Original Articles Urdu Articles

خادم رضوی کی خطابت میں لسانی ابتذال کیا بالکل نیا رجحان تھا؟ – عامر حسینی

میں اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جو جب سن شعور کو پہنچی تو عطاء اللہ شاہ بخاری اور غلام غوث ہزاروی اور شورش کاشمیری جیسے درجنوں سیاسی مذہبی مولویوں کا انتقال ہوچکا تھا اور ہماری نسل میں کسی کے پاس ان مولویوں کی “ہفت زبانی” کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ اور ان کی موت کے بعد مین سٹریم میڈیا میں جو ان پر مضامین چھپتے یا ان کے بارے میں جو کتابیں لکھی گئیں ، ان کی بھاری اکثریت نے ان سیاسی مذہبی مولویوں کی ” ابتذال گوئی” کو یکسر سنسر کرکے ان کو بڑے بڑے القاب سے نواز دیا۔

کیا آج کے کسی ایسے ماڈریٹ اسلام پسند یا اشراف لبرل / بوتیک لیفٹیے ٹی وی اینکر، مقبول ٹوئٹر ہینڈل یا فیس بکیے مقبول پوسٹ نگار ، کالم نگار یا بلاگر میں اتنی ہمت اور جرآت ہے کہ وہ عطاء اللہ شاہ بخاری کی بریلوی، شیعہ اور دیگر فرقوں پر کی جانے والی ” ابتذالی خطاب نگاری” کی جھلکیاں نئی نسل کے سامنے پیش کرے یا غلام غوث ہزاروی کی مولانا مودودی کی بیٹی کی “پوشیدنی” اور مولانا مودودی کی “مقعد، پچھواڑے ” بارے چھوڑی ابتذالی پھلجھڑیوں سے روشناس کراسکے۔

جناح ، فاطمہ جناح، رعنا لیاقت علی خان کے بارے میں جمعیت علمائے ہند کے سیاسی مولویوں اور احراریوں کی مساجد و مدارس و چوکوں و چوراہوں پر استعمال کی جانے والی ” زبان” بارے بتاسکے۔جماعت اسلامی والے کمیونسٹوں کے خلاف جو زبان استعمال کرتے تھے اور تعلیمی اداروں سے لیکر چوکوں اور چوراہوں میں یہ جو کہا جاتا تھا کہ کمیونسٹ اپنی ماں، بہن سمیت محرمات سے جنسی تعلق بنانے کو جائز سمجھتے ہیں

یہ کونسی دہائی کی سیاست تھی؟”بے نظیر بھٹو اورل سیکس کی ماہر تھیں” “بے نظیر نے کچا بچہ پیدا کیا ہے” ” نصرت بھٹو نکسن کی داشتہ رہیں ، تہران میں ڈسکو کلب میں ڈانسر تھیں” ” پی پی پی بلے بھئی بلّے، آدھے کنجر ، آدھے دلّے” اور ان جیسے کئی اور گندے اور فحش کلمات ہماری دائيں بازو کی سیاسی جماعتوں کے نعرے اور تقریروں کا حصّہ رہے۔

“احراری تقریری ثقافت” کیا تھی؟ اس پر کبھی کوئی تحقیق ہمارے ہاں سامنے آئی؟اسّی کی دہائی میں سپاہ صحابہ پاکستان کے شعلہ بیان خطیبیوں کے ہاں شعلہ بیانی کے لیے جو مواد تھا اس میں متعہ کے باب میں کیا کیا بات منبروں پر اور جلسوں کے اسٹیج کیا کیا چیز استعمال نہ کی گئی؟کیا جامعہ نظامیہ کا فارغ التحصیل پوٹھار کا خادم رضوی جس طرز تخاطب کے سبب نشانہ تنقید بنا کیا ہزارہ ڈویژن کا غلام غوث ہزاروی، رچناوی خطے سے ابھرنے والا حق نواز جھنگوی، لاہور کا شورش کاشمیری، عبدالتواب صدیقی اور مشرقی پنجاب سے ملتان آنے والا عطاء اللہ شاہ بخاری اس سے کئی سال پہلے ایسے ہی “شریں خطابات” کے لیے معروف نہیں تھے؟

کمرشل (لبرل ، بوتیک لیفٹیے اور ماڈریٹ اسلام پسند) دانش مولوی خادم رضوی کی سیاست اور خطابت میں ابتذال کو “الگ تھلگ” کرکے کیوں پیش کرتی رہی اور اب تک پیش کررہی ہے؟ احراری ، جمعیت والے اور ان جیسے اور لوگوں کے لیے بعد از مرگ “تعزیت نامے” کیوں لکھے گئے اور آج ان کے لیے “القابات احترام” یہاں تک کہ ان کی رجعت پرستانہ سامراج مخالفت اور ان کی رجعت پرستانہ مزاحمت کو بھی “گلوریفائی” کیا جاتا ہے اور ان کی فرقہ پرستی کا تذکرہ گول کردیا جاتا ہے۔

یہ کمرشل دانش جن اسباب کی بنیاد پر شیخ احمد سرہندی کو معاف نہیں کرتی، ان اسباب کے حامل شاہ ولی اللہ، سید احمد بریلوی، شاہ اسماعیل دھلوی، قاسم ناناتوی، محمود حسن ، حسین احمد مدنی ، عطا اللہ شاہ بخاری و شورش کاشمیری کی نوآبادیاتی نیشنلسٹ تناظرمیں مداح سرائی کرنے سے خود کو روک نہیں پاتی۔

میں صوفی سنّی پس منظر سے تعلق رکھتا ہوں اور میں فرقہ واریت کے خلاف ہوں- اسی رجحان کے تحت میں نے کبھی بھی فرقہ واریت پھیلانے والی کسی ایسی شخصیت کو رعایتی نمبر نہیں دیے چاہے اس کا تعلق “صوفی سنّی مسلمانوں” کے کسی ذیلی شاخ (جیسے بریلوی) سے ہی کیوں نہ تھا۔ ہماری تنقید کا نشانہ سب فرقہ پرست بنے۔

لیکن پاکستان کے کئی اشراف لبرل، لیفٹ، اور ماڈریٹ مسلم دانشور، تجزیہ نگار، اینکرز، سیاسی رہنماء ایسے بھی ہیں جو خادم رضوی پر تو ان کی زندگی اور اب موت کے بعد خوب برس رہے ہیں لیکن یہی وہ لوگ ہیں جو سپاہ صحابہ کے سپریم کونسل کے سابق چئیرمین ضیاء اللہ قاسمی، سرفراز گھگھڑوی، بانی سپاہ صحابہ حق نواز جھنگوی، ضیاء الرحمان فاروقی ، اعظم طارق کے مداح رہے ہیں۔ اور ہم نے ان کو ڈاکٹر خالد سومرو کی موت پر ان کو عظیم سندھی جمہوریت پسند کا خطاب دیتے ہوئے دیکھا

ایسے ہی ہم نے مہان ماڈریٹ اسلام پسند اینکر حامد میر کو طالبان کے خودکش حملے میں قتل ہونے والے ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی پہلی برسی پر طالبان کی مذمت کرنے کی بجائے ان سے درخواستیں کرتے دیکھا، سپاہ صحابہ کے سربراہ احمد لدھیانوی کو اپنے پروگرام میں سفیر امن کا خطاب دیتے اور طالبانیوں کے استاد اور بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کو پناہ دینے والے مدرسے کے مہتمم کے جنازے پر ان سے عقیدت کے پھول برساتے ہوئے دیکھا

ہم نے نجم سیٹھی کو فرائیڈے ٹائمز ویکلی میں لدھیانوی اور طاہر اشرفی کو اعتدال پسند مولوی بناکر پیش کرتے اور ان کے انٹرویوز شایع کرتے دیکھا اور ہم نے نواز شریف کی محبت میں “باؤلے پن” کی حد تک کسی کو پابلو نرودا اور کسی کو سقراط عصر کے القاب سے نوازنے والوں کو اپنی ویب سائٹ پر کالعدم تکفیری فاشسٹ تنظیم کے تکفیری فاشسٹ کا انٹرویو اور اس انٹرویو کا مثبت انٹرو لکھنے کا دفاع کرتے پایا

نواز شریف کیمپ سے تعلق رکھنے والے اشراف لبرل، بوتیک لیفٹیے اور ماڈریٹ پروگریسو اسلام پسند ہر اس فرقہ پرست مولوی اور لیگی رہنماء کی تعریف کرتے ہچکچاتے نہیں جو نواز شریف کا حامی ہو جیسے نواز شریف کا داماد کیپٹن(ر) صفدر ہو یا پھر فضل الرحمان سمیت جے یو آئی یا سپاہ صحابہ کے مولوی ہوں لیکن ان کی ترقی پسندی کی باسی کڑھی میں زبردست ابال فقط اس مولوی کے خلاف آتا ہے جو نواز شریف کی مخالفت کا جرم کربیٹھے چاہے وہ فرقہ پرست ہو یا نہ ہو(ماڈریٹ اسلامی اسکالر طاہر القادری کے خلاف ان کی نفرت پر مبنی مواد اس بات کا ثبوت ہے۔)

خادم رضوی کی موت پر یا ان کی موت سے پہلے ان کے فرقہ وارانہ نظریات پر تنقید یا ان کا ٹھٹھا اڑانے کا حق وہ سب لوگ کھوبیٹھتے ہیں جو ایسے خیالات کے مالک کسی اور کی زندگی میں اس کو سراہتے رہے یا اس کے مرنے کے بعد اسے قوم پرستی و جمہوریت پسندی کا تمغہ دیتے پائے گئے۔