Original Articles

عمران خان کو شیڈو کبینٹ کا پتہ نہیں تھا؟ – احمد طوری

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی حکومت کو تیاری سے پہلے اقتدار میں نہیں آنا چاہیے، تین ماہ تو ہمیں گورننس سمجھنے میں لگ گئے، ڈیڑھ سال تک تو صحیح اعداد و شمار ہی پتا نہیں چل سکے, بجلی کے بارے میں سوچ کر رات کو نیند نہیں آتی۔

وزیراعظم عمران خان کہتے ہوئے تھکتے نہیں تھے کہ بیس سال انگلینڈ میں گزارے لیکن آج کی تقریر سے پتہ چلا کہ موصوف انگلینڈ میں کیا کرتے رہے کیونکہ خان صاب کو شیڈو کیبینٹ کا پتہ بھی نہیں۔

وزیراعظم کے بعد سب سے بڑا عہدہ اپوزیشن لیڈر کا ہوتا ہے اور جب اپوزیشن لیڈر منتخب وزیراعظم پر تنقید کرتا ہے تنقید کرتا ہے تو انہیں حالات کا زیادہ پتہ ہوتا ہے اسلئے زیادہ تنقید کرتا ہے اور عمران خان ڈھائی سال حکومت کرنے سے پہلے بائیس سال بطور اپوزیشن لیڈر سب پر تنقید کرتے رہے اور عوام کو باور کراتے رہے کہ ان کے پاس اسد عمر، حامد خان، وجیہہ الدین، اکبر ایس بابر، فوزیہ قصوری، سلمان احمد (گلوکار) سمیت کئی مضبوط لوگوں کی ٹیم موجود ہے جو حکومت میں آکر صرف نوے دن میں سب کچھ ٹھیک کر دے گی۔ صرف نوے دن میں۔دراصل اپوزیشن ایک شیڈو کیبینٹ بناتی ہے جو حکومت کے ہر وزیر کے پالیسیوں کو دیکھتی ہے اور پھر اپنی پالیسی بھی دیتی ہے حتی سالانہ بجٹ بھی تیار کرتی ہے۔

جہاں تک مجھے یاد ہے، پیپلزپارٹی بھی مشرف دور تک کیبینٹ بناتی تھی بعد میں یہ روایت ختم ہوئی۔ شیڈو بجٹ الطاف حسین (متحدہ قومی مومنٹ) بھی بناتی رہی۔عمران خان صاحب ہمیں باور کراتے تھے کہ تحریک انصاف کے پاس اسد عمر جیسے عظیم معیشت دان موجود ہیں جو پچاس لاکھ ماہانہ تنخواہ چھوڑ کر تحریک انصاف میں اسلئے شامل ہوئے کہ ملک کی معشیت کا بیڑہ اُٹھائیں! یہ الگ بات ہے کہ جنرل عمر کے فرزند جو چند ماہ میں چلتا کیا اور پھر واپس لے آئے، اسد عمر کے معیشت پر بھاشن سن سن کر کان پک گئے تھے کہ جب اپوزیشن میں تھے اور پٹرول اور ڈیزل کا حساب کتاب کرتے تھے۔

خان صحب کے پاس حامد خان جیسے وکیل رہنما بھی تھے جنہوں تحریک انصاف کے لئے دو عشروں تک ہر محاذ پر وکالت کی اور جسٹس ریٹائڑڈ وجیہ الدین جیسے سابق اور ماہر قانون دان تھے وہ الگ بات ہے کہ پارٹی فنڈنگ، بدنظمی اور پارٹی انتخابات پر دونوں ماہر قانون دانوں کو حکومت میں آنے سے پہلے ہی چلتا کیا۔عمران خان کے پاس اکبر ایس بابر جیسے بہترین بیورکریٹ بھی تھے جو پارٹی کو وننگ پوزیشن پر لے آئے لیکن فارن فنڈنگ میں خورد برد پر اکبر صاحب کو چلتا کیا اور کیس خان خان صاحب کے گلے پڑ گیا ہے۔پانچ سال گزارنے کے بعد منتخب حکومت ختم ہوجاتی ہے تو انتقال اقتدار تین مہینوں کے لئے عبوری حکومت کے حوالے کیا جاتا ہے۔

یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ ہر پارٹی کو چاہیے کہ عبوری وزراء سے بریفنگ لیں اور جو پارٹی حکومت میں تھی انہیں تو پتہ ہوتا ہے کہ حالات کیسے ہیں لیکن عمران خان جیسے رہنماؤں کو چاہئے کہ ہر وزیر کے ساتھ ایک شیڈو وزیر لگائیں اور حکومت میں آنے کے بعد بآسانی عنان اقتدار سنبھالیں اور اپنی بنائی ہوئی منشور اور پالیسی کے تحت حکومت چلائیں۔ اور ہاں! عمران خان صاحب کے کیبینٹ میں تو مسلم لیگ، پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی وزراء کی بھرمار ہے حتی جس پر زیادہ اعتراض ہے بجلی کی وزارت وہ تو مسلم نواز کے دور میں بھی عمر ایوب پانی و بجلی کے وزیر مملکت تھے اور خزانے کے وزیر حفیظ شیخ پیپلزپارٹی اور مشرف دونوں کے ساتھ وزیرخزانہ رہ چکے ہیں اور اسٹیٹ بنک کے رضا باقر آئی ایم ایف سے مستعار لیئے گئے ہیں! تو عمران خان کا رونا اس پر بنتا نہیں۔

عمران خان کو بذات خود دس سال تک بھرپور حمایت کی ہے اور حکومت میں آنے کے بعد بھی حمایت کی ہے۔ لیکن ایک سال گزرنے کے بعد جب خان صاحب اور ان کی حکومت کی نااہلی ظاہر ہونا شروع ہوئی تو مکمل طور پر حمایت واپس لی ہے۔ لگتا ایسا ہی ہے کہ خان صاحب کو پہلے کچھ پتہ نہیں تھا اور آج بھی یقین نہیں آرہا کہ حکومت میں ہیں۔