Featured Original Articles Urdu Articles

شیعہ مسلمانوں کا تحریک پاکستان بارے رجحانات – جسٹن جونز پہلا حصّہ

The All India Muslim League is a body dominated by the SunniMussalmans… the League is a fascist body out to crush all opposition and capture power to establish the government of a Sunni Junta, by a SunniJunta and for a Sunni Junta… Shias [see] in it the total annihilation of their faith, their culture and their individuality.1

آل انڈیا مسلم لیگ ‘سنّی مسلمانوں’ کا غلبہ رکھنے والی جماعت ہے—- لیگ ایک فسطائی تنظیم ہے جس کا مقصد تمام مخالفوں کو کچل کر سنّی عوام کی حکومت، سنّی عوام کے زریعے اور سنّی عوام کی خاطر قائم کرنا ہے۔۔۔۔۔ شیعہ اس میں اپنے عقیدے، اپنی ثقافت اور اپنی انفرادیت کا خاتمہ دیکھتے ہیں

حسین بھائی لال جی ممبئی کے تاجر خاندان سے تعلق رکھنے والے اثناعشری شیعہ تھے۔ وہ تجربہ کار سیاست دان اور ممبئی کی لیجسلیٹو کونسل کے رکن تھے- زبان کی اس قدر تیزی ان کا مزاج نہیں تھا۔ شیعہ پولیٹکل کانفرنس کے صدر ہونے کے ناطے وہ 40 کے عشرے میں ہندوستان کی آزادی اور امکانی طور پر پاکستان کی تخلیق کے گرد زور و شور سے جاری مذاکرات میں ایک غیرمصالحت پسندانہ مہم میں مصروف تھے جسے ‘شیعہ مسلمانوں کا مقدمہ’ کہا جارہا تھا۔ شیعہ پولیٹکل کانفرنس کا دعوا تھا کہ اسے ہندوستان بھر سے شیعہ مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہے

لال جی اکثر ہندوستان کی بڑی سیاسی جماعتوں اور برطانوی آقاؤں کو عرضیاں لکھ کر ان خطرات کی نشان دہی کرتے رہتے تھے جو کسی بھی سیاسی تصفیے میں شیعہ کی لمبے عرصے سے موجود مطالبات کو نظر انداز کرنے سے پیدا ہوں گے۔

اپنےبہت سارے مکتوب میں ان کا استدلال تھا کہ پاکستان میں سنّی شریعت نافذ ہوگی اور یہ شیعہ شہریوں کو عبادت کرنے کی آزادی یا امتیازی سلوک سے حفاظت فراہم کرنے میں ناکام رہے گا۔

ایک دوسرے ٹیلی گرام ميں انھوں نے جو پیشن گوئی اس میں کافی حد تک صداقت کا عنصر پایا جاتا تھا

Shi‘as ‘should not… hope that their religious rights [will] be safe in Pakistan, which is going to be Sunnistan.’2

” شیعہ کو یہ امید نہیں رکھنی چاہئیے کہ ان کے مذہبی حقوق پاکستان میں محفوظ ہوں گے، جوکہ سنّی- ستان بننے جارہا ہے-“2

سائمن فچ، سومن مکھرجی، علی عثمان قاسمی اور میگان روب کا اس مضمون کے پہلوؤں بارے مشوروں کا شکریہ

1-تمہیدی بیان: شیعہ مسلمانوں کا موقف، حسین بھائی لالجی کا برٹش پارلیمانی وفد دہلی،جنوری 1945، حسین بھائی لالجی کی تحریر، شیعہ مسلمانوں کا مقدمہ بمبئی:جواہر،1946

2- نیشنل ہیرالڈ لکھنؤ ،21جنوری 1946،سنٹر آف ساؤتھ ایشیئن اسٹڈیز،کیمبرج

 سی ایس اے ای

لال جی کے بیانات ہندوستانی شیعہ کے ایک سیکشن  کے اندر تخلیق پاکستان کے حوالے سے پائے جانے والے گہرے خدشے کے وجود کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ اس خدشے کے وجود کو اکثر تحریک پاکستان پر کام کرنے والے ماہرین میں سے کئی ایک نظر انداز کرڈالتے ہیں اور وہ ہندؤ غلبے کے مقابلے میں ایک مربوط مسلم قومیت کی تعمیر کے پہلو پر زیادہ زور دیتے ہیں ۔

اس طرح کی غالب تاریخ نگاری کے طریقے کے اندر غیرمنقسم ہندوستان میں شیعہ-سنّی سیاسی مباحث کو اکثر یا تو انتہائی معمولی یا پھر پھر غیر متعلق کہہ کر رد کردیا جاتا ہے۔ جیسے ایم کیو زمان اسے پیش کرتا ہے

“تحریک پاکستان کے دوران فرقہ وارانہ اہمیت کے امور نمایاں نہ تھے”۔3

یہ بھی عام طور پر فرض کرلیا جاتا ہے کہ شیعہ اور سنيوں کے تحریک پاکستان بارے ردعمل اور دونوں کے اس بارے تجربات کا سرسری سا تقابل کیا گیا۔

مثال کے طور پر جیسے مشیر الحسن نے کہا

“Shi‘as uncomplicatedly ‘hitched their fortunes with the League bandwagon’ before partition; ultimately, he claims, in spite of minor quarrels, ‘the forces of an overriding and hegemonic “Muslim nationalism” subsumed sectarian allegiances. Shias and Sunnis undertook their long trek towards the promised dar-al-Islam.”4

” شیعہ نے تقسیم سے پہلے بلا ضرورت اپنی قسمت کو ليگ کے مقبول رجحان سے باندھ لیا تھا؛ آخرکار، چند ناقابل ذکر جھگڑوں کے باوجود غالب اور بالادست مسلم قوم پرستی کی قوتوں میں فرقہ وارانہ وفاداریاں گم ہوگئیں تھیں۔ شیعہ اور سنّی مسلمانوں نے اپنے وعدہ کردہ ‘دارالسلام’ کی طرف لوٹنے کے لیے لمبا سفر کیا”۔4

کچھ حالیہ استثناؤں کو چھوڑ کر5 بہت سارے بیانات میں ایک لمبے عرصے سے یہ فرض کیا جاتا رہا ہے کہ تحریک پاکستان کے دوران شیعہ- سنّی اختلافات بہت حد تک قابو میں تھے اور غیر معینہ مدت کے لیے دب سے گئے تھے ، شاید ان کو شکست ہوگئی تھی یا نئی ریاست کے قیام تک زیر التوا رکھ دیے گئے تھے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کل شیعہ- سنّی تنازعے کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ ریاست پاکستان کی تشکیل کے بعد ہوا۔ حالیہ عشروں میں فرقہ وارانہ تشدد کے بے تحاشا پھیلاؤ پر جو بنیادی اہمیت کی تحریریں ہیں وہ اس کا رشتہ مابعد 1947ء ‘قوم کی تعمیر’ کے دوران سامنے آنے والی مشکلات سے جوڑتی ہیں۔ چاہے پاکستان کی ریاست کا دیوبندی مائل اسلامائزیشن پروگرام ہو یا ایرانی انقلاب اور افغان جنگوں کے پاکستان پر اثرات ہوں۔

گرام ہو یا ایرانی انقلاب اور افغان جنگوں کے پاکستان پر اثرات ہوں۔6

3-محمد قاسم زمان،’ پاکستان میں فرقہ پرستی: شیعہ اور سنّی شناختوں کی ریڈیکلائزیشن،’ماڈرن ایشئین اسٹڈیز36،نمبر3 2000 :691-

4- مشیر الحسن، “ہندوستانی اسلام میں فرقہ پرستی: صوبہ متحدہ جات میں شیعہ-سنّی تقسیم”، انڈین اکنامک اینڈ سوشل ہسٹری ریویو27،نمبر2 1990 :222، اور ‘ روایتی رسوم اور نزاعی معانی: نوآبادیاتی لکھنؤ میں فرقہ وارانہ کشیدگی’، “لکھنؤ میں: شہر کی یادیں” وائیولیٹ گراف نیو دہلی:آکسفورڈ یونیورسٹی پریس،2002 ،1333-

5- حال ہی میں دو اسٹڈیز جنھوں نے تحریک پاکستان میں شیعہ کی موجودگی پر توجہ دی ہےجس کا ایک حصّہ یہاں پر لایا گیا ہے میں سے ایک سائمن فسچ کی کتاب” شیعہ اسلام کے مراکز کی ازسرنو تلاش:مذہبی اتھارٹی،نوآبادیاتی ہندوستان اور پاکستان میں فرقہ واریت اور قومی سرحد سے بلند ہونے کی حدود” پریسٹن یونیورسٹی،2015 ،باب اول اور انڈریس ریک کی کتاب،’ پاکستان کے شیعہ: ایک پراعتماد اور محصور اقلیت لندن:ہرسٹ،2015 ،31-54

دوسرے لفظوں میں جیسے لبنان و عراق کی نوآبادیاتی ریاستوں میں شیعہ- سنّی تنازعے کے وجود کی زیادہ تر تشریح ان پیچیدگیوں کے فریم کے اندر کی جاتی ہے جو نازک اور ثقافتی طور پر پیچیدہ مابعد نوآبادیاتی معاشروں کے اندر نئی سیاستوں کی تعمیر کے دوران دیکھنے کو ملی تھیں۔7

مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا دونوں کے لیے ایسا تناظر تشکیل دیا جاتا ہے جس کی رو سے نوآبادیاتی دور شیعہ- سنّی اتحاد کا دور تھا جس میں مغربی غلبے کے مشترکہ سیاق و سباق کے ردعمل میں وسیع تر مسلمان امت کا تصور سامنے آیا

نوآبادیاتی دور کو اسی لیے بعد کے عشروں میں فرقہ وارانہ شعلوں کی آگ بھڑکنے کے لحاظ سے بین المسالک ہم آہنگی کا سنہری دور قرار دیا گیا۔

تاہم تحریک پاکستان کو شیعہ- سنّی اختلاف سے ماورا یا اسے پس منظر میں دھکیلنے والا نظریہ حقائق کے سامنے مشکل سے ٹھہرتا نظر آتا ہے۔ حال ہی میں جنوبی ایشیائی شیعوں پر تحقیقی کام کا جو ایک بڑا ذخیرہ سامنے آیا ہے وہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ مسلم شناخت کی سیاست کی تہہ میں یا اس کے پھیلاؤ کے پیچھے، بعد کے نوـادیاتی دور میں یہ مذہبی برادریاں تیزی سے بطور ایک واضح تشخص رکھنے والی برادری کے عمل سے گزر رہی تھیں۔

مثال کے طور پر اثنا عشری شیعہ برادری اپنے مدرسے قائم، ثقافتی اقدامات اٹھا اور سماجی تنظیموں کا قیام کررہی تھی- یہ سب اقدامات ایک آزاد قائم مذہبی برادری کے طور پر خود اپنی خودمختاری پر زور دینے والے تھے۔ اور یہ کوششیں اکثر سیاسی معاملات میں بھی ڈھل جاتی تھیں۔8

یہی بات اسماعیلیوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی تھی جن میں سے بہت سارے شناختوں کے درمیان واضح لیکر کھینچے جانے کے عمل کا تجربہ کررہے تھے۔ چاہے یہ ان کے روحانی قیادت کی پیش رفت اور انیسویں صدی میں نوآبادیاتی عدالتوں میں ان کی قانونی شناخت کو ماننے کا نتیجہ تھی یا 20ویں صدی میں ان کے تنظیمی اور خیراتی نیٹ ورک کے پھیلاؤ کا۔9

6- قاسم زمان، پاکستان میں فرقہ واریت، ولی نصر،’ پاکستان میں سنّی عسکریت پسندی کا ابھار: معاشرے اور سیاست میں اسلام ازم اور علماء کا بدلتا کردار،’ماڈرن ایشین اسٹڈیز34،نمبر1 2000 :139-80؛ مریم ابوذہب ،؛پاکستان میں فرقہ وارانہ تصادموں کی علاقائی جہت: قوم کے بغیر نیشنل ازم؟ کرسٹوفر جیفرلٹ نئی دلّی:منوہر،2002 ،115-29

7- میکس ویس،”فرقہ واریت کے سایے میں: قانون، شیعہ مذہب اور جدید لبنان کی تشکیل کیمبرج میساچوسسٹ: ہاورڈ یونیورسٹی پریس،2010 ؛ فنار حداد، عراق میں فرقہ پرستی: اتحاد کے جارحانہ تصورات لبنان:ہرسٹ،2011

8- جسٹن جونز،’ نوآبادیاتی ہندوستان میں شیعہ اسلام: مذہب، کمیونٹی/برادری اور فرقہ واریب نیویارک: کیمبرج،2012

9- ترتیب وار، دیکھیے ٹینا پورھیت،آغا خان کیس: ہندوستان میں مذہب اور شناخت بوسٹن:ہاورڈ یونیورسٹی پریس،2012 ؛ سومن مکھرجی،’ آرزؤں کی عالمگیریت: 20ويں صدی کے جنوبی ایشیا اور افریقہ میں اسماعیلی خیال میں برادری اور سماجی خدمت” جرنل آف رائل ایشیاٹک سوسائٹی شمارہ 24 جلد 3 2014 :435-54؛ فیصل دیوجی، اسماعیلی ازم کا تصور’، ‘دس اہم ترین مسلمان فرقے لندن:ہرسٹ،2014 ،51-62- “پاکستان تو سنّیستان بننے جارہا ہے” ص’353

شیعہ برادری کی تشکیل کی تحریکوں کو مشکل سے ہی وسیع تر مسلم قومیت کی تشکیل کے ردعمل کے طور دیکھا گیا جو کہ مطالبہ پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی تھی-

دوسرا وہ عشرہ جس کے نتیجے میں پاکستان بنا شاید جنوبی ایشیا میں سنّی- شیعہ تعلقات کا ایک نادر نمونہ تھا۔

1930ء کے وسط سے لکھنؤ شیعہ- سنّی تنازعے کا اکھاڑا بن چکا تھا۔ اس اکھاڑے میں ہونے والی اکھاڑ پچھاڑ میں اس وقت شدت آئی جب مقامی سنّی دیوبندی ریڈیکل سیکشن  کے رہنماؤں نے کافی عرصے سے دم توڑ گئی  فرقہ وارانہ  سرگرمی کو نام نہاد مدح صحابہ تحریک کے جلوسوں سے زندہ کرڈالا اور یہ کام عید میلادالنبی کے موقعہ پر شروع ہوا

1939ء میں مقامی انتظامیہ نے تحریک کی اجازت دے ڈالی۔ اس کے خلاف شیعہ نے نام نہاد تبرا تحریک شروع کردی۔ اس طرح کے تماشوں کا نتیجہ بڑے سنّی- شیعہ فسادات کی شکل میں نکلا- 14 ہزار شیعہ جو تبرا تحریک میں شریک تھے گرفتار کرلیے گئے۔ اس سے شیعہ – سنّی تعلقات میں زبردست زھر گھل گیا۔ اور اس تنازعے میں پورے برصغیر سے لوگ آکر شرکت کرنے لگے۔10

یہ سب کچھ پاکستان بننے سے چند سالوں پہلے رونما ہوا۔ اور یہ شیعہ کے پاکستان کی تحریک بارے ردعمل بارے خبر دینے میں شاید ہی ناکام رہے۔

اس لیے یہ مضمون تخلیق پاکستان اور پاکستان کے ممکنہ کردار بارے بہت سے ہندوستانی شیعہ اشراف کی پریشانی کی گہرائی اور اہمیت پر زور دیتا ہے۔

آزادی سے ایک عشرہ پہلے ممتاز شیعہ سیاسی تحریک کے جنم پر توجہ رکھتے ہو‏ئے اس مضمون کا زیادہ فوکس آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے گرد ہے۔ اس میں یہ استدلال پیش گیا گیا ہے کہ اس تحریک کا زیادہ حصّہ مسلم لیگ اور پاکستان کی مخالفت میں گزرا۔

جس کے پاکستان کی اسلامی شناخت کے معنی اور نوعیت کے بڑے نتائج اور عواقب نکلے۔ اور سینتالیس کے بعد سرحدوں کے دونوں اطراف رہنے والے جنوبی ایشیا کے شیعہ پر اس کے انمٹ اثرات مرتب ہوئے۔

پہلے ہمیں لمبے ٹائم فریم میں مسلم لیگ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس دوران ہم جنوبی ایشیاء کے شیعہ سے مسلم لیگ کے تعلقات کو پس منظر میں رہنے سے لیکر آزادی سے پہلے اس حمایت میں تقسیم ہونے کے عمل تک کو دریافت کریں۔

مسلم لیگ 1906ء میں اپنی بنیاد کے وقت سے چار عشروں تک بین المسلمین تقریب کی تحریک کے طور پر رہی۔ اس دوران شیعہ دانشوروں اور سیاست دانوں نے لیگ کی ترقی میں مسلم اقلیت کے طور پر اپنی تعداد سے کہیں بڑھ کر کردار ادا کیا۔

10- اس طرح کی چیزوں کے بارے میں مواد میں سینڈریا فرتاخ کا ‘ اجتماعی قدم اور برادری: ہندوستان میں عوامی اکھاڑوں اور کمیونل ازم کا ابھار برکلے:برکلے کیلیفورنیا1989 ، روایتی رسومات اور متنازعہ معانی جونز کی کتاب؛’کالونیل ہندوستان میں شیعہ اسلام،186-221

تنظیم کے بانیوں میں بشمول آغا خان سوم جنھوں نے شملہ وفد کی قیادت کی تھی جس نے جماعت کی تاسیس میں موثر کردار ادا کیا شیعہ اسماعیلی تھے۔11 اپنے ابتدائی سالوں میں جماعت کو نامور اشراف اور شہزادے شیعہ جیسے نواب آف رام پور، فتح علی خان قزلباش، قانون دان اور سرکاری اہلکار شیعہ بشمول بدر الدین طیب جی، سید علی امام اور حامد خان،نوآبادیاتی دور کی دیسی ریاستوں کے منتظم جیسے سید حسین بلگرامی آف حیدرآباد شامل تھے۔12

پارٹی کی لندن شاخ جو کہ پارٹی کی سیاست میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی تھی کا قیام کلکتہ ہائی کورٹ کے شیعہ جج سید امیر علی نے کیا تھا۔13 مسلم لیگ کا شیعہ ہراول دستہ ان بہت سے نوجوان سیاست دانوں میں نمایاں تھا جس نے پہلی جنگ عظیم کے بعد تنظیم کو اور زیادہ عملی سیاسی سرگرمیوں کی طرف ڈالا تھا۔ ان میں لکھنؤ کے ممتاز قانون دان سید وزیر حسن اور بہت سارے وہ تھے جنھوں نے سنّی خلافت ایجی ٹیشن کی قیادت کی تھی۔ان میں علی برداران بھی شامل تھے جو نصف شیعہ تھے۔

ایسے ہی شیعہ نوجوان سید علی رضا اور سید حیدر مہدی تھے۔ تیس اور چالیس کی دہائیوں میں لیگ کے احیاء کے سارے دور میں اس وقت تک دولتمند شیعہ خاندانوں نے لیگ کی قیادت اور اور اس کے مالی معاملات دونوں ہی چلائے تھے- ان میں شمالی ہندوستان کے مسلم اشراف راجے،نواب جاگیردار جیسے محمودآباد کے راجا بھی شامل تھے، جو تقسیم سے قبل نہ صرف اس جماعت کے ممتاز رہنماء تھے بلکہ اس کے مالی معاونت کار بھی تھے-14 اس میں ہندوستان کے پریذیڈنسی شہروں سے تجارتی اور صعنتی خاندان بھی شامل تھے جیسے کلککتہ کے بڑے کاروباری گھرانے کے سربراہ ایم ایچ اصفہانی

اس سے پہلے کہ لیگ کے سب سے مشہور سیاست دان کا زکر کیایا جائے- یعنی محمد علی جناح جو کہ خوجہ تھے اور عمرکے دوسرے عشرے میں اسماعیلی فرقے سے اثناعشریہ فرقے میں شامل ہوگئے تھے-15 ہم مسلم لیگ میں شیعہ مسلمانوں کی بھاری اکثریت کی موجودگی کا نشان ایک دوسری جہت سے بھی دیکھ سکتے ہیں- اس جہت میں جماعت کے سنّی ملّاں  مخالفین اسے نہ صرف مسلمان بلکہ  رافضی  شیعہ کی سرکردگی میں کام کرنے مالی جماعت قرار دیا کرتے تھے

11- اس دور میں آغا خان کے کردار کے لیے دیکھیں “محمد شاہ،ہندوستان عبوری دور میں:سیاسی ارتقاء کا ایک مطالعہ – لندن: پی ایل وارنر،1918

12- ان اور دوسرے شیعہ سیاست دانوں کی سوانح عمریاں فرانسز رابنسن کی کتاب: ہندوستانی مسلمانوں میں علیحدگی پسندی: صوبہ متحدہ جات کے مسلمانوں کی سیاست نئی دہلی:آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1997 ، 358-434

13-  جسٹس امیر  علی پر سکالرشپ کے خلاصے کے لیے دیکھیں نندنی چیٹرجی کی ‘قانون،کلچر اور تاریخ: امیر علی کی برٹش سلطنت میں کی قانونی تواریخ میں اسلامی روایت کی تعبیر: قوانین، مشغولیت اور ورثے

Shaunnagh Dorsett and John McLaren  London:Cambridge, 2014 , 45-

خاص طور پر یہ بات ان علماء کے بارے میں درست تھی جو تنظیموں کے طور پر جیسے جمعیت علمائے ہند اکثر 1930-1940 تک کانگریس کے اتحادی رہے تھے- وہ  علماء  لیگ کو ‘کافروں کی جماعت’ کے طور پر پیش کرنے کے بہت شوقین تھے- بہت سے اس جماعت کو نہ صرف اس لیے مذمت کے قابل سمجھتے تھے کہ یہ پارٹی اشرافیائی/ارسٹوکریٹک غلبے کو جاری رکھنے کا زریعہ تھی بلکہ وہ اسے ایک خفیہ شیعی تحریک کے طور پر بھی دیکھتے تھے جو ہندوستانی اسلام کو نامیاتی بے قدری کے خطرے سے دوچار کرسکتی تھی- وہ اس طرح کی مذمت لیگ کے شیعہ رہنماؤں کی تنقید کے زریعے کیا کرتے تھے- مثال کے طور پر ظفر الملک جو ایک ایسے  دیوبندی سنی  عالم تھے جو شیعہ کے کلی انکار پر مبنی مخالفانہ تحریک کے ساتھ بہت گہرائی سے وابستہ تھے نے جناح پر الزام لگایا کہ انہوں نے یوم شہادت حضرت علی علیہ السلام کے موقعہ پر سیاسی سرگرمیاں معطل کرنے سے انکار کیا- انہوں نے جناح کو 1944ء کو لکھا: “میں جانتا ہوں کہ آپ خوجہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں

16- فیصل دیوجی، مسلم صہیونی: پاکستان بطور سیاسی نظریہ ہرسٹ: لندن’2013  217

مسلم لیگ کے اندر شیعہ کی موجودگی بارے کئی طرح کے ایسے الزامات نے تقیہ کے بارے میں مباحث کو  سیاسی حلقوں میں  زندہ کردیا، شیعہ تشخص کو چھپانے یعنی تقیہ پہلے ہی ہندوستان میں شیعہ مخالف مناظروں میں عام زیر بحث آنے والا تصور تھا، یہاں یہ اس خیال کے ساتھ جوڑ کر زیر بحث آرہا تھا کہ جماعت  مسلم لیگ  ک شیعہ اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ایک پردے کے طور پر استعمال کررہے ہیں- شیعوں نے مسلم لیگ کے وجود کے ایک مرحلے میں اسقدر بڑا کردار کیوں ادا کیا؟ جزوی طور پر اس شمولیت کا تعلق تاریخی اعتبار سے برادریوں کی ثروت مندی اور اثر و رسوخ سے جوڑا جاسکتا ہے جن برادریوں سے یہ شیعہ سیاست دان آئے تھے- ان میں سابق حکمران اور دیسی راجواڑوں کی اشرافیہ کے وارثان، ہندوستان کے با اثر جاگیردار، سرکاری حکام اور بڑے کاروباری لوگ شامل تھے- اس سے ہٹ کر بھی شاہد دوسری اور وجوہات بھی ہیں جو یہ وضاحت کرتی ہیں کہ عوامی شیعہ شخصیات وسیع تر مسلم سیاست کے ساتھ بڑے پیمانے پر جڑی رہیں

18-وینکٹ دہلی پالا،ایضا:سجاد رحمت اللہ،مقالات سجاد پٹنہ:امارات شریعۃ،1999 ،24-27

سنّی مجادلے کی توجہ سیاست سے شیعہ کی مبینہ دوری پر تھی،چاہے اس کا سبب ان کی عزاداری میں زبردست مشغولیت ہو یا پھر امام کی غیبت کے زمانے میں انتظار کے سبب  جانز،شیعہ اسلام،177-78

پھر بھی شاید دوسری وجوہات بھی اس شمولیت کے پس پردہ کارفرما ہوں گی جس کے سبب شیعہ کی اسقدر معروف عوامی شخصیات وسیع طرح مسلم سیاست کے ساتھ اسقدر وابستہ ہوگئیں تھیں- اس کی ایک وجہ تو شاید یہ تھی کہ برطانوی راج نے مسلمانوں کی خصوصی نمائندگی کی پالیسی بنائی جس نے موثرطریقے سے سنّی اور شیعہ کو ایک سیاسی برادری کے حصّے کے طور پر رکھا،جو مذہبی شعائر کے لحاظ سے مختلف تھے-شاید اسی نے ایک ممتاز شیعہ سیاسی آواز کی ترقی کو روکے رکھا- جب کہ ان سیاسی ڈھانچوں نے بطور خاص شیعی نمائندہ طور پر سیاسی عہدوں کے حصول کو بے کار کی مشق بنائے رکھا تو جو ابھرتے ہوئے سیاستدان تھے ان کی خود کو “مسلمان” ناکہ “شیعہ رہنماء” کے طور پر پیش کرنے کی حوصلہ افزائی کی- جیسا کہ اسکالر ولیم کینٹ ویل سمتھ اسے پیش کرتا ہے کہ زیادہ تر شیعہ رہنماء بشمول ان کے جن کے نام اوپر ذکر ہوئے انھوں نے اپنی شہرت شیعہ گروپ کے حصّے کے طور پر بنانے کی بجائے عمومی طور پر اسلامی گروہ کے حصّہ ہونے کی بنائی- ان افراد نے بطور شیعہ نہیں بطور مسلم کے کام کیا-19

لیکن لیگ میں شیعہ کی بھاری بھرکم موجودگی کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ تنظیم نے شاید شیعہ کے ایک مسلمان اقلیت ہونے کے پریشان کن مقام کو حل کرنے کی حکمت عملی پیش کی تھی جس کے زریعے شیعہ دانشور اور سیاست دان اچھے طریقے سے وسیع مسلم سیاست کی صورت گری میں حصّہ لے سکیں- یہ بہت اہم تناظر ہے جو مسلم سیاست میں فرقہ واریت کو نظر انداز کرنے کے عمل کو پلٹا دیتی ہے- مسلم سیاست پر جو ابتدائی تحقیقی کام ہوا،اس میں فرقہ واریت کو نظراندازکرنے کے واضح نشان موجود ہیں- فرقہ واریت کو نظر انداز کرنے کا معاملہ فیصل دیوجی نے اٹھایا ہے جسے وہ مسلم لیگ کی سیاست میں شیعہ موجودگی کی پوشیدہ نوعیت کہتے ہیں- جیسا کہ وہ کہتے ہیں، جو شیعہ مسلم لیگ کے اندر بہت ممتاز تھے زیادہ تر اسلام میں اپنے اندر جگہ بنانے سے دلچسپی رکھتے تھے کیونکہ وہاں سنّی گروپوں کا غلبہ تھا- اور اس معنی میں اقلیت کا تحفظ جو لیگ کے شیعہ رہنماؤں نے دیکھا اس میں جہاں ہندؤ اکثریت کا خوف کارفرما تھا،وہیں سنّی اکثریت کا خوف بھی تھا-20

اس نکتہ کی مزید تائید کبھی کبھار بعض ممتاز لیگ کے شیعہ سیاستدانوں کی خط و کتابت میں قدرے مبہم انداز میں دیے گئے حوالوں سے ہوجاتی ہے- جیسے ایم ایچ اصفہانی نے 1945ء میں جناح کو تجویز کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تقسیم سے شیعہ کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا- اس سے اس سوال کے جواب میں مدد ملتی ہے کہ شیعہ مسلمانوں کی اکثریت اور ان کے ممتاز رہنماء متحرک مسلم لیگی کیوں تھے؟21

19- ولیم کینٹ ول سمتھ، ہندوستان میں ماڈرن اسلام: ایک سماجی تجزیہ لاہور:محمد اشرف،1963 ،345-

20- دیوجی، مسلم صہیون،66-67

21-حسن اصفہانی بنام مہاراجا آف محمود آباد ،ستمبر1945، جناح پیپرز، جلد 11مسلم لیگ کے لیے حتمی جدوجہد کو مضبوط کرتے ہوئے، ایڈیٹر زید ایچ زیدی اسلام آباد:آکسفورڈ یونیورسٹی پریس،2005 ،169-70

جیسے عرب یا سٹیٹ نیشنل ازم باہمی جنگ اور مابعد آزاد مڈل ایسٹ شیعہ کو اور دوسری برادریوں کو اپنا اقلیتی مقام کو ختم کرنے اور ایک وسیع سیاسی وژن میں جذب کرنے کا موقعہ فراہم کرسکتا ہے تو لیگ کی متحدہ مسلم قومیت بھی شیعہ کی ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی قسمت سنوارنے کی سیاست میں بامقصد شمولیت ممکن بناسکتی تھی-22

لیگ کے ممتاز ترین اہم رہنماؤں نے لیگ کو مختلف مذہبی گروہوں کی نمائندہ تحریک کے طور پر پیش کیا-

کالونیل/نوآبادیاتی دور کے اہم مسلمان جدیدیت پسندوں بشمول سید احمد خان،سید امیر علی اور محمد اقبال کے افکار سے مستعار عناصر لیتے ہوئے مسلم لیگ کے سیاست دانوں نے فرقہ واریت کو ہندوستانی اسلام کے لیے زھر قاتل قرار دیا- ان جدیدت پرست مسلمان مفکرین کا خیال بھی یہی تھا کہ شیعہ-سنّی جیسے جھگڑے داخلی تعصب کا سرچشمہ اور اسی سے اسلام تباہ ہورہا تھا-23

سرآغا خان سوئم اپنی ایک بڑی تقریر میں ” ان فرقہ وارانہ اختلافات” کو اسلام کی بہت بڑی بدقسمتی بتلاتا ہے- اس وجہ سے مسلمانوں کے عظیم مقاصد جیسے تعلیمی، سماجی اور روحانی ترقی ہے کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں-24 بعد ازاں لیگ کے ایک صوبائی رہنما عبدالوحید نے 1930ء میں فرقہ واریت کو اسلام میں عظیم ترین گناہ قرار دیا-25

تو جیسے ہندوستانی کمیونلزم کانگریس کے نزدیک متحدہ نیشنل ازم کا ساختہ اینٹی تھیسسز26 تھا تو ایسے ہی فرقہ واریت کو لیگی سیاست دانوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بنائے گئے اپنے تصور کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا-

بہرحال ،لیگ کی صلح کلیت کا بڑا حصّہ عمل میں سیدھے سبھاؤ شیعہ-سنّی اختلاف کی افادیت کو مسترد کرنا تھا- یہ ایک ایسا موقف تھا، جسے پارٹی کے نقاد “دانستہ فرقہ وارنہ” موقف کہہ کر مسترد کرسکتے تھے-27

دوسرے مقامات پر جماعت کے رہنما لیگ کو ایک فعال تحریک کے طور پر پیش کرتے جو کہ شیعہ-سنّی اتحاد کی تعمیر میں گہرے طور پر مشغول تھی-

22- “شیعہ نے عرب قوم پرستی کو اپنایا، پاکستانی نیشنل ازم کو اپنایا، عراقی نیشنل ازم اور لیبیائی نیشنل ازم کو اپنایا- ہر ایک کیس میں انہوں نے ایک ایسی کمیونٹی کا تصور کیا، جہاں شیعہ – سنّی تقسیم مسئلہ نہیں بنتی تھی- جدید دنیا نے کم از کم نیشنلسٹ لبادے میں صدیوں پرانے تعصب اور احتساب کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا” سید ولی رضا نصر،” احیائے شیعہ: کیسے اسلام کے اندر تنازعے مستقبل کی صورت گری کریں گے نیویارک:نورٹن،2006 ،86-87

23- جانز، شیعی اسلام،24-6

24- آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس سے خطاب،1902، منتحب تحریرات و خطبات آغا خان سوئم ایڈیٹر کے کے عزیز مطبوعہ لندن: کی گان پال انٹرنیشنل،1998 جلد اول ص 204-5

25- روزنامہ دا پائنير لکھنؤ،13 جون 1939،قائد اعظم کلیکشن، این ای جی،10773،اورئنٹل اینڈ انڈیا آفس کلیکشن، لندن او آئی او سی

26-گیاندرا پانڈے، نوآبادیاتی شمالی ہندوستان میں کمیونل ازم کی تشکیل نئی دلّی: آکسفورڈ پریس،2006 ،233-61

27- دیوجی، مسلم صہیون،66

مسلم لیگ کے لیے دو متخالف قطبین میں فرقہ وارانہ شراکت کے لیے ایک متحدہ تھرڈ آپشن لازم تھا جو شیعہ اور سنّی کے درمیان ثالثی ادا کرتا جب کبھی اس کی ضرورت محسوس ہوتی-28 یہاں تک کہ جناح جوکہ فرقہ وارانہ تنازعات کو غیر متعلقہ فضول تنازعے خیال کرتے ہوئے ان کو مسترد کرتے تھے،1940ء یہی موقف اپنانے پر مجبور ہوئے جب ان کو شیعہ سیاسی رہنماؤں کو یہ یقین دہانی کرانی پڑی کہ لیگ مسلمان اور مسلمان کے درمیان انصاف قائم کرنے اور ان کے درمیان غیر جانبداری سے سلوک کرنے کی اہل ہے،چاہے انکا تعلق کسی فرقے یا پرت سے ہو29

تقسیم سے پہلے کے سارے عشرے میں، ليگ کی مہم صلح کلیت/فرقہ وارایت سے بالاتر ہونے والی علامتوں کو ابھارنے پر مشتمل تھی- پارٹی کارکنوں نے الیکشن برائے 1945-46 کی انتخابی مہم کے دوران امام حسین علیہ السلام  کو اپنا رول ماڈل کے طور پر پیش کیا- مسلمانوں کی ہندؤ انڈیا سے آزادی کی جدوجہد کا موازانہ امام حسین کی کربلا میں مسلمان قوم کے لیے لڑائی سے کیا، انھوں نے امام حسین کو ہر مسلمان کے لیے ماڈل قرار دیا اور ان کی اخلاقی برتری و قوت کو پاکستان کی تشکیل کے لیے ترغیب کے طور پر ابھارا-30

پس تو مسلم لیگ کا 1940 میں جو پاکستان کا منصوبہ تھا وہ اپنے اندر اس کے صلح کلیت کے تصور کی نمائندگی کرنے کی طاقت رکھتا تھا: ایک ترقی پسند اور مابعد فرقہ وانہ اسلامی حقیقت- ایسی تعبیر کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ مانا جائے کہ پاکستان کا تصور اس کے بانیان اور حامیوں کے نزدیک محض ایک آئینی ضرورت یا سیاسی میکنزم کا نتیجہ نہیں تھا31 جیسے پرانی اسٹڈیز اسے پیش کرتی ہیں- بلکہ پاکستان کا تصور کوئی ایسی چیز تھا جس میں گہری تصوراتی اور نظریاتی بنیادیں موجود تھیں جیسا کہ حال ہی میں کی جانے والی اسٹڈیز میں ثابت کیا گیا ہے- یہ یوٹوپیائی سیاست کے لیے زیادہ بے باک وژن کا اظہار ہے اور ساری اسلامی دنیا کے لیے مستقبل کا ایک نمونہ فراہم کرسکتا ہے-32

اگر پاکستان اسلامی ماضی کے تمام ٹراما کو ایسے شکستہ کرسکنے کے قابل ہوگا تو 1940ء میں اس کے حامیوں نے یہ ضرور کہا ہوگا کہ پھر یہ نئی اسلامی سیاست مسلم فرقہ واریت سے لگنے والے تاریخی زخموں پر مساویانہ مرہم رکھنے کے کیوں قابل نہ ہوگی؟

اور ہم بدلے میں یہ پوچھ سکتے ہیں، کیوں مسلم لیگ بہت سارے شیعہ کو اپنے “صلح کلیت” اور غیر فرقہ وارانہ تصور” پر قائل نہ کرسکی؟

28- سید رضا علی بنام جناح،19جون 1939،قائداعظم کولیکشن

29- جناح بنام مہاراجکمار محمودآباد،8 اپریل 1940،ریک کی کتاب “پاکستان کے شیعہ” کے ص 42-43 سے نقل ہوا

30- ڈیلی ڈان لاہور،116،19 و 21 دسمبر 1945 سی ایس اے ایس

31- ایسے تناظر کی کلاسیکل مثال عائشہ جلال کی کتاب ” جناح:دا سول سپوکس مین” ہے

32- ماہرین نے حال ہی میں کہا ہے کہ پاکستان کو بالترتیب ایک نظریاتی ریاست جس نے لبرل نیشنل ازم کے مفروضات سے خود کو الگ کیا دیوجی،مسلم صہیون ؛ایک “نیا مدینہ” کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے جو اسلامی امیجری سے نکلی اور عالمی اسلامی احیاء کی نقیب کے طور پر عمل کرے گی  دہلی پالا، نئے مدینہ کی پیدائش ؛ایک علاقائی ورنا کیولر اور لٹریری روایات جن کا استناد ایک سیاسی پیراڈائم میں ہوا ہو اس کا اظہار ہوگی نیلش بوس، ‘پربا پاکستان زندہ باد: پاکستان کے بنگالی وژن  1940-47 ماڈرن ایشین اسٹدیز شمارہ48 جلداول2014،ص 1تا

All Topics

Featured