Original Articles

بنگلہ دیش کیسے بنا؟ – عامر حسینی

میں نے جب سے شعور سنبھالا تو سولہ دسمبر کا دن “سقوط ڈھاکہ” کے عنوان سے سامنے آیا اور اس حوالے سے گھر سے اسکول اور پھر کالج اور بازار میں جس سے بھی کچھ سُنا تو مُکتی باہنی کے “پاکستان سے محبت کرنے والوں پر مظالم کی داستانیں، قصے کہانیاں، محب وطن پاکستانیوں کی عورتوں سے جنسی زیادتی، گھروں اور دوکانوں کو آگ لگائے جانے کے قصے اور وہاں سے اجڑنے والوں کے قصے تھے-“ سوال اٹھتا تھا کہ مکتی باہنی کیا تھی؟ جواب ملتا ہندوستان کی تیار کردہ غدار اور برین واش کیے گیے بنگالی دہشت گرد جن میں ہندوستانی فوج کے تربیت یافتہ گوریلے اور بنگالیوں میں بھی اکثریت ہندؤں کی تھی یا ایسے. بنگالی مسلمان تھے جن کو مشرقی بنگال کے اسکول و کالج و یونیورسٹی میں پڑھانے والے ہندؤں نے گمراہ کردیا تھا

میرے ددھیال میں اُن دنوں نوائے وقت آتا تھا، اسکول میں جسارت، اور پڑوس میں جماعت اسلامی کا افریشیا آتا تھا

نوائے وقت میں میگزین اور ادارتی صفحے پر ایک صحافی تھے بدر نام کے آگے اُن کے کیا آتا تھا بھول گیا، انہوں نے سقوط ڈھاکہ بارے تھوڑا سا بیانیہ تبدیل کیا، بیانیہ یہ تھا کہ شیخ مجیب پاکستان توڑنا نہیں چاہتا تگا لیکن اُس کی جماعت کا جنرل سیکرٹری اور دیگر لوگ بھارت کے ہاتھوں بک گئے جبکہ بھٹو نے جنرل یحییٰ کو بلیک میل کرنا شروع کردیا اور انتقال اقتدار نہ ہونے دیا، یہ بیانیہ اور اس سے پہلے والا بیانیہ دونوں مغربی پاکستان کی اسٹبلشمنٹ اور اس میں سویلین بابو اور فوجی جرنیل شاہی دونوں کو صاف بچاکر لیجاتے ساری گالیاں پہلے بیانیہ کے تحت بنگالی ہندؤ، برین واش بنگالی مسلمانوں اور بھارت کو پڑتیں اور دوسرے بیانیہ کے تحت ساری گالیاں بھٹو اور اُس کی پیپلزپارٹی کو پڑجاتیں

ان دونوں بیانیوں میں مارچ 1971ء سے شروع ہونے والا ملٹری آپریشن اور اس آپریشن کے نتیجے میں 16 دسمبر تک 30 لاکھ کے قریب بنگالیوں کا قتل عام، ہزاروں نوجوان عورتوں کو جنسی غلام بنایا جانا اور ہزاروں قصبات، گاؤں اور شہروں کو نذر آتش کرنا، مودودی اور مولوی فرید کی جماعتوں کے نوجوانوں کو بھرتی کرکے جن کی اکثریت غیر بنگالی تھی جہادی لشکر بناکر عوامی لیگ کے حامیوں کا اغوا و قتل کرانا یہ سب “دشمن کا پروپیگنڈا” کہلاتا تھا

ہمارے سامنے بس کچھ اس طرح کے کام تھے کہ بنگلہ دیش سے مطالبہ کہ وہ مکتی باہنی کے مظالم پہ معافی مانگے، اپنے پاکستانی نوجوان زہنوں میں بنگلہ دیش کو واپس پاکستان میں شامل کرنے اور بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے انتقام لینے کو سب سے بڑا آدرش بنانا اور پاکستان میں جمہوریت پسند سیاست اور سیاسی جماعتوں کو گالیاں دینا، اُن سے نفرت کرنا

اس سارے دور میں، میرے سامنے نہ تو کبھی شیخ مجیب اور اُن کی جماعت عوامی لیگ سے جڑے دانشوروں، سیاست دانوں کا کوئی موقف آیا، اردو لٹریچر میں یہ باتیں ویسے ہی کہیں پڑھنے کو نہیں ملتی تھیں

میں نے مغربی پاکستان کے کسی بڑے اخبار، کسی بڑے میگزین کے ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹر، کسی بڑے مضمون نگار کو جو کم از کم 60ء اور 70ء کی دہائی میں اُن عہدوں پر تھے کا کوئی تحقیقاتی کام چاہے سوانحی شکل میں کیوں نہ ہو چھپا نہیں دیکھا جس میں اُس نے مغربی پاکستانی پریس میں مشرقی بنگال سے آئی خبروں، اطلاعات، رپورٹوں کا زکر کیا ہو جو سنسرشپ کی نذر ہوئیں… یہ کون سی “حب الوطنی” تھی کہ اس زمانے کی مغربی پاکستان کی صحافتی اشرافیہ مشرقی بنگال بارے سنسرشدہ صحافتی خزانہ اپنے سینے میں چھپائے لے گئی؟

وہ نو صحافی جو کراچی سے مشرقی پاکستان گئے تھے اور انھوں نے اُن سب علاقوں کا دورہ کیا تھا جن کا زکر مارننگ نیوز کراچی کے اسٹنٹ ایڈیٹر نے اپنی کتاب “دا ریپ آف بنگلہ دیش” میں کیا تھا کون تھے؟ اور وہ زندہ بھی ہیں کہ نہیں؟ اگر مرگئے تو اپنے ضمیر پر اتنا بڑا بوجھ لیکر کیسے مرگئے؟ کیا اپنے کسی ساتھی کو اس دورے کی حقیقت سے آگاہ نہ کیا؟

میں نے مشرقی پاکستان پر فوجی آپریشن بارے کم و بیش ایسی سو کتابیں اور پڑھیں جن کو اس موضوع پر پڑھنے میں دلچسپی رکھنے والوں کو پڑھنے کی سفارش کرسکتا ہوں لیکن ان میں سے ایک کتاب کا مصنف بھی سوائے مارننگ نیوز کراچی کے اسٹنٹ ایڈیٹر انتھونی کو چھوڑ کر کوئی بھی مغربی پاکستان کا نہیں ہے جس نے کم از کم بنگالی عوام کے خلاف اس آپریشن میں ہوئے جرائم اور بربریت کا معروضی تذکرہ کیا ہو کیوں؟ حسن ظہیر کی کتاب سے لیکر آج مغربی پاکستان کے جن لکھاریوں کی مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے اسباب پہ لکھی کتابوں کو معقول سمجھا جاتا ہے اُن کتابوں میں بھی مارچ اکہتر سے 16 دسمبر 1971ء تک کے فوجی آپریشن کا یا تو سرسری زکر ملتا ہے یا یہ باب ہی گول کردیا جاتا ہے- بس یہ اعتراف ملتا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بیج تقسیم کے فوری بعد رکھ دیے گئے تھے اور ایوب خان کے دور میں وہ بیج پھل پھول کر تناور درخت بن چُکے تھے-

پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے بدترین جرائم کو پردہ اخفا میں رکھے جانے کا منظم پروسس صرف مشرقی پاکستان کے باب میں ہی روا رکھا نہیں گیا بلکہ یہ منظم پروسس بلوچستان کے باب میں بھی روا رکھا گیا ہے-

اکبر بگٹی نے حمیدہ کھوڑو کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا:

پاکستان کی نیشنل اسمبلی کا ایوب خان کے زمانے میں جب پہلا اجلاس ہوا تو اُس میں بلوچستان کی دو سیت تھیں ایک پر سردار عطاء اللہ مینگل اور دوسری پر نواب خیر بخش مری منتخب ہوئے، سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری نے اپنی تقاریر میں اراکین اسمبلی کو بتایا کہ 1948ء سے لیکر اُس وقت تک بلوچستان میں فوجی جنتا نے کیا کیا تو اسمبلی میں سنسی پھیل گئی، بہت سارے ممبران اسمبلی نے کہا کہ اُن کو تو یہ پتا ہی نہیں تھا اور جب اکبر بگٹی کے بھائی نے مغربی پاکستان کی اسمبلی میں کھڑے ہوکر بتایا کہ کیسے جے او سی اور بریگیڈئر ریاض حسین کی نگرانی میں ایک ڈویژن آرمی بھیج کر بلوچ عوام کی نسل کشی کی گئی، کیسے ہزاروں بلوچ کوئٹہ چھاؤنی کے بدنام زمانہ قلی کیمپ میں ازیتیں پاتے رہے اور کیسے اُن کے گاؤں جلائے گئے اور کیسے قرآن کے سائے میں نواب نوروز خان اور ان کے بیٹوں کو معافی کا کہہ کر پھانسی پہ چڑھایا گیا تو اسمبلی میں سناٹا چھاگیا- قومی اسمبلی میں سردار عطاء اللہ مینگل نے گیلری میں بیٹھے صحافیوں کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ کیسے کہتے ہیں کہ ایوب خان کا مارشل لاء خون بہائے بغیر آگیا؟ کیا بلوچستان پر جاری جبر اور ظلم اُن کو نظر نہیں آیا؟

کیا 1948ء، 1959ء ،1971ء اور پھر 1974ء اور 1979ء کے بعد 11 سال اور پھر مشرف کے زمانے سے آج تک اسٹبلشمنٹ نے بندوقوں اور ٹینکوں اور جنگی ہیلی کاپٹروں اور طیاروں سے اپنے ہی عوام کے خلاف جو جرائم کیے اُن پر کوئی مربوط تحقیق اردو زبان میں جس کو پڑھ لینے کی اہلیت کم از کم 50 فیصد لوگوں میں ہے موجود ہے؟

اس کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کے ان جرائم کو عظیم تر ملکی مفاد اور حب الوطنی اور اسلام پسندی کی بھاشا کے ساتھ پیش کرنے والوں کی نہ کل کمی تھی نہ آج ہے

انعام عزیز روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر تھے- اپنی کتاب “اسٹاپ دا پریس….” میں وہ لکھتے ہیں کہ دسمبر(1971ء) میں پاکستان سے اُن کے ٹیلی فونک رابطے مکمل منقطع ہوگئے تھے اور مشرقی پاکستان میں کیا ہورہا تھا اس بارے اُن کو جنگ آفس سے کچھ بھی موصول نہیں ہورہا تھا اور رائٹر جس ایجنسی سے وہ خبریں لیتے تھے اُن کی فراہم کردہ مواد اخبار کی “پالیسی” سے ملتا نہیں تھا-اور وہ اخبار کی پالیسی سے ہٹ نہیں سکتے تھے- انہوں نے برطانیہ میں پاکستان کے سفارت خانے کے ہائی کمشنر جنرل یوسف سے رابطہ کیا اور اُن سے کہا کہ وہ میر خلیل الرحمان سے اُن کا رابطہ کرائیں- جنرل یوسف نے اگلے دن ان کو بلایا اور جی ایچ کیو کال ملائی جہاں میر خلیل الرحمان پہلے سے موجود تھے

انعام عزیز نے میر خلیل الرحمان کو ساری صورتحال بتائی تو انہوں نے فون پہ ہی وزرات دفاع کی طرف سے جاری تازہ پریس ریلیز لکھوادی

اس پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان مشرقی پاکستان میں شورش پسندوں اور غداروں کے خلاف اور بھارتی فوج کے خلاف کامیابیاں سمیٹ رہی ہے

انعام عزیز کہتے ہی‍ں میں نے اس کو روزنامہ جنگ کی لندن کی لیڈ اسٹوری بنائی اور اخبار کو چھپنے کے لیے کہہ دیا- اور خود دفتر سے نکل کر کچھ دوستوں سے ملنے چلا گیا- وہ کہتے ہیں رات گئے جب گھر جانے کے لیے وہ ایک سب وے ٹرین اسٹیشن پہنچے تو اسٹال پر لگے روزنامہ ٹائمز کی تازہ اشاعت جو انہوں نے ایک رات پہلےہی چھاپ دی تھی لی اور جیسے ہی انہوں نے اخبار پہ نظر ڈالی تو اُن کو لگا کہ ہتھوڑے کی طرح کوئی چیز ان کے سر پہ لگی ہو- اخبار بتارہا تھا کہ مشرقی پاکستان میں پاکسانی فوج نے سرنڈر کردیا ہے

وہ واپس دفتر کی جانب بھاگے لیکن دفتر تو بند ہوچکا تھا اور اخبار پریس سے چھپ کر تقسیم ہونے چلا گیا تھا

وہ لکھتے ہیں کہ اگلے چند روز تک اُن کو فون آتے رہے جس میں اُن پر بد دیانت صحافت کرنے اور پبلک کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا

سولہ دسمبر 1971ء کے مغربی پاکستان میں شایع ہونے والے اخبارات کی سُپر لیڈ پاکستانی فوج کی مشرقی اور مغربی میدان جنگ میں دشمن کے خلاف کامیابی کی داستان سُنارہی تھیں

مغربی پاکستان کی عوام کی اکثریت کو مشرقی پاکستان میں عام لوگوں پہ ہوئے بدترین مظالم کی خبریں پروپیگنڈا اور جھوٹ لگا تھا وہ اپنے حکام بارے یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ بے گناہ بنگالیوں کے خون سے ہاتھ رنگ لیں گے اور نوجوان عورتوں کے جسم نوچ ڈالیں گے

مغربی پاکستان کی عوام بنگلہ دیش کے بن جانے کی سرکاری سطح پر تصدیق ہونے تک فتح کا جشن منارہے تھے اور پھر جب پاکستانی فوج کے ھتیار ڈالنے کی خبر عام ہوئی تو تب بھی وہ بنگالی عوام کے قتل عام اور بڑے پیمانے پہ بے دخلی پہ نہیں روئے تھے بلکہ انھیں تو پاکسانی فوج کی شکست اور ہتھیار ڈالنے کا دکھ رلائے جارہا تھا

اگلے آنے والے مہینوں میں پاکستانی پریس پھر اُن کو 30 لاکھ بنگالیوں کے مارے جانے اور پاکستانی فوج کے جنگی جرائم کی خبروں کو ہندوستانی پروپیگنڈا کہہ کر رد کرنے اور ردعمل میں مُکتی باہنی اور انڈین آرمی کی طرف سے غیر بنگالی لوگوں کے ساتھ ہوئی زیادتی، جنگی جرائم کو بڑا چڑھا کر دکھانے میں مصروف ہوگیا، عام آدمی کو بیچارے غیر بنگالیوں خصوصی طور پر بھیاریوں کا غم کھا گیا (اور یہ سچ ہے کہ ایک وقت میں یہ بھیاری کافی بڑا انسانی المیہ بن گئے

لیکن کیا کسی کو یہ خبر ہے کہ ایک وقت میں بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے آنے والے آسام اور مغربی بنگال می‍ں کیمپوں اور بعد ازاں کچی پکی بستیوں میں رہنے والے جو اب کئی کروڑ ہیں کو ہندوستانی ماننے سے انکار کردیا جائے گا اور ان کے خلاف فوج، پولیس ہر طرح کی طاقت استعمال کی جائے گی؟) اور اُسے یہ پتا ہی نہ چلا کہ مارچ 1971ء سے 16 دسمبر 1971 تک بنگالیوں سے کیا سلوک ہوتا رہا

پاکستان کی فوجی اشرافیہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کوشش میں رہی ہے کہ وہ پاکستان کے عام شہری کے زہن میں کسی نہ کسی طرح یہ بٹھا دے کہ 5 مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان میں ملٹری ایکشن انتقال اقتدار اکثریتی جماعت عوامی لیگ کو منتقل نہ کرنے پر پورے ملک میں احتجاج کو دبانے کے لیے شروع نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ تو ہندوستان کی ملک کو دو ٹکڑوں میں بانٹنے کی مکروہ سازش روکنے کے لیے شروع کیا گیا تھا

فوجی حکمران اشرافیہ کو ولن کی ضرورت تھی اور یہ ولن تھے عوامی لیگ، اس کی مکمل لیڈرشپ، اس کے سیاسی کارکن، نوجوان طالب علم، شاعر، ادیب، دانشور تھے

اور بھارت سو اس نے پریس کو مکمل کنٹرول کرکے عوام کی نظر میں اپنے مجرمانہ اقدام کو نیک اقدام بناکر دکھایا

سچ سے نظر نہ ملا پاؤ تو سچ کو جھوٹ کہتے رہو

جب تھوڑا وقت اور گزرا اور ایک بار پھر فوجی جنتا نے مارشل لاء لگایا تو اس نے مغربی پاکسان سے ایک سویلین ولن تلاش کیا اور ساری کی ساری زمہ داری اُس “سویلین ولن” پر ڈال دی

پاکستان کس نے توڑَا؟

اسٹبلشمنٹ کا جواب تھا

بھٹو نے

فوجی جنتا نے 5 مارچ 1971ء کو مشرقی بنگال میں آپریشن سرچ لائٹ کے نام سے ملٹری آپریشن شروع کیا- اس آپریشن سے پہلے مشرقی بنگال میں موجود تمام غیر ملکی پریس کے نمائندوں کو واپس بھیج دیا گیا

آپریشن سرچ لائٹ سے شروع ہونے والے فوجی آپریشن کا ہدف مشرقی پاکسان کا ہر وہ بنگالی تھا جس سے فوجی جنتا کو یہ خطرہ تھا کہ وہ اُن کے راستے میں کھڑا ہوسکتا ہے- ڈھاکہ میں ہر اُس اخبار کا دفتر تہس نہس کردیا گیا، جس کے بارے میں بنگالی قوم پرستی کا ہلکا سا بھی شائبہ تھا، روزنامہ وفاق کے دفتر پہ تو باقاعدہ ٹینکوں سے چڑھائی کی گئی

اس ملٹری آپریشن کے آغاز میں ہی مشرقی بنگال سے لاکھوں لوگ مغربی بنگال اور آسام ہجرت کرگئے یہ بہت بڑے پیمانے پر ہجرت تھی اور ہندوستان میں بنگالیوں کی بڑے پیمانے پر مہاجر کیمپ تشکیل پاگئے اور عالمی میڈیا کی توجہ اس جانب ہوگئی

جب ہندوستان اور دیگر ممالک سے مشرقی بنگال سے ہجرت کرکے آنے والوں کی کہانیاں سامنے آنے لگیں تو پاکستانی فوجی جنتا اس پہ پریشان ہوئی اور اس نے ان کہانیوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے مغربی پاکستان سے دس صحافیوں کا ایل وفد چُنا اور ان کو مشرقی بنگال کا دورہ کرایا گیا- ان دس صحافیوں کو کہا گیا تھا کہ وہ اس دورے کی جو روداد لکھیں گے اور اپنے اخبارات کو شایع کرنے کے لیے بھیجیں گے تو فوجی جنتا کو دکھائیں گے



Nine out of ten journalist had agreed to perform embedded journalism except one.



دس میں سے نو صحافیوں نے فوجی جنتا کی مرضی کی رپورتاژ اپنے اخبارات کو بھیج دی

ایک صحافی تھا انتھونی مسکارینہاس جو کراچی کے مارننگ نیوز اخبار میں اسٹنٹ ایڈیٹر تھا، کتھولک کرسچن تھا، اُس نے جو بربریت اور ظلم وہاں دیکھا تھا، اُس نے اُسے بے چین کردیا- اُسے اچھے سے پتا تھا کہ وہ سچ لکھے گا تو پاکستان میں چھپے گا نہیں اور فوجی جنتا اُسے چھوڑے گی بھی نہیں

اُس لندن میں اپنے دوست ھیرولڈ ایونز سے رابطہ کیا جس نے اُسے کسی بہانے سے لندن چلے آنے کو کہا-مسکارینہاس نے اپنی بہن کی بیماری کا بہانہ بنایا اور لندن چلے آئے- ھیرولڈ ایونز اُس وقت برطانیہ کے معتبر اخبار سنڈے ٹائمز کا ایڈیٹر تھا- اُس نے مسکارینہاس کو مشورہ دیا کہ اپنے خاندان کو بھی بلالے اور پھر رپورٹ شایع ہو- 11 جون 1971ء کو دا سنڈے ٹائمز لندن میں انتھونی مسکارینہاس کے اصل نام سے رپورٹ ” دا جینو سائیڈ…..” کے نام سے شایع ہوئی اور اس رپورٹ نے مشرقی پاکستان میں دہلا دینے والے مظالم کا انکشاف کیا

مسکارینہاس ملک دشمن صحافی قرار پاگئے- لیکن ان کی رپورتاژ آج بھی مشرقی بنگال کے خلاف ملٹری آپریشن کی سب سے مستند اور تاریخ بدلنے والی نیوز اسٹوری ہے

ویسے مجھے یہ جاننے میں دلچسپی ہے وہ نو صحافی جو طاقت کے آگے سربسجود ہوئے وہ کون کون سے تھے؟

کیا جرنیل شاہی مشرقی پاکستان میں اپنے کردار پہ شرمندہ تھی؟

بنگلہ دیش بننے کے فوری بعد کچھ جرنیل بلوچستان میں بڑے پیمانے پر نسل کشی کرنا چاہتے تھے تاکہ مغربی پاکستان ہمیشہ کے لیے مشرقی پاکستان جیسی غلطی دھرائی نہ جاسکے

اکبر بگٹی انٹرویو حمیدہ کھوڑو، 1972ء

پاکستان کے ٹوٹ جانے اور مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے فوری بعد جب بلوچستان کا گورنر جنرل ریاض حسین کو بنایا گیا تو انھوں نے فوجی کمان کو یہ تجویز دی کہ بلوچستان میں مشرقی پاکستان والی غلطی نہ دھرائی جائے اور پوری طاقت سے آپریشن کیا جائے – بلوچستان کے سیاست دانوں، طالب علموں، سیاسی کارکنوں، پروفیسرز، استاد، دانشوروں کی ایک لسٹ بھی بنالی گئی تھی جن کو ٹارگٹ کرنا تھا- لیکن بوجہ اس پہ عمل نہ ہوا

یہ انٹرویو حال ہی میں آکسفورڈ پریس کراچی سے دا آؤٹ لُک ویکلی کراچی کے بنگلہ دیش سے متعلق 1972ء میں شایع ہونے والے منتخب مجموعے میں شامل ہے