Featured Original Articles Urdu Articles

ضیائی الحقی بھوتوں سے مباشرت – عامر حسینی

آج 17 اگست 2020 ہے- آج سے 39 سال پہلے اسی تاریخ کو بہاولپور میں بستی کمال خیرپور ٹامیوالی کے قریب پاکستانی فوج کو امریکہ سے ملے سی ایف 30 طیارہ گرکر تباہ ہوگیا اور اس میں سوار آمر جنرل ضیاء الحق ، ان کے 11 فوجی افسر، دو امریکی سفیر سمیت سب افراد ہلاک ہوگئے تھے- یہ دن پاکستان میں ضیاء مخالف یوم نجات کے طور پر مناتے رہے ہیں- اس دن کو “یوم شہادت” کے طور پر منانے والوں کی تعداد میں روز بروز کمی دیکھنے کو ملتی ہے- جنرل ضیاء الحق کے جنازے اور پھر اگلے سال سترہ اگست 1989ء کو پہلی برسی پر اسلام آباد میں اس کی قبر پر ایک بڑا اجتماع “برسی” کے نام پر ہوا تھا- پنجاب میں ان دنوں نواز شریف چیف منسٹر تھے- وفاق میں اسلامی جمہوری اتحاد سب سے بڑا اپوزیشن اتحاد تھا

اس وقت کی پاکستان مسلم لیگ- فدا گروپ جس سے نواز شریف کا تعلق تھا نے پنجاب حکومت کے وسائل اور اپنے مخیر حضرات کو کہہ کر ہر پنجاب کے ہر ضلع سے بڑی تعداد میں بسوں، ويگنوں کا انتظام کیا- اور ایسے ہی اسلام آباد کے قریبی صوبہ سرحد کے اضلاع سے بھی بسوں کے قافلے منگوائے گئے- چاروں صوبوں، سابقہ فاٹا، گلگت- بلتستان اور آزاد کشمیر سے بھی قافلوں نے شرکت کی- بلاشبہ ضیاء حامی کیمپ کی طرف سے یہ بہت بڑا سیاسی پاور شو تھا- لیکن آنے والے سلوں میں سالانہ برسی پر اجتماع کم ہوتا چلا گیا- اور خود مسلم لیگ نواز کے سربراہ کی اسٹبلشمنٹ پر کنٹرول کی لڑائی میں مسلم لیگ نواز نے بتدریج خود کو جنرل ضیاء الحق کے نام سے دوری اختیار کرنا شروع کردی-اور اب جنرل ضیاء الحق کی برسی کا اہتمام ان کا بیٹا اعجاز الحق اپنی رجسٹرڈ پاکستان مسلم لیگ (ضیاء) کے زیر اہتمام کرتا ہے- غیر متاثر کن احتماع ہوتا ہے- اور یہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی کم توجہ پاتا ہے

جنرل ضیاء الحق کے 11 سالہ دور آمریت میں اس کی حکومت سے فیض یاب ہونے والوں میں سب سے بڑا فیض یافتہ گروہ وہ ہے جسے ہم پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم، پاکستان مسلم ليگ فکشنل، جماعت اسلامی پاکستان، جمعیت علمائے اسلام-درخواستی گروپ(سمیع الحق گروپ)، انجمن سپاہ صحابہ پاکستان، جماعت اسلامی پاکستان، متحدہ قومی موومنٹ(سب ہی گروپ)، انجمن جمعیت اہلحدیث پاکستان، جمعیت علمائے پاکستان(نیازی گروپ جو بعد ازاں فضل کریم گروپ، نظام مصطفی پارٹی اور کئی گروپوں میں تقسیم ہوگیا) 80ء کی دہائی میں افغانستان اور کشمیر میں جہاد کرنے کے دعوے دار جہادی تنظیموں جن میں جماعت اسلامی پاکستان کے پاس حزب اسلامی(حکمت یار)، حزب المجاہدین و البدر(کشمیر میں عسکریت پسندی کی دعوے دار) سے بھی پہلے الشمس و البدر کے بچے کچھچے کیڈر موجود تھے- 80ء کی دہائی میں ہی جنرل ضیاء الحق نے خاص طور پر سابقہ فاٹا، سابقہ صوبہ سرحد میں کئی نئے مدارس کے قیام یں مدد دی جن کا مقصد ہی افغان جہاد کے لیے پشتون دیوبندی نوجوانوں کو پیدل سپاہی کے طور پر بھرتی کرنا تھا- اور اپنی موت سے چند سال پہلے کشمیر جہاد کے پروجیکٹ کے لیے آزاد کشمیر میں جماعت اسلامی پاکستان، دیوبندی اور اہل حدیث تنظیموں کی مدد سے جہادی بیس کیمپ بنائے جاچکے تھے

اسلام کے نام پر مدارس، مساجد، جہادی تنظیموں، فلاحی تنظیموں کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک تشکیل پاچکا تھا

جنرل ضیاء الحق اور ان کے ساتھیوں نے سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں مغربی بلاک کے مفادات کے گرد گھومنے والی افغان پالیسی میں اپنے لیے امکانات کا بیش بہا خزانہ پایا تھا- دوسرا اسے ایران میں انقلاب کے بعد امریکہ کی سرپرستی میں سعودی عرب کی مڈل ایسٹ سمیت پوری مسلم دنیا میں چلنے والی ہمہ جہت پراکسی وار پروجیکٹ میں امکانات کا خزانہ نظر آنے لگا تھا- جنرل ضیاء نے ان دو محاذوں پر امریکی بلاک اور سعودی عرب کو ان کی خواہشات کے مطابق جس مددگار نیٹ ورک کی تعمیر میں مدد فراہم کی وہ یہی نیا جہادی و تبلیغی نیٹ ورک تھا- جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں حالات کم از کم دایاں بازو کو مکمل اپنی گرفت میں کرنے کے لیے بہت ہی موزوں تھے

دیوبندی اور اہلحدیث ردعمل

جنرل ضیاء الحق جب نوے دن میں انتخابات کرانے کے وعدے سے مکر گیا اور اس نے اپنا اقتدار طویل کرلیا تو اسے بریلوی مکتب فکر میں مولانا شاہ احمد نورانی کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تو دیوبندی مکتبہ فکر میں اسے مفتی محمود سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا- جمعیت اہلحدیث میں اسے علامہ احسان اللہی ظہیر کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا- اور شیعہ کی طرف سے اسے تحریک جعفریہ کے مفتی جعفر حسین، بعد ازاں علامہ عارف نقوی کی اپوزیشن کا سامنا تھا- اور خود جماعت اسلامی پاکستان میں اسے پروفیسر غفور احمد کی قیادت میں جماعت اسلامی میں سندھ سے تعلق رکھنے والی اردو اسپیکنگ رہنماؤں کی بڑی تعداد کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا

پروفیسر غفور احمد ہوں یا علامہ شاہ احمد نورانی ان کی طرف سے جنرل ضیاء الحق کی مخالفت کا ایک بڑا سبب سندھ کے شہری علاقوں میں لسانی تنظیم کو سپورٹ کرنا اور مہاجرازم کو سرپرستی میں لے لینا بھی تھا- لیکن عمومی طور پر دیکھا جائے تو جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں فوجی رجیم جس طرح سے امریکی جہاد کا حصّہ بنا اور اس نے سعودی عرب کی پراکسی جنگ میں جو اہم کردار حاصل کرنے کا سفر شروع کیا اس میں دایاں بازو اور اس کی تمام مذہبی اشکال کو کوئی اعتراض نہیں تھا- پاکستان کے سعودی عرب کی نئی پراکسی سٹریٹجی میں شرکت پر شیعہ کمیونٹی کو ابتداء سے اعتراض تھا اور اس کی اکثریت نے اس کی مزاحمت بھی کی

لیکن مفتی محمود(پھر فضل الرحمان)، پروفیسر غفور، منور حسن، احسان اللہی ظہیر کی سیاسی مخالفت کے باوجود جنرل ضیاء الحق کی جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کی پالیسی ہو اسے دیوبندی، اہلحدیث اور جماعت اسلامی کی نیچے مدارس اور مساجد اور تبلیغی مراکز کی سطح پر قبول عام کا درجہ مل گیا- اور یہ مدارس و مساجد جہاد افغانستان و جہاد کشمیر کے لیے چندوں اور بھرتی کی ترغیب و ترہیب دونوں کا مرکز بن گئے- دیوبندی مدارس کی چھاتہ تنظیم وفاق المدارس العربیہ اسلامیہ جنرل ضیاء الحق کی اسلامیانے کی پالیسیوں کی مکمل حمایت میں سامنے آئی اور اس نے جہاد افغانستان کو متفقہ طور پر علمائے دیوبند کی تاریخ اور روایت جہاد سے ہم آہنگ قرار دیا جبکہ جہاد کشمیر پر یہ کچھ تقسیم سی نظر آئی لیکن حامی بہرحال مخالفوں پر چھاگئے

بریلوی ردعمل

جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کے آئینی، قانونی، تعزیری ڈھانچے کو اپنے تئیں مزید اسلامی بنانے کے لیے جو آرڈیننس جاری کیے تھے، ان کی دائیں بازو کی ضیاء مخالف مذہبی –سیاسی قیادت نے بھی اس کی مخالفت میں کوئی گرم جوشی نہ دکھائی بلکہ اسے قبول کرلیا- جبکہ جو دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث کی مدارس اورمساجد کی چھاتہ تنظیمیں تھیں انہوں نے ان اقدامات کو خوش آمدید کہا- بریلوی مذہبی پیشوائیت اور ان کی مدارس کی تنظیم المدارس اور ایسے ہی آئمہ مساجد اہلسنت بریلوی رجسٹرڈ جیسی تنظیموں نے بھی ضیاء کے اسلامیانے والے مارشل لاء آڈرز اور آرڈیننس کو قبول کیا- بریلوی علماء، ان کے مدارس اور مساجد افغانستان کے جہاد میں فنڈز اکٹھا کرنے اور بھرتی کی درخواست کا مرکز تو نہ رہے اور نہ ہی کوئی جہادی تنظیم پاکستان کی سطح پر بنائی گئی لیکن بریلوی علماء و مشائخ بشمول مولانا نورانی نے کشمیر اور افغانستان میں حکومتوں کے خلاف جہاد کا فتوی دینے والے افغان اور کشمیری مذہبی پیشوايت کی تائید کی اور ان کی سفارتی، سیاسی ، اخلاقی اور مالی امداد کو جائز قرار دیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ جہاد پرائیویٹ نہیں بلکہ ریاست کی طرف سے اعلانیہ ہوتا ہے

پاکستان اگر ہندوستان و افغانستان میں موجود حکومتوں کے خلاف جہاد چاہتا ہے وہ اعلانیہ اس کا اعلان کرے ناکہ نجی لشکر یہاں سے بناکر وہاں بھیجے جائيں- بریلوی مذہبی پیشوائیت نے بھی اصولی اور زبانی اختلاف تو کیا لیکن انھوں نے عملی طور پر پاکستان میں جہادی اور عسکریت پسند نیٹ ورک کے قیام کے خلاف کوئی بڑی عوامی تحریک لانچ نہ کی

شیعہ ردعمل

اگرچہ شیعہ مدارس کی چھاتہ تنظیم، امام بارگاہوں اور جلوس و تعزیہ کے لائنسس داروں کی مرکزی تنظیموں نے جنرل ضیاء الحق کی عمومی اسلامائزیشن کے خلاف کوئی عوامی تحریک آغاز میں نہیں چلائی- شیعہ علماء اس وقت میدان میں آئے جب جنرل ضیاء الحق نے زکات و عشر آرڈیننس نافذ کیا- اس آرڈیننس میں شیعہ فقہ جعفریہ کو مکمل نظر انداز کیا گیا تھا جس کے ردعمل میں شیعہ نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کا آغاز کیا اور ایک بہت بڑا دھرنا اسلام آباد دیا جس کے بعد ضیاء الحق نے اپنی عمومی اسلامائزیشن کے پروسس میں شیعہ فقہ جعفریہ کے لیے بھی ساتھ ہی قانون سازی کی

اس کے بعد شیعہ کمیونٹی کی مذہبی پیشوائیت نے جنرل ضیاء کے دور میں اور کوئی بڑا پاور شو نہیں کیا- اور نہ ہی کوئی بڑی تحریک چلائی- لیکن شیعہ مذہبی پیشواؤں میں تحریک جعفریہ سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آگئی، بعد ازاں یہ دو گروپوں میں تقسیم ہوئی اور اب اسی سے نکل کر تیسری تنظیم مجلس وحدت المسلمین ہے- شیعہ کمیونٹی کے اندر مذہبی قدامت پرستی پولیٹکل اسلام سے بہت تیزی کے ساتھ مدغم ہوئی اور شیعہ کی جو عزاداری و مجالس کے لیے مختص منبر تھا جو شیعی مذہبی شناخت کو ری انفورس کرنے کا منبع تھا وہ پیٹی پولٹیکو-ریلجس ایشوز پر تنازعوں کا اکھاڑا بن گیا

سیاسی جماعتوں کا مرکزی دھارا

جنرل ضیاء الحق کے خلاف سب سے بڑا سیاسی مرکز “تحریک بحالی جمہوریت” اتحاد- ایم آرڈی تھا- یہ اتحاد 1983ء میں وجود میں آیا تھا اور اس اتحاد میں دایاں(سنٹرل رائٹ) اور بایاں (سنٹرل لیفٹ) اور قوم پرست جماعتیں شامل تھیں- اس اتحاد کا اتفاق آمریت کے خاتمے، 1973ء کے آئین کی بحالی، عام الیکشن کا انعقاد اور جمہوریت کی بحالی پر تھا- لیکن اس اتحاد میں شامل مسلم لیگ(قیوم لیگ)، جمعیت علمائے اسلام(فضل گروپ)، جمعیت اہلحدیث کو جنرل ضیاء الحق کی اسلامائزیشن سے کوئی اختلاف نہ تھا- یہ جماعتیں سعودی عرب کے مابعد ایران انقلاب کردار پر بھی کوئی اختلاف نہیں رکھتے تھے

بایاں بازو کی جماعتیں جن میں رسول بخش پلیجو کی عوامی تحریک سندھ، بزنجو صاحب کی پی این پی، معراج محمد خان کی قومی محاذ آزادی، فتحیاب علی خان کی مزدور-کسان پارٹی شامل تھی اس نے جنرل ضیاء کے سارے آرڈیںنسوں کو مسترد کردیا تھا اور ایسے ہی پی پی کی سیاسی پوزیشن بھی ان اقدامات کی مخالف تھی- جبکہ ایم آر ڈی سے باہر کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان(کالعدم)، سوشلسٹ پارٹی، ورکرز پارٹی یہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء اور اس کے سارے اقدامات کو رد کرتے بائیں طرف کی پوزیشن لیے ہوئے تھے- یہ برملا 73ء کے آئین میں بھٹو دور کی اسلامائزڈ ترامیم کو بھی واپس لینے کا بھی مطالبہ کررہی تھیں

پاکستانی بائیں بازو کا ایک بڑا سیکشن 1972ء میں پیپلزپارٹی اور بھٹو کی حمایت سے دست بردار ہوگیا تھا اور اس کی بنیادی وجہ حکومت کا کراچی سمیت پاکستان کے انڈسٹریل مراکز میں بائیں بازو کی ٹریڈ یونین تحریکوں کے خلاف ریاستی اداروں کی کاروائیاں، نیشنلائزیشن میں منیجمنٹ نوکر شاہی کے حوالے کرنا اور ریاست کو سیکولر بنانے سے انحراف تھا- جبکہ بائیں بازو کا وہ سیکشن جو نیپ کا حصّہ تھا وہ 74ء میں نیپ کی حکومتوں کو ختم کرنے اور بلوچستان میں فوجی آپریشن کرنے اور نیپ کی قیادت کے خلاف بغاوت و غداری کا مقدمہ چلانے کے سبب بھٹو مخالفت میں آگے آیا تھا

سابقہ نیپ میں سے این ڈی پی، پی این پی، عوامی نیشنل پارٹی ، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی بنیں تھیں اور ان میں سے عوامی نیشنل پارٹی جنرل ضیاء الحق کی حمایت کرتی رہی اگرچہ افغان جہاد پر یہ جنرل ضیاء کے ساتھ نہیں تھی

اگر قوم پرست اور لیفٹ جماعتوں کا عمومی طور پر جائزہ لیا جائے تو جنرل ضیاء الحق کے 11 سالہ دور میں یہ جماعتیں عوام کی اکثریت کو چاہے وہ شہروں میں رہتی تھی یا دیہاتوں میں جنرل ضیاء الحق کے دو بڑے پروجیکٹس جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر اور اس سے جڑی پاکستانی سماج میں عام آدمی کی مذہبیت کو ریڈیکل طور پر جنونیت کے قریب تر کرنے کے پروجیکٹ کو روکنے کے لیے نہ تو اپنے اندرونی تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی انھوں نے جنرل ضیاء الحق کے بلدیاتی اور بعد ازاں غیر جماعتی سیاست کا جو کلچر پروان چڑھایا اسے ایم آر ڈی میں شامل بڑی سیاسی جماعتوں نے قبول کرلیا- جبکہ پی پی پی سے الگ ہونے والا لیفٹ اپنی جماعتی سٹرکچر ہی برقرار نہ رکھ پایا- اور اس کے اکثر بڑے نام این جی اوز کے رکن بن گئے- اور اکثر لیفٹ سے لبرل ٹرن لے گئے

جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی تھی- اس پارٹی کی شریک چئیرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1984ء میں لندن پہنچ کر اور پھر مغرب اور امریکہ کے دورے کرنے کے بعد وہاں پر نیولبرل ازم کا جو ابھار دیکھا اور ایسے ہی ريگن ازم- تھیچر ازم کی جو پرواز دیکھی تو اپنے تئیں انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر جنرل ضیاء الحق کی آمریت سے جان چھڑوانی ہے اور پارٹی کو عتاب سے اقتدار کی طرف لانا ہے تو سب سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کی سنٹر لیفٹ پوزیشن اور سوشل ڈیموکریسی والی لائن کو نیو لبرل ڈیموکریٹک لائن میں بدلنا ہوگا- اور پیپلزپارٹی کو افغانستان کے ایشو پر امریکی کیمپ کی لبرل لائن کو اپنانا ہوگا- یہ لائن جہاں فار رائٹ ریلجس لائن کے خلاف تھی تو ساتھ ہی یہ لیفٹ سوشلسٹ لائن سے بھی الگ تھی

ان دو معاملات پر بے نظیر بھٹو کو پارٹی کے پرانے لیفٹ جیالے رہنماؤں اور ان کی پنجاب و سندھ و صوبہ سرحد و بلوچستان کے علاقوں میں موجود پاکٹس کی مخالفت کا سامنا تھا- بے نظیر بھٹو نے اس کا حل یہ نکالا کہ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اپنی نئی لائن کے زیر تابع نشبتا جوان صدور بنائے اور ضلعی صدور و جنرل سیکرٹریز کی تعیناتی کے لیے بھی یہی اصول اپنالیا- پی ایس ایف، پیپلز لبیر بیورو اور اسٹڈی سرکلز یہ تین شعبے بھی خاص طور پر کم توجہ کا مرکز بنے اور بے نظیر بھٹو نے پی وائی او کے نام سے ایک نئی تنظیم بنائی اور ایسے ہی خواتین ونگ کو بھی کم از کم پرانی پی پی پی کی سنٹرل لیفٹ اور سوشل ڈیموکریٹک لائن سے دور کیا گیا

پی پی پی 84ء سے لیکر جنرل ضیاءالحق کے طیارے حادثے کے وقت تک ایک بڑی بنیادی تبدیلی سے گزرچکی تھی- اور وہ تبدیلی تھی کہ پیپلزپارٹی کے اندر پرانی زمیندار اشرافیہ کے ساتھ ساتھ بڑی تیزی سے نو دو لیتیہ تاجر، سرمایہ دار، ٹھیکے دار ، سٹے بازبروکرز خاندان داخل ہونا شروع ہوئے-مڈل ایسٹ سے سرمایہ کماکر آنے والوں کی ایک بڑی تعداد پی پی پی میں شامل ہوئی- اسے عام طور پر پجارو گروپ کہا جاتا تھا- اس نے پی پی پی کے سنٹرل لیفٹ/سوشل ڈمیوکریٹک نظریاتی ورکرز کے سامنے دو آپشن رکھے یا تو وہ اس نئے آنے والی کلاس میں سے کسی کا منشی/مینجر/دیہاڑی دار کارکن بن جائے یا سیاست چھوڑ کر سیدھا سیدھا روزی روٹی کی تلاش کرے یا پھر وہ پارٹی کے اندر لیفٹ اپوزیشن قائم کرنے کی کوشش کرے

اس زمانے میں شیخ رشید سمیت پی پی پی میں سنٹر لیفٹ کی قیادت کرنے والوں نے پارٹی کے اندر بے نظیر بھٹو کی “حقیقت پسندانہ عملیت” کی پالیسی کے خلاف لیفٹ اپوزیشن بنانے کی کوشش کی لیکن اس کوشش کو 1988ء میں پارٹی کو انتخابی سیاست میں ملنے والی معمولی کامیابی اور کمپرومائز اقتدار کے دوران ملنے والی مراعات نے ناکام بناڈالا- پی پی پی کے نوجوان ترقی پسند لیفٹ لیڈر سمجھے جانے والے جہانگیر بدر، اعتزاز احسن، مولا بخش چانڈیو، عثمان غنی سمیت سینکڑوں زبردست پی پی پی کے سیاسی ورکرز نہ صرف پارٹی کے اندر جمہوریت کے استحکام اور تنظیمی سٹرکچر کو مضبوط بنانے اور پارٹی کے سنٹر لیفٹ سیاسی مقام اور پوزیشن کو برقرار رکھنے کے مطالبات سے دست بردار ہوگئے بلکہ وہ نیولبرل پالیسی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں لگ گئے

پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے ایک طرف تو امریکی بلاک سے مطابقت پیدا کی، دوسری جانب اس نے جنرل ضیاء الحق کے بعد کی فوجی قیادت سے سمجھوتے کی راہ پر چلنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے امریکہ کو درمیان میں ڈالا- اس سمجھوتے میں صاف صاف یہ درج تھا کہ جنرل ضیاء الحق کی خارجہ اور معاشی پالیسیوں کا جو بنیادی سٹرکچر ہے اسے پی پی پی بدلنے کی ہرگز کوشش نہیں کرے گی

پاکستان پیپلزپارٹی نے چند ایک لبرل اصلاحات کی کوشش کی اور مغرب کی حمایت پر انحصار کیا- جیسے حدود آرڈیننس میں کچھ بدلاؤ اور ایسے ہی توہین کے قانون میں تبدیلی- لیکن اس کی اپنی پارٹی کے پاس اس طرح کی تبدیلی کے لیے بھی عوام کو متحرک کرنے کی طاقت ہی نہیں تھی- پی پی پی کا نیو لبرل ازم سے الحاق تو اسے پاکستان اور امریکہ میں بیٹھے بااثر پاکستانی نژاد لبرل اشرافیہ کی مدد نہ دلواسکا

پاکستان میں آج ماضی کی سنٹر لیفٹ اور سنٹر قوم پرست پارٹیوں کی سیاست لبرل ہے- اور ان میں سے کوئی ایک جماعت کھل کر آئین قانون اور تعزیرات میں سے ضیاء الحق کے بھوت کو بھگانے اور ساتھ ساتھ اپنے عوامی اجتماعات اور پریس کانفرنسوں میں پاکستان کو عوامی سوشلسٹ جمہوریہ بنانے کی بات نہیں کرتی- اور اب تو نوبت باایں جا رسید کہ جنرل ضیاء الحق کے رجعت پرستانہ اقدامات جن کو آٹھویں ترمیم میں جواز بخشا گیا ان میں ترمیم کی بات بھی نہیں کرتے بلکہ دائیں بازو کی جنونیت کے خلاف اجتماعی مزاحمت کو ترک کرکے اپنا ثبوت اسلام جنونیوں کے سامنے پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں- پاکستان کی سنٹر لیفٹ اور سنٹر قوم پرست سیاسی جماعتوں کے پاس گراس روٹ لیول پر ترقی پسند، لیفٹسٹ ورکرز کا مضبوط تنظیمی نیٹ ورک ہی موجود نہیں ہے- جو 60ء،70ء اور 80ء کی ابتدائی دہائیوں میں موجود تھا۔

جنرل ضیاء الحق کا بھوت ہمارے سماج کی اکثریت کے ساتھ محو مباشرت ہے اور سماج گراس روٹ لیول پر ترقی پسند، لیفٹ سیاسی کارکنوں سے قریب قریب پاک ہوچکا ہے- اور یہ بھوت صرف دائیں بازو سے مباشرت نہیں کرتا بلکہ سیکولر لبرل قومی اور علاقائی جماعتیں کہلانے والی جماعتوں کے اکثر عام ورکرز سے مباشرت کرتا ہے۔

بنگلادیش میں بيگم حسینہ واجد نے جنرل ضیاء الرحمان اور جنرل ارشاد کی باقیات کے بنگلہ دیش کو اسلامی جمہوریہ بنانے کے اقدامات کو جواز نہیں دیا اگرچہ وہ بنگلہ دیش کو نیو لبرل معشیت میں بدلنے پر رضامند ہوگئی ہے- اور بنگلہ دیش کے آئین کو دوبارہ سیکولر بنانے میں کامیاب ہوگئی- لیکن وہ بھی سیاست کا مین دھارا لیفٹ کی بجائے نیولبرل ہی ہے- لیکن وہاں لیفٹ کا حال اتنا پتلا نہیں ہے جتنا پاکستان میں ہے