Original Articles Urdu Articles

آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب اور ولی عہد کی ہٹ دھرمی

گذشتہ ہفتے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی حمایت نہیں کرتا ہے تو ہم مزید انتظار نہیں کرسکتے۔ پاکستان کو عرب ممالک اور او آئی سی کے بغیر آگے بڑھنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی چینل پر ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے متعلق سعودی عرب کی پالیسی پر تنقید کی تھی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کے لئے پاکستانی اپنی جانیں قربان کرسکتے ہیں ، لیکن اب سعودی عرب کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر ہماری حمایت کرے گا یا نہیں. وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘ہم اب کشمیر میں جاری مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ میں وزیر اعظم سے کہوں گا کہ اگر سعودی عرب ہماری مدد نہیں کرتا ہے تو ہم مزید انتظار نہیں کرسکتے۔’

انہوں نے کہا “ہم نے سعودی عرب کو راضی کرنے کی بہت کوشش کی ، لیکن ہم مایوس ہوگئے۔” ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ہم سے کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کو کہا تھا جس کے بعد ہمیں کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ تاہم ، میں مہاتیر محمد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے شکایت نہیں کی ، وہ پاکستان کے موقف کو سمجھتے ہیں۔ ان کا اشارہ گذشتہ سال کوالالمپور میں ہونے والے اس سمٹ کی جانب تھا جس میں پاکستان نے سعودی دباو کے باعث شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ تنظیم کو یہ بتانا چاہئے کہ وہ بھارت میں بابری مسجد کی بجائے رام مندر کی تعمیر پر خاموش کیوں ہے ، مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر خاموش کیوں ہے؟

ان کے اس بیان پاکستان میں ایک عجیب ہل چل مچ گئی ہے اور ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے خفیہ طور پر پاکستان سے شاہ محمود قریشی کا استعفی مانگ لیا لیکن پاکستان کی جانب سے اس سلسلے میں تاحال کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا گیا۔ جس کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر  جاوید باجوہ نے سعودی عرب کا دورہ کر کے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی لیکن سعودی عرب کے ولی عہد نے ان سے ملاقات نہ کر کے اپنی ترجیحات کا واضح طور پر اعلان کر دیا ہے۔ عرب میڈیا کی اطلاعات کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کرنے ایک جونئیر وزیر اور نائب وزیر دفاع کو بھیجا گیا۔ سفارتی حلقوں میں سعودی عرب کی جانب سے پیش کردہ مبینہ مطالبات پر بھی بحث جاری ہے جن کے مطابق سعودی عرب کشمیر کو پاکستان کے نقشے میں شامل کرنے، چین کے ساتھ پاکستان کی پارٹنرشپ اور ایران، ترکی اور ملایشیا کے ساتھ بڑھتی قربت پر بھی پاکستان سے برہم ہے۔

سعودی عرب نے تیل ادھار کی سپلائی بھی بند کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایران سے معاملات چل رہے ہیں امید ہے ایران سے ڈیل ہو جائے گی۔ یاد رہے 2015 میں یمن جنگ میں شمولیت نہ کرنے پر بھی متحدہ عرب امارات اور سعودی حکام پاکستان کے خلاف سخت بیان دے چکے ہیں جبکہ سعودی ولی عہد نے بھی پاکستانی عوام کو اپنے غلام کہا تھا جو ان کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔

  دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ چین کے بعد ایک بار پھر واضح ہو چکا ہے کہ چین اورپاکستان اب ایک ایسے مقام پرآگئے ہیں جہاں دونوں ممالک کامفادایک ہوچکاہے۔پاکستان نہ توچین کے خلاف جاکرکوئی پالیسی بناسکتاہے اورنہ ہی چین پاکستان کوسائیڈ لائن کرسکتاہے۔کیونکہ جنوبی چینی سمندر میں امریکی، بھارت اور آسٹریلیا کی سخت ناکہ بندی کے بعد چین کوگوادرکی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوگی۔نئے بلاک کے لیے بہت جلداسلام آبادمیں اجلاس ہوگااوراس کے بعدا سکے اجلاس ترکی، ایران اور دیگر ممالک میں بھی ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق اب پاکستان وہ فیصلہ کرے گا جو پاکستان کےلیے بہتر ہو گا اور امید ہے کہ اب کی بار پاکستان کسی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہو گا۔