Original Articles Urdu Articles

ٹوبے ایم ہورتھ کی کتاب کا اردو ترجمہ ””آنسوؤں کا منبر” شائع ہو گئی – عامر حسینی

کل “آنسوؤں کا منبر” کے چار سو کے قریب نسخے بعذریعہ پاکستان پوسٹل سروس مختلف جگہوں پر روانہ کیے- اگرچہ پاکستان پوسٹل سروس اب بھی نجی کورئیر سروس کمپنیوں کے مقابلے میں سستی پڑتی ہے لیکن فی کتاب ڈاک خرچ کتاب کی اپنی قیمت سے کئی گناہ زیادہ ہے- آنسوؤں کا منبر کتاب کی اشاعت پر خرچہ 60 روپے فی نسخہ آیا لیکن اس کو لفافے میں پیک کرنے سے لیکر سپرد ڈاک کرنے کا خرچ 140 سے 150 روپے فی کتاب پڑ گیا- گویا ایک کتاب کو ڈاک کے زریعے سے بھیجنے میں 210 سے 220 روپے کا خرچ آرہا ہے

جبکہ ہمارا خیال تھا کہ زیادہ سے زیادہ خرچ 190 سے 200 روپے آئے گا

محکمہ ڈاک کے سرکاری نرخوں میں دو سال کے اندر بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اس سے کتابوں کی اندرون ملک ترسیل بہت مہنگا سودا بن گیا ہے

جبکہ بہت ساری ذہنی محنت جو الگ الگ سطح پر کتاب لکھنے کی تیاری کے دوران صَرف ہوتی ہے، وہ تو بالکل ہی شُمار نہیں ہوتی

پاکستان میں عموماً آپ کتاب لکھنے کے لیے کتاب کے لیے درکار امدادی مواد بھی خود ہی فراہم کرتے ہیں، پھر آپ خود ہی مترجم، خود ہی ایڈیٹر، خود ہی پروف ریڈر ہوتے ہیں اور فائنل ڈرافٹ تک آپ کی جان نہیں چھٹتی اور اُس کے بعد جب کتاب چھپ جاتی ہے تو اس کی خبر کا ابلاغ اور اُس کی ترسیل بھی آپ کی اپنی ذمہ داری بن جاتی ہے