Featured Original Articles Urdu Articles

شیعہ، سنّی شناختیں اور غیرت دینی -عامر حسینی

مولانا فضل حق خیرآبادی ،مفتی صدر الدین آزردہ، مرزا اسد اللہ غالب اور یہ تینوں بہت گہرے دوست تھے- پہلے دو ناام ایسے ہیں جن کی سنّی اسلام (بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث) سب کے ہاں بہت عزت و احترام بطور عظیم علمائے اسلام کے ہے

یہ دونوں راسخ العقیدہ علمائے اسلام شمار کیے جاتے ہیں- یہ دونوں مرزا اسد اللہ خان غالب کے انتہائی گہرے دوست تھے،جو اثنا عشری شیعہ تھے اور ان کے نظریات ان دونوں جید علماء سے ڈھکے چھپے نہیں تھے- اور زمانہ امن میں یہ اکٹھے روز کہچری کیا کرتے تھے- ان کے اجتہادی خطا والے نظریہ پہ اشعار سب کو پتا ہیں اور اس وقت بھی معروف تھے

مجھے ان کے زمانے کی کتابیات اور ہم عصر لوگوں کے تذکروں میں اور کہیں ان کی اپنی کتابوں میں یہ زکر نہیں ملتا کہ مولانا فضل حق خیرآبادی یا مفتی صدر الدین آزردہ نے مرزا نوشہ سے دوستی اور تعلق خاطر کی شرط یہ رکھی ہو کہ وہ اپنی مذہبی شناخت اور اپنے اظہار مذہب سے دست بردار ہوجائیں، کہیں ایسا کچھ ملے تو مجھے ضرور مطلع کیجئے گایہ جو بعض مولوی حضرات درس اتحاد مابین سنّی و شیعہ کی بنیاد آخری فریق سے مذہبی شناخت اور اظہار مذہب سے دستبرداری پر رکھ رہے ہیں کیا یہ سب سے پہلے مولانا فضل حق خیرآبادی اور مفتی صدرالدین آزردہ سے اپنی عقیدت و محبت سے دست بردار ہوں گے؟

امام بخاری نے جن اساتذہ سے احادیث کا درس لیا اور بطور استاد ان محدثین کا احترام سے ذکر کیا، ان میں بقول مولانا عبدالشکور فاروقی لکھنؤی 80 کے قریب استاد محدث قدری،خارجی، رافضی، تفضیلی و ناصبی ہیں(یہ بات علامہ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب فتح الباری فی شرح صحیح البخاری کے مقدمہ میں بھی لکھی ہے)تو کیا امام بخاری نے ان غیراہل سنت محدثین اساتذہ سے علم حدیث حاصل کرنے کی شرط ان کے اپنے مذہبی ادعا سے دست بردار ہونا رکھی تھی؟صوفیا کی اکثریت کے امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ان کے حلقہ درس بصرہ کی مرکزی مسجد میں واصل بن عطا بھی بیٹھا کرتے تھے

امام حسن بصری سے واصل بن عطا کا مرتکب گناہ کبیرہ کے مقام بارے بحث و مباحثہ ہوا، حسن بصری گناہ کبیرہ کے مرتکب کو مومن کی منزل پر ہی سمجھتے تھے لیکن واصل بن عطا نے اس کو کافر و مومن کے درمیان کی منزل قرار دیا – اور فسق کو بھی ایک حالت بین الایمان والکفر کہا -اس اختلاف کے بعد واصل بن عطا نے اپنا حلقہ درس الگ کرلیا ،وہیں مسجد میں، حسن بصری کی زبان سے نکلا ‘اعتزل منا ‘ اسی سے واصل بن عطا کے مخالفین نے اس کو اس کے ساتھ جانے والوں کو “معتزلہ” کہا یعنی “الگ” ہوجانے والے

لیکن کیا ان سے سماجی روابط کی شرط اس الگ ہونے ہونے کے بعد ان کی اپنے نظریات سے دست برداری رکھی گئی؟ کیا ان کے خلاف منافرت انگیز مہم چلائی گئی؟ اگر ایسا ہوتا تو واصل بن عطا کا حلقہ درس حسن بصری کے ساتھ ہی الگ کرکے بصرہ کی جامع مسجد میں نہیں لگتا-اس روشنی میں فرقہ پرستوں کی اور یہ جو مذہبی شناختوں سے دست برداری کی چیخ پکار کرنے والے ہیں سے پوچھا جائے کہ ان کی دینی غیرت کیا امام بخاری، امام صوفیا حسن بصری جیسے کبار تابعین سے بھی زیادہ ہے؟

کیا یہ مولانا فضل حق خیرآبادی اور مفتی صدر الدین آزردہ سے بڑے غیرت مند ہیں؟اگر اتحاد اور قربت کے لیے شرط دوسرے کی مذہبی شناخت اور اظہار سے دست برداری ہوتی تو مولانا شبیر عثمانی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا ظفر ندوی، مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا عبدالعلیم میرٹھی والد الشاہ احمد نورانی، پیر جماعت شاہ محدث علی پوری، الغرض دیوبندی جمعیت علمائے اسلام، آل انڈیا سنّی علماء و مشائخ کانفرنس میں شامل علماہ و مشائخ قائداعظم محمد علی جناح ، راجا آف محمود آباد، ایم ایچ اصفہانی، آغا خان سے ان کی مذہبی شناخت و اظہار سے دست برداری کا مطالبہ کرتے- اگر نہیں کیا تو دو ہی مطلب نکلتے ہیں یا تو ایسا مطالبہ غیرت دینی کے زمرے میں آتا نہیں تھا یا پھریہ علماء اتنے غیرت دینی سے سرشار نہ تھے جتنے سپاہ صحابہ جیسی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ملاں سرشار ہیں؟سوال تو اٹھیں گے ، جواب بھی دینے پڑیں گے