Featured Original Articles Urdu Articles

محرم کی ثقافت: محرم کیسے ہندوستان سے سفر کرتا ہوا ٹرینیڈاڈ پہنچا – عامر حسینی

سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر “مذہب ،مذہبی ثقافتوں کے مطالعات” پر مشتمل سنجیدہ تحریروں کی بجائے فرقہ وارانہ خیالات کی بھرمار ہے- اور تکفیری ذہنیت نے شہری تعلیم یافتہ طبقے کی ایک بڑی تعداد کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے- ترقی پسندی اور روشن خیالی کا بھی ایک تکفیری رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے- محرم کے آتے ہی برصغیر میں صدیوں میں تشکیل پانے والی عزاداری ثقافت کو نشانہ بنایا جاتا ہے- سوگ،ملال،گریہ،ماتم،مجالس،تعزیے، سبیل، نیاز، جلوس ، علم سب کے سب حملے کی زد میں ہیں

پاکستان ایک تھیا کریٹک ریاست سے بھی آگے بتدریج ایک ایسی ریاست میں بدلنے کے خطرے سے دوچار ہے جس میں شاید کسی فرقے اور مذہب کے ماننے والے تکفیریوں کی تعزیر سے بچ پائیں

ایسے میں بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو ایسی تحریروں سے روشناس کرائیں، جس سے برصغیر(انڈیا،بنگلہ دیش اور پاکستان) کی تکثیریت پسند اور کمپوزٹ ثقافت ابھرکر سامنے آئے اور فرقہ پرستی و کمیونل ازم کے ابھار کو روکا جاسکے

محرم کی ثقافت برصغیر سے آگے کہاں کہاں پھیلی، اس سوال کا جواب ہمیں مسلم ثقافتوں اور معاشروں پر ہونے والی نئی تحقیقات اور مطالعات سے پتا چلتا رہتا ہے- ایسی ہی ایک تحقیق کین چٹ ووڈ نے کی ہے- وہ حال میں فرے برلن یونیورسٹی کے گریجویٹ اسکول مسلم کلچرز و سوسائٹیز فرٹز تھائی سین فاؤنڈیشن میں پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ فیلو کے طور پر کام کررہے ہیں- اس کے ساتھ ساتھ وہ ساؤدرن کیلی فورنیا مرکز برائے مذہب و سوک کلچر کا مثالی منصوبہ کے ساتھ بھی بطور ریسرچ فیلو کے طور پر منسلک ہیں

وہ لاطینی امریکہ اور کیربین علاقوں میں اسلام کی آمد اور اثرات پر تحقیق کررہے تھے-(اس حوالے سے ان کی ایک کتاب بھی جلد آنے والی ہے) تو انھوں نے ٹرینیڈاڈ میں “حوسے تقریبات” دیکھیں

Hosay Commemorations

حوسے مراد حسینیہ ہوسکتی ہے- اسے ہم تقریبات حسینیہ کہہ سکتے ہیں- اور برصغیر میں جو اصطلاح معروف ہے اس حساب سے اسے “تقریبات عزاداری” کہہ سکتے ہیں

کین چیٹ ووڈ کہتے ہیں

ٹرینیڈاڈ کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد سینٹ جیمز اور سیڈروز کی گلیوں میں جمع تھی جو وہاں پر متحرک فلوٹ اور اچھے سے سجائے روضوں کی شبیہوں کی تعریف کررہے تھے- ان کی منزل کیربین سمندر کے پانی تھی، جہاں پر یہ ہجوم ان شبہیوں کو پانی کی نذر کردے گا- یہ “حوسے تقریبات” کا ایک جزو ہے- ایک مذہبی رسم ہے جو ٹرینینڈاڈ کے مسلمان ادا کرتے ہیں

کین چٹ ووڈ کہتے ہیں انھوں نے یہ کھوج لگانے کی کوشش کی کہ برصغیر ہند کے مسلمانوں کی ایک ثقافتی روایت کیسے کیربین ثقافت میں بدلی

سانحہ کی تشکیل نو

Re-enacting tragedy

کے عنوان سے وہ لکھتا ہے

“During the 10 days of the Islamic month of Muharram, Shiite Muslims around the world remember the martyrdom of Hussein, Prophet Muhammad’s grandson, who was killed in a battle in Karbala, today’s Iraq, some 1,338 years ago. For Shiite Muslims Hussein is the rightful successor to Prophet Muhammad.”

وہ مزید یہ کہتا ہے کہ یوم عاشور عزاداری کے عام اظہار اور کربلا کے سانحے کی تشکیل نو کی طرز پر یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے-

شیعہ مسلمان اس دن پرجوش اعمال و رسوم بجا لاتے ہیں جو ڈرامائی انداز میں سرانجام دیے جاتے ہیں اور اس میں اس روز کے مصائب کو بھی شامل کیا جاتا ہےتاکہ امام حسین کی یاد کو تازہ رکھا جائے- عراق میں تلوار کا ماتم ہوتا ہے تو ہندوستان میں زنجیرزنی ہوتی ہے- اہل تشیع کی بڑی تعداد عراق جاکر بھی ایام عاشورہ مناتی ہے

کین چٹ ووڈ کا خیال ہے عزاداری عالمی سطح پر مسلم برادری میں بطور اقلیت شیعی برادری کی “انصاف کی جدوجہد” کی علامت بن چکی ہے

“The commemoration has also become a symbol for the broader Shiite struggle for justice as a minority in the global Muslim community.”

ٹرینیڈاڈ میں ایک لاکھ مسلمان ہیں- وہ اس جزیرے کی کل آبادی کا 5 فیصد ہیں- یہ مسلمان یوم عاشور کو ” حوسے” کے دن کے طور پر مناتے ہیں

کین چٹ ووڈ کے مطابق “حوسے تیوہار” پہلی بار 1854ء میں منایا گیا تھا- ہندوستانی مسلمان ٹرینڈاڈ جزیرے میں 1840ء میں پہنچے تھے- وہ گنے کے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے ہندوستان سے لائے گئے تھے

اس زمانے میں ٹرینیڈاڈ برطانوی سامراج کی نوآبادی تھا اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو اجتماع کی آزادی نہ تھی- 1884ء میں برطانوی حکام نے “حوسے تیویار” منانے پر پابندی لگادی تھی- جزیرے کے جنوب کی طرف مون ری پوز ٹاؤن میں 30 ہزار کے قریب لوگ اس پابندی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے نکل آئے تھے- احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے برطانوی حکام نے گولی چلوائی، جس سے موقعہ پر ہی 22 لوگ مارے گئے اور 100 کے قریب زخمی ہوگئے- بعد ازاں برطانوی حکام کو یہ پابندی اٹھانا پڑی- اس سانحے کو لوگ “حوسے سانحہ” یا ” حوسے قتلام” کے طور پر اپنے ذہنوں میں محفوظ رکھے ہوئے ہیں

کین چٹ ووڈ کی تحقیقات کے مطابق، ان دنوں سینٹ جیمز اور سیڈروز اسٹریٹس میں “حوسے تقریبات” نہ صرف امام حسین کی یاد منانے کے لیے منائی جاتی ہیں بلکہ ان کی یاد بھی منائی جاتی ہے جو 1884ء میں یوم حسین /حوسےمناتے ہوئے برطانوی سامراج کی گولیوں کا نشانہ بن گئے تھے

ٹرینڈاڈ کے مسلمان عوام زنجیر زنی یا دوسری اشکال مصائب کی تشکیل نو کے زریعے سے عزاداری منانے کے، نہایت خوبصورت فلوٹ بناتے ہیں اور ان کو یہ

“Tadjah”

کہتے ہیں-(مجھے یہ تعزیے لفظ کی بگڑی شکل لگتا ہے)

ان تعزیوں کو بڑے جلوس کی شکل میں کیربین سمندر کے پانیوں تک لے جایا جاتا ہے اور وہاں اسی پانی میں ان تعزیوں کو ٹھنڈا کردیا جاتا ہے

ان تعزیوں کے آگے، دو آدمی ہلال کی صورت ماسک پہنے چلتے ہیں- ایک ماسک سرخ رنگ کا اور دوسرا سبز رنگ کا- سرخ رنگ امام حسین کی شہادت کی علامت اور سبز رنگ امام حسن کو زھر دیے جانے کی علامت ہے

تعزیوں کی برآمدگی میں ہر سال اضافہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے- دیکھتے دیکھتے یہ اسٹیٹس سمبل کے طور پر ان خاندانوں میں مقبول ہوگیا ہے جو ان تعزیوں کے تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں

جن ہستیوں کے نام یہ تیوہار ہے، اس اعتبار سے یہ بہت غمگین ہے- لیکن اس تیوہار میں جوش و جذبے سے محظوظ ہونے کا عنصر بھی شامل ہیں- اس تیوہار میں مسلم خاندان بلند موسیقی اور زرق برق کپڑوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں- اس وجہ سے کچھ تو اس تیوہار کا ٹرینیڈاڈ کے عالمی شہرت یافتہ تیوہار “جوئے ڈی ویور” سے موازانہ کرتے ہیں

لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اسے امام حسین کی شہادت کے غم کے طور پر ہی منانا چاہئے- ٹرینڈاڈ میں زیادہ قدامت پرست مسلمان ایسے تیوہاروں میں ریفارم کی کوشش کرتے ہیں- ان کے خیال میں مقامی رواجوں کو عالمی طور پر منائی جانے والی یاد جیسے عراق اور ہندوستان میں منائی جاتی ہے کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے

کین چٹ ووڈ کا کہنا ہے

جب اس نے اس تیوہار کو دیکھا تو ان کو ایسے لگا جیسے یہ تیوہار ہندوستانی اور ٹرینینڈاڈ دونوں شناختوں کا دعوے دار ہو-شیعہ مسلمانوں کے لیے جنھوں نے ماضی اور حال دونوں میں ہی جبر اور استبداد کا سامنا کیا ہے، اس یوم کا مطلب ٹرینیڈاڈ ثقافت میں ایک اقلیت کے طور اپنے لیے جگہ بنانا اور دیوار سے لگائے جانے کے خلاف مزاحمت کرنا ہے۔ اور ساتھ ہی اس میں کارنیوال جیسے احساس کے ساتھ یہ تیوہار اور زیادہ ٹرینیڈائی نہیں ہوسکتی

درحقیقت، ہر سال یہ بات سامنے آتی ہے کہ کیسے ہندوستانی اور ٹرینیڈاڈ رواج اور مادی ثقافت مل کر ایک منفرد تیوہار میں بدل جاتے ہیں