Academic Articles Featured Original Articles

الیکشن میں دھاندلی کی زمہ داری اسٹبلشمنٹ پر ہے ، یہی اصطلاح جلسوں میں بھی استعمال کرنے پر اتفاق ہوا تھا- بلاول بھٹو زرداری

الیکشن میں دھاندلی کی زمہ داری “اسٹبلشمنٹ پر ہے ، یہی اصطلاح جلسوں میں بھی استعمال کرنے پر اتفاق ہوا تھا- بلاول بھٹو زرداریبلاول بھٹو نے دو اہم اور بنیادی انکشاف کیے:پی ڈی ایم کے تاسیسی اجلاس میں جمہوری عمل میں مداخلت اور الیکشن میں دھاندلی کی ذمہ داری اسٹبلشمنٹ پر عائد کی گئی اور اس میں بلاول بھٹو کے مطابق صرف فوج کے جرنیلوں پر الزام نہیں لگتا بلکی عدالتی اسٹبلشمنت بھی الزام سےنہیں بچ سکتی ہے

بی بی سی کی نمائندہ فرحت جاوید نے بلاول بھٹو زرداری سے جو انٹرویو لیا، اس میں ایک سوال کا جواب ہے جسے لیکر بعض حلقے کنٹرورسی پیدا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں

بی بی سی اردو سروس کی ویب سائٹ پر نمودار فیچر انٹرویو کی تمہید میں کہا گیا”اول بھٹو زرداری نے بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور گلگت بلتستان میں انتخابی مہم سے متعلق بات چیت کی ہے۔گوجرانوالہ جلسے میں نواز شریف نے پہلی بار فوجی قیادت کا نام لیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ سنہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی اور انھیں وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے میں موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا براہِ راست کردار تھا۔

ان کے اس بیان کے بعد ملک کے سیاسی اور فوجی حلقوں میں ایک بحث چھڑ گئی تھی۔ کئی حلقوں نے اس بیان کو ’منفی‘ قرار دیا مگر کئی حلقے اس معاملے پر پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے رہے کہ اس جماعت نے مسلم لیگ (ن) کی طرح واضح مؤقف اپنانے سے اجتناب کیا ہے۔بی بی سی نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ پی ڈی ایم کی تشکیل کے وقت ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس اور دیگر اجلاسوں میں کیا مسلم لیگ نواز نے پاکستانی فوج کی قیادت یا خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لیا تھا، یا اس بارے میں کوئی اشارہ دیا تھا؟

بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر بلاول بھٹو کا دیا ہوا جواب:اس پر بلاول بھٹو زرداری نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پی ڈی ایم کے ایجنڈے کی تیاری کے وقت نواز لیگ نے جنرل باجوہ یا جنرل فیض کا نام نہیں لیا تھا۔‘ انھوں نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ ’وہاں (اے پی سی میں) یہ بحث ضرور ہوئی تھی کہ الزام صرف ایک ادارے پر لگانا چاہیے یا پوری اسٹیبلیشمنٹ پر لگانا چاہیے۔ اور اس پر اتفاق ہوا تھا کہ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ اسٹیبلیشمنٹ کہا جائے گا۔‘بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ جب انھوں نے گوجرانوالہ کے جلسے میں میاں نواز شریف کی تقریر میں براہ راست نام سنے تو انھیں ’دھچکا‘ لگا۔’یہ میرے لیے ایک دھچکا تھا کیونکہ عام طور پر ہم جلسوں میں اس طرح کی بات نہیں کرتے۔

مگر میاں نواز شریف کی اپنی جماعت ہے اور میں یہ کنٹرول نہیں کر سکتا کہ وہ کیسے بات کرتے ہیں اور نہ ہی وہ کنٹرول کر سکتے ہیں کہ میں کیسے بات کرتا ہوں۔‘بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ڈٰی ایم کئی جماعتوں کا یہ یقینا ایک اتحاد ہے اور ہمارا ایجنڈا ہماری آل پارٹیز کانفرنس میں طے پانے والی قرارداد میں واضح ہے۔’میں یہ واضح کر دوں کہ یہ نہ تو ہماری قرارداد میں مطالبہ ہے نہ ہی یہ ہماری پوزیشن ہے۔ جہاں تک بات نام لینے کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اور یقینا ایسا ہی ہوا گا کہ میاں صاحب نے بغیر ثبوت کے کسی کا نام نہیں لیا ہو گا اور اس قسم کے الزامات ثبوتوں کی بنیاد پر ہی آگے آنے چاہییں۔

میں یہ طریقہ کار خود اپنی جماعت کے لیے نہیں اپناتا کہ میں جلسوں میں اس (یعنی براہِ راست الزام لگانا) کو بیان کرتا۔ مگر میاں صاحب کا یہ حق ہے کہ وہ اس قسم کا موقف لینا چاہیں تو ضرور لیں۔‘لاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک میاں نواز شریف کا تعلق ہے تو وہ تین بار وزیر اعظم رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ انھوں نے واضح اور ٹھوس ثبوت کے بغیر نام نہیں لیے ہوں گے۔

یہ ایسا الزام نہیں ہے کہ آپ ایک جلسے میں کسی پر بھی لگا دیں۔ ابھی مشکل یہ پیش آئی ہے کہ کووڈ کی وبا کے باعث نواز شریف سے براہِ راست ملاقات کا موقع نہیں ملا، جو کہ بہت ضروری ہے، تاکہ میں ان سے ملاقات کروں اور اس معاملے پر تفصیل سے بات کروں۔‘مگر مجھے انتظار ہے کہ میاں صاحب ثبوت سامنے لائیں گے یا پیش کرنا چاہیں گے۔

لیکن اے پی سی کے اجلاس کے دوران میں نے ہی یہ شکایت کی تھی کہ جس طرح پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر فوج کی تعیناتی قابلِ مذمت ہے، بالکل اسی طرح، مثال کے طور پر، ہمارے چیف جسٹس کا ڈیم فنڈ کی مہم پر نکلنا یا ان کی الیکشن کے دن کچھ سرگرمیاں قابلِ مذمت ہیں۔’ہم تین نسلوں سے یہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ کیسے لڑا جاتا ہے۔ پہلے دن سے اس پر کام کر رہا ہوں، اور آئندہ بھی بھاگوں گا نہ ہی رکوں گا، بلکہ اس مقصد پر کام جاری رکھوں گا۔‘