی نے اپنے تخیل کے زور پر ٹھٹھہ جھوک عنائت کے شاہ عنائت کی ایک فرضی تصویر من میں بناکر اسے ماؤ کے خدوخال میں اتار دی تھی اور اس کے بیک گراؤنڈ میں مجھے دکھائی دینے والے ٹیلے نجانے کیوں اعظم گڑھ کے دکھائی پڑتے تھے اور یہ دادی کی ہجرت کے اندر سے برآمد ہونے والی کسک تھی جو برش کے زریعے کینویس پر منتقل ہوگئی تھی ، دادی کا برش کراچی میں کھولیوں ، جھونپڑیوں کو کینویس پر اتارتا اور سندھ کے ہاری اور نچلی زات کی عورتوں کی ” زلت ” کو پینٹ کرتا اور ایمان کے جذبے میں سرشار سندھ کے پیروں اور وڈیروں کے حرم میں زبردستی راخل ہندؤ نوجوان لڑکیاں اور پنجاب کی کرسچن لڑکیوں کو کلمہ پڑھاکر حجلہ عروسی میں داخل کرتے منظر دادی پینٹ کرتی جاتی اور میں ان کے چہرے پر پھیلتے درد کے سائے دیکھتا رہتا تھا ، حلالے کی نذر ہوجانے والی مطلقہ عورتیں جن کی رانوں کے درمیان نظریں گاڑے ” مولوی ” چہروں پر وحشت سجائے کینویس پر عفریت کی طرح ابھرتے تھے
دادی کی تصویروں میں گہرا نیلا ، زرد اور سیاہ رنگ بہت استعمال ہوا کرتا تھا ، نیلا رنگ نجانے مجھے کیزں لگتا کہ یہ ” زھر ” کی علامت ہے اور زھر رسوم و رواج ، کند ہوئے ، گلے سڑی سڑی مذھبیت کا جو تقدیس کے مسجی و مقفی لبادے میں لپٹا چپکے سے ہر دوسرے ، تیسرے مرد کی رگوں میں سرایت کرتا نظر آتا تھا اور اس سے اکثر چہرے نیلے پڑے نظر آتے تھے
دادی کے کمرے میں بہت سی عورتوں کی مختلف عمر کی تصویریں بہت تھیں اور سب کے چہروں پر اداسی ، المیہ کا راج تھا ، ہنستی ہوئی عورت کے چہرے کے خدوخال میں وہ نجانے کیوں ” اداسی اور غم ” کے رنگ انڈیل رکھتی تھیں اور ہنسی سے بھی ” گریہ ” برآمد ہوتا دکھائی دیتا تھا ، پس منظر ميں صحرا میں گرے سیاہ علم ، ٹوٹے ہوئے ان کی نوکیں ، ادھ جلے خیمے اور ان سے نکلتے شعلے ، ، حاشیہ پر بے سر لاشوں پر دوڑتے گھوڑے ، ایک بچی کے منہ پر طمانچے مارتے سپاہی ، پابا زنجیر ، دھکتے گالوں کے ساتھ ، چہرے پر سخت تکلیف کے آثار اور تھوڑی تھوڑی ورم زردہ آنکھوں کے ساتھ لڑکھڑاتے ہوئے انداز میں ننگے پیر ، ایک اونٹ کے پیچھے بندھی زنجیر سے بندھا گھسیٹتا ہوا نوجوان ، آگے پیچھے لق دق صحرا
ایک بازار کا منظر ، مکانوں کے چوباروں پر کھڑی عورتیں ، راستے کے اطراف کھڑے مرد اور عین بازار کے بیچ ، ایک چوک میں ننگے سر ، ننگے پیر ، کھلے بالوں ، سوجی ہوئی آنکھوں اور چہرے پر غم واندوہ کے ساتھ قہر و غضب کے آثار لئے تن تنہا ، جذبات کی شدت میں ہاتھ اٹھائے ایک عورت جو شاید خطاب کررہی ہوتی تھی
ایک اور منظر کسی دربار کا ، وہاں وہی کھڑی عورت ، سامنے تخت پادشاہی پر بیٹھا مکروہ صورت لیے لباش شاہانہ زیب تن کئے ایک بادشاہ اور اس کو للکارتی عورت اور ایک نوجوان
میں ان تصویروں کو گھنٹوں تکا کرتا ، ان تصویروں کا لینڈ اسکیپ پہلی نظر میں مجھے ہندوستان کا لگتا نہیں تھا ، چہرے مجھے دورپار کی کسی سرزمین کے لگتے ، لیکن جونہی میں زرا سائیڈ سے ترچھے ہوکر دیکھتا ان چہروں میں مجھے کئی اور ہندوستانی چہروں کی جھلک دکھلائی پڑتی ، سیتا و کالی بھی جھانکتی نظر آتیں ، ایک چہرے میں مجھے خواجہ فرید اور موہراں کے چہرے گڈمڈ نظر آئے ، کہاں خواجہ فرید شروع ہوتے اور کہاں موہراں کچھ پتہ نہ چلتا تھا
ایک مرتبہ میں نے دادی سے پوچھا
زھرہ دادی ! یہ تو بتاؤ یہ ایک چہرے میں کئی چہرے پینٹ کرنا کیسا ہے ؟ یہ کیوں تمہارے ہاں ادھ جلے خیمے ، لاشوں پر دوڑتے گھوڑے ، سیاہ علم ، اجنبی سے لینڈ اسکیپ پر بنے بازار میں کھڑی مجسم بغاوت عورت کا چہرہ ، سندھ ، اودھ کے لینڈ اسکیپ کے چہروں سے گڈمڈ ہوجاتا ہے
دادی نے کہا !
یہ سب کیوں اور کیسے ہوتا ہے یہ تو مجھے پتہ نہیں لیکن مجھے ایک چہرے سے جھانکتے کئی چہروں کے خدوخال کی وحدت میں غم ، مظلومیت اور مصائب ایک سے لگتے ہیں اور یہ سب کے سب ایک ہی طرح کے ” انحراف و انکار ” سے جڑے نظر آتے ہیں اور ایک چہرے کی بغاوت مجھے دوسروں چہروں کی بغاوت کو اس میں گڈ مڈ نظر آتی ہے تو تصویر میں یہ سب گھل مل جاتے ہيں
بیٹا ! یہ تصویریں مرے سماج واد ناستک شیعہ پن کا اظہار ہیں ، دادی نے قدرے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے مجھے باور کرایا تھا مگر ان کے لہجے میں جو درد تھا ، اسے میں محسوس کرکے تڑپ اٹھا تھا
ہادی ! یہ ” شناخت ” کا گھن چکر ہم سب کو اپنی لیپٹ میں لئے ہوئے ہے مگر کسی کسی کے ہاں تو یہ ایک بڑا درد بنکر سامنے آتا ہے          
شہر بانو نے اسے مخاطب کیا
ہاں ، شناختوں کی تکثیر سے بنی یہ وحدت اندر سے کتنی ٹوٹی پھوٹی ہوتی ہے ، اس نے مجھے بے حال کررکھا ہے ، میں تمہیں یونیورسٹی میں بولایا ، بولایا سا ملا تھا تو اندر کی اسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا
تمہیں پتہ ہے کہ جس دن گاندھی کو پتہ چلا کہ اس کے سب سے قابل چیلے نہرو ، پٹیل اور ابو الکلام نے ماؤنٹ بیٹن کو خفیہ طور پر تقسیم بارے ہری جھنڈی دکھادی ہے تو اس دن رات بھر وہ ایسی ٹوٹ پھوٹ سے گزرے کے لفظوں میں اس کا بیان ممکن نہیں ہے

دادی کہتی تھیں تصویروں اور کتابوں سے جتنے مںظر انھوں نے اپنی کینویس پر دوبارہ اتارے وہ ان کے اندر جمع ہوکر ایسی دھماچوکڑی مچاتے کہ بس اللہ کی پناہ ، مظلومیت کی جہتیں اس کے قابو میں ہی نہیں آتی تھیں ، نہ یہ تصویر لفظوں سے مکمل ہوتی ، نہ ہی کینویس پر اتر پاتی

تو کیوں نہیں آئے کل امام بارگاہ
شہر بانو نے اچانک پھر اس سے سوال کیا
وہاں تصویر یک رخی سی ہے ، کلیشے بہت اور الفاظ بھی معانی سے خالی ، سو نہیں گیا
تو لاہور چلے جاؤ ، وہاں حویلی نثار ہے ، وہاں تمہیں فیض و صفدر میر کی روحیں مل جائیں گی ، ہوسکتا ہے میر انیس و میر دبیر بھی آجائیں اور اپنے ساتھ خاکپائے آل البیت لگانے والا ابو رسول الشمری بھی ” قلعۃ الحسین المعینۃ ” کہتا ہوا مل جائے
شہر بانو نے کہا
نہیں جو میں ڈھونڈتا ہوں ، وہ مجھے وہاں بھی نہیں ملنا
ہادی نے کہا
تو کہاں ملے گاشہر بانو نے سوال کیا
پتہ نہیں
ہادی نے جواب دیا اور کہنے لگآ
مجھے کربلاء کے جلال و جمال کی سبھی جہتوں کی تلاش ہے جو ثورۃ و حزن سے جڑی ہیں اور ان سے آگے کی طرف کی راہ دکھاتی ہیں اور اس جلال و جمال کا قطب حسین ہے جو وراثت انسانیت کا حامل ہے ، مجھے اسی حسین کی تلاش ہے جو کسی ایک تنگ دائرے میں گھومتا ہوا نہ دکھایا جائے اور اسے ہزاروں دائروں میں قطب انسانیت کے ساتھ گردش کرتا ہوا اگر کوئی دکھا سکتا ہے تو وہ خود حسین ہے ، وہ یہ ابواب خود ہی ہم پر کھولے تو کھولے
شہر بانو ! تم نے ایک مرتبہ مجھے کہا تھا کہ یہ نہج البلاغہ کبھی کسی جملے کو تم پر کھولے گی تو تم ” سر حسین ” پالوگے
جانتی ہو ! میں اسی لمحے اپنی دادی کے درد کو سمجھ پایا تھا کہ اس کے برش سے کینویس پر ایک مظلوم چہرے میں کئی چہرے جھلکتے کیوں تھے اور کبھی کبھی تو مجھے ان کے اپنے چہرے میں بازار میں کھڑی وہ عورت جھلک مارتی دکھائی دیتی تھی جس نے چوک پر کھڑے ہوکر کربلاء کے صحراء کی سرخی کو سب کے سیاہ چہروں پر ملا تھا اور ان کو کہا تھا کہ اب اس صحرا کا رخ کرنا اور وہاں کی تراب کے زرے زرے کی سرخی کو ہاتھوں پر ملنا اور اس سے نکلتے سرخ نور کے لشکاروں کو دیکھنا ، ہوسکتا ہے کہ تم کربلاء کے جلال و جمال کو دیکھنے کے قابل ہوجاؤ
ہادی کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ، شہر بانو لکڑی کے پرانے بنچ پر بیٹھی ہلکے ہلکے سے کانپ رہی تھی اور اس کی سسکیوں نے ماحول کی خاموشی کو توڑ دیا تھا ‎
نوٹ: مجھے “حسینی” ہونے کا طعنہ تین دن سے مسلسل سننے کو مل رہا ہے اور میں بابا بلھے شاہ کے شعر کی گردان کرتا رہا ہوں ( او تینوں کافر کافر آکھدے توں آھو آھو آکھ ) کیا اتفاق ہے کہ میں اپنے افسانوں کا ایک مجموعہ ترتیب دینے کی کوشش میں لگا ہوا ہوں ان دنوں تو یہ ایک افسانہ “تراب” میرے سامنے آگیا ۔۔۔۔۔ اسے پڑھ لیں