Featured Original Articles

غنڈا ایکٹ اور صحافی – عامر حسینی

آج جب پنجاب میں پولیس پی ڈی ایم کے ملتان جلسے میں اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کی شرکت روکنے کے لیے گرفتاریاں کررہی ہے اور کئی صحافیوں کو بھی “سیاسی کارکن” قرار دے کر پکڑا جارہا ہے یا ان کے نام پی ڈی ایم کے کارکنوں کے خلاف دیے جانے والے پرچوں میں شامل کیے جارہے ہیں تو میرے سامنے اس سے ملتی جلتی ایک حرکت ایوب خان کی حکومت کے آخری زمانے میں نظر آئی۔ 1968ء میں گورنر مغربی پاکستان نے “مغربی پاکستان غنڈا کنٹرول آرڈیننس 1958ء ” میں غنڈے کی تعریف میں وسعت پیدا کرتے ہوئے نئی کیٹیگری متعارف کرائیں

اس کے نتیجے میں حکومت کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ غنڈے کا اطلاق ان افراد پر بھی کردیا جائے جس پر اچھے کردار اور نیک شہرت کے مالک شخصیات کے کردار اور شہرت کو نقصان پہنچانے کا الزام ہو۔ اس سے یہ ممکن ہوگیا کہ جس پر غلط رپورٹیں پھیلانے یا چونکنا دینے والی افواہیں پھیلانے کا الزام لگے اسے بھی غنڈا قرار دے کر غنڈا کنٹرول آرڈیننس کے تحت دھر لیا جائے۔

اس تعریف کی رو سے کسی بھی صحافی کو “غنڈا” قرار دیا جاسکتا تھا جو ایسے آدمی کی پریس کانفرنس میں شرکت کرے جو حکومت پر تنقید کرتا ہو اور اس کی کہی باتوں کے پاکستان کی ریاست پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہوں- تو ایسے صحافی کا نام غنڈوں کی لسٹ میں ڈالا جاسکتا تھا۔خانیوال ضلع کی انتظامیہ نے شاید ایوب خان کے زمانے کے کسی زندہ بچ جانے والے ایسے ریٹائرڈ بیوروکریٹ سے “مغربی پاکستان غنڈا کنٹرول آرڈیننس 1958ء” میں غنڈا کیٹیگریز میں اضافے کی کہانی سن لی ہے۔

اس نے گزرے محرم الحرام میں سولہ ایم پی کی لچک دار تعریف سے فائدہ اٹھا کر ایک صحافی مظفر قادری کو اس میں نامزد کیا اور پھر اس نے تحریک لبیک کے 15 نومبر کے فیض آباد دھرنے کے وقت اس تحریک کے کارکنوں کے خلاف ہوئے کریک ڈاؤن میں نظر بندی کے احکامات میں پل باگڑ سرگانہ تحصیل کبیروالہ ضلع خانیوال صوبہ پنجاب کے صحافی وجاہت حسینن کو امن کے لیے خطرہ قرار دے کر نظر بند کردیا۔ اور اب پی ڈی ایم کے کارکنوں کے خلاف کویڈ-19 ایس او پیز خلاف ورزی ایکٹ کی آڑ میں درج مقدمات میں لگے ہاتھوں اپنے ناپسندیدہ میاں چنوں کے چار صحافیوں کو نامزد کردیا۔

خانیوال میں روزنامہ اوصاف ملتان کے نیوز رپورٹر راشد علی رحمانی کو سیاسی کارکن قرار دے کر گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔چند ایک بھولے بھالے صحافی جو مقامی انتظامیہ کی “تقسیم کرو اور دبوچ لو” پالیسی کے تحت “کرم نوازی” کے مظاہرے سے پگھل جاتے ہیں یا چھوٹی موٹی رعایت پالیتے ہیں ضلعی انتظامیہ کی نظر میں ناپسندیدہ قرار پانے والے مقامی صحافیوں کو “سیاسی کارکن” قرار دے کر اور کویڈ-19 ایس او پیز کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار دے کر گرفتار ہونے والوں کو واقعی “قصور وار” سمجھنے لگے ہیں۔

پھر سوشل میڈیا پر صحافیوں کو خبردار کرتے ہیں کہ دیکھیں ڈپٹی کمشنر یا کوئی اور افسر کس قدر مہربان اور نیک ہے کہ وہ ان کی سفارش پر مبینہ قانون شکنی کے باوجود بھی نظر بند صحافیوں کو چھوڑ رہے ہیں اور ان میں سے مقدمات میں نامزد ملزمان کی اخراج رپورٹ تیار کروارہے ہیں یا ان کو عدالت سے عبوری ضمانت کا موقع فراہم کررہے ہیں۔بھولے بادشاہو!(یا نوازشات کے ہاتھوں ارزاں فروختند) تمہیں کیا معلوم کرپٹ، بدعنوان، اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اور شارٹ ٹیمپر کالے انگریز جن کی جلد دیسی اور ذہنیت نوآبادیاتی آقاؤں جیسی ہوتی ہے وہ کیسے کیسے ہتھکنڈے حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کرنے اور اپنی بے لاگ رائے کا اظہار کرنے والے صحافیوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

جہاندیدہ اور سچائی کے شعور سے بہرمند اور پاکستان میں صحافت کو پابند سلاسل کیے جانے کی تاریخ سے واقف صحافتی قبیلہ اچھے سے جانتا ہے کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا خدمت گزار سرکاری بابو کیسے بھیڑ کی کھال میں چھپا بھیڑیا ہوا کرتا ہے اور یہ کیسے آپ جیسے چند ایک صحافیوں کی کمزوریوں سے کھیلتا ہے۔

اسے معلوم ہے کہ اپنے دفتر میں یا کسی دورے میں عوامی مقام پر اس کی نظر کرم کو ظاہر کرتی تصویر یا فوٹیج تمہاری کس کس حس کی تسکین کرتی ہے اور عام جنتا میں اس تاثر کو بھی پختہ کرتی ہے کہ فلاں صحافی لاٹ صاحب کے قریب ہے، بس اسی کو لیکر تم اپنے قلم سے وہ کام لیتے ہو جس کے بارے میں حبیب جالب نے یہ کہا تھا کہ ایسے قلم سے ازاربن کا کام لینا بہتر ہوگا ناکہ اسے صحافت کے میدان میں استعمال کیا جائے۔