Featured Original Articles Urdu Articles

مولانا عادل خان کا قتل: پاکستان کے خلاف تکفیری سازش

کراچی میں اسلامی بینک کاری کے منافع کو ناجائز اور سود کی طرح حرام قرار دینے والے مولانا عادل خان قتل کر دیئے گئے۔ یاد رہے اسلامی بینک کاری کا کاروبار گذشتہ عشرے میں بہت پھیل چکا ہے اور اس معاملے پر دارالعلوم کراچی کے مہتمم مفتی تقی عثمانی اور دارالعلوم فاروقیہ کے مہتمم مفتی سلیم اللہ خان کے بیچ شدید اختلاف پایا جاتا تھا

شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان مرحوم کے بعد ان کے بیٹے ڈاکٹر عادل خان صاحب جامعہ فاروقیہ کے مہتمم بنے تو وہ بھی اپنے والد کی رائے پر قائم رہے اور سرمایہ داروں کے سودی کاروبار کو شرعی حیلوں سے حلال کرنے کے خلاف ڈٹے رہے

اس سے قبل مفتی نعیم کے داماد سمیت کئی جید علما کو سود سے پاک کاروبار کے سلسلے میں قتل کیا جا چکا ہے۔ حالیہ فرقہ وارانہ کشیدگی میں گینگ وار کے ارکان اپنا ہاتھ دکھا گئے۔ یاد رہے راولپنڈی میں اپنے مدرسے پر حملے اور اس کو جلانے میں بھی سپاہ صحابہ کے دہشتگرد ملوث تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ دیوبندی مذہبی قیادت کے درمیان آپسی اختلاف پر ایک دوسرے کو قتل کیا گیا ہو- اس سے قبل بھی کالعدم دہشت گرد تکفیری گروہ سپاہ صحابہ کے پنجاب میں سرگرم سرغنہ شمس الرحمان معاویہ کو اورنگزیب فاروقی اور ملک اسحاق گروپ سے تعلق رکھنے والے ہارون بھٹی اور اس کے ساتھی قتل کر چکے ہیں۔ یاد رہے شمس الرحمان معاویہ کا تعلق سپاہ صحابہ کے لدھیانوی گروہ سے تھا

یاد رہے اسلامی بینک کاری کا کاروبار گذشتہ عشرے میں بہت پھیل چکا ہے اور اس معاملے پر دارالعلوم کراچی کے مہتمم مفتی تقی عثمانی اور دارالعلوم فاروقیہ کے مہتمم مفتی سلیم اللہ خان کے بیچ شدید اختلاف پایا جاتا تھا۔ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان مرحوم کے بعد ان کے بیٹے ڈاکٹر عادل خان صاحب جامعہ فاروقیہ کے مہتمم بنے تو وہ بھی اپنے والد کی رائے پر قائم رہے اور سرمایہ داروں کے سودی کاروبار کو شرعی حیلوں سے حلال کرنے کے خلاف ڈٹے رہے

اس سے قبل بھی تکفیری دیوبندی گروپ مولانا حسن جان اور مفتی شامزئی جیسی دیوبندی علما کے قتل میں ملوث رہے ہیں

جبکہ وائس آف امریکہ کے مطابق مقتول رہنما اور ان کے بیٹے کو 2005 میں امریکہ سے دہشت گردوں سے تعلق کی وجہ سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا