Featured Original Articles Urdu Articles

واقعہ کربلا کے ابتدائی تاریخی ماخذ – عامر حسینی

اسلام کی ابتدائی تاریخ دنیا بھر کی جامعات میں مسلم مذھب، مسلم مذھبی ثقافتوں اور معاشروں کے مطالعات میں ریڑھ کی ہڈی قرار پانے والا شعبہ علم سمجھا جاتا ہے-

یہ علم بڑی سنجیدگی کا حامل ہے اور اب. تک اس موضوع پر جتنی بھی ریسرچ ہوئی ہے، ایک عمر درکار ہے، اُس کے سرسری احاطے کے لیے-

سانحہ کربلاء بھی اسلام کی ابتدائی تاریخ کا ایک حصہ ہے- یہ پہلی صدی ھجری کے 61ویں سال میں وقوع پذیر ہوا-

اس واقعے کی زبانی روایت تو سینہ بہ سینہ محفوظ ہوتی رہی اور زبانی روایت کا استناد تو اب کوئی اچنبھا نہیں رہا، یہ کالونیل دور کے مستشرقین تھے جنھوں نے اپنے وضع کردہ مشرق میں شامل معاشروں میں اپنے بارے میں موجود “اجتماعی حافظے” کی علمبردار “زبانی روایت” کو مستند ماننے سے انکار کیا تو نوآبادیاتی معاشروں میں نوآبادیاتی روشن خیالی کی تحریک کے علمبرداروں نے مُسلم معاشروں کے اجتماعی حافظے اور زبانی روایت –

Oral tradition

کی نفی کی طرف قدم بڑھایا-

ہمارے ہاں یہ رویہ اور روش ابتدائی طور پر سرسید احمد خان کے ہاں اور وہاں سے یہ مزید پختہ ہوتی ہوئی غلام احمد پرویز کے ہاں پہنچی

کیونکہ دوسری صدی ھجری اور تیسری صدی ھجری کے ابتدائی متون سب کے سب “زبانی روایت” کو ہی اکٹھا کرکے سامنے آئے تھے تو اُن کو بیک جنبش قلم غیر مستند قرار دے دیا گیا-

اسلام کی ابتدائی تاریخ اور اس کے اولین ماخذ بارے منفی رویہ ہمیں صرف قدامت پرست علماء میں ہی نہیں ملتا بلکہ یہ رویہ حیرت انگیز طور پر ہمیں اپنے آپ کو روشن خیال، ترقی پسند، لبرل، عقلیت پسند کہلانے اور فرقہ واریت سے ماوراء سمجھنے والے بہت سے لوگوں میں دیکھنے کو ملتا ہے-

واقعہ کربلا اور اس کی جزئیات بارے تشکیک اور شبہات کو ریشنلزم اور روشن خیالی کے لیبل لگاکر پیش کرنا ہمارے اربن تعلیم یافتہ مڈل کلاس طبقے کی ایک بڑی تعداد کا معمول بن گیا ہے-

یہ واقعات کربلاء کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں شکوک پیدا کرتے ہیں- اور اگر جدید تعلیم یافتہ شہری مڈل کلاس کی ان متشکک پرتوں کے کربلا بارے خیالات کے نفسیاتی عوامل کی کھوج لگائی جائے تو اُس کی جڑیں ہمیں ماضی قریب اور بعید میں پائی جانے والی ناصبیت اور خارجیت سے اس سیکشن کے لوگوں کا متاثرہ ہونا اور ان کے تحت الشعور میں مسلم سماج کے اندر قدیم و معاصر زمانوں میں پائے جانے والے علوی کیمپ سے نفرت ہے-

اسی لیے یہ واقعہ کربلا کے اولین ماخذ اور اولین تاریخی سورسز کے بارے میں مائل بہ ناصبیت و خارجیت تاریخی انتقاد سے شہادتیں لیکر آتا ہے-

جب تک واقعہ کربلا بارے پہلا تاریخی ماخذ محمد بن جریر طبری کی کتاب رہی عام طور پر یہ الزام جاتا رہا کہ طبری نے اپنی وضع کردہ چیزوں کو ابومخنف، واقدی وغیرہ سے منسوب کردیا ہے جبکہ ان لوگوں کی لکھی کوئی چیز موجود نہیں ہے-

کئی ایک نے زیادہ زور لگایا تو طبری کے ساتھ ساتھ ابومخنف، واقدی بھی “رافضی” ٹھہہرادیے گئے- بالکل اُسی طرح جیسے مسلم بن شہاب زھری سمیت وہ سب کبار تابعین و تبع تابعین رافضی ٹھہرائے گئے جن کے بیانات علوی کیمپ کے حق میں جاتے تھے-

لیکن واقعہ کربلاء کے ابتدائی تاریخی ماخذ کے باب میں تحقیق اور ترقی کا دائرہ بڑھا اور کم از کم پہلی صدی ھجری کے آخر اور دوسری صدی ھجری کے آغاز اور وسط میں ہمیں کم از کم 9 کتابوں کے لکھے جانے کا ثبوت میسر آگیا تو جس اعتراض کو واقعہ کربلا کے وقوع پذیر ہونے کے خلاف سب سے طاقتور دلیل گرادانا جاتا تھا وہ اعتراض ان کتابوں کے لکھے جانے کے ثبوت میسر آنے دھڑام سے گرگیا-

اصبغ ابن نباۃ وہ پہلا شخص ہے جس نے مقتل الحسین کے عنوان سے واقعہ کربلاء کو محفوظ کیا اور یہ شخص کوفہ کے اُن قبائل میں سے ایک قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جو تاریخ کے مطابق امام علی ابن ابی طالب کے اور آئمہ اھل بیت کے وفادار اور مخلص قبیلے رہے- اور اصبغ ابن نباۃ حضرت علی علیہ السلام کی فوج کے ایلیٹ دستے میں شامل تھا- اور یہ امام علی، امام حسن اور امام حسین کے ادوار کا عینی شاہد تھا، ساکن کوفہ تھا- اگرچہ اس کا اوریجنل متن امتداد زمانہ کی نذر ہوگیا لیکن ابن الکلبی اور ابوالفرج نے اُس کے بیٹے القاسم سے واقعہ کربلا بارے روایات لیں جو ہم طبری اور مدائنی کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں- قاسم نے اپنے والد ابن نباۃ کی کتاب سے ہی یہ تفصیل لی ہوگی-

دوسرا ابتدائی ماخذ جابر بن یزید جعفی متوفی 128 ھجری کا قلمبند کیا ہوا ہے- اس تحریری کام کو اُن کے شاگرد شامر نے محفوظ کیا جس سے نصر بن مزاحم یہ کام محفوظ کیا اور آج جابر بن یزید جعفی شاگرد امام باقر علیہ السلام کے کام کا پہلا حوالہ نصر بن مزاحم دوسرا حوالہ ابن الکلبی ہے-

تیسرا اہم بنیادی اور ابتدائی ماخذ عمار بن معاویہ کا ہے- یہ امام باقر کے سب سے ثقہ شاگرد اور اُن کی روایات کے سب سے مستند راوی نہ صرف اہل تشیع کے نقاد اسماء الرجال کے ہاں سمجھے جاتے ہیں بلکہ اھل سنت و جماعت کے کبار محدثین اور جمہور ماہرین اسماء الرجال کے ہاں بھی یہ مستند راوی ہیں اور امام باقر پر مستند اتھارٹی ہیں- عمار بن معاویہ کے مطابق انھوں نے واقعات کربلا امام محمد باقر بن علی بن حسین ابن علی ابن ابی طالب علیھم السلام سے براہ سُن کر قلمبند کیے- عمار بن معاویہ اور ابن کلبی کے بیانات واقعہ کربلا کے بارے میں سوائے ایک دو معمولی اختلاف کے ایک سے واقعات کے بیان پر مشتمل ہیں-

واقعات کربلا کا تیسرا بنیادی ماخذ عوانہ بن الحکم الکلبی کا ہے – یہ 128 ھجری میں فوت ہوا- یہ بنوامیہ کے دور حکومت میں مختلف سرکاری عہدوں پر رہا اور بنوامیہ کے بارے میں یہ عام طور پر معلومات کے بنیادی سرچشمے کے طور پر دیکھا جاتا رہا محمد السائب بن کلبی کی تاریخ کا بھی یہ بنیادی ماخذ ہے اور طبری بھی اسے اہم راوی کے طور پر لیتا ہے-

ابومخنف کے نام سے معروف لوط بن یحییٰ بن سعید بن مخنف کوفہ کے باشندے تھے اور یہ 57ھجری میں پیدا اور 157ھجری میں فوت ہوئے- سو سال کی عمر میں وفات کے وقت انھوں نے “وقعۃ الطف” المعروف “مقتل الحسین” کے نام سے جو کتاب لکھی، وہ ان واقعات کے عینی شاہدین یا دو واسطے والے راویوں سے سُن کر لکھے جس کے سبب اس کتاب کی اہمیت دوچند ہوگئی اور اس کتاب سے بعد میں آنے والوں نے سب سے زیادہ استفادہ کیا-

ایک عرصہ تک یہ خیال کیا جاتا رہا کہ یہ کتاب بھی امتداد زمانہ کی نظر ہوئی اور اس وجہ سے محمود عباسی سمیت کئی ایک جدید ناصبی تحریک کے سرکردہ لوگوں کو یہ کہنے کا موقعہ ملا کہ واقعات کربلا کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے- اور اسے انھوں نے تیسری اور چوتھی صدی میں گھڑا ہوا قصہ قرار دینے جیسے دعوے کیے- لیکن پھر اس کتاب کے اصل مسودے گوتھا، برلن، لیڈن اور سینٹ پیٹرس برگ کی لائبریریوں سے مل گئے اور ان کی مدد سے یہ کتاب اب عام شایع ہوئی مل جاتی ہے-

Gotha (No. 1836),

Berlin (Sprenger, Nos. 159–160),

Leiden (No. 792), and

Saint Petersburg  Am No. 78

ابومخنف نے جتنی تفصیل اور جزئیات کے ساتھ سانحہ کربلا اور مابعد واقعات کربلا کو درج کیا، اُتنی تفصیل اور جزئیات کے ساتھ یہ بیان کہیں اور نہیں ملتا- یہی وجہ ہے کہ طبری سے لیکر مسعودی تک جتنے بھی مورخین ہیں اُنہوں نے پہلے ماخذ کے طور پر ابومخنف کے مقتل الحسین/وقعۃ الطف کو ہی سامنے رکھا ہے-

ابتدائی اسلامی تاریخ کے موضوع پر موضوع پر جن یوروپی ماہرین نے کام کیا اُن میں جرمنی کے ولہم فلھوزن نے ابومخنف کی شخصیت اور کام پر بہت شاندار تحقیق کی اور وہ اب ابومخنف پر اتھارٹی خیال کیے جاتے ہیں- انہوں نے واقعہ کربلا کے امر واقعی ہونے بارے بھی شاندار تحقیقی نتائج پیش کیے- وہ اس گروہ مورخین کے رد میں قابل قدر تحقیقی مواد سامنے لیکر آئے جو یزید کے دربار میں پیش کیے جانے والے گورنر ابن زیاد کی رپورٹ پر یہ کہتے تھے کہ کربلا کی جنگ بہت مختصر رہی اور بمشکل ایک گھنٹے میں ختم ہوگئی، فلھوزن دستیاب تاریخی شواہد سے بتاتے ہیں کہ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک یہ جنگ جاری رہی-

واقعات کربلا کے ابتدائی ماخذوں میں دیگر جو ماخذ شامل ہیں، اُن میں ہشام بن الکلبی متوفی 204ھجری، الواقدی متوفی 207 ھجری، نصربن مزاحم متوفی 214ھجری اور مدائینی متوفی 215 ھجری کی تصنیفات شامل ہیں-

پہلی صدی ھجری کے آخر اور دوسری صدی ھجری کے آغاز کے دو عشروں پر مشتمل ان نو بنیادی ماخذ میں واقعات کربلا کا 99.5 فیصد مواد مشترک اور یہ سب کے سب اہم اور بنیادی تفصیل میں متفق ہیں اور جمہور سُنی اور شیعہ مسلمانوں کا واقعہ کربلا کے بارے میں جو اجتماعی شعور ہے، اُس کی تائید یہ ماخذ کرتے ہیں، جسے کالونیل دور کے کالونیل ریشنل ازم، کالونیل خرد افروزی کے زیر اثر اور ماڈرن نیشن-سٹیٹ پولیٹکل اکنامی کے زیر اثر پروان چڑھنے والی مسلم سماج کی ابتدائی تاریخ پر تنقید بلکہ تنقیص نے طنز، طعن اور مذاق کا نشانہ بنایا-

آج لبرل ازم، ریشنل ازم اور روشن خیالی کے لیبل کے ساتھ کئی ایک لوگ اسلام کی ابتدائی تاریخ بارے انتہائی غیر سنجیدہ اور غیر تاریخی انداز میں بات کرتے ہیں اور غیر تاریخی کلیشوں اور تعصبات کو مسلمہ حقائق بناکر پیش کرتے ہیں-

بلکہ کئی بار تو مجھے یہ احساس ستاتا ہے کہ یہ لوگ شعوری یا لاشعوری طور پر جمہور سُنی اور شیعہ عوام کے اجتماعی شعور تاریخ سے نفرت کرتے ہیں جو ان کے تعصبات اور کلیشوں کو تائید نہیں کرتا-

یہ نام نہاد ریشنلسٹ جہاں اسلام کی ابتدائی تاریخ پر غیر سنجیدگی اور انتہائی نامعقول انداز سے بات کرتے ہیں، وہیں پر یہ ریشنل ازم، اصلاح پسندی کے نام پر برصغیر ہند کے کمپوزٹ کلچر اور تکثریت میں شامل سمجھے جانے والے محرم و میلاد و شب برات کی ثقافتوں کو بھی رد کرنے اور اسے خرد افروزی و عقلیت پسندی کے مخالف ٹھہراتے ہیں- اور یہ بھی اس دوران بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے اس ڈسکورس کے زریعے تکثریت اور کمپوزٹ کلچر پر حملہ آور مذھبی انتہاپسندوں اور فرقہ پرست متشدد عناصر کو تقویت پہنچاتے ہیں-

اگر پاکستان میں ایسی نام نہاد روشن خیالی اور عقلیت پسندی کے محرم مخالف ڈسکورس کا جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ ڈسکورس شیعہ مسلمانوں اور صوفی ڈسکورس کے حاملین پر ہونے والے مذھبی جبر اور اُن کی مذھبی آزادی کے خلاف اٹھنے والوں کو ہی تقویت پہنچاتا ہے-

پاکستان میں شیعہ اقلیت پر ہونے والے مذھبی جبر، اُن کی نَسل کُشی، اُن کی محرم کی ثقافتی روایات و رسوم پر حملوں کو رد کرنا، اُن کے حق میں آواز بلند کرنا اور اُن کا اپنی مذھبی شناخت کے ساتھ جینے کے حق کا دفاع کرنا تو ترقی پسندی و روشن خیالی کہا جاسکتا ہے لیکن اس کے برعکس کام کرنا کیسے عقلیت پسندی ہے یہ بات میری سجھ سے بالاتر ہے-