Original Articles

لعنت بھیجنے کا واقعہ اور قانون کی حرکت ۔ سلمان حیدر

کراچی میں یزید معاویہ ابوسفیان اور دیگر پر لعنت بھیجنے کا جو واقعہ پیش آیا ہے اس کی ایف آئی آر صرف تین افراد کے خلاف درج ہونا درست نہیں۔ لعنت سب نے بھیجی ہے تو سب کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہئیے اور پورے جلوس کو گرفتارکرنا چاہئیے۔ پھر یہ تفتیش ہونی چاہئیے لعنت صرف کراچی سے بھیجی گئی ہے یا ملک کے باقی شہروں میں بھی یہ کام ہوا ہے اگر یہی صورتحال ملک لے باقی شہروں۔میں ہے تو پھر ان تما م شیعوں کو بھی گرفتار کرنا چاہئیے ایک ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو جلیل القدر طلقا صحابہ کی بے عزتی کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ پھر یہ تفتیش بھی ہونی چاہئیے کہ کہیں یہ باقی ممالک میں تو ایسے نہیں کرتے اور اس کے لیے سفارتی مشن بھیجنے چاہئیے اور باقی ملکوں میں بھی یزید معاویہ اور ابوسفیان وغیرہ پر لعنت بھیجی جاتی ہے تو اپنی سٹریٹجک پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک کو مجبور کیا جانا چاہئیے کہ وہ یزید معاویہ اور ابو سفیان کو لعنت سے بچائیں۔

 اگر وہ ممالک ایسا نہیں کر رہے ہوں اور یزید معاویہ اور بوسفیان پر لعنت پڑے جا رہی ہے تو پاکستان کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھانی چاہئیے اور توہین رسالت کے بین الاقوامی قانون کی طرح یزید معاویہ اور ابوسفیان کو لعنت سے بچانے کا بین الاقوامی قانون بنوا لینا چاہئیے

 ان اقدامات کے بعد ضروری ہے کہ حکومت یہ سراغ لگائے کہ کہ ہر سال کروڑوں لوگ پاکستانی اور مجوزہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یزید معاویہ اور ابوسفیان وغیرہ پر لعنت کرتے ہیں یہ ان تک پہنچ بھی رہی ہے یا نہیں۔ بعض افواہوں کے مطابق ترسیل کا نظام بارشوں کی وجہ سے گڑبڑ ہو گیا ہے اور غلطی سے باقی سب کو بھیجی جانے والی بھی انہی کو مل رہی ہے۔ اس معاملے کی تفتیش ہونی چاہئیے اور جو کچھ جسے بھیجا جا رہا ہو اسے ملنا چاہئیے۔ میں بہرحال لعنت بھیجنے کے خلاف ہوں خاص طور پر جب وہ پہنچ بھی نہ رہی ہو ۔

ابو سفیان، معاویہ اور فاشزم

ہمارے معتدل مزاج دوست عام طور ہر نیک نیتی سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ بات کرتے ہوئے یا مذہبی رسومات ادا کرتے ہوئے یا مذہبی تہوار کے موقع پر تقریر یا خطاب کرتے ہوئے لوگوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا اور انہیں بھڑکانے سے پرہیز کرنا ہم سب کے فائدے میں ہیں۔ بادی النظر میں اس بات میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا اور جب کہنے والا عام طور پر نیک انسان دوست شریف آدمی سمجھا جاتا ہو تو اسکی نیت یا ارادے پر شک کی گنجائش ہوتی بھی نہیں۔ اس بات میں لیکن ایک مسئلہ ایسا ہے جس کا بارے یہ نیک نیت افراد غور نہیں کرتے۔ اس تجویز کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں مذہبی جذبات کی سہولت یا انہیں رکھنے کی اجازت اور بھڑکنے دینے کی عیاشی صرف ایک گروہ کو دی جاتی ہے جو تعداد اور وسائل  میں زیادہ ہونے کی وجہ سے طاقتور بھی ہے اور تاریخی طور پر جارح ریاست کا حامی اور مددگار بھی۔ مثال کے طور پر کل پرسوں سے یہ کہا جا رہا ہے کہ معاویہ اور ابوسفیان (جنہیں اہل سنت صحابہ سمجھتے اور ان کا احترام کرتے ہیں) پر سر عام لعنت بھیجنے سے اہل سنت کے جذبات بھڑکنے کا خدشہ ہے یا وہ بھڑک اٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا معکوس کیوں ممکن نہیں۔ اگر ایک دن چند بار معاویہ اور ابوسفیان کو برا کہنے اور ان پر لعنت بھیجنے سے اہل سنت کے جذبات بھڑک سکتے ہیں تو سارا سال انہی معاویہ اور ابوسفیان کو  (جنہیں اہل تشیع منافق سمجھتے ہیں اور ان کا احترام نہیں کرتے)  صحابہ کہنے سے اہل تشیع کے جذبات کو بھڑکنے کی سہولت کیوں دستہاب نہیں۔ اگر لوگوں کو ایک صحابی کو منافق سمجھنے پر غصہ آ سکتا ہے تو ایک منافق کو صحابہ سمجھنے پر کیوں نہیں آ سکتا۔ اگر ایک صحابی کو لعنت اللہ کہنا صحابہ کی توہین ہے تو اتنی ہی توہین ایک منافق کو رضی اللہ کہنا بھی ہے۔

اگر مذہبی جذبات رکھنے اور انہیں بھڑکنے دینے کی سہولت صرف ایک فرقے کو دستیاب ہے تو جو اکثریتی ہے تو یہ دوسرے فرقے یا گروہ پر پہلے کا دین طاقت اور مذکورہ کیس میں سرکاری طاقت کے زور پر نافذ کرنا ہے۔ فاشزم اسی کے علاوہ کسی چیز کو نہیں کہتے۔ سو میری تمام نیک نیت ہمدرد اور سوچنے سمجھنے والے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بھلے کمزور کا ساتھ نہ دیں اس کے ساتھ مل۔کر فاشزم کے خلاف مزاحمت نہیں کر سکتے تو بالکل نہ کریں لیکن ہمدردی اور انسان دوستی کے پردے میں فاشزم کی مدد نہ کریں۔ آپ شرفاء ہیں ہمیں آپ کے جذبات اور انسان دوستی کا علم ہے ہم جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ کہہ رہیں نیک نیتی سے کہہ رہے ہیں لیکن یہ بلواسطہ فاشزم کی مدد کرنا ہے۔ اس نیک نیتی اور شرافت کا کیا فائدہ جو فاشزم کے سامنے مزاحمت تو نہیں کر سکتی لیکن انجانے میں ہی سہی اس کی مدد کر رہی ہے۔

ہمارے بہت سے “لبرل” دوست یہ سمجھتے ہیں کہ ان تنازعات سے دور رہنا اور ان میں کسی طرح کی مداخلت نہ کرنا ہی لبرل ازم ہے۔ میری رائے ان سے مختلف ہے فاشزم کے خلاف مزاحمت کرنا لبرازم ہے۔ اس سے لاتعلق ہو جانا یا رہنا اور مذہب کے جبر اور اس کا سامنا کرنے والوں کو ایک برابر سمجھنا لبرل ازم نہیں ہے۔ کیا ہے اس کے لیے بقول یوسفی پشتو میں ایک بہت برا لفظ ہے اور ظاہر ہے باقی زبانوں میں بھی جو لفظ ہیں وہ کوئی خاص اچھے نہیں ہے۔

مصنف حمزہ ابراہیم نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ

 یہ بات ہی درست نہیں کہ شیعہ مسلک پاکستان میں کمزور ہے ۔ شیعہ مسلک تمام مسالک میں سب سے زیادہ طاقت ور ہے باقی دہشت گردی کا شکار شیعہ سنی سب ہوئے ہیں۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں سنیوں کا بھی متفقہ موقف یہی ہے کہ وہ غلطی پر تھے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حق پر تھے ۔ ہماری گزارش تو بس اتنی ہے کہ اگر امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو برا بھلا کہنا شیعہ ہونے کے لیے ضروری ہے تو آپ یہ سب اپنی اپنی امام بارگاہوں میں کریں ۔ آپ سرعام سڑکوں پر نکل کر سنی اکثریتی ملک میں صحابہ کرام کو گالیاں دیں اور پھر ساتھ میں یہ کہیں کہ ہم کمزور ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے ۔ آئے روز کوئی ذاکر اٹھتا ہے اور کبھی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اور کبھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو گالیاں دیتا ہے ۔ شیعہ مسلک جاہل ذاکروں نے یرغمال بنایا ہوا ہے ۔

جس کے جواب میں سلمان حیدر کا کہنا تھا کہ

شیعہ مکتب ہی کمزور نہیں ان سے کمزور اور اقلیتیں بھی ہیں اس سے انکار ممکن نہیں۔ معاویہ کا سنیوں کے نزدیک کیا سٹیٹس ہے اس سے غرض نہیں۔ شیعہ سڑکوں پر مذہبی اجتماعات نہیں کر سکتے یہ مذہبی آزادی کے حقوق کے خلاف ہے۔ صحابہ وہ آپ کے نزدیک ہیں آپ ان کا ااحترام کریں جتنا چاہیں ہمارے نزدیک صحابہ نہیں اس لیے انہیں رضی اللہ لینے سے ہماری دل آزادی ہوتی ہے وہ مت کیا کریں بس۔ کیونکہ سنی اکثریت میں ہئں اس لیے ان کی پسندیدہ شخصیتوں کا سب احترام کریں یہی فاشزم ہے۔ میرا مذہب کس کے ہاتھوں یرغمال ہے یا نہیں اس کے بارے مجھے آپ کی رائے سے اتفاق بھی نہیں اور یہ رائے درکار بھی نہیں۔ نہ اس کا فیصلہ کرنے کا حق آپ کو حاصل ہے۔ کونسا پادری درست ہے کونسا غلط آپ مسیحیوں کو یہ بتانے کا کوئی حق نہیں رکھتے اسی طرح کا سے مجلس پڑھانی چاہئیے کس سے نہیں یہ بتانے کا بھی آپ کو کوئی حق نہیں۔ اس طرح جیسے مجھے یہ کہنے کا حق نہیں کہ آپ کی فلاں مسجد میں فلاں امام نہیں ہونا چاہئیے۔

دہشت گردی کا شکار سب ہوئے ہیں لیکن سنی سنی ہونے کی وجہ سے نہیں ہوئے شیعہ شیعہ ہونے کی وجہ سے نشانہ بنائے گئے ہیں۔ امریکہ مدرسے پر بمباری کرتا ہے اس لیے فلاں سال سے سے آ کر بمبار جلوس میں پھٹ جاتا ہے یہ منطق آپکے اور اس بمبار کے خیال میں درست یو گی میں اس اتفاق نہیں کرتا

اسی حوالے سے صوفی سنی پس منظر کے حامل محمد عامر حسینی لکھتے ہیں

صحابہ کرام کی ذات پر طعن سے رُک جانا سنیت ہے مگر حقائق کو چھپانا یا مسخ کرنا سُنیت نہیں ہے

اہلسنت کے ہاں جس آدمی کے کُفر قطعی کا ثبوت نہ ہو تو وہ نسبت صحابیت سے جدا نہیں ہوگا اور نہ ہی اُس پر طعن و تشنیع اور لعان جائز ہوگا-

لیکن کیا اہلسنت کے جمہور عُلماء نے یہ کہیں لکھا ہے کہ مسلمہ تاریخی حقائق بھی بیان نہ کیے جائیں

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بخاری کی شرح فتح الباری کی جلد ہفتم میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے اُن کے بیٹے کی روایت بیان کی، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا

فَأَطْرَقَ ثُمَّ قَالَ: أَيْش أَقُوْلُ فِيْهِمَا؟ إِنَّ عَلِيًّا رضی اللہ عنہ كَانَ كَثِيْرَ الأَعْدَاءِ فَفَتَّشَ أَعْدَاؤُهُ لَهُ عَيْباً فَلَمْ يَجِدُوْا، فَجَاءُوْا إِلَى رَجُلٍ قَدْ حَارَبَهُ وَقَاتَلَهُ فَأَطْرَوْهُ كِيَادًا مِّنْهُمْ لَهُ.

اس پر انہوں نے (سوچنے کے انداز میں ) اپنا سر جھکا لیا، پھر سر اُٹھا کر فرمایا: میں اُن دونوں کے بارے میں کیا کہوں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کثیر الاعداء (بہت دشمنوں والے ) تھے، ان کے دشمنوں نے اُن کے عیب تلاش کیے انہیں کچھ ہاتھ نہ آیا۔ پھروہ اُس شخص کی طرف متوجہ ہوئے جس نے اُن سے جنگ اور لڑائی کی تھی سو انہوں نے اپنی طرف سے سازش کے تحت ان کی تعریف میں مبالغہ آرائی شروع کر دی۔

ذكره ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 7/104