Featured Original Articles Urdu Articles

حیدرآباد دکن قدیم سالانہ مجلس – عامر حسینی

نوٹ- یہ تحریر مسیحی مصنف پریسٹ ٹوبے ایم ہورتھ کی کتاب ” آنسوؤں کا منبر” کے باب نمبر 3 “ذاکرہ خواتین کے خطبات مجالس” سے ماخوذ ہے

علم عباس اور مشکیزہ عباس مسلمانوں کے ہاں بہت ہی عظیم اہمیت کے حامل ہیں- امام حسین علیہ السلام کے بھائی کربلا کی جنگ میں لشکر حسینی کے علم بردار تھے- وہ قافلہ امام حسین میں شامل کم سن بچوں خاص طور پر اپنی بھتیجی سکینہ بنت حسین علیھا السلام کے لیے پانی لانے کے لیے نہر فرات کی طرف گئے تھے

جہاں پر یزید کی افواج کے ایک دستے نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا اور امام حسین اور ان کے ساتھیوں پر 7 محرم الحرام سے نہر فرات سے پانی لینے کی ممانعت تھی- حضرت عباس حسینی کیمپ کے بچوں کے لیے پانی لینے کے لیے مشکیزہ اور علم دونوں کے ساتھ قابض یزیدی فوجی دستے پر حملہ آور ہوئے اور نہر فرات تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے- اور خالی مشکیزہ کو پانی سے بھر لیا- لیکن واپس آتے ہوئے وہ لشکر یزید کے گھیرے میں آگئے- تیر اندازوں نے تیروں کی بارش کی تو کئی ایک تیر مشکیزہ اور علم میں لگے- ان کا گھوڑا چھید لگی خالی مشکیزہ اور پھٹے علم کے ساتھ واپس حسینی کیمپ لوٹا تو ان کی شہادت کا علم ہوا- اس طرح مشکیزہ عباس اور علم عباس یہ دو چیزیں حضرت عباس اور ان کی عظیم قربانی کی علامت بن گئیں

امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی کربلا میں دی گئی عظیم قربانی کی یاد منانے والوں کے ہاں علم عباس اور مشکیزہ عباس انتہائی مقدس علامات ہیں- علم عباس کی علامت تو نہ صرف شیعہ مسلمانوں میں بہت مقبول ہے بلکہ سنّی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بھی علم عباس کے ساتھ نہایت عقیدت اور شغف رکھتی ہے

برصغیرہند( پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش) میں اہم مقامات، مزارات، امام بارگاہوں، چوکوں اور چوراہوں پر خاص اسٹینڈ بناکر علم عباس نصب کرنے اور عاشورا محرم کے دس دنوں میں علم عباس کے نصب کرنے کے جلوس عام رواج اور شعار میں شامل رہے ہیں

شہادت حضرت عباس علم دار کی شہادت کی یاد میں خصوصی مجالس عزا کا انعقاد عام روایت رہی ہے- لیکن حیدرآباد دکن شہر ہندوستان میں اس حوالے سے سالانہ منعقد مجلس عزا کی اپنی ہی انفرادی خصوصیت ہے

خواتین کی طرف سے برصغیر میں مجلس خوانی کی روایت میں ایک نام انیس فاطمہ بیگم کا بھی تھا- یادگار حسینی پرانی حویلی میں شہادت حضرت عباس علم دار کی شہادت کے موضوع پر 11 سفر المظفر 1420 ھجری یعنی 27 مئی 1999ء میں سالانہ مجلس عزا کا انعقاد ہوا

اس مجلس میں خطابت انیس فاطمہ بیگم نے کی تھی- انیس فاطمہ بیگم نے اس مجلس کے لیے جو تقریر تیار کی تھی وہ بہت ہی غور و فکر اور احتیاط کے ساتھ تیار کی گئی تھی 

حیدرآباد میں آل ویمن عاشورہ خانہ ، یاد گار حسینی میں اس مجلس کا انعقاد انمٹ یادوں کے نقوش چھوڑ گیا- جس روز مجلس عزا کا انعقاد ہوا، اس دن آگ پر صبح کے وقت علم عباس کی شبیہ لیکر خواتین گزرتی رہیں- خواتین عاشورہ خانہ میں لکڑیوں کے گٹھے لیکر آتی تھیں اور آگ سارا دن وہاں پر سلگتی رہتی جبکہ لکڑیوں کے ڈھیر کے ڈھیر جمع ہوجایا کرتے تھے۔ مجلس عزا شام کے وقت شروع ہوئی- 500 کے قریب عزادار خواتین اور اس سے کہیں زیادہ بچے مجلس عزا میں شریک تھے- جیسے ہی تقریر مجلس عزا ختم ہوئی تو نوحہ پر ماتم شروع ہوگیا

ماتم کے ختم ہونے پر 7 میٹر طول اور 3 میٹر عرض پر پھیلے سلگتے کوئلوں کے الاؤ کے گرد عزادار خواتین جمع ہونا شروع ہوگئیں- اور دس منٹ بعد نوحے کے ساتھ ساتھ “یا حسین، یا حسین” کے نعرے بلند ہونے لگے اور اسٹینڈ سے خصوصی علم عباس شبیہ کو ہاتھوں میں تھام کر عزادار خواتین کوئلے کے سلگتے الاؤ کی طرف بڑھیں- جس خاتوں نے علم عباس تھام رکھا تھا وہ اپنے پیچھے آنے والی عزادار خواتین کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ الاؤ پار کر گئی

سب ننگے پاؤں تھیں- دوسری خواتین بھی سلگتے کوئلے کے الاؤ پر سے گزریں- کچھ نے تو یہ عمل کئی بار کیا- یادگار حسینی، پرانی حویلی عاشورہ خانہ حیدرآباد دکن ہندوستان میں اس مجلس اور آگ کے الاؤ پر گزرنے کا یہ سلسلہ 70 سال پہلے یعنی 1929ء میں عابدہ بیگم زوجہ سید رضا رضوی نے شروع کیا تھا-اور تب سے ان کا خاندان اس کو جاری رکھے ہوئے تھا

شاید حیدرآباد دکن میں آگ کے الاؤ پر شیعہ خواتین کے علم عباس کے سائے میں گزرنے کی یہ اپنی نوعیت کی پہلی روایت ہو- انیس فاطمہ بیگم مجلس میں خطابت اس وقت سے کررہی تھیں جب وہ محض تیرہ سال کی تھیں اور سن تھا 1976ء- وہ ایک ایسے شیعہ مسلمان گھرانے سے تھیں جس میں بہت سے نامور علماء ہوگزرے تھے

جن میں ان کے دادا مولانا احمد رضا تھے جو نامور شیعہ اثنا عشری عالم تھے- جنھوں نے دوہ مجالس حیدرآباد دکن کے دارالشفا ایریا سے کیا تھا- تو مجلس پڑھنا ان کی خاندانی ریت روایت تھی اور ان کے والدین نے مجلس پڑھنے میں ان کی حوصلہ افزائی کی تو انہوں نے مجلس خوانی شروع کردی اور پہلی مجلس عزا انہون نے اپنے گھر پڑھی تھی

اگرچہ وہ حیدرآباد کے ایک مانے تانے کالج میں پڑھی تھیں لیکن انہوں نے باقاعدہ مذھبی تعلیم حاصل نہیں کی تھی- پیشہ کے لحاظ سے وہ اسکول میں استانی ہیں- انیس فاطمہ کے شوہر باقر محسن حیدرآباد کے مانے تانے شاعر اور صحافی ہیں – ہم جس مجلس کا ذکر کررہے ہیں، اس مجلس میں انیس فاطمہ بیگم نے اپنے شوہر کا ایک مرثیہ اپنی تقریر کا حصّہ بنایا- انیس فاطمہ کی خطابت کا ایک پہلو ان کی زبان کا شاندار ادبی اسلوب اور شاعری کا جابجا استعمال ہے۔