Featured Original Articles

فاضل پور میں عمر ابن سعد کی مبینہ توہین پر درج ہونے والے مقدمہ کا علاقائی سیاسی پس منظر – حیدر جاوید سید

مدعی وکیل ایم ابوبکر خان یوسف زئی مسلکی طور پر وہابی اور نون لیگ کا رہنما ہے جبکہ سید مزمل بخاری ( سابق چیئرمین بلدیہ فاضل پور) کا خاندان صوفی سنی مسلک سے تعلق رکھتا ہے اور سیاسی طور پر دریشک گروپ کا حصہ ہے

سرائیکی وسیب میں ثقافتی و سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے خصوصی شہرت کے حامل شہر فاضل پور میں مسلم لیگ ن کے رہنماہ ایم ابوبکر خان یوسف زئی ایڈووکیٹ نے سابق چیئرمین بلدیہ فاضل پور ، پیر سید مزمل حسین بخاری کے خلاف توہین صحابہ کے الزام میں مقدمہ درج کروایا ہے

مدعی کی درخواست برائے اندراج مقدمہ کا مرکزی نکتہ ( الزام ) یہ ہے کہ سید مزمل حسین بخاری نے ایک فیس بک پوسٹ میں عمر ابن سعد پر لعنت کی ہے درخواست میں آگے چل کر کمپنی کی مشہوری کےلیے مدعی نون لیگی رہنماہ وکیل نے درخواست میں یہ بھی لکھا کہ سید مزمل نے امیر شام حضرت معاویہ کی بھی توہین کی ہے اس ایف آئی آر کے حوالے سوشل میڈیا پر جاری احتجاج اور خود فاضل پور کے شہریوں میں پائی جانے والی تشویش بجا طور پر درست ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق چیئرمین بلدیہ فاضل پیر سید مزمل حسین بخاری کا خاندان شیعہ نہیں بلکہ صوفی سنی یعنی بریلوی ہے ان کے والد پیر سید محمد حسین بخاری قبل ازیں کئی بار بلدیہ فاضل پور کے سربراہ منتخب ہوچکے سید مزمل بخاری 2015ء میں بلدیہ فاضل پور کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہوئے تھے چند دن قبل مقامی رکن پنجاب اسمبلی رضا خان دریشک نے فاضل پور میں متعدد تقریبات اور ملاقاتوں میں اعلان کیا کہ تحریک انصاف کی جانب سے سید مزمل بخاری ہی بلدیہ فاضل پور کےلیے چیئرمین کے آئندہ امیدوار ہوں گے

اس اعلان کے بعد نون لیگی رہنماہ ایم ابوبکر خان یوسف زئی متحرک ہوئے انہوں نے جس فیس بک پوسٹ کی بنیاد پر مقدمہ درج کروایا اس پوسٹ کے حوالے سے سید مزمل بخاری تحریری طور پر تین دن قبل اپنا موقف سوشل میڈیا پر لکھنے کے علاوہ ملاقاتیوں کو بھی پیش کر چکے تھے مگر سازشی ذہن کے مدعی نے علاقائی سیاست کے معروف خاندان کو راستے سے ہٹانے کےلیے مقدمہ درج کروادیا

بنیادی طور پر مقدمہ یہ ہے کہ سید مزمل بخاری نے عمر این سعد کی توہین کی ہےعمر ابن سعد حضرت امام حسینؑ اور ان کے احباب و انصار اور خاندان کے افراد کو کربلا میں شہید کرنے والے یزیدی لشکر کا سربراہ تھا اور اس پر اجماع امت ہے مدعی نے کمپنی کی مشہوری کے لیے درخواست میں آگے چل کر یزید کے والد کی توہین کا الزام بھی لگایا ہے

فاضل پور کے معروضی حالات کی روشنی میں اگر اس مقدمہ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ مذہبی توہین کا مقدمہ نہیں بلکہ سیاسی انتقام اور دھڑے بندی کو مستحکم بنانے کی سازش ہے اس معاملے کا ایک پہلو اور ہے وہ یہ کے ن لیگ کے رہنما ایم ابوبکر خان یوسف زئی ایڈووکیٹ مسلکی اعتبار سے وہابی یعنی اہلحدیث ہیں اور سید مزمل حسین بخاری صوفی سنی بریلوی یہاں ایک بات تو طے ہوگئی کہ یہ شیعہ سنی تنازعہ نہیں اگر فرقہ وارانہ تنازعہ ہے تو بریلوی وہابی جھگڑا ہے

یہ بھی اس حد تک کہ مدعی وکیل نون لیگ کے ٹکٹ پر پہلے رکن قومی اسمبلی اور اب سینیٹر منتخب ہونے والے جمیعت اہلحدیث ساجد میر گروپ کے رہنماہ سینیٹر حافظ عبدالکریم کا سعادت مند بلکہ عقیدت مند ہمنوا ہے جبکہ سید مزمل بخاری مقامی سیاست میں دریشک گروپ کے اتحادی ہیں دریشک گروپ ان دنوں تحریک انصاف میں ہے

فاضل پور میں درج کروائے گیے مقدمہ کے حوالے سے یہ معروضات پیش کرنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ یہ شیعہ سنی جھگڑا نہیں بلکہ نون لیگ اور دریشک گروپ یا تحریک انصاف کی علاقائی سیاست کا تنازعہ ہے سیاسی اختلافات اور دھڑے بندیوں میں مخالف کے خلاف مذہبی جذبات مجروع کرنے کے الزام میں درج کروایا گیا یہ پہلا مقدمہ نہیں اس کی متعدد مثالیں قبل ازیں موجود ہیں فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ نون لیگ جمیعت اہلحدیث ساجد میر گروپ اور کالعدم تنظیمیں سرائیکی وسیب میں علمی ادبی اور ثقافتی حوالوں سے شہرت رکھنے والے شہر فاضل پور کا امن تباہ کرنے کے درپے ہیں

صوبائی حکومت اور ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ کو کسی تاخیر کے بغیر موثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ شرپسند عناصر اپنی سازشوں میں کامیاب نہ ہو سکیں