Original Articles Urdu Articles

قریشی صاحب مرے تو لائبریری بھی مرگئی – عامر حسینی

نیلے نیلے امبر پہ چاند جب آئے

پیار برسائے، ہم کو ترسائے

ایسا کوئی ساتھی ہو ، ایسا کوئی پریمی ہو

پیاس دل کی بجھا جائے

کشور دا کی آواز میں یہ گانا سنتے ہوئے میں سال کے آخری صبح کی شروعات کی تو میں سوچنے لگا کہ یہ سال پچھلے سال کے آخری نویں مہینے سے جڑا ہوا ہے جب ہمارے ہاں “کورونا” کے بارے میں آوازیں اٹھنا شروع ہوئی تھیں اور پوری دنیا لاک ڈاؤن کی طرف جارہی تھی اور تب سے اب تک فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن “سمارٹ لاک ڈاؤن” میں بدل گیا ہے۔ لیکن مجھے ایک بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ میں نے اس سال جتنے جنازے پڑھے اتنے جنازے میں نے معمول کے دنوں میں گزشتہ سال نہیں پڑھے تھے۔ اس سال میری خوشدامن گزر گئیں، میرے کزن کے شوہر نہ رہے، ماموں بابو نہیں رہے۔ میری پیاری نانی خاموشی سے گزر گئیں۔ لیکن یہ سب اموات طبعی تھیں اور ان میں کوئی کورونا کا شکار نہیں ہوا تھا۔ لیکن کورونا نے کچھ ایسے لوگوں کو بھی شکار کیا جن کے مرنے کا اب تک یقین نہیں ہوتا- ہمارے جاوید اقبال ہاشمی ایڈوکیٹ جو ہمارے شہر کی سیاسی و سماجی و قانونی زندگی میں لازم و ملزوم سمجھے جاتے تھے اور ان جیسے خوش پوش اس شہر میں اب بہت کم رہ گئے ہیں، ایک دن اسی کورونا کے ہاتھوں شکار ہوئے اور ان کے بغیر کاروبار زندگی ویسے ہی چل رہا ہے جیسے ان کے ہوتے ہوئے چل رہا تھا۔ ان کی خوش پوشی اور ان کی بدن بولی کی نقل شعوری یا لاشعوری طور پر کرنے والوں کی کہچری میں اب بھی کمی نہیں ہے- کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ آدمی کتنے تضادات کے ساتھ زندگی گزار لیتا ہے۔

جاوید ہاشمی کی بدن بولی، حرکات و سکنات اور خوش پوشی کی نقل اتارنے کی کوشش کرنے والوں میں ان کے ایسے شاگرد زیادہ شامل ہیں جنھوں نے ان کو ان کی زندگی میں ہی بار کی سیاست میں چیلنج کردیا تھا اور وہ اس کی ترقی کو ترقی ماننے کو تیار نہ تھے اور اب خود انہی سیڑھیوں سے وہاں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں جہاں تک ہاشمی صاحب پہنچے تھے۔ ہاشمی صاحب جب بار کی زندگی میں داخل ہوئے تھے تو اس زمانے میں لوگ باری گیلانی، علی حسین سید، قیوم بھٹی ،دلبر واسطی جیسے لوگوں کو آئیڈیل بناتے تھے اور ہمارے ہاشمی صاحب دھماکہ خیز انٹری ڈال کر بار میں آئے تھے اور انہوں نے ان سب لوگوں کو کسی نہ کسی طرح اپنے سرپرستوں میں شامل کرلیا تھا اور اپنے کئی ہم عصروں کو بچھاڑ دیا تھا۔ باری گیلانی، علی حسین سید ، دلبر واسطی، خان یعقوب خان و دیگر کئی اپنے وقت پر زیرزمین اتارے گئے لیکن کیا قیوم بھٹی جیسے بزرگوں نے یہ سوچا تھا کہ انھیں اپنی زندگی کے ٹمٹماتے چراغ کی دھندلی سی روشنی میں ہاشمی صاحب کو مرتا ہوا دیکھنا پڑے گا؟

میں سوچ رہا تھا کہ ایک زمانہ تھا جب میرے شہر کی ہر گلی میں دس سے بیس منجھے ہوئے نظریاتی سیاسی کارکنوں کی گلی کہلاتی تھی اور معروف چوکوں میں سیاسی بیٹھک ہوا کرتی تھیں۔ میں سوچتا ہوں کہ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ میرا شہر کبھی شاعری، فکشن، تنقید سے شغف رکھنے والوں سے خالی ہوجائے گا۔ اور کبھی حنیف پینٹر جیسے موسیقی کے استاد ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے اور جب میں خود کتابیں لکھنے لگ جاؤں گا تو مجھے اپنے شہر میں “کتابوں” کی دکان نہیں ملے گی اور کوئی کتابوں کا اسٹال نہیں ملے گا جہاں میں اپنی کتابیں رکھواسکوں اور لوگوں کو کہوں فلاں جگہ سے میری کتاب مل جائے گی – مجھے ریلوے اسٹیشن پر اپنے اختر صاحب کا بک اسٹال یاد آتا ہے جو پورے ملک سے شعر و ادب و تاریخ کی کتابیں منگوا کر اسٹال پہ رکھا کرتے تھے اور میں سوچا کرتا تھا کہ کبھی میری کتاب بھی وہاں اسٹال پہ سجی ہوگی لیکن اختر صاحب نے وہ اسٹال کیا چھوڑا وہاں کتابیں اور رسائل بکنا کب کے بند ہوگئے۔ حاجی شیر علی یاد آتے ہیں کہ وہ کتابیں منگوا کر رکھ لیا کرتے تھے اور کتب خانہ اشرفیہ پہ کتابیں مل جایا کرتی تھیں- اب تو یہ سب اسٹیشنری اور گفٹ سنٹر کی دکانیں بن گئی ہیں۔

گزرے سالوں میں چائے کے ٹی اسٹالوں پہ نہ سیاسی بیٹھک ہوتی ہیں نہ ادیبوں کی سنگت میسر آتی ہے اور نہ کوئی ایسی جگہ ہے جہاں سے ہارمونیم، طبلہ کی آوازیں ابھرتی ہوں۔ اس شعر سے نہ کوئی ادبی رسالہ نکلتا ہے اور نہ ہی ہفتہ وار کوئی مجلس ہوتی ہے۔

ہاں شہر کے سولہ بلاکوں کے اردگرد فاسٹ فوڈ، بار بی کیو کی ان گنت دکانیں کھل گئی ہیں۔ شہر بازارستان لگنے لگا ہے۔ کاموڈیٹی میں کتاب، ہارمونیم، گٹار، پینٹنگ سامان تو نہیں ہے باقی بہت کچھ ہے۔ میں جس گھر میں جاتا ہوں وہاں مجھے کتابوں کے نام پر مذہبی لٹریچر تو کسی کونے میں رکھا مل جاتا ہے لیکن شاعری و فکشن و تاریخ و سماجیات کی کتابیں ندارد ہیں۔ الگ سے اسٹڈی روم تو اب یہاں نایاب ہوگئے ہیں- میں نے ایک زمانے میں دو سے تین مرحلے کے مکانوں میں سیاسی کارکنوں ، طالب علموں اور عام شہریوں کے گھروں میں ان کی بیٹھک یا سونے کے کمروں میں ایک یا دو الماریوں یا صندوق میں بھری کتابیں ضرور پاتا تھا۔ کچھ خوش گمانی میں نے یہ پالی تھی کہ چلیں میرے شہر کے مکانوں میں کتابیں عنقا ہوگئی ہیں تو چلیں سمارٹ فون کے کسی فولڈر میں پی ڈی ایف یا ای فارمیٹ میں کتابیں رکھنے کا رجحان ہوگا لیکن پورے شہر میں درجن بھر لوگوں سے زیادہ نہیں ملے اور وہ بھی ویادہ تر مذہبی کتابیں رکھے ہوئے تھے۔

ڈاکٹر خالد رفیق کے پاس کل گیا تھا اور ان کو میں نے عباس زیدی کے ناول “کفار مکّہ” کا اردو ایڈیشن دیا تو وہ کہنے لگے کہ مجھے آپ کے فیس بک اسٹیٹس کا انتظار رہتا ہے کیوں وہ سوچنے پہ مجبور کرتا ہے- میں ان کی بات سن کر دل میں سوچنے لگا کہ ڈاکٹر خالد رفیق کتاب دوست نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ اب خود 60ء کے پیٹے میں ہیں، کیا ان کے بچے جو خود اب پروفیشنل ہیں، ایک بیٹی ڈاکٹر ہے جس کی ابھی شادی ہوئی کیا وہ بھی ایسے کسی فیس بک آئی ڈی پہ نئی پوسٹ کے منتظر رہتے ہیں جو ان کو سوچنے پہ مجبور کردیتی ہو اور ان کو دولے شاہ کے چوہے بننے سے روکنے میں کردار ادا کرتی ہو۔

ہمارے ہاں ایک کتاب کا زیادہ سے زیادہ ایڈیشن 1000/2000/3000 /5000 ہوتا ہے اور کبھی کوئی کتاب مشکل سے دس بیس سالوں میں لاکھ نسخوں کا ہدف چھو پاتی ہے۔ 20 کروڑ کی آبادی کا یہ ملک جس میں زیادہ 16 سے 25 سال کے نوجوانوں کی ہے یہ تعداد انتہائی مایوس کن ہے اور جب میں اپنے شہر کو دیکھتا ہوں تو اس شہر میں بلدیہ کی لائبریری، کالج کی لائبریری اور دو پرائیویٹ لائبریریاں ہوا کرتی تھیں۔ بلدیہ کی لائبریری جناح لائبریری میں بدل گئی جہاں جب جاؤ تو سنسان ملتی ہے اور کالج کی لائبریری میں ایک مہینے میں دس سے کم وزیٹر آتے ہیں اور وہ بھی نصابی مدد لینے والے مواد کی تلاش میں اور نجی لائبریریاں جن میں قلی بازار میں زاہد قریشی کی “قریشی لائبریری ” تھی وہ اب “کھل اور چوکر و ونڈا” کا مرکز بن گئی ہے۔ قریشی صاحب مرگئے تو لائبریری بھی مرگئی اور ایسے ہی دوسری لائبریری انعم نسیم لائبریری 16 بلاک میں تھی جو میرے دوست شیخ باغ علی دلّی والے نے قائم کی تھی اور آج وہاں انھوں نے اپنے بیٹے کو ٹیلرنگ شاپ بناکر دے دی ہے تاکہ روزی روٹی وہ کماسکے۔

ہاں کچھ مساجد کے نیچے اور ایک دو بازاروں میں دعوت اسلامی سمیت کچھ مذہبی تنظیموں نے دکانیں کھول رکھی ہیں جہاں تسبیح، لوٹے، ٹوپیاں، جاۓ نماز، آب زم زم، مسواک، عطر کے ساتھ ساتھ ان کی کچھ کتابیں برائے فروخت ملتی ہیں۔ ویسے میرے شہر میں جہاں ڈھونڈے سے اکا دکا گاڑی نظر آتی تھی اب گاڑیوں کی بھرمار ہے ۔