Editorial Original Articles Urdu Articles

اداریہ تعمیر پاکستان: فرقہ پرست عناصر پاکستان میں خانہ جنگی کرانا چاہتے ہیں


گزشتہ کئی سالوں سے محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی، سوشل میڈیا پر عزاداری اور اس کی جملہ رسوم پر استہزائی،نفرت انگیز حملے شروع کردیے جاتے ہیں


سپاہ صحابہ پاکستان سمیت تکفیری و ناصبی سوچ کا حامل ایک حلقہ اس مہینے میں سنّی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے اور ان کے درمیان فساد کرانے میں کوشاں رہتا ہے


اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے شہری علاقوں میں رہنے والے والے تعلیم یافتہ طبقے کے اندر سے ایسے ایسے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی سامنے آتے ہیں جو شیعہ مسلمانوں اور صوفی سنّی مسلمانوں کے محرم میں ادا کیے جانے والے شعائر کو تنقید، تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں اور وہ یہ کام روشن خیالی،عقلیت پسندی، خرد افروزی اور معشیت پسندی کے جھنڈے اٹھاکر کرتے ہیں


ایسے ہی ایک اور ٹولہ جو اپنے آپ کو اسلامی تاریخ پر اتھارٹی قرار دیتا ہے صرف اور صرف محرم الحرام کے اندر واقعہ کربلا کو “افسانہ” قرار دیتا ہے- وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خلافت سے لیکر امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر سوقیانہ انداز میں الزامات کی بارش کرتا ہے- اور اس طرح سے وہ یزید کے فسق و فجور کے قائل اور اسے مستحق لعنت سمجھنے والے سنّی اور شیعہ مسلمانوں کی اکثریت کے جذبات کا کھلم کھلا مذاق اڑاتے ہیں


پاکستان شاید دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں مسلمانوں کی بھاری اکثریت(شیعہ اور سنّی مسلمانوں کل مسلمان آبادی کا 99 فیصد سے زائد بنتے ہیں) ایک معمولی سے فتنہ انگیز ناصبی و خارجی و تکفیری ٹولے کے ہاتھوں کمتر بنائے جانے اور مسلسل مذہبی جبر کا نشانہ بنائی جارہی ہے


محرم،میلاد، عرس سمیت مذہبی ثقافتی اشتراک پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت کے شعار ہیں لیکن ان شعار کے خلاف ہونے والا جبر ایسا ہے جسے پاکستانی ریاست اور حکومت بجائے روکنے کے، اس جبر کو کام میں لانے والوں کے دباؤ میں آکر ان شعائر کو مسلسل کم سے کم کرنے میں معاون ثابت ہورہی ہے


پاکستان میں شیعہ مسلمان جن کی آبادی صوفی سنّی مسلمانوں کے بعد سب سے زیادہ ہے، وہ اس ملک میں دن بدن شدید مذہبی جبر کا نشانہ بنائے جارہے ہیں- ان پر سب سے زیادہ دباؤ یہ ہے کہ وہ عزاداری کے جلوس اور مجالس کا عوامی مقامات پر انعقاد بند کردیں- اپنے مذہبی عقائد پر اصرار مت کریں- ان کو بیان نہ کریں- اور شیعہ مسلمان جب اپنی مذہبی شناخت اور مذہبی شعائر کا اظہار کرنا بند نہیں کرتے تو ان کے خلاف دہشت گردیکا ارتکاب کیا جاتا ہے- ان پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں اور ان پر بلاسفیمی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جاتے ہیں


بلاسفیمی لاز کے غلط استعمال پر نظر رکھنے والی ایک این جی اوز کی رپورٹ کے مطابق محرم الحرام کے دس دنوں سمیت 30 دنوں میں بلاسفیمی ایکٹ کی شق 295 اے اور 298 اے کے تحت 42 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں سے زیادہ تر مقدمات شیعہ مسلمانوں کے خلاف درج کیے گئے ہیں


جب یہ اداریہ لکھا جارہا ہے تو ملنے والی اطلاعات کے مطابق صرف پنجاب پولیس نے شیعہ مسلمانوں کے درجن بھر سے زائد معروف ذاکروں اور مچلس خوانوں کو گرفتار کیا ہےاور درجنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں- اس دوران چادر اور چار دیواری کی بے حرمتی کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں


محرم الحرام کے آغاز میں ہی سپاہ صحابہ پاکستان کے رہنماؤں محمد احمد لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی اور دیگر نے اشتعال انگیز اور منافرت انگیز تقریریں کرنا شروع کیں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ان کی خوب تشہیر کی- اس سے پہلے کورونا وبا کے دوران بھی اورنگ زیب فاروقی اور محمد احمد لدھیانوی سمیت سپاہ صحابہ پاکستان شیعہ مسلمانوں کے خلاف منافرت انگیز مہم چلاتی رہی


یکم محرم کو سپاہ صحابہ پاکستان نے ملک بھر میں جلوس نکالے اور جلوس میں شیعہ مسلمانوں کو اعلانیہ کافر قرار دیا گیا اور ان کے خلاف نفرت پھیلائی گئی- دس دنوں میں سپاہ صحابہ پاکستان پورے ملک میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی پھیلاتی رہی- لیکن سپاہ صحابہ پاکستان کی قیادت کے خلاف اور یہاں تک کہ اس کے مقامی یونٹ کے صدر کے خلاف بھی کوئی ایف آئی آر سرکاری مدعیت میں درج نہ کی گئی


دوسری طرف بریلوی فرقے کے قاری زوار بہادر اور اشرف جلالی کے خلاف سرکاری مدعیت میں ایف آئی آر درج ہوئیں اور ان کی پنجاب بھر کے اضلاع میں داخلے پر پابندی بھی لگائی گئی


لیکن اس کے برعکس ایک کالعدم تنظیم کو نہ صرف پورے ملک میں منافرت انگیز زھریلا پروپیگنڈا کرنے کی اجازت دی گئی- اس کے کسی چھوٹے بڑے رہنماء کے خلاف سرکاری مدعیت میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کو گرفتار کیا گیا؟ کیوں؟


ایسے ہی اسلام آباد میں مولوی عبدالعزیز نے نماز جمعہ کے خطبہ میں یزید کی تعریف کی اور اس نے پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت کے جذبات مجروح کیے لیکن اس کے باوجود وہ آزاد گھوم رہا ہے اور اس کے خلاف سرکاری مدعیت میں کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا


وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اس طرح کے امتیازی سلوک کو کیا نام دیا جاسکتا ہے؟


کیا حکومت کے نزدیک ایک کالعدم تنظیم کو یہ حق ہے کہ وہ اس ملک کی اکثریت مسلمان آبادی پر اپنا مذہبی منافرت انگیز ایجنڈا مسلط کرے- ان کی نسل کشی کی راہ ہموار کرے- اور ان کی مذہبی آزادی کو سلب کرلے- اور اکثریت کو توہین اسلام کا مرتکب قرار دے ڈالے؟


کیا حکومتیں پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ پاکستان میں جملہ مذاہب اور فرقوں کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرنے، مذہب کی تبلیغ و ترویج کرنے کی آزادی کی جو ضمانت میسر ہے اس میں وہ شامل نہیں ہیں؟


کیا پاکستان کے قانون اور آئین میں کالعدم تنظیموں کو آزادی ہے کہ وہ اپنے منافرت انگیز پروپیگنڈے کو مذہب قرار دیکر پھیلائیں؟


پاکستان میں شیعہ مسلمان اور صوفی سنّی اسلام جو اکثریت مسلمانوں کے ترجمان ہیں پر مذہبی انتہا پسند فرقہ پرست ٹولے کا جبر ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے


لیکن پاکستان کی حکومت، انسانی حقوق کی وزرات، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، مین سٹریم میڈیا میں اکثر سیکولر، لبرل اور لیفٹ عناصر اکثریت پر اس جبر کے خلاف بولنے سے قاصر ہیں


حکومت 24 نیوز چینل کا لائنسس تو معطل کرتی ہے لیکن وہ بول نیوز چینل کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتی جب اس کا ایک اینکر ضمیر اختر نقوی سے متنازع ایشوز پر لائیو نشریات کے وقت موقف مانگتا ہے اگر ضمیر اختر نقوی اشتعال میں آکر کچھ کہہ بیٹھتے تو پھر پورے ملک میں ان کے فرقے کو ان کے کہے کی سزا دی جاتی


سپاہ صحابہ پاکستان سمیت جتنے بھی تکفیری عناصر ہیں، یہ پاکستان میں شیعہ-سنّی مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی کرانے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک دم سے پورے ملک میں شیعہ- سنّی مسلمانوں کے درمیان یہ تفرقہ پھیلانے کی کوششیں کیوں تیز ہوگئی ہیں؟


ہم نے نام نہاد “تحفظ بنیاد اسلام بل پنجاب” کے پنجاب اسمبلی میں پیش کیے جانے کے وقت ہی اشارہ کیا تھا کہ کچھ قوتیں جن کے کردار اور عمل پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور آئین میں دیے گئے اختیارات و فرائض سے تجاوز و روگردانی کا ان پر الزام لگ رہا ہے،وہ عوام میں بڑھتے ہوئے غصّے اور احتجاج کا رخ پھیرنا چاہتی ہیں- وہ آزادی اظہار پر مزید قدغن لگانے کی خواہش مند ہیں- وہ سوشل میڈیا کے تحرک سے پریشان ہیں- اور وہ مین سٹریم میڈیا کی طرح سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہیں- اس مقصد کے لیے فرقہ وارانہ بلوے اور ہنگاموں کا ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش ہورہی ہے


ہم بجا طور پر یہ خدشہ محسوس کررہے ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن ردالفساد کرکے جس تکفیری و خارجی و ناصبی عسکریت پسند نیٹ ورک کی کمر توڑی تھی اور اسے منظم دہشت گردی کرنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا، اس نیٹ ورک کے نظریہ ساز اور پالنہار اپنے تزویراتی اثاثوں کی مدد سے اس ملک میں طوائف الملوکی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ان سے حساب کتاب کے مطالبات گم ہوجائیں- اور وہ حسب سابق ایک طرف اس ملک کی مذہبی اکثریت کو اپنے ہی کارندوں کے زریعے سے خوفزدہ کررہے ہیں اور شیعہ- سنّی مسلمانوں میں باہم عدم اعتمادی کی کیفیت پیدا کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ فرقہ وارانہ ہیجان کے اندر اصل ایشوز اور مسائل پر پردہ پڑجائے


کیا یہ بات اس ملک کے شیعہ مسلمان اور صوفی سنی مسلمانوں کے لیے باعث تشویش نہیں ہے کہ خود پی ٹی آئی کی حکومت میں شامل ان سے مذہبی شناخت کا اشتراک رکھنے والے وفاقی و صوبائی وزراء و مشیران کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ان کے خلاف بھی تکفیری کارڈ کھیلا جارہا ہے- یہاں تک کہ وفاقی وزیر مذہبی امور جو خود ایک ثقہ عالم اہلسنت اور سلسلہ قادریہ کے مجاز پیر طریقت ہیں کے اسلام پر بھی تکفیری ٹولہ انگلیاں اٹھارہا ہے اور ان سے معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کے جارحانہ مطالبات کررہا ہے- تکفیری ٹولہ دیوبندی تبلیغی جماعت کے عالمگیر شہرت یافتہ مبلغ اور عالم مولانا طارق جمیل کو شیعہ-سنّی اتحاد و اتفاق کو پروان چڑھانے پر ٹرولنگ کا نشانہ بنارہا ہے- یہ ہی سلوک معروف صوفی سنّی عالم ڈاکٹر طاہر القادری سے تکفیری ٹولہ کررہا ہے


کیا پاکستان کی نظریاتی اور اس کی فکری جہت کا تعین تکفیری، خارجی و ناصبی اقلیتی ٹولہ کرے گا؟ کیا یہ اختیار پاکستان کے سواد اعظم اور شیعہ مسلمانوں کا نہیں ہے جو اس ملک کی بھاری بھرکم مسلمان اکثریت ہیں؟


پاکستان کی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کو یہ باور کرنے کی اشد ضرورت ہے (ساتھ ساتھ غیر منتخب مقتدر طاقتوں کو بھی) کہ مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کا یہ علاج نہیں ہے کہ اکثریت سے ان کی مذہبی آزادی ہی کو سلب کرلیا جائے اور ان کے مسلمہ مذہبی عقائد کے اظہار کو بلاسفیمی لاز کے تحت قابل دست اندازی پولیس قرار دے دیا جائے اور تکفیری فسطائیوں کے مذہبی بیانیہ کو ریاست کے بیانیے کے طور نافذ کردیا جائے- بلکہ فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کی جائے