Featured Original Articles

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور محرم – عامر حسینی


لکن بقی لہ کمال لم یحصل لہ بنفسہ وھی الشھادۃ۔


“بلکہ شہادت مکمل نہ ہوتی، کیونکہ مکمل شہادت یہ ہے کہ ایک شخص مسافری اور مشقت میں مارا جائے، اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹی جائیں، اس کی لاش میدان میں پڑی رہے اور اس کے ساتھ اس کے بہت سارے احباب و اعزہ قتل کر دیئے جائیں، اس کا مال لوٹ لیا جائے اور اس کی خواتین کو اسیر بنا لیا جائے اور یہ تمام مصائب محض رضائے الٰہی کے لئے ہوں۔”

                      
فاقتضت حکمۃ اللہ تعالیٰ ان یلحق ھذا الکمال العظیم بسائر کمالاتہ بعد وفاتہ وانقضاء ایام خلافتہ التی تنافی المغلوبیۃ والمظلومیۃ برجال من اھل بیتہ بل باقرب اقاربہ واعز اولادہ ومن یکون فی حکم ابناء ہٖ حتی یلحق حالھم بحالہ ویندرج کمالھم فی کمالہ
سر الشہادتین


شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی


نوٹ: میں نے سر الشہادتین کا اصل متن (فارسی) اردو و عربی تراجم ڈھائی عشروں پہلے پڑھےاور اس کے بعد بھی کئی بار پڑھے- یہاں تک کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ پر انتہائی شاندار انگریزی میں ہوا سید اطہر علی رضوی کا کام بھی پڑھا، جس میں انھوں نے اس کتاب کا خلاصہ بھی دیا- لیکن اس مرتبہ یہ رسالہ جب پڑھنا شروع کیا تو اس رسالے کے موضوع کے حوالے سے جو باتیں ذہن میں آئیں، ان کو ضبط تحریر میں لانے کے بعد میں سوچ میں پڑگیا کہ سامنے کی بات مجھے سمجھ میں کیوں نہیں آئی؟ اور شاہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ کہنا کہ “شہادت امام حسن و شہادت امام حسین یہ ایک ایسا کمال ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کمال شہادت ہے” کسقدر وسیع اور عظیم الشان معانی کا جہان ہمارے سامنے کھول دیتا ہے؟ میرے ذہن میں وہ گروہ بھی آتا ہے جو خود کو مکتب شاہ ولی اللہ و شاہ عبدالعزیز دہلوی کا حقیقی پیرو کہتا ہے مگر جب کربلا کے واقعے کی بات آتی ہے تو وہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے عقیدے سے کوسوں دور کھڑا نظر آتا ہے


شہادت امام حسن و حسین شہادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے


سر الشہادتین میں شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے شہادت امام حسن و امام حسین علیھما السلام بارے یہ نظریہ پیش کیا کہ حضور علیہ الصلوات و التسلیم کو ان کی زندگی میں سب کمالات عطا کردیے گئے تھے سوائے ایک کمال کے اور وہ تھا کمال شہادت اور پھر وہ اس کی وجہ بتاتے ہیں اور اس کے بعد فرماتے ہیں کہ یہ کمال ان کو امام حسن کی سری اور امام حسین کی جہری شہادتوں کی صورت میں عطا کیا گیا- آپ فرماتے ہیں


“اس لیے خلافت راشدہ کے مبارک ترین زمانے کے بعد عنایت ربانی اس الحاق کمال کی طرف متوجہ ہوئی- سو حضرات حسنین علیھما السلام کو ان کے نانا علیہ افضل الصلوات والتحیات کے قائم مقام ٹھہرایا اور جمال محمدی کو ملاحظہ کرنے کے لیے ان دونوں شہزادوں کو مثل آئینہ ٹھہرایا اور دونوں کے وجود مبارک کو رخ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کے لیے دو رخسار بنایا


شاہ عبدالعزیز دہلوی فرماتے ہیں کہ امام حسین کی شہادت اعلانیہ ہوئی اور یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال شہادت کا جہری آئینہ اور جناب امام حسن کی شہادت سری ہوئی اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال شہادت کا سری آئینہ ہے- اور یہ دونوں شہادتیں کمال شہادت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باطنی و ظاہری پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں- شاہ عبدالعزیز دہلوی فرماتے ہیں


” اول امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا ذکر جبرائیل امیں اور دیگر فرشتوں کے زریعے وحی کی شکل میں نازل ہوا- پھر مقام شہادت کا تعین ہوا- تاریخ بتادی گئی—– اس کے بعد آپ کی شہادت کا چرچا عام ہوتا گیا- امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا جنگ صفین کے سفر کے دوران ایک مقام پر آپ علیہ السلام کی زبان سے کھلم کھلا آپ کی شہادت کا زکر اور اعلان ہوا- آپ کی شہادت کے وقت خرق عادت واقعات اور کرامات کا ظہور ہونا، جیسے مٹی کا خون ہونا، آسمان سے خون برسنا، جنوں کا رونا اور نوحہ خوانی کرنا اور غائبانہ مرثیوں کی آوازیں آنا۔۔۔۔۔۔۔ اس قسم کے اور بے شمار واقعات رونما ہوئے جو سب شہید کربلا کی شہادت کی شہرت عام اور ذکر کو دوام بخشنے والے اسباب اور موجبات سے تعلق رکھتے ہیں تاکہ تمام حاضرین و غائبین اس اندوہناک حادثہ کے وقوع پذیر ہونے سے باخبر ہوجائیں بلکہ اس واقعہ ہائلہ پر ہمیشہ آہ و بکا اور رنج والم کے اظہار کو جاری و باقی رکھنا اور دردناک واقعات کا متواتر ذکر ہوتے رہنا شہادت جہری کا ہی نتیجہ ہے- اب شہادت امام حسین علیہ السلام کا چرچا اور شہرہ ملاء اعلی میں، ارض و سماء میں، عالم غیب و شہادت میں، جنوں اور انسانوں میں، حیوانات و جمادات میں ، الغرض کہ پوری کائنات میں اپنی انتہا کو پاچکا ہے


شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کے ان دو اقتباسات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے نزدیک شہادت امام حسین کا متواتر تذکرہ اور اس پر مسلسل ہمیشہ کے لیے اظہار رنج و غم اصل میں حضور علیہ الصلوات و التسلیم کے کمال شہادت کا چار عالم میں ڈنکا بجانا تھا- شاہ صاحب تو کہتے ہیں کہ شہادت امام حسین کا تذکرہ اور اس پر غم زمین و آسمان ہر جگہ منایا جاتا ہے اور یہی منشا رب باری تعالی ہے


شاہ عبدالعزیز شہادت امام حسین پر جنوں کی مرثیہ خوانی کی روایت محدث ابونعیم کے واسطے سے حبیب ابن ثابت کی روایت سے بیان کرتے ہیں، جنھوں نے شہادت امام حسین کے وقت جنوں کو یہ مرثیہ پڑھتے ہوئے سنا


مسح الرسول جبینہ
فلہ بریق فی الخدود
بواہ من علیا قریش
جدہ خیر الجدود
رسول اللہ چوما کرتے ہیں جس کی پیشانی
جس کے رخساروں میں چمک ہے رسول اللہ کی
جس کے ماں باپ ہیں قریش کے بہترین افراد
جس کا نانا سب نانوں سے ہے بہترین


کیا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو یہ سب لکھتے ہوئے کسی ایک لمحے یہ اندیشہ ہوا کہ مرثیہ خوانی تو منافی اسلام ہے؟ نہیں، اگر ایسا خیال یا احساس دامن گیر ہوتا تو محدث دہلوی اس روایت کا یہاں ذکر نہیں کرتے


ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شاہ عبدالعزیز نے روایت نقل کی کہ انہوں نے شہادت امام حسین کے وقت جنوں کو روتے ہوئے یہ اشعار رثاء پڑھتے ہوئے دیکھا


الا یا عین فابتھلي بجھد
میں یبکی علی الشھداء بعدی
علی رھط تقودھم المنایا
الی متجبر في ملک عھدی
اے آنکھ جتنا رونا ہے رو لے
آج کے بعد شہیدوں پر کون روئے گا
ان کو رولے جن کو موت
ایک جابر بادشاہ کے پاس لے گئی


شاہ صاحب کا جنوں کے مرثیے اور نوحے کا بیان کرنے والی روایات کو لینا اور تذکرہ شہادت امام حسین علیہ السلام کرنا یہ بتاتا ہے کہ شہادت امام حسین کے باب میں وہ اسے ممنوعہ فعل نہیں سمجھا کرتے تھے


شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے شہادت امام حسین علیہ السلام کے واقعات کو جن لوگوں سے لیا ان میں ابومخنف، اصبغ بن عوانہ ، ابن الکلبی سمیت کربلا کے واقعات کو مدون کرنے والے اولین 9 افراد میں سے اکثر افراد سے روایت کرنے والے موجود ہیں

اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک واقعات کربلا کا بیان ان افراد کے زریعے قابل اعتماد تھا- جو لوگ ابومخنف ، ابن الکلبی وغیرھم کو رافضی بتانے کی جرآت کرتے ہیں ، کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو واقعات کربلا کا بیان کرنے کو رافضی روایات کے سوا کچھ ملا ہی نہیں؟


شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالے سر الشہادتین کا اختتام اس روایت پر کیا ہے


جب امام حسین علیہ السلام نے شہادت پائی تو یزیدی آپ کا سر لیکر شام کی طرف گئے اور پہلی منزل پر رات کو قیام کیا اور وہاں نببیذ (انگور اور کجھور کا راب) پینے بیٹھے تو قدرت سے ایک آہنی قلم نمودار ہوا جس نے دیوار پر یہ شعر لکھ دیا
اترجوامۃ قتلت حسینا


شفاعۃ جدہ یوم الحساب


کیا یہ گروہ امت جس نے حسین کو قتل کیا، یوم قیامت ان کے نانا کی شفاعت کی امید رکھتی ہے؟


اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ جس گروہ نے امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا، شاہ عبدالعزیز بھی اس گروہ کے یوم قیامت شفاعت سے محروم ہونے سے متفق تھے


سر الشہادتین میں شاہ عبدالعزیز دہلوی نے تو حسنین کریمین کی شہادتوں کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت قرار دیا- اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے جو لوگ جناب حسنین کریمین کی شہادت کو کچھ اور بناکر پیش کرتے ہیں، وہ کس بے ادبی کے مرتکب ہوتے ہیں