Featured Original Articles Urdu Articles

کیا حکومت فرقہ پرستوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے؟

مولوی عبدالعزیز آف لال مسجد کی تقریر شیعہ اور سُنی جمہور مسلمانوں کی اکثریت کے مذھبی عقائد مجروح کرنے کا سبب بنی اور اُس پر 295 اے اور 298 اے کے تحت مقدمے کا اندراج نہ ہونا، اُسے گرفتار نہ کیا جانا، اس بات کی عکاسی بھی ہے کہ حکومت چند شرارتی انتہاپسند فسادی ملاؤں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے اور اسے پرامن شیعہ اور سُنی عوام کی اکثریت کے عقائد مجروح ہونے کی اس لیے پرواہ نہیں ہے کہ وہ امن پسند طریقے سے احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں وہ تکفیری دہشت گردوں جیسا طریقہ اختیار نہیں کرتے

تکفیری اقلیتی ٹولہ دھمکیوں اور اشتعال کی بنیاد پر اکثریت کی مذھبی آزادیاں سلب کرنا چاہتا ہے اور حکومت اُن کی اس خواہش کے آگے جھکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے

پاکستان میں اس سے پہلے سپاہ صحابہ جیسی جماعتوں اور تنظیموں کی تکفیری آئیڈیالوجی کے زیر اثر پنپنے والے لشکروں اور نام نہاد جہادی گروہوں اور اُن کو ریاستی اداروں کے اندر سے ملنے والی پشت پناہی اور سرپرستی نے نائن الیون سے پہلے ہزارو‍ں سُنی، شیعہ،مسیحی، ہندو، سکھ پاکستانی عوام کی زندگیاں چھین لیں اور کسی مسلک کی عبادت گاہ نہیں بچی جس کو نشانہ نہ بنایا گیا ہو، نائن الیون کے بعد اس ملک میں جہاں شیعہ مسلمانوں کی منظم نسل کُشی ہوئی، وہیں پر دیگر مسالک و مذاھب کی عبادت گاہیں، مزارات، کلیسا، مندر، احمدی مراکز یہاں تک کہ اسماعیلی، بوھرہ، ذاکری چھوٹے سے چھوٹا مذھبی اقلیتی فرقہ بھی ان کی بدمعاشی اور حملوں سے نہیں بچا، ایک لاکھ کے قریب پاکستانی تکفیری دھشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے جن میں 25 ہزار شیعہ مسلمان تو باقاعدہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے

ناصبیت جو پاکستان میں ایک فیصد بھی نہیں وہ بار بار اھلسنت کے نام پر اھلسنت اور اھل تشیع دونوں پر حملہ آور ہوتی ہے اور ایسے حملوں کو سُنی اور اھل تشیع دونوں میں موجود عذر خواہوں کے ایک ٹولے سے طاقت ملتی ہے- حکومت اگر اس تخریبی عنصر کو لگام دینے میں سنجیدہ ہو تو یہ صورت حال جنم ہی نہ لے

کیا یہ لمحہ فکر نہیں کہ اس وقت اہلسنت کے سواد اعظم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر مذھبی امور اور سواد اعظم کے بعد دوسرا بڑا مسلکی گروہ اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے وزراء کو جب چاہے تکفیری کہٹرے میں کھڑا کرلیتے ہیں اور دفاعی پوزیشن پر پہنچادیتے ہیں لیکن یہ تکفیری خود کس بھیانک اور فساد عظیم کو دعوت دینے والے کردار کے مالک ہیں، ان سے پوچھ گوچھ کرنے والا کوئی نہیں؟ اہلسنت اور اھل تشیع کا جمہور فساد نہیں چاہتا اور نہ ہی اس جمہور کو اُس جمہور سے کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے

دہشت گردی کے واقعات کی ٹائم لائن دیلھیے اور پھر یہ تلاش کیجیے کہ کون سے نظریہ کے حامل ہیں جن کے ہاتھ اس ملک کی ہر ایک مذھبی کمیونٹی کے افراد کے خون سے رنگے نظر آتے ہیں؟ مزار سے لیکر امام بارگاہ تک اور مسجد سے لیکر تبلیغی مرکز تک کس کا ہاتھ حملوں میں نظر آیا؟ حملہ کرنے والے کس تنظیم کی آئیڈیالوجی کے پیرو تھے؟ یہ مولوی عبدالعزیز، اورنگ زیب فاروقی، لدھیانوی کس کی باقیات ہیں؟ کیا یہ دیوبند اہلسنت کے جمہور کے ترجمان ہیں؟ کیا اشرف جلالی و خادم رضوی سواد اعظم کے ترجمان ہیں؟

کیا آصف رضا علوی جمہور شیعہ کا ترجمان ہے؟ یہ قاری حنیف ڈار کیا سُنی دیوبندی مسلمانوں کے جمہور کی ترجمانی کررہا ہے؟ ہرگز نہیں تو ہماری حکومت علوی پر سرکاری مدعیت میں پرچہ بلکہ پرچے درج کرتی ہے( بالکل درست کرتی ہے) وہ اشرف جلالی پر سرکاری مدعیت میں پرچہ درج کرتی ہے لیکن مولوی عبدالعزیز اورنگ زیب فاروقی، لدھیانوی اور قاری حنیف ڈار جیسوں کے باب میں اُس کی خفیہ ایجنسیوں کے لوگوں کے نہ تو کمیرے کام آتے ہیں، نہ قلم و ڈائری کام آتی ہے، نہ سائبر کرائمز رپورٹنگ سیکشن کام کرتا ہے، کیوں؟ کہیں یہ سرکاری لاڈلے تو نہیں؟ کہیں یہ تزویراتی اثاثے تو نہیں؟ کہیں یہ ڈیپ اسٹیٹ نصب العین میں مددگار تو نہیں؟ کہیں یہ بلوچستان، سابقہ فاٹا، کراچی، اندرون سندھ میں مرکز کی اپوزیشن کرنے والی ذھانت کو ختم کرنے کے لیے مبینہ ڈیتھ اسکواڈ کے لیے افرادی قوت فراہم کرنے والے نہیں؟ آخر یہ اتنے دھڑلے سے اس ملک کی مسلمان اکثریت کے حامل سُنی و شیعہ اسلام کے ماننے والوں کے خلاف


Faith based violent discourse

کیسے اختیار کیے ہوئے ہیں؟ یہ کیسے عوام اہلسنت و اہل تشیع کو علیہ السلام لکھنے سے روک سکنے کا بل اسمبلی میں لے آتے ہیں؟

کیا ہم یہ مان لیں کہ پاکستان کی مقتدر قوتیں فتنہ تکفیر و ناصبیت آگے ڈھیر ہوچکی ہیں؟ کیا اس ملک کے سواد اعظم کو یہ پیغام ہے کہ وہ اپنی حفاظت آپ کریں اور پاکستان میں رہنے کے لیے انھیں ضیاءالحقی پلس سعودی وھابی بیانیے کے آگے سر خم کرنا ہوگا؟

فرقہ پرستی سے نمٹنے کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ حکومت جمہور سُنی اور جمہور شیعہ مسلمانوں کو اپنی مذھبی شناخت سے دستبردار ہوکر تکفیری و ناصبیت کی شناخت کے آگے سر تسلیم خم کرنے کو کہے


پاکستان جس نے بنایا تھا وہ اور جو پاکستان کا پہلا وزیراعظم تھا وہ بالترتیب شیعہ خوجہ اور صوفی سُنی مسلمان تھے تکفیریت اور ناصبیت کا ایجنڈا پاکستان کی تحریک اور نصب العین کو تباہ و برباد کرنے والا ہے

سُنی اسلام کے نام پر تکفیری اقلیتی ٹولہ خود سواد اعظم اھلسنت کی مذھبی آزادی کو سلب کرنا چاہتا ہے اور یہ آزادی وہاں وہاں سلب ہوئی ہے جہاں تکفیری ٹولہ مسلط ہوا، اس لیے شیعہ اور سُنی دونوں تکفیری شرپسندوں کے جال میں مت پھنسیں اور تکفیریت اور مذھبی منافرت کو مکمل مسترد کریں