Original Articles Urdu Articles

خط بنام ماسٹر الطاف حسین (مرحوم) اول قومی پرچم ساز – ذوہیب حسن بخاری

خط بنام ماسٹر الطاف حسین (مرحوم) اول قومی پرچم ساز – ذوہیب حسن بخاری

ماسٹر جی! میں جانتا ہوں آپ بہشت میں قائد اعظم کے ساتھ یہ شکوہ کررہے ہونگے کہ آج پاکستان کو قائم ہوئے 73 برس بیت گئے۔ مگر ریاست پاکستان نے آپ کو آج تک سرکاری سطح پر کسی اعزاز سے نہیں نوازا۔ ممکن ہے کہ آپ قائد اعظم سے ہر سال یوم آزادی پر قوم کے اس رویے پر باقاعدہ شکایت درج کرواتے ہوں۔ اور قائد اعظم اپنی قوم کے ان رویوں سے بہت دلبرداشتہ بھی ہوں۔ ممکن ہے قائد نے آپ کو ہر بار کی طرح اس بار بھی یہی جواب دیا ہو کہ ماسٹر تم اپنا رونا روتے ہو یہاں مجھے خراب ایمبولینس دی گئی۔ میں کرب میں سڑک کے کنارے تڑپتا رہا۔ ایک لحاظ سے میرا ریاستی قتل کیا گیا۔ میری بہن کو غدار کہا گیا اسکی کردار کشی کی گئی۔ مین تو خود خون کے آنسو روتا ہوں۔

ماسٹر جی! مجھے اس بات کا ادراک بھی ہے کہ ہم بحیثیت قوم ان 73 سالوں میں کچھ اور ثابت ہوئے یا نہیں مگر محسن کش ضرور ثابت ہوگئے۔ میرے قائد کو مارا گیا۔ تحریک پاکستان میں شامل ہمارے محسنوں یا ان کی نسلوں کے ساتھ گذشتہ تہتر سالوں میں جو کچھ بھی ہوا اس کو جان کر یہ خاکسار تو آزادی کے دن کو بھی آزادی نہیں سمجھتا۔

ہم ایسے محسن کش ہیں کہ

سال 1906 میں نواب محسن الملک نےمسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ اور 1960ء میں انکے نواسے کو جنرل ایوب نے اذیتیں دلا کر مروادیا۔

سال 1921 میں حسرت موہانی مسلم لیگ کے13ویں صدربنے۔

سال 1995 میں پوتے کو دہشتگرد قرار دیکر مار دیا گیا۔

سال 1949 میں احمدچھاگلہ نےقومی ترانےکی دھن مرتب کی۔ 1979ء میں خاندان کو ضیا دور میں ملک چھوڑنا پڑا۔

‏سال 1949 میں رعنالیاقت نے”ویمن نیشنل گارڈ” کی بنیاد رکھی۔

سال 1951 میں رعنالیاقت کوطوائف قراردیاگیا۔

سال 1947 میں شاہنواز بھٹو نےجوناگڑھ کاپاکستان سےالحاق کروایا۔

سال 1979 میں انکے بیٹے کو پھانسی (ریاستی قتل) اور پوتی کو 2007ء میں قتل کردیا گیا۔

سال 1947 میں لیاقت علیخان پہلےوزیراعظم منتخب ہوئے۔1951ء میں بےدردی سےقتل ہوئے۔انکوائری رپورٹ جلا دی گئی۔

سال 1947 میں قیام پاکستان کےبعدناظم الدین لیگ کےپہلےصدر بنے۔ 1964ء میں خواجہ صاحب غدار قرار پائے۔

سال 1946 میں افتخارالدین نےمسلم گارڈکیلئےآبائی گھرمختص کیا۔ 1960ء میں ایوب خان نےافتخارالدین کوکرپٹ قراردیا۔

سال 1946 میں سہروری نےمسلم گارڈکیلئےٹرینگ سنٹربنایا۔1960ء میں حسین شھید غدارقرار پائے۔

‏سال 1947 میں سردار ابراھیم نےالحاق پاکستان کی مہم چلائی۔ 2009ء میں انکےبیٹےغدارقرارپائے۔

سال 1947 میں شیخ مجیب نےمسلم سٹوڈنٹ لیگ کی بنیادرکھی۔ 1971ء میں شیخ مجیب کوغدارقراردیاگیا۔

‏سال 1945 میں والئی قلات احمدیار نےقائد کو سونے اورچاندی میں تولا۔ 2006ء میں پوتے کو جان بچانے کیلئے ملک چھوڑنا پڑا۔

سال 1933میں چودھری رحمت علی نےپاکستان کانام رکھا۔ 1951ء میں انکا سامان ضبط کرکے جلا وطن کردیا گیا۔

سال 1939 میں قاضی عیسی نےبلوچستان مسلم لیگ کی بنیادرکھی۔ 2019ء میں انکےبیٹےکوغدارقراردیاگیا۔ کیا کیا لکھوں آپ کو کیا کیا بتاوں۔

میرے ماسٹر جی! جس ڈیزائن پر آپ نے پہلا سبز ہلالی پرچم بنایا اور قائد کو پیش کیا اس قومی پرچم کے ڈیزائن کے خالق امیرالدین قدوائی کے بے قصور پوتے نے 20 ماہ NAB ٹارچر سیل میں کاٹے۔ اور اب آپ کے فرزند ظہور حسین نے ایوانوں کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ نہ جانے وہ یہ کب سے کوشس کررہے ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ مندرجہ بالا مثالوں میں کہیں آپ کا نام بھی نہ آجائے۔ آپ کے خاندان کو بھی کہیں غدار، سازشی، بدعنوانی یا دہشتگردی کے الزام میں نہ دھر لیا جائے۔

اس بات پر بہت افسوس ہوتا ہے کہ خانوادہ ماسٹر الطاف حسین مرحوم جو کہ حیدرآباد میں مقیم ہے کی جائز سنوائی کیلئے کوئی منتخب نمائندہ آگے نہیں بڑھا۔ یہ انتہائی شرم کی بات ہے۔ یہاں یہ کہنے پر فخر بھی محسوس کرتا ہوں کہ میرے آبائی ضلع اٹک کے منتخب ایم این اے میجر (ر) طاہر صادق صاحب نے عملی طور پر آپ (ماسٹر الطاف حسین مرحوم) کی خدمات کو سراہنے کیلئے اپنے طور پر ریاست کو خط لکھ ڈالا۔

ایک محب الوطن پاکستانی اور پھر منتخب نمائندے ہونے کی حیثیت سے طاہر صادق صاحب کے اس کام کو قومی سطح پر سراہا جارہا ہے۔ دیگر قومی و صوبائی منتخب نمائندوں، سول سوسائٹی اور عوام کو انکی پیروی کرنی چاہئے۔

ماسٹر جی! ہر عاقل اور باشعور پاکستانی آپ سے اور آپ کے خانوادہ سے شرمندہ ہے۔ کاش کہ ایسا ہوسکتا کہ تاریخ ہمارا نام بحیثیت قوم محسن نواز کے طور پر یاد رکھتی۔ قائد کے نواسے کی حالت زار، قوم کے معماروں کی کسمپرسی اور ملک و قوم کا نام دنیا بھر میں بلند کرنے والے ہمارے ہیروز کے ساتھ جو سلوک ریاستی سطح پر کیا جاتا رہا ہے اس پر ہم ملت کے پاسبان کے آگے نظریں شرمندگی سے جھکائے ہوئے ہیں۔

روتی آنکھوں کے ساتھ آپ کی خدمات کے عوض ایک سچے پاکستانی کا آپ کو سلام۔

والسلام
ذوہیب حسن بخاری
کراچی