Featured Original Articles Urdu Articles

تحریک پاکستان بارے شیعہ رجحانات -جسٹن جونز حصّہ دوم

اشراف بطور اچھوت: ایک شیعہ ترجمان آواز کی تشکیل

سن 1930 سے 1940ء تک مسلم لیگ کے احیاء کے ساتھ ساتھ ہی ایک الگ شیعی سیاسی تحریک کی تشکیل کی کوششیں بھی ہونے لگی تھیں- اس تحریک نے خود کو مسلم لیگ کے پروجیکٹ سے الگ بلکہ مخالف ممتاز حثیت سے اپنے آپ کو پیش کیا- حقیقت میں، الگ شیعہ سیاسی شناختوں کے بننے کی کالونیل ہندوستان میں لمبی جڑیں تھیں- 19ویں صدی کے آخر اور 20 ویں صدی کے شروع میں متفرق اثنا عشری تناظر اہم مسلم سیاسی مسائل کے جواب میں سامنے آچکے تھے

ایک آل انڈیا شیعہ کانفرنس لیگ کے بننے کے ایک سال بعد 1907 میں بن چکی تھی- اگرچہ اس کا دعوی غیر سیاسی تنظیم ہونے کا تھا لیکن عام طور پر اسے لیگ کے تمام مسلمانوں کے واحد نمائندہ جماعت ہونے کے دعوے کو چیلنج کرنے والی جماعت کے طور پر دیکھا گیا،جب اس نے حکومت کی طرف اپنے الگ سے وفود بھجنے شروع کیے- اگلے دوعشروں میں، شیعہ کمیونٹی رہنماؤں نے علی گڑھ، خلافت اور عدم تعاون کی تحریکوں کے جواب میں اپنے الگ کمیونٹی ردعمل قائم کیے، جس نے مزید الگ شیعہ سیاسی شناخت کے فہم کو گہرا کیا-33

جبکہ مسائل کے گرد ہونے والی تحریکوں کی اکثریت کھلے عام سیاسی پارٹی سے وابستگی سے جڑی ہوئی تھی اور یہ ایک دوسرا سیاسی سوال بھی تھا جس نے شیعہ کے مسلم لیگ کی طرف اس کے ایک سیاسی تنظیم ہونے کے ناطے شکوک کو بڑھاوا دیا تھا: وہ سواال تھا سیاسی نمائندگی کا اور زیادہ واضح کریں تو سوال یہ تھا کہ کیا شیعہ جداگانہ مسلم نمائندگی کے نظام میں اپنی سیاسی آواز برقرار رکھ سکیں گے- مسلم مخصوص نمائندگی کے اہم ترین تصور کے ساتھ اور سب سے قریب ترین چیز ہونے کے ناطے لیگ کو اپنی ساری سیاسی زندگی میں ایک بہت مربوظ وژن رکھنا پڑا تھا- اور اس سے جڑے خطرات براہ راست لیگ پر منڈلاتے رہتے تھے- یہ تصور کہ شیعہ امیدوار عوامی عہدوں کے لیے لڑے جانے والے انتخابات میں مذہبی امتیازی سلوک کا سامنا کریں گے، کالونیل ہندوستان میں یہ بہت پرانی کہانی تھی

سن 1880ء میں خاص میونسپل بورڑ مسلمان نشستوں پر انتخابات کے دوران شیعہ مخالف پروپیگنڈا اور دھاندلی کی شکایت ملیں تھیں-34

اس کے بعد ان شکایات کا دائرہ پھیلتا گیا اور آوازیں بلند تر ہوتی گئیں جبکہ انتخابی حلقوں کا پھیلاؤ بھی ہوتا چلا گیا- خاص طور پر آئینی کونسلوں کی 1909ء میں تشکیل اور صوبائی دستور ساز اسمبلیوں کی 1919 میں تشکیل کے وقت شکایات کا دائرہ پھیل گیا- 1920 کے وسط میں شیعہ اخبار “سرفراز(اجرا1925ء)” یہ لکھ رہا تھا: ‘شیعہ الیکشن جیتنے کے قابل نہیں ہیں اوروہ اس کی وجہ سنّی اکثریت کی خودغرضی اور تعصب کے ساتھ ساتھ شیعہ-سنّی پروپیگنڈا قرار دیتا ہے- اور شیعہ- سنّی پروپیگنڈا اتنی بےرحمی سے پھیلایا جاتا کہ شیعہ امیدوار اگر الیکشن میں کھڑا ہونے کی ہمت بھی کرلے تو ہار یقینی ہے’-35

سیاسی نمائندگی بارے ان شکایات نے ایک ایسی تنظیم کو جنم دیا جسے آل انڈیا شیعہ پولیٹکل کانفرنس کے نام سے جانا جاتا ہے- اصل میں یہ تنظیم 1929ء میں شیعہ جاگیردار/تعلقہ دار،نواب اور وکلاء نے یو پی ہندوستان میں بنائی تھی-36

یہ اس وقت سائمن کمیشن(1929-30) کی کاروائی، نہرو رپورٹ(1928) اور جناح کے چودہ نکات کے گرد جمع ہونے والی آئينی بحث کے اندر (شیعہ) آواز قائم کرنے کی کوشش تھی- اپنی تشکیل کے وقت سے ہندوستان کے آئینی مستقبل پر بحث و مباحثے پر نظر رکھتے ہوئے کانفرنس کی بنیادی پالیسی ایک واحد مسلم بلاک کی سیاست کو مسترد کرنا تھی- ‘جداگانہ مسلم انتخاب کے اندر شیعہ کی سیاست فنا ہوجانے والی ہے’ جیسی دلیل دیتے ہوئے، کانفرنس نے ایک مخلوط نشستوں کی پالیسی دی جس میں ہندؤ اور مسلمان دونون کی الگ نشستین ہوگی-مخصوص نشستوں کے اس نظام میں خالص شیعہ کے لیے بھی نشستیں رکھے جانے کا اشارہ موجود ہے-37

مخلوط انتخاب پر یقین نے قدرتی طور اس تنظیم کو مسلم لیگ سے دور کردیا جوکہ جداگانہ مسلم نمائندگی سے پکے رشتے بنا چکی تھی اور 1930ء میں اسے کانگریس کے قریب کردیا- شیعہ پولیٹکل کانفرنس اور مسلم لیگ کا کئی طرح سے باہم موازانہ بنتا ہے- دونوں نے سیاسی اصطلاحوں میں اپنی برادریوں کی تعریف کی- دونوں نے ایک تقابلی بلکہ ہندوستانی معاشرے کے بارے نوآبادیاتی تضور سے متاثرہ خیال کو جوڑا، جس کے مطابق برادری ایسی تقسیم کا شکار تھی جسے آز خود ختم نہیں کیا جاسکتا تھا اور اس تقسیم کے سبب سماج بہت شکستہ تھا اور اسی بنیاد پر وہ منقسم برادری کے درمیان سیاسی ثالثی کے لیے ایک غیر جانبدار ریاست کا تقاضا کرتے تھے- شیعہ پولٹیکل کانفرنس کی حکمت عملی اہم طرح سے مختلف ہوگئی تھی-یہ بہت زیادہ اس پالیسی سے مماثل تھی جو نچلی ذاتوں کے لیے تشکیل دی گئی تھی- یعنی مخلوط انتخاب مگر مخصوص نشستوں کے ساتھ- بالکل ویسے ہی جیسے 1932 میں گاندھی اور امبیدکر کے درمیان پونا ایکٹ کے تحت طے پایا تھا-38

نوآبادیات کے آخری عشروں میں، حقیقت میں، یہ کئی ایک بار کے لمحات میں سے محض ایک موقع تھا جب شیعہ مسلمانوں نے ہندوستان کے اچھوتوں سے بطور ساتھی متاثرہ اقلیت کے سیاسی موازانہ کیا بلکہ بعض اوقات تو ان کے ساتھ اتحاد بھی بنایا- حالیہ دور میں بعض شیعہ علماء نے اچھوتوں کے ساتھ امتیازی رسوم کے خلاف چلنے والی مہم کا ساتھ دیا جبکہ کچھ نے نچلی جاتیوں کی نجات کے لیے امام حسین کو بطور نمونہ چننے پر رضامندی ظاہر کی-39 شیعہ سیاستدانوں نے اسی طرح شیعہ اور دلت کے مقدموں میں مماثلت تلاش کی اور انہوں نے سنّی عدم برداشت کا موازانہ اچھوتوں سے ہندؤں کے عدم برداشت سے کیا-40

اور یہ دلیل دی کہ اچھوت نے جس طریقے سے اکثریت کی غلامی کا جوا اتار پھینکا اور اپنے حقوق حاصل کیے، اس طریقے کو شیعہ نے بغور دیکھا ہے-41

جبر کا شکار طبقات کے ساتھ یہ خود ساختہ موازنہ شاید ایک طرح سے ستم ظریفی تھی- کیونکہ جنوبی ایشیا میں شیعہ برادری کی تشکیل کے تذکرے میں ہمیشہ زور ان کے بلند رتبہ مسلمان اشراف کے گروہ کا رکن ہونے پر رہا تھا- مزید یہ ہندوستانی شیعہ کی اپنی حالت زار کو مختلف محرکات کے تحت آگے ابلاغ کرنے کی قابلیت کو ظاہر کرتی ہے- نوآبادیاتی ہندوستان کے آخری عشروں میں شیعہ سیاست دان شہادت امام حسین اور 13 سو سالہ مبینہ سنّی جبر کو عصری سیاسی ضمانتوں کے جواز کے لیے استعمال کرتے تھے- ان کا ہندوستانی سماج کی تشکیل کے اندر اپنی حالت زار کے لیے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے مسلم سماج میں شیعہ کے سماجی مرتبے کا براہمنی ہندؤ مت کے اندر اچھوتوں کے مرتبے سے موازانہ کرنے کی طرف جھکاؤ تھا- کانفرنس نے اپنے شروع کے سالوں میں چند ہی اجلاس کیے جن کا اثر محدود تھا- اس کا مسلم لیگ کے خلاف موقف طاقتور طریقے سے 1930ء کے بعد دو مرحلوں میں اور زیادہ مربوط ہوا

ان میں سے پہلا مرحلہ 1937ء میں صوبائی قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات کا تھا- شیعہ پولٹیکل کانفرنس نے ان انتخابات کے دوران یہ محسوس کیا کہ مسلم لیگ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے متعدد اضلاع میں شیعہ امیدواروں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا -لیگ پر الزام لگایا گیا کہ اس نے کم تعداد میں شیعہ امیدواروں کو کھڑا کیا- اور جن شیعہ امیدواروں کو اس نے فرقہ وارانہ نعروں کو رد کرنے کے لیے چنا تھا ان کی بہت کم مدد کی گئی- یہاں تک کہ انتہائی بدترین الزامات کچھ خاص حلقوں میں سامنے آئے جیسے شیعہ-سنّی تناؤ سے بھرے شہر لکھنؤ میں کہ مسلم لیگ کے رہنماؤں نے سنّی ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے فرقہ وارانہ مسائل کو ہوا دی-42

ہندوستانی سیاست میں بڑے پیمانے پر خلیج میں یہ بہت اہم واقعہ تھا- 1937ء کے صوبائی انتخابات کے بعد یوپی کے سیاسی مرکزمیں فاتح کانگریس نے الیکشن کے بعد لیگ سے ملکر اتحادی حکومت بنانے کے وعدے سے مکر گئی- اس طرح کی علیحدگی کے بعد ایک شیعہ سیاست دان کے بقول دونوں سیاسی جماعتوں میں ایک تزویراتی ہم آہنگی کی حکمت عملی کے ٹوٹ جانے کے بعد مسلم نیشنلسٹ سیاست دانوں نے اپنے آپ کو کھلی پارٹی وفاداری کے انتخاب پر مجبور پایا-43

اس کا اطلاق اس وقت کے شیعہ پولیٹکل کانفرنس کے صدر سید وزیر حسن پر بھی ہوا،جو اودھ کے سابق چیف جسٹس اور کانگریس و مسلم لیگ کے درمیان 1916ء میں ہوئے میثاق لکھنؤ میں اہم کردار کے مالک تھے-شیعہ کے خلاف لیگ کے مبینہ غلط اقدامات کے الزامات جن کا پہلے زکر کیا گیا کے فوری بعد، انہوں نے شیعہ پولٹیکل کانفرنس کے سالانہ اجلاس 1937ء میں اپنے صدارتی انتخاب کو ليگ کی طویل تاریخ کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کیا- انھوں نے دعوی کیا کہ ليگ نے کبھی بھی شیعہ کے ساتھ ایماندارانہ سلوک نہیں کیا- اور اسی لیے ان کو کانگریس سے رجوع پر مجبور کردیا- انہوں نے کامیابی سے میز پو قرار دادیں رکھیں جن میں کہا گیا تھالیگ کسی بھی صوبے میں مسلمانوں کی اکثریت نہیں ہے تو اسے کانگریس ایک غیر نمائندہ جماعت قرار دے

44 وزیر حسن نے مسلم لیگ کی جداگانہ انتخاب کی مبینہ خطرناک پالیسی پر تنقید کی اور یہاں تک کہ علما کو کانگریس کے حق میں ووٹ دینے کو کہا-45

اگرچہ اس میں وہ کامیاب نہ ہوسکے- اس سارے ساگا میں وزیر حسن کو مسلم لیگ سے نکال دیا گیا- ان کے بیٹے بیرسٹر علی ظیہر نے کانگریس کے حق میں اعلان کیا اور شیعہ پولیٹل کانفرنس کا سب سے طاقتوررہنماء بن گئے- اور 1940ء تک انتہائی بااثر سیاست دان رہے-46

دوسرا مرحلہ جس نے شیعہ کی لیگ سے ہمدردی کو ختم کیا لکھنؤ میں مدح صحابہ اور تبراء تحریک کے دوران پارٹی کا شیعہ احساسات سے لاتعلق رہنا تھا-47

جناح کو زاتی طور پر تمام اطراف سے مداخلت کرنے کو کہا گیا تھا- اس طرح کی درخواست کرنے والوں میں سنّی کاز48 سے ہمدردی رکھنے والے مسلم لیگ کے مقامی کارکنوں کا ایک گروہ بھی شامل تھا جبکہ اس میں شیعہ لیگی بھی تھے جنھوں نے جناح سے کہا کہ وہ ثالث بنکر یہ ثابت کریں لیگ کو ان کے مسائل سے دلچسپی ہے- جبکہ جناح اور دوسرے لیگی رہنماء بظاہر پارٹی کے سب سے بنیادی ستون “مسلم اتحاد” پر اس تنازعہ کے کیا اثرات ہوں گے- وہ اپنی تنظیم کے اس تنازعے کے سبب مکمل منتشر ہونے کے خیال سے اس قدر نروس تھے کہ انہوں نے کوئی لائن ہی نہیں لی

50 دونوں طرح کے جھگڑوں میں ملوث نہ ہونے کے جناح کے غیر لچکدار موقف نے نے خود اور اسے حل کرنے کی کوششوں سے علیحدگی ہوسکتا ہے عملیت پسندی سے پیدا ہوئی ہو ، لیکن اس پیچیدہ تنازعے کی طرف ان کا رویہ پارٹی کے اندر فرسٹریشن لیکر آیا اور باہر تضحیک- جیسا کہ ایک اخبار نے اسے ایسے پیش کیا،’ مسلم لیگ کو مسلمانوں کے ہر ایک سیکشن پر نگران سمجھی جاتی ہے لیکن اس نے خود کو ان کے اختلافات کو ختم کرکے ان میں صلح کرانے کے قابل نہیں ثابت کیا- اگر مسلم لیگ لکھنؤ میں موجودہ آگ بجھا نہیں سکتی تو کس حق کے تحت یہ مسلمانان ہند کی ترجمان بنکر بات کرے گی

51 شیعہ کے ساتھ لیگ کی انتخابی بدسلوکی کے ساتھ شیعہ تبرا تحریک کے عروج کے دوران فاصلے پر رہنے کے احساسات کا نتیجہ شیعہ کمیونٹی کے اعتماد کے خاتمے کی صورت میں نکلا-1939ء میں ناصر حسین کنٹوری، جو شاید ہندوستان میں سب سے بااثر شیعہ عالم اور مجتھد تھے جن کی طرف تقلید کے لیے سب سے زیادہ رجوع کیا جاتا تھا نے بھی یہ فتوی دیا کہ تمام شیعہ مسلم لیگ سے اپنے روابط توڑ دیں- کہا جاتا ہے کہ اس اقدام کے دور رس اثرات مرتب ہوئے اور اس نے دیگر علماء کو بھی اس تنظیم کی مذمت کرنے پر ابھارا

52سن 1939ء میں شیعہ پولٹیکل کانفرنس نے اپنے سیشن میں اعلان کیا: “بطور ایک فرقے کے شیعہ نے کبھی مسلم لیگ کو اپنا ترجمان نہیں سمجھا اور ليگ نے ہمیشہ شیعہ کے احساسات اور جذبات کو پامال کیا ہے

53 لیگ کے سنّی غلبہ کی تنظیم ہونے یا یہاں تک کہ اس کے اعلانیہ فرقہ وارانہ تنظیم ہونے کے یہ احساسات خطرناک حد تک پارٹی کی طرف سے اپنے آپ کو ایک نئی اسلامی صلح کلیت کی نقیب جماعت کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کی نفی تھے اور یہ احساسات لیگ کی طرف سے نئے ایجنڈے کے پیش کرنے کے سے محض چند ماہ پہلے طاقتور ہوئے تھے

راہ پیغمبر سے راہ خلافت راشدہ پر: شیعہ کے نزدیک پاکستان کا مطلب جناح کے مبہم مطالبہ پاکستان پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے-جیسا کہ 1940ء کی قرارداد میں اسے پیش کیا گیا تو اس کی بہت ساری تعبیرات سامنے آئیں چاہے وہ لیگ کے اپنے اندر نا چاہے متضاد سیاسی دباؤ کے سبب آئیں یا مکمل لچکداری کی حکمت عملی کی اجازت دینے اور ممکنہ وسیع تر حمایت حاصل کرنے کے سبب آئی ہوں-54

معاملہ کچھ بھی ہو، شیعہ نے گہرے اضطراب پر باہر سے پاکستان کے تصور پر آواز اٹھائی- گردش کرتی تجویز کے غیر شفاف ہونے کے باعث کئی ایک شیعہ سیاسی رہنماؤں نے لیگ کے عزائم اور ان کے شیعہ پر اثرات بارے سوال اٹھائے- ان میں سے کچھ تحفظات کا تعلق پاکستان کے رہائشی شیعہ کا ریاست کی سنّی اکثریت کا سامنا کرنے کی صورت میں ان کے مذہبی و سیاسی تحفظ کی صرورت سے متعلق تھے- اور ان خدشات کو لیگ کے لیے ابتداء میں چیلنجز کے طور پر خود ليگ نے بیان کیا تھا- شیعہ اخبار سرفراز ، جس نے اپنے اداریوں اور تبصروں میں نیشنلسٹ لائن لی تھی مطالبے کا خیر مقدم کیا اور شکوہ بھی کیا کہ شیعہ تقاضوں کو خاص طور پر پیش نظر نہیں رکھا گیا-55

قرارداد لاہور کے پیش ہونے کے ایک ہفتے بعد، امیر حیدر خان راج کمار آف محمود آباد( مسلم لیگ کی حمایت کرنے والے راجا آف محمود آباد کا بھائی) نے جناح کو نجی طور پر خط لکھا اور جناح سے قرارداد میں موجود الفاظ “کافی اور موثر اور لازمی تحفظ پاکستان کی اقلیتوں کے لیے فراہم کیا جائے گا” کی مزید تشریح کرنے کو کہا- شیعہ کے پاکستان کے مطالبے کی حمایت کرنے کے لیے، انھوں نے مطالبہ کیا کہ منتخب اداروں میں شیعہ نمائندگي مختص کی جائے- شیعی عقیدے کی آزادی، عمل کی آزادی اور حنفی قانون کے اقدام کی کوئی صورت میں شیعہ کے پرسنل لاءز کا تحفظ-55 مختلف محاذوں پر سخت تنے ہوئے رسے پر چلتے ہوئے، جناح کم ہی کسی کو گراؤنڈ دینے کے قائل تھے: انہوں نے شیعہ حقوق کے تحفظ کی مبہم یقین دہاںی کرائی- مہارا جاکمار آف محمود آباد کو ان کی سمت پر تجویز دیتے ہوئے کہا: “یہ سمت شعہ کو فائدہ بخش نہیں ہوگی اور شیعہ کے لیے ٹھیک پالیسی لیگ میں تہہ دل سے شامل ہونا ہے

56 لیگ کی ہائی کمان جب متعدد باہم مسابقت کرنے والے مطالبات سے نمٹ رہی تھی تو پارٹی اس وقت کئی سالوں سے شیعہ کی طرف سے تحفظ فراہم کرنے کے جو مطالبات تھے ان کو تسلیم کرنے میں مکمل طور پر غیر رضامند ثابت ہوئی، اس نے اس کی شیعہ سیاسی تحریک سے بےگانگی میں اضافہ کردیا-1944ء میں شیعہ پولیٹکل کانفرنس کے صدر کے طور پر علی ظہیر نے پھر دوبارہ اس ایشو پر لیگ کی قیادت کو جوڑنے کی کوشش کی- انھوں نے جناح کو سرعام لکھا اور ان کو پاکستان کے منصوبے میں شیعہ کا مقام کیا ہوگا اسے واضح کرنے اور صاف صاف اس کا تعین کرنے کا چیلنچ دیا

انھوں نے شیعی مذہبی رسوم کی ادائيگی کی آزادی کا تحفظ کرنے والے اقدامات کی واضح تشریح کرنے، انتخابات کے دروان شیعہ کے خلاف پروپیگنڈا ختم کرنے اور سیاست میں شیعی نمائندگي کی ضمانت دنیا ہوگی- جناح کا جواب مبہم اور کسی کمٹمنٹ سے پاک تھا- اپنے آپ کو اس بات پر سخت پراعتماد بتلایا اور ظہیر کو بتلایا

شیعہ کی اکثریت مسلم لیگ کے ساتھ ہے- شیعہ کو یہ سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ان سے پارٹی منصفانہ سلوک نہیں کرے گی اور یہ مسلم کاز کے ساتھ سخت زیادتی ہوگی کہ مسلمانان ہند کے درمیان کسی قسم کی تقسیم پیدا کی جائے-“57

جناح کے موقف کا موازانہ کانگریس کے کمیونل سوال پر موقف سے کیا جاسکتا ہے- کانگریس کا کہنا تھا کہ کمیونل ایشوز آذادی کے بعد حل کرلیے جائیں گے- ایسے ہی جناح کا موقف تھا کا پاکستان کے جنم کے بعد شیعہ- سنّی مسائل اندرونی طور پر ہی حل ہوجائیں گے- بہت سارے شیعہ نہ صرف مطالبہ پاکستان اور اس میں ٹھیک ٹھیک حفظاتی ضمانتوں کے نہ ہونے بارے فکر مند تھے بلکہ وہ ریاست کی اسلامی شناخت کے مستقبل بارے میں بھی فکر مند تھے- جیسا کہ حالیہ کام اس موضوع پر زور دیتا ہے چاہے جناح کی اپنی سیکولرسٹ جبلت ہوں یا آئينی مباحث ان سے ہٹ کر “پاکستان” عوام کی سطح پر یہ ایک نیا اسلامی نظام، یوٹوپیا، نیا مدینہ تھا-58

تاہم اس نعرے کے پیچھے جو حقیقی مدعا تھا اس کا خاکہ پارٹی قیادت نے بہت ہی باریکی سے کھینچا تھا- یہ بات یاد رکھنے؛ اہم ہے، مودودی کے زیر اثر دولت اسلامیہ/ اسلامی حکومت کی اختراع سے پہلے یا شیع سیاسی تصور ولایت فقہیہ سے پہلے ان سالوں میں اسلامی ریاست کا مبہم تصور ضروری نہیں تھا کہ خاص طور پر سنّی تصور ریاست ہی ہو- تاہم پاکستان کے لیگی حامیوں کا نعرہ “حکومت الالہیہ”، یا ایک نئی قوم جس کی تشکیل منھاج النبوت کے مطابق ہوئی ہو، کچھ شیعی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا- اصل میں شاید اوپر کے دلائل سے ہم آواز ہمتے ہوئے مسلم لیگ کے اندر کچھ شیعہ پاکستان کو نئی قسم کی مابعد فرقہ وارانہ اسلامی حقیقت خیال کرتے تھے جس کے اندر شیعہ پورا پورا کردار ادا کریں گے ، بعض اوقات یہ شیعہ لیگی تھے اسلامی پاکستان کے خیالات سے مکمل ہم آہنگ ہونے پر راضی تھے

ایسا کرنے کے لیے سب سے سنیئر لیگی سیاست دان راجا آف محمود آباد تھے- جنھوں نے بعد میں اپنے آّپ کے اسلامی ریاست کے تصور کے زیر اثر آنے کا اعتراف کیا-59

قرارداد لاہور 1940 کے منظور ہونے کے فوری بعد، پرونشل مسلم لیگ بمبئی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک تجربہ گاہ ہوگی جس میں ہم امن کا تجربہ کرسکیں گی- ایسا تجربہ جو پہلے کبھی نہیں ہوا ہوگا، اسلامی حکومت کی دوبارہ تشکیل نہ کہ مسلم ریاست ہمارا نصب العین ہے-60

راجا کی تقریر تاریخی فلسفہ غایات اور اسلام کے ایک جمہوری مذہبی ریاست کے اندر پوری طرح بروئے کار لانے سے بھری ہوئی تھی اور یہ ایک عشرے پہلے اقبال کے قشہور تصور “مسلم انڈیا” سے کہیں زیادہ آگے کی چیز تھی- اور یہ پاکستان کو ایک اسلام پسند ملک کے طور پر عالمی اسلامی انقلاب پرستی کے ہراول دستے کے طور پر پیش کرتی تھی- اس ریاست کی نفع رسان فطرت کا حوالہ دیتے ہوئے مذہبی اقلیتوں کی تاریخی اسلامی قبولیت اور ایک اسلامی پاکستان ہونے کے ناطے سے اسلام کی ممتاز اور قانونی تکثیریتوں کی طرف بھی اشارہ کیا-61

تاہم دو سالوں کے اندر اندر، شیعہ نےزیادہ سے زیادہ پاکستان کی متنوع اسلامی شناخت کو اس یک نوعی شناخت میں بدلے جانے پر تشویش کا اظہار کرنا شروع کردیا جو اکثر سنّی خاصیتوں کے مطابق بنائی گئی تھی- یہ بدلاؤ اس لیے شاید بڑھتا ہوا دکھائی دیا کیونکہ حنفی علماء کی ایک بڑی تعداد تحریک پاکستان کا حصّہ بنی تھی

یہ علماء جن تنظیموں سے منسلک تھے وہ تحریک پاکستان کا حصّہ بنیں، جیسے جمعیت علمائے اسلام؛ بہت سارے علماء کا تعلق تعلق پرانے قدامت پرست دارالعلوم دیوبند اور اور شیعہ مخالف اتحاد سے تھا- جبکہ اب تک سب سے زیادہ موثرعالم مسلم لیگ سے جو وابستہ تھے وہ اشرف علی تھانوی تھے وہ سیاسی میدان میں شیعہ پر تنقید کرنے سے گریزکرتے تھے تاکہ مسلم لیگ کمزور نہ ہو- لیکن یہ مصلحت ان کی وفات(1943) کے بعد مسلم لیگ میں اثر اور طاقت پکڑنے والے علماء کے لیے زیادہ اہمیت کی حامل نہ تھی

ان میں سے کچھ نے ، شاید دوسری عوامی مذہبی سیاسی تنظیموں جیسے جماعت اسلامی تھی کی طرف سے چیلنچز کا سامنے ہونے پر اپنے آپ کو اسلامی روایت کا مستحکم نگران کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے قانون اور آئین کی منھاج نبوت جیسی مطلق اور عام اصلاح کے مطابق تشکیل کی بجائے فقہ حنفی کے مطابق تشکیل کا مطالبہ شروع کردیا- تو زیادہ کشادہ زبان جیسے حکومت الالہیہ اور منھاج النبوۃ تھییں کی جگہ تیزی سے پاکستان میں اسلام نظام کے نمونے کے طور پر سنّی خلفاء کا نام آنا شروع ہوگیا-62

لیگ سے منسلک علماء جیسے ان میں شبیر احمد عثمانی، سید نظیر الحق نے 1945ء کی انتخابی مہم میں پاکستانی قانون اور پاکستانی آئین کی تشکیل خلفائے راشدون پر کرنے کا مطالبہ کیا

63یہاں تک کہ لیگ سے وابستہ پریس نے بھی بہت واضح الفاظ شایع کیے-یہاں تک کہ انگریزی اخبارات جیسے ڈان تھا میں پاکستان کو سیرت الشخین کے مطابق چلانے کے الفاظ شایع ہوئے- ان جیسی باتوں کو شیعہ علماء نے لیگ کی سنّی جبلت کے طور پر دیکھا

64 درحقیقت شبیر احمد عثمانی کی جانب سے ایسی مداخلتیں جو شاید لیگ کے سب سے بااثر حامی مولوی تھے، اکثر و بیشتر دھمکی آمیز دکھائی دیت تھیں- 1945ء میں جب ان سے سوال ہوا کہ وہ کیسے مسلم لیگ کی حمایت کو جائزسمجھتے ہیں جبکہ ان میں کافر غالب ہیں، انہوں نے ایک فتوی میں کہا کہ فقہائے قدیم کے ںزدیک خوارج سے بھی اتحاد جائز تھا اگر وہ اپنے مشترکہ دشمن مشرکوں سے لڑرہے ہوں تو- تو ایسے ہی عارضی طور پر فرقہ باطلہ مسلم لیگ سے عارضی طور پر اتحاد جائزہے65

اس طرح کی دلیلیں آج کل کے فرقہ وارانہ ڈسکورس/کلامیے کی طرف اشارہ کرتی ہیں، شاید اس سے شیعہ کے درمیان تھوڑا اعتماد پیدا ہوتا ہو لیکن یہ بعد ازاں دیوبندی اسٹبلشمنٹ کی پاکستان کی تخلیق کے بعد ریاست کو سنّی یائے جانے کی کوششوں کی طرف اشارہ ہیں- تحریک پاکستان کے عروج کے موقعہ پر اس قسم کے نعروں سے جو پریشانیاں جنم لیتی اسے لیگ کے ایکٹوسٹ کے رویے سے اور طاقت ملا کرتی، جو بعض اوقات شیعہ کے جذبات کو بھی مجروح کرتی تھیں- ایک تبصرہ نگار کلکتہ کا لکھنے والا محرم کے تعزیے کے جلوسوں کو لیگی حامیوں کی طرف سےعظیم الشان لیگی فتح ریلیوں میں بدلنے پر تنقید کرتا ہے- وہ اسے مقدس تقریبات کا سیاسی استعمال کہتے ہوئے شیعہ کے لیے اور سنّیوں کو مجروح کرنے والا عمل قرار دیتا ہے جو دل کی گہرائیوں سے محرم کو بہادری اور جشن کی ٹون میں مناتے ہیں-66

لیگ کی سیاسی مہم میں سنّی محرکات کے پھیلاؤ نے دوسرے لگیوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر صلح کلیت اور بین المسالک ہم آہنگی کی کوششوں کو بڑے پیمانے پر بے کار بنادیا- ایسی پیش ہائے رفت کو دیکھتے ہوئے راجا آف محمود آباد بھی لیگ کے “اسلامی ریاست” کے تصور کی اپنی ابتدائی حمایت سے پیچھے ہٹ گئے- راجا آف محمود آباد نے جناح سے 1945-46 میں مراسلت کرتے ہوئے زور دے کر کہا، “لیگ سے الحاق کرنے والی جمعیت علمائے اسلام خالص ایک تھیا-پولیٹکل /مذہبی سیاسی جماعت ہے اور اس کے دروازے دوسرے ان سب پر بند ہیں جو سنّی نہیں ہیں-” اور پھر جناح سے یہ تصدیق دوبارہ چاہی کہ پاکستان کی حکومت جمہوری خطوط پر استوار ہوگی۔”67

اس ہی برابراہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی مہم کے اندر یہ لہجے ہندوستان کے بہت سے ممتاز شیعہ علمائے کرام اعلانیہ مسلم لیگ کے خلاف ہوکئے- شاید شیعہ کے اندر ایک ایسے عالم کی کمی تھی جس نے طاقتور سیاسی کرئیر کی تعمیر کی ہوتی، جیسے نیشنلسٹ سنّی ممتاز شخصیات نے کی تھی- جیسے ابو الکلام آزاد اور حسین احمد مدنی تھے- لیکن شیعہ کی جو پیشوائی درجہ بندی تھی اس نے عمومی طور پر لیگ کی مذمت کی- جولائی 1945ء میں ہندوستان کیے سب سے موثر شیعہ مذہبی خاندان کی شخصیات محمد نصیر اور محمد سعید نے علماء کا ایک اجلاس اپنے گھر پر منعقد کیا،جس نے مسلم لیگ کو ساری کی ساری سنّی تنظیم بتایا گیا اور شیعہ پولٹیکل کانفرنس کی حمایت کا اعلان کیا گیا

68 لیگ کی مخالفت میں ایک اور ہندوستان کا بڑا عالم خاندان آیا- یہ لکھنؤ کا خاندان اجتھاد تھا- اس خاندان کی مشہور و معروف شخصیت مجتھد علی نقی نقوی نے مسلم لیگ کے بارے میں اعلانیہ موافق رائے کا اظہار کرنے سے معذوری ظاہر کی-69

انہوں نے 1940ء سے مسلسل امام حسین علیہ السلام کو متحدہ قوم پرستی کے لیے ایک عظیم شخصیت کے طور پر پیش کیا جو کھلے عام کانگریس کے کاز سے جڑی ہوئی بات تھی-70

آزادی کے وقت سے، یہ خاندان تحریک پاکستان کی مخالفت کرتا رہا- جو اس کے قوم پرستانہ ضمیر اور ہندوستان سے وفاداری کا نشان تھی- جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ 1940ء کے دوران کئی سینئر لیگی سیاستدان لیگ کے “صلح کلیت وژن” پر زور دیتے رہے، اس کے باوجود بھی پھر کیسے ایک متبادل مخصوص “سنّی وژن” بہت سارے شیعہ پر غلبہ پاگیا؟ اس کی ایک وجہ تو وہ ہوسکتی ہے جو رسالہ “سرفراز” لکھنؤ کے لیگ مخالف ہونے کی تھی- یہ رسالہ پہلے مسلم لیگ کے سربراہ جناح کے ترقی پسند کردار کا معترف تھا

لیکن 1940ء کے درمیاں شیعہ کی پریشانیوں سے لاتعلق رہنے اور اپنی تنظیم کے اندر فرقہ پرست عناصر کے غلبے کو روکنے میں ناکامی نے اسے لیگ کا مخالف کردیا تھا- رسالہ سرفراز لکھتا ہے: “کیا یہ حکومت اور معاشرے کا ایسا نظام نہیں ہوگا جو خصوصی طور پر سنّی نکتہ نظر پر استوار کیا گیا ہو؟ اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ مستقبل میں پاکستان میں کمال اتا ترک یا رضا شاہ پہلوی جیسا بااختیار کمانڈنگ لیڈر نہیں ہوا جو آزاد خیالی و رواداری پر مجبور کردے-“71

یہ درحقیقت ایک اہم نکتہ اٹھاتا ہے مسلم لیگ کی تنظیم بارے، ایک ایسی جماعت جسے عام طور پر ماہرین علم سیاسیات میں کانگریس کے برعکس جو وسیع پیمانے پر عوامی پرتوں کی تحریک تھی کو جناح جیسے مطلق العنان اور بااختیار سیاست دان کے زیر اثر سمجھی جاتی تھی- ایسا لگتا ہے نہ تو شیعہ سیکولر جناح نہ ہی پارٹی کی ہائی کمان جن پر شیعہ پہلے ہی عدم اعتماد کرچکے تھے، اپنے بارے میں بنے تاثر کے مطابق پارٹی پر وہ کنٹرول نہیں رکھتے تھے