Featured Original Articles Urdu Articles

امرتسر میں حسینی براہمن کی فراموش کردہ تاریخ اور محرم- نونیکا دت

امرتسر: جبکہ جنگ کے خطوط کو سرحدوں پر ازسرنو کھنیجا جارہا اور ان کو طاقتور بنایاجارہا ہے تو ایسے میں بہت سی مشترکہ متنوع ثقافتی رسوم اور مقامات کو برصغیر میں بھلا دیا گیا ہے- حاص قسم کے قصّے اور کہانیاں بتدریج حافظے اور تاریخ کے دھاگوں سے مٹائی جارہی ہیں

اس سال محرم کے مہینے میں، عاشورا کے دن، میں نے امرتسر شہر میں حسینی براہمن کے گمشدہ بیانیہ اور شہر میں تعزیہ کے جلوس سے ان کے گہرے ربط کو دریافت کرنے کا فیصلہ کیا جن کو دت یا دتّہ براہمن کہا جاتا ہے- ماقبل تقسیم(ہندوستان) دنوں میں یہاں امرتسر میں، تعزیہ کا جلوس ایک بڑی عظیم الشان عوامی یادگاری اجتماع ہوتا تھا اور یہ حسینی براہمن کی حاضری اور شرکت کے بغیر شروع نہیں ہوتا تھا


سن 1947 سے پہلے،میرے دادا، پدم شری برہم ناتھ دتّہ قاصر ایک حسینی برہمن تھے اور اردو-فارسی کے جانے پہچانے شاعر تھے- انھوں نے اپنے محبوب شہر امرتسر کے فرید چوک، کٹرہ شیر سنگھ میں تعزیے ے جلوس کا آغاز کیا- جہاں سے تعزیے لاکر تاریخی فرید چوک میں رکھے جاتے وہاں پر ایک نمایاں شیعہ مسجد تھی-

تعزیے کا عظیم الشان جلوس امام باڑا اور کربلا میدان کی طرف بڑھتا جو کہچری کے نزدیک تھا اور کئی امام باڑوں سے آنے والے جلوسوں کے لیے یہ باہم ملنے کا مقام تھا- تعزیوں کا آخری کٹھ یادگار لمحہ ہوا کرتا تھا- یہ مانا جاتا ہے کہ یہ جگہ بہت ہی اہم مقام تھا جو “گھوڑا پیر” کے نام سے جانی جاتی تھی، جہاں پر کہا جاتا ہے کہ اساطیری کردار رکھنے والی امام حسین کی گھوڑی ذوالجناح دفن تھی

تقسیم سے پہلے کے امرتسر می، تعزیہ کا جلوے اسی وقت شروع ہوتا جب حسینی دت براہمن تعزیہ کو آگے شہر میں لیجانے کے لیے اپنے کندھے پیش نہ کرتے- 1942ء میں شہر کے ایک ممتاز ڈینٹل ڈاکٹر غلام نبی جن کا ہال بازار امرتسر میں کلینک تھا، میرے دادا کے گھر واقع شیر سنگھ کٹرہ فرید چوک میں بھاگے بھاگے آئے- وہ شیعہ برادری سے تھے اور میرے دادا کے دوست تھے- انھوں نے عجلت میں کہا،” دتّہ صاحب، ہم سب آپ کا انتظار کررہے ہیں- آپ کندھا دو گے تو تعزیے اٹھیں

دو مشترکہ ثقافتوں کے امین

حسینی براہمن ایک ایسی برادری تھی جن کو “نصف ہندؤ” اور “نصف مسلمان” کہا جاتا تھا، روایتی طور پر دو ثقافتوں کے علمبردار تھے-اکثران کو یا تو شیعہ براہمن یا حسینی براہمن کا لقب دیکریہ محاورہ بولا جاتا تھا” واہ دت سلطان، ہندؤ کا دھرم، مسلمان کا ایمان”یا پھر یہ کہا جاتا،”دت سلطان نہ ہندؤ نا مسلمان” اور پھر یہ محاورے لوک داستانوں کا ایک حصّہ بن گئے-

ممتاز ماہر تاریخ، استاد پروفیسر محمد مجیب لکھتے ہیں،”وہ حقیقت میں اسلام قبول کرنے والے نہیں تھے، بلکہ انھوں نے ایسے اسلامی عقائد و اعمال اپنا لیے تھے جو ہندؤ مذہب کے عقائد سے متصادم نہ تھے-” خاندانی حکایات انکشاف کرتی ہیں کہ امام حسین کا نام نوجوان دت براہمن لڑکوں کے منڈن کے موقعہ پر لیا جاتا تھا- اور شادی کے موقعہ پر “بڑے امام حسین” کے نام پر حلوہ پکایا جاتا- تقسیم کے وقت تک 1947ء تک دت برصغیر کے مختلف گوشوں میں عام طور پر سلطان ہی کہلاتے تھے

حسینی براہمن کا جنیاتی نقشہ کربلا کی لڑائی کے وقت ان کی آبادکاری کوفہ شہر میں بتاتا ہے اور وہاں سے بلخ،بخارا،سندھ،قندھار، کابل اور پنجاب ہجرت کا پتا دیتا ہے- سترھویں اور اٹھارویں صدی عیسوی میں ان کی علمی اور عسکری روایات اور کاروباری و شادی نیٹ ورک نے ان کو مقامی عدالتوں سے جوڑدیا اور وہ زیادہ تر گجرات، سندھ، پنجاب اور شمال مغربی سرحد(آج کا خیبر پختون خوا) میں موجود تھے

اس سیاق و سابق کے ساتھ بہت سارے حسینی دت براہمن نے اپنا اثر امرتسر کے اندر بھی پھیلایا- مثال کے طور پر، تاریخی ثبوت اس بات کی تصدیق کرتا ہے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تخت نشین ہونے سے پہلے مائی کرموں دتانی (دتء سے دتانی) جو کہ ایک نمایاں دت سردار کی بیوی تھی کٹرہ غانیہ امرتسر کا حکمران تعینات کیا گیا تھا- اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اپنا دربار خود لگاتی، انصاف ایک عوامی چوک پر فراہم کیا جاتا، اس عمل نے اس چوک کا نام ہی مائی کے نام سے امر ہوگیا- اس چوک کو “مائی کرموں کی ڈیوڑھی اور بعد ازاں یہ امرتسر کا بڑا بازار بن گیا- مائی کرموں کو امرتسر شہر کی “جون آف آرک” بھی کہا جاتا ہے

تاہم تاریخ میں سب سے زیادہ یاد رکھا جانے والا رشتہ ہے وہ حسینی براہمن کا کربلا عراق سے ہے، جیسا کہ برطانوی ایتھنولوجسٹ ڈینزل ایبسٹن اس کی تصدیق کرتا ہے اور ٹی پی رسل سٹریسی 1911ء میں ایک دلچسپ داستان فراہم کرتا ہے

“قبیلے کے شعراء سے یہ ثابت ہوتا ہے دت کے آباؤاجداد کبھی عرب میں تھے-انھوں نے حضرت علی کی اولاد و پیروکاروں اور یزید سلطان پسر معاویہ کے درمیان لڑائی میں حصّہ لیا- وہ حسن اور حسین کے دوست تھے جو کہ پیغمبر اسلام کے شہید بیٹے تھے- یہ واقعات ان حادثات سے جڑے ہیں جو ہر محرم کو شیعوں کی عزاداری کے ثقافتی شعار کے مواد کو مزید چار چاند لگادیتے ہیں

جب شہزادے قربان ہوئے،ایک راہب نام کا دت جنگجو تندہی سے لڑا اور اس نے بچ جانے والوں کا دفاع کیا- تاہم اس کے گروہ کے ذبح کیے جانے کے بعد ول اور باقی بچ جانے والے تھوڑے سے لوگ فارس اور قندھار کے راستے ہندوستان آگئے- اساطیری کہانی یہ ہے کہ راہب دت اپنے ساتھ موئے مبارک لے آئے جو کہ کشمیر میں حضرت بل شریف میں رکھے گئے ہیں- نوحہ اور کویتا جو مقامی ورناکیولر تاریخوں ،زبانی روایت اور برطانوی ایتھنو گرافک لٹریچر میں درج ہیں، کربلا اور محرم حسینی براہمن کے ہوتے ہوئے جو عظیم الشان کشش رکھتے ہیں کی تصدیق کرتے ہیں

لڑیو دت دل کھیت جی تن لوک شکا پڑھیو
چڑھیو دت دل گاہ جی گڑھ کوفہ جا لٹیو

جنگجو دت میدان میں تنہا ہی وفاداری سے لڑا اور وہ کوفہ کے قلعہ کو لوٹ لایا

باجے بھیڑ کو چوٹ فتح میدان جو پائی
بدلہ لیا حسین، دھن دھن کرے لوکائی

جب وہ فتح میدان ٹھہرے تو ڈھول بجائے گئے
امام حسین کا بدلہ لیا تو عوام نے واہ بہادر واہ

راہب کی جو جد نسل حسین جو آئی
دیے سات فرزند بھائی قبول کمائی

راہب نے امام حسین کی دعا سے پیدا جو سات فرزند ہوئے تھے ،امام حسین کے قافلے کے ساتھ کردیے اور کہا بھائی “کمائی” قبول کرو

اور آخری

جو حسین کی جد ہے دت نام سب دھائیو
عرب شہر کے بیچ میں راہب تخت بٹھائیو

اے اولاد حسین! باپ کے دوست راہب کوبھول مت جانا، عرب شہر کے بیچ تمہارے والد کی شہادت سے پہلے وہ تخت نشین تھا تو رات دن دت کا نام اپنی پرارتھناؤں میں لو

سن 1940ء کے آخر میں محرم ایک ایسا لمحہ تھا جب اسے امام حسین کے لیے راہب دت کی دی گئی بیٹوں کی قربانی کی یاد کے طور پر منایا گیا- ایسے اجتماعی اور مشترکہ عزاداری کے موقعہ پر حسینی براہمن کی موجودگی لازم و ملزوم تھی- تقسیم نے اس برادری کی قسمت پر مہر ثبت کردی اور وہ پنجاب کے دونوں اطراف چھوڑ دیے گئے-

پاکستانی پنجاب میں وہ غیر مسلم گردانے گئے، ہندوستانی پنجاب میں وہ مسلمانوں کے قریب سمجھے گئے- سرحد کی خوفناک سیاست میرے آبائی گھر کی سرحدوں تک بھی پہنچ گئی –فرید چوک کٹرہ شیر سنگھ امرتسر میں برہم ناتھ دتّہقاصر کے گھر کو سن 1947ء میں ہندؤ جنونی گروپوں نے آگ لگادی تھی

ایسا لگتا ہے کہ 1947ہ میں امرتسر میں کوئی محرم کا جلوس نہیں تھا- کم از کم، یہ جلوس فرید چوک میں تو نہیں ہوا- امرتسر کا سرحدی شہر میں المناک بدلاؤ کے سب سے زیادہ متاثرہ حسینی براہمن تھے- ان کی سیال شناخت جارحانہ مذہبی شناختوں کی سیاست کے گھیرے میں آئی اور ان کی غیر محفوظ ثقافتی دنیا کو بکھیر کر رکھ دیا

امام حسین، کربلا اور محرم کے ساتھ دت براہمن کا پائیدار تعلق خطرے میں پڑگیا- لیکن سب کچھ ختم نہیں ہوا- ان میں سے کچھ نے سرعام اپنے حسینی براہمن ورثے کے ساتھ اپنی شناخت کی

بہت زیادہ وقت نہیں گزرا،جب اداکار سنیل دت نے لاہور میں شوکت خانم ہسپتال کو چندہ دیتے ہوئے کربلا سے اپنی وابستگی کا اندراج کراتے ہوئے کہا تھا

“For Lahore, like my elders, I will shed every drop of blood and give any donation asked for, just as my ancestors did when they laid down their lives at Karbala for Hazrat Imam Husain.”

“لاہور کے لیے ،میرے بزرگوں کی طرح، میں اپنے خون کا ہر خطرہ بہادوں گا اور جو مانگا جائے گا دوں گا، جیسے میرے آباء و اجداد نے کیا تھا جب انھوں نے اپنی جانیں حضرت امام حسین کے لیے کربلا کے میدان میں نچھاور کردی تھیں

یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ سنیل دت امرتسر کی ثقافتی بود و باش سے بھی انتہائی گہرا رشتہ رکھتے تھے

میں عاشورا کی صبح، ستمبر کی 10 تاریخ کو امرتسر پہنچی- میری پہلی خواہش کٹرہ شیر سنگھ فرید چوک میں امام باڑا کا دورہ کرنا اور حسینی براہمن و امرتسر میں پائے جانے والے رخنوں کو بھرنے والی کچھ جگہوں کو تلاش کرنا تھی- یہ گھپ اندھیرے میں سوئی کو تلاش کرنے جیسی خواہش تھی یا گھاس کے ڈھیر میں سے سوئی تلاش کرنا جیسی تھی

تاہم، میری خوش بختی کہ میں شہر کی تکثیری ثقافت سے شناسا کچھ لوگوں کو ڈھونڈنے میں کامیاب رہی،جنھوں نے بخوشی مجھے لوہ گڑھ میں انجمن یادگار حسین کے واحد بچ جانے والے امام باڑے کی طرف رہنمائی دی جوکہ فرید چوک سے بس پانچ منٹ کے فاصلے پر واقع تھا- آج کل اسے کشمیری امام باڑہ کہا جاتا ہے، یہ گلی زینب(امام حسین کی بہن) والی میں ایستادہ ہے اور آج کل اس گلی کو گلی بدراں کہتے ہیں

جونہی میں، اس اپنے آپ کو بند کیے ہوئے، چھوٹے سے سٹرکچر کے علاقے میں داخل ہوئی جو اپنے گرد و نواح میں رضا مسجد کو سموئے ہوئے تھا، تو میں نے بڑی تعداد میں پولیس والوں اور سریع الحرکت سیکورٹی دستوں دیکھا- امام باڑے کے متولی سید عبداللہ رضوی نے میرا گرم جوشی سے سواگت کیا- ان کو سب “ابوجی” کہہ کر بلاتے ہیں- انہوں نے مجھے بتایا کہ عمارت 110 سال پرانی اور اسے سید ناتھو شاہ نے تعمیر کروایا تھااور 1947ء سے پہلے امرتسر کے مقامی شیعہ اور حسینی براہمن خاندان مل کر اس کی دیکھ بھال کرتے تھے

ابوجی نے مجلس میں میرا تعارف حسینی براہمن کے کرایا- انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میرے گلے پر بڑا سا کٹ کا نشان ہے؟(مقامی داستوں میں حسینی براہمن اپنے گلوں پر ایک بڑے کٹ کے نشان رکھنے والے کے طور پر پہچانی جاتی ہے- جو کہ امام حسین کے لیے ان کی دی گئی قربانیوں کی علامت ہے) مجلس عزا میں دت براہمن کا قصّہ سنایا گیا-

” یہ راہب کی ماں تھی ،جس نے اسے اپنے ساتوں بیٹے امام حسین کے لیے قربان کرنے کو کہے – راہب کی ماں کو امام حسین نے سات بیٹوں کی خوشخبری سنائی تھی- مولا حسین کے علامتی شکر ادا کرنے کے لیے اس نے راہب کو خود اپنے بیٹوں کو قربان کرنے کو کہا- تو اس نے کردیے

ایک عزادار، امیت ملنگ نے مجھے بتایا،” بدقسمتی سے حسینی براہمن دہلی اور ممبئی چلے گئے- امرتسر کے لیے انھوں نے کیا کیا؟” اس نے طنزیہ لہجے میں کہا،” آج کسی حسینی براہمن کی ہمت ہے وہ ہاتھ کھڑا کرے

اس کی طرح اور بہت سارے غصّے تھے جو محسوس کررہے تھے کہ برادری جو شاید شہر کی متحرک روایت کو محفوظ کیا جاسکتا تھا جو انہوں نے چھوڑ دی تھی- ابو جی اجتماع میں ہندؤ، مسلمان اور سکھوں کو باہم جوڑنے والی قوت اور پسندیدہ شخصیت کے طور پر موجود تھے، کہنے لگے،” امام حسین کا مطلب حق اور امن ہے- ہم یہی پیغام امرتسر پہنچانا چاہتے ہیں


تب میں تعزیہ کے جلوس کا انتظار کرنے لگی

جلوس عاشورا کا گمشدہ بیانیہ

ابوجی کہتے ہیں

“اب کوئی جلوس نہیں نکلتا- عاشورا کا جلوس امام باڑے کے اندر ہی ہوتا ہے- محرم یہیں امام باڑے کی چار دیواری میں ہوتا ہے

سن 1980ء سے امرتسر میں رہ رہے لکھنؤ کے ظہیر عباس شیعہ کہتے ہیں


“امرتسر میں محرم کی عظیم مشترکہ ثقافت کو پے در پے جنگوں نے تباہ کردیا- جنگ 1947، جنگ 65ء ، جنگ 71،تقسیم تو سن 1947ء میں رکی نہیں تھی

عباس اور ابو جی کہتے ہیں کہ فرید چوک میں شیعہ مسجد کو 1948ء-1949 میں زمین بوس کردیا گیا- امرتسر شہر کے سو سے زائد امام باڑوں کی زمین قبضہ میں ہے یا ان کو کھنڈرات مین بدل دیا گیا ہے

اگرچہ حکومت نے کربلا میدان اپنی تحویل مین لے لیا ہے محرم کا جلوس معروف سرکی بندہ بازار سے موجودہ امام باڑے تک نکلتا تھا- تعزیہ اور علم بھی بڑے جذبے کے ساتھ لائے جاتے تھے لیکن بجرنگ دل نے اسے روک دیا- سنّیوں نے بھی ہماری مدد نہیں کی- اب یہاں کوئی جلوس نہیں نکلتا- اب ہم دروازے بند کرکے ماتم کرتے ہیں

فرحت ایک خالص پنجابی مسلمان عزادار ہے اس نے کہا کہ حسینی براہمن اور شیعہ کے چلے جانے سے ماتم کا جو پنجابی رنگ تھا وہ مٹ گیا

ابو جی نے مجھے امرتسر میں حسینی براہمن کے گمشدہ بیانیہ کا احوال لکھنے کو کہا

دلّی،لکھنؤ،سہارنپور اور یہاں تک کہ پڑوس میں مالیرکوٹلہ،پٹیالہ، جالندھر اور جموں میں کھلے عام محرم منائے جانا اس شماریت پسندروایت کے امرتسر میں آہستہ آہستہ سے مٹ جانے کے سخت متصادم ہے- ایک ایسا شہر جہاں محرم امام حسین کے مقدس جغرافیے اور شیعہ عقائد سے منسلک تھا، جیسے گھوڑا پیر، حسین پورا، گلی زینب اور یادگار حسین امام باڑا، وہاں پر اس متحراک ثقافتی رسم کا شکستہ ہونا دل شکنی کے مترادف ہے

میں محرم کے منائے جانے اور تعزیوں کو اٹھائے جانے کو ایک امام بارگاہ کی چھوٹی سی چار دیواری کے اندر پولیس کی نگرانی میں محدود ہوجانے پر سکتے میں رہ گئی- شاید اگر حسینی براہمن یہاں رہتے تو یہ نہ ہوا ہوتا

شام پانچ بجے کے قریب، “الوداع یا حسین” کے بعد، اور مسر کی دال اور چاول کی سادہ نیاز کے دیے جانے کے بعد(گوشت نیاز میں یوم شہادت حسین کو شامل نہیں کیا جاتا) میں خیالوں میں گم امام بارگاہ سے روانہ ہوئی- میں اپنے دادا اور تعزیہ کے جلوسوں کے ساتھ جۂنے والی اپنی برادری کی یاد منانے فرید چوک جانا چاہتی تھی، وہ جلوس تعزیہ جو اب شہر کی کھلی جگہوں سے غائب ہوچکے تھے

میں کٹرہ شیر سنگھ فرید چوک کے عین کنارے پو کھڑی رہی- کرموں ڈیوڑھی اس کے قریب تھی، ایک گلی کا نام حسینی دت برہمنی قبیلے کی مشہور جنگجو عورت کے نام 18 ویں صدی کے امرتسر میں کیا گیا تھا اور یہ ماقبل تقسیم محرم جلوس کا اہم ترین روٹ تھا- اب وہاں محرم منائے جانے کی کوئی علامت نہیں تھی

تعزیے، علم یادگار حسین امام باڑے میں پیچھے چھوڑ کر جیسے ہی میں واپس دلّی لوٹی، تو مجھے حسینی برہمنوں کے کندھے سے لگ کر قریب قریب چلاکر عزاداروں کے نوحے مجھے ستاتے رہے

حقیقت یہ ہے کہ برادری، جس کے آباء کے بارے میں یہ مانا جاتا ہو نے سات بیٹے امام حسین کے لیے قربان کردیے تھے دنیا کے مختلف گوشوں میں عالمی شہری بنکر ہجرت کرگئی ہے- بہت ساروں نے تو بس اپنی حسینی براہمن شناخت کو ترک کردیا ہے اور اپنے آپ کو بس براہمن کہلانے لگے ہیں جبکہ یہ محض براہمن کہلانا اس کمیونٹی کی اصل نمائندگی سے کوسوں دور ہے

(Nonica Datta teaches history at Jawaharlal Nehru University. Pakistan based journalist and author Aamir hussaini has translated the article into Urdu.)

نونیکا دتجواہر لال نہرو یونیورسٹی میں تاریخ پڑھاتی ہیں- پاکستان میں مقیم صحافی و مصنف عامر حسینی نے اس مضمون کو اردو میں ڈھالا ہے