Original Articles Urdu Articles

مظلوم ہی قصوروار ٹھہرتا ہے- عامر حسینی

کیا ہمیں بھول گیا مختاراں مائی کیس، جب آمر پرویز مشرف نے کہا تھا کہ پاکستانی عورتیں اپنا ریپ غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کے لیے ہونے دیتی ہیں

الزام کو مظلوم کی طرف پلٹا دینے کی ذھنیت ہمارے سماج کے ایک بڑے سیکشن کی ذھنیت بن چُکی ہے-کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ جب بلوچستان، اندرون سندھ، کراچی، کے پی کے اور سابقہ فاٹا سے مسخ شدہ لاشیں سڑک کنارے ملنے لگیں تو ماورائے عدالت قتل کی مذمت کرنے کی بجائے یہ کہا گیا “جن کی لاشیں ملیں، اُنہوں نے کچھ تو کیا ہوگا”یہی “کچھ نہ کچھ کرنے” کی منطق جبری گمشدگان کی جبری گمشدیوں کے باب میں پیش کی جاتی رہی ہے

ریپ ہو یا ریپ کی کوشش، تیزاب گردی ہو یا انکار پر گولی مار یا خنجر مار کر قتل کرنے کی کوشش یا قتل ہو، متاثرہ عورت سوال اور بنا کسی طاقتور قرینے اور ثبوت کے شکوک کا مرکز ٹھہر جاتی ہے اور اُس کی مظلومیت اور متاثرہ ہونے کی حالت کو چیلنج کردیا جاتا ہے

پاکستان میں مذھبی جبر کا شکار ہونے والے اور ایسے ہی اپنی مذھبی شناخت کے کارن مارے جانے والوں کے سوال پر بھی یہی الزام کو مظلوم کی طرف پلٹانے والی ذھنیت کارفرما ہےیہ ذھنیت کس سیکشن میں زیادہ ہے اور کیوں وہاں پر جمی نظر آتی ہے؟

اس سوال کا جواب بہت آسان ہے:آپ یہ مانتے ہی نہیں ہیں کہ بلوچستان میں سیکورٹی و انٹیلی جنس اداروں کے لوگ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں اور ایسے ترقی کے ماڈل کی حفاظت کے نام پر بلوچ قوم پر جبر کررہے ہیں جس کو وہ اپنی شناخت کی بربادی اور اپنے وسائل کی لوٹ مار کہتے ہیں، آپ یہ نہیں مانتے کہ پنجاب اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی حکمران اشرافیہ بلوچستان کو ایک کالونی کی طرح چلارہی ہے، جس کے نتیجے میں بار بار مزاحمت اور قومی حقوق کی تحریک چلتی ہے، جس کو فوجی آپریشنوں سے دبایا جاتا ہے تو جب آبادی کا ایک بڑا سیکشن بلوچستان کے مقدمے کو سرے سے مانتا ہی نہیں ہے اور وہ بلوچستان میں قومی سوال کو بھارت کی سازش قرار دیتا ہے تو اُس کے نزدیک بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل ہوں، جبری گمشدگیاں ہوں، مسخ شدہ لاشوں کا ملنا ہو، ہزارہ نسل کُشی ہو، یہ سب کے سب “بلوچوں” کی وجہ سے ہے- ایسی صورت میں ڈیتھ اسکواڈ تو دراصل اسلام، پاکستان کا دفاع کرنے والے ٹھہر جاتے ہیں

بلوچستان میں اگر کسی بلوچ عورت سے ریپ ہو یا کوشش ہو یا اس کے ساتھ بدسلوکی ہو اور وہ ہو بھی کسی سرکاری عہدے دار کی جانب سے تو اس پر اُس پیمانے کا ردعمل نہیں آتا جو ردعمل آج ہمیں وسطی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کی ایک شادی شدہ عورت سے ہوئی زیادتی پر بندوبست پنجاب سمیت پاکستان کے مرکزی شہری علاقوں میں نظر آرہا ہے

ڈاکٹر شازیہ مری کے ساتھ ہسپتال میں ایک فوجی افسر نے جو ریپ کیا تھا، اُس واقعے پر احتجاج کی شدت وہ نہیں ہے جو آج نظر آرہی ہے، ہمارے بلوچ بھائی، بہن یہ سوال شدت سے اٹھارہے ہیں، اور ہمارے پاس جواب نہیں ہے، سوائے اس جواب کے کہ ملزمان اگر بااثر ہوں اور ہوں بھی سیکورٹی اداروں سے تو موثر اور غیر موثر احتجاج دونوں ہی ملزمان کو بری ہونے سے روک نہیں سکتے

سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور، سانحہ ساھیوال کی مثالیں سب کے سامنے ہیں عورت کے ساتھ جینڈر /صنف کی بنیاد پر ریپ کرنے یا کرنے کی کوشش جیسا گھناؤنا عمل شاؤنسٹ مردوں کے نزدیک متاثرہ عورت کے لباس، اُس کے میک اپ یا پھر تنہا باہر نکلنے وغیرہ وغیرہ کے سبب ہوتا ہے, یعنی شاؤنسٹ سیکشن یہ تسلیم ہی نہیں کرتا کہ ریپ کرنے والا قصوروار ہے بلکہ وہ ریپ کے شکار کو قصور وار ٹھہراتا ہے

غیرت کے نام پر قتل ہونے والی عورتیں بھی اسی مرد شاؤنزم کا شکار بنتی ہیں اور یہ شاؤنزم ہمارے رسوم و رواج، روایات، مذھبی فہم کے اندر اپنی جڑیں تو رکھتا ہی ہے، ساتھ ساتھ عورت کے قتل کے پیچھے جائےداد بھی ملوث ہوتی ہے، کبھی شاؤنسٹ مرد کی انا کارفرما ہوتی ہے