Book Reviews Featured Original Articles

زندگی سے مسابقت کرتا ناول “کماری والا” – عامر حسینی

علی اکبر ناطق اردو فکشن کی دنیا کا بلاشبہ اہم اور ناگزیر نام ہے۔ اس کے فن کے تذکرے کے بغیر اردو فکشن کی تاریخ نا مکمل رہے گی ۔ اس نے اس طرح کے جملوں کا خود کو حقدار “نولکھی کوٹھی” جیسا ناول لکھ کر ثابت کردیا تھا۔ جیسے جیسے ان کا دوسرا ناول “کماری والا” زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھ رہے ہیں ایک بار پھر یہ جملے زیادہ سے زیادہ لکھنے پر مجبور ہورہے ہیں ، اور میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میرا شمار بھی ان جیسے لوگوں میں ہوچکا ہے کیونکہ میں نے کل رات اس ناول کا آخری باب پڑھ کر اسے ختم کیا ہے۔

یقین مانیے اس ناول کا 82واں باب جیسے اپنے انجام کو پہنچا تو مجھے اس ناول کا یوں اچانک ختم ہوجانا ایک آنکھ نہ بھایا اور طبعیت سیر ہوکر بھی سیر نہ ہوتے محسوس کی۔ ناول کا مرکزی کردار ضامن پہلے باب میں اپنے گاؤں”کماری والا” پہنچتا ہے اور اس دوران پہلے باب میں جو بیانیہ ہمارے سامنے آتا ہے تو بے اختیار یہ شعر زبان پہ آجاتا ہے


آنکھوں میں پھر رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو


اور جب ضامن “کماری والا” میں ڈسپنسری کے سامنے پہنچتا ہے اور جس کی تلاش میں آیا ہوتا ہے، وہ سامنے آتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ آپ جب ناول پڑھیں گے تو جن سطروں کا آپ کو سامنا ہوگا، تو ان کو پڑھتے ہوئے اندازہ ہوگا کہ جس شخص کی جو تصویر آپ نے اس کی پہلی دید کے وقت دل کے نہاں خانوں میں چھپائی ، وہ ایسے نظر آتی تھی۔


“ہاتھوں پر کیکر کی چھال کی طرح سخت جھریاں تھیں۔ جن کو چھونے سے بھی زخمی ہونے کا ڈر تھا”
اور اس سے آگے کہانی فلیش بیک میں 66ویں باب تک چلتی ہے اور اگلے سولہ ابواب میں کہانی پھر پہلے باب کے آخری پیراگراف کے منظر سے شروع ہوتی ہے اور کماری والا کے قبرستان میں ختم ہوجاتی ہے۔
میں ایک بار یو ٹیوب پر “ناول کا فن” پر چند معروف ناول نگاروں کا مذاکرہ سن رہا تھا جو کئی سال پہلے ‘دبئی’ میں ہوا تھا۔ ان میں ایک خاتون ناول نگار کہنے لگی


میں نے جب ٹالسٹائی کا ” اینا کاریننا” پڑھنا شروع کیا تو مجھے لگا کہ میں ہی اینا کاریننا ہوں اور اس پہ جو بیتتی ہے مجھ پر بیت رہی ہے۔ اور جب کسی ناول کو پڑھنے والی اکثریت ایسی کیفیت کا شکار ہوتی ہے تو وہ بہترین ناولوں میں سے ایک ہوتا ہے۔ جب میں ناطق کا ناول”کماری والا” پڑھ رہا تھا تو مجھے ضامن علی پر خود کا گمان ہورہا تھا اور جس المیہ و طربیہ سے ضامن گزرا، میں نے خود کو بھی اس سے گزرتا ہوا محسوس کرتا گیا۔


اس ناول کا زمانہ بھٹو کی پھانسی سے لیکر پوسٹ ضیاءالحق زمانے کا ابتدائی دور ہے۔ اس ناول کی لینڈ اسکیپ خالص زرعی سماج سے لیکر زرعی پیداوار پر انحصار کرنے والے چھوٹے شہر و قصبات اور پھر ایک کاسموپولٹین شہر اور چند ایک بڑے شہری مراکز پر مشتمل ہے اور اس لینڈ اسکیپ کے اندر جو لوگ ہیں، ان سے سے ہی کردار جنم لیتے ہیں اور اسی لینڈاسکیپ میں بود و باش کے سبب ان کرداروں کی نفسیات کی ایک تفہیم ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ اور یہیں پر ہمیں فنتاسی اور حقیقت باہم دگر گھلی ملی نظر آتی ہے اور ناول میں جگہ جگہ ہم تاریخ اور اسطور باہم مدغم ہوتے دیکھتے ہیں۔

میرے نزدیک سماجی حقیقت نگاری پر مبنی ناول فنتاسی و مائتھ کو حقیقت سے مکمل طور پر الگ تھلگ کرنے کا نام نہیں ہوتا بلکہ ان کے آپس میں گڈمڈ ہوجانے سے فکشنل رئیلٹی کا نام ہوا کرتا ہے اور ناقد کو ناول کی فکشنل رئیلٹی ہے اسے قاری کے سامنے رکھنی چاہئیے نہ کہ وہ اسے ناول سے باہر کے زمان و مکان کے ہوبہو نہ ہونے کے سبب اسے رد کرنے چل پڑے۔


علی اکبر ناطق محض ناول ہی نہیں لکھتا بلکہ وہ سماج کے افراد اور ان کی سائیکی دونوں کے بارے میں کہیں کہیں ججمنٹل بھی ہوجاتا ہے اور وہ کنٹرورسی بھی تخلیق کرتا ہے۔ اور اس کنٹرورسی کی تخلیق کے بعد وہ خود بھی کنٹرورسی میں نہ پڑے یہ کیسے ممکن ہے؟ وہ ادبی پنڈتوں اور ادب کے قارونوں پر بے رحم تنقید کرتا ہے، ان کے گندے کپڑے عین بیچ چوراہے میں دھوتا ہے۔


وہ اپنی مذہبی شناخت چھپانے کا قائل بھی نہیں ہے اور اس شناخت سے جڑی علامتوں کو گاہے بگاہے بیان بھی کرتا ہے اور اپنے ہم شناختوں کے آشوب اس کے فکشن میں بھی درآتے ہیں۔ کماری والا میں بھی ایسا ہوا ہے۔ اور اس پہ شور اگر مچے گا تو اس پہ حیرانی کم از کم مجھے تو نہ ہوگی۔


ناطق کے ناول”کماری والا” کے مرکزی کردار ضامن علی میں ناطق کی تلاش زور و شور سے جاری ہے۔ اور یہ ناول کے متن کو پس پشت ڈالنے کا سبب بننے کے ساتھ ادبی گمراہیوں کو جنم دے سکتی ہے۔


ضامن علی جس قسم کے نیم دیہی، نیم شہری پیٹی بورژوازی کی نچلی پرتوں سے تعلق رکھنے والے کامریڈوں سے ٹکراتا ہے وہ اپنے کردار میں کیسے غیر جانبدار رہ سکتا ہے اور اپنے گاؤں “کماری والا” سے ملحق قریبی ترین شہر میں خود سے ٹکرانے والے “اناڑی کامریڈوں” کی نفسیات کو مارکسزم کی نفسیات بناکر پیش کرتا ہے تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے وہ کوئی پولیٹکل اکنامی میں پی ایچ ڈی نہیں رکھتا ہے اور نہ ہی وہ مارکسزم پر عبور۔ اسے حقیقت کا جتنا پتا ہے بیان کرتا جاتا رہتا ہے۔

ناطق کا دوسرا ناول، اس کے پہلے ناول کی طرح زیر بحث آرہا ہے۔ اور میں نیچے ہنری جیمزکے مضمون “آرٹ آف دا ناول” کے دو اقتباس دے رہا ہوں۔ جن کو پڑھ کر شاید میری طرح آپ کو بھی اس ناول کی بڑائی کا احساس ہونے لگے ۔