Original Articles

کھلی دھاندلی کے باوجود پی ٹی آئی اکثریت نہ لے سکی تو نتائج بدل دیے گئے – ریاض ملک

جیالے مایوس مت ہوں ۔ انہوں نے شاندار مہم چلائی اور بری طرح سے پی ٹی آئی کو ایکسپوز کردیا- اس مہم کی قیادت بلاول نے کی۔ اس مہم نے ان سب کو عوام کے سامنے ننگا کردیا ہے۔پی پی پی کے لیے یہ ان ہونی نہیں ہے۔ 1977ء سے ان کی جائز جمہوری مانگیں پوری نہیں کی جارہیں۔

لیکن اس وقت اسٹبلشمنٹ پہلے سے زیادہ تقسییم ہے۔ اسٹبلشمنٹ میں نواز لیگ کی پشت بانی کرنے والا گروہ روبہ زوال ہے۔ اب تو ایسا لگ رہا ہے جیسے اسٹبلشمنٹ میں دو سے چار بلکہ پانچ دھڑے موجود ہیں

ان دھڑوں میں سے کچھ دھڑے تو مبینہ طور پر فرقہ پرستوں کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں۔

کچھ ہائپر نیشنلسٹوں کو ہلہ شیری دے رہے ہیں۔ اور ان دھڑوں کے مابین جو اشتراک کا رجحان تھا وہ بھی زوال پذیری کا شکار لگتا ہے۔

یہ منقسم دھڑے پاکستان کو دیوار سے لگارہے ہیں ۔ پی پی پی کو ایک ایسی سیاسی جماعت کا کردار ادا کرتے رہنا ہے جو جمہوری قوتوں کے اتحاد کو مضبوط کرے اور عوام کے سامنے جمہوریت کا مقدمہ مربوط طریقے سے پیش کرتی رہے- کیا کوئی تبا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی، ایم ڈبلیو ایم ، تحریک اسلام و سپاہ صحابہ کی جدوجہد کس لیے ہے؟

بس نفرت پھیلانا اور تقسیم کرنا۔جیالوں کو اپنی قیادت سے ایسے مطالبات نہیں کرنے چاہیں جو قیادت کو خودکش مشن پر مجبور کریں – جیالوں کو ایسی دستاویز کی ضرورت ہے جس کی وہ پیروی کرسکیں۔ یہی سب سے اہم چیز ہے ۔

ہمیشہ سے یہ خواب ہی رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ پی پی پی کو شفاف الیکشن کی اجازت دینے جارہی ہے۔ حقیقت یا ہے کہ پی پی پی کو ایک شاندار اور پارٹی کو اٹھانے والی انتخابی مہم چلانے کی اجازت دینا ہی بہت بڑی چھوٹ تھی۔ یہ وقت ان انۃحابات کی کہانی اور اس سے ماخوذ سبق کو دستاویز کرنے کا ہے۔ اور اسے پورے پاکستان میں دوھرانا ہے۔

پی پی پی کی قیادت اور کارکنوں کو احتجاج کرتے ہوئے الیکشن لڑتے رہنا چاہئیے۔ پی پی پی ایک سے زیادہ سیاسی خودکش حملے افورڈ نہیں کرسکےگی۔ ان کے پاس نہ تو سعودی بادشاہت کی آمریت کا کور ہے اور نہ یو ایس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی حمایت اور نہ ہی بکاؤ میڈیا ہے ان کے پیچھے ہے جو بھونک بھونک پی پی پی کے مخالفین کا ناطقہ بند کرسکے