Featured Original Articles Urdu Articles

جناح و لیاقت کے نام ایک پاکستانی کا خط – عامر حسینی

میرے پیارے بانیان پاکستان، مسٹر ایم اے جناح و مسٹر لیاقت صاحبان

آداب عرض کرتا ہوں، میں چاہتا تھا کہ دو صاحبان کے ناموں کے آغاز پر جنت مکانی لکھوں لیکن سوچا کا اس کے بعد خط کے اہم مضامین غتربود ہوجائیں گے اور ملاؤں اور پنڈتوں کے ہاتھ ایک نیا شوشا آجائے گا اور وہ آپ صاحبان کے “جنت مکانی” اور ” سورگ باشی” ہونے نہ ہونے کی بحث چھیڑ دیں گے- حالانکہ آپ صاحبان کے لیے اس موضوع میں دلچسپی کا کوئی سامان نہ تو اس وقت تھا جب دو صاحبان کانگریس کے صدور سے باری باری کمیونل ایشو پر مراسلت کررہے تھے- جناح اپنے خطوط میں بار بار مسلمانوں کے ایک قوم ہونے اور کانگریس کے سب صدور سب کے ہندوستانی ہونے پر مصر تھے

مسٹر جناح! کیا آپ نے کبھی سوچا بھی تھا کہ جنوری 1946ء میں آپ جس ڈائریکٹ ایکشن کا حکم آل انڈیا مسلم لیگ کو دے رہے ہیں، وہ ہندوستان میں ایسے مذہبی فسادات کی آگ بھڑکائے گا جس میں صرف پنجاب اور بنگال کے ایک کروڑ تیس لاکھ ہندوستانیوں کو اپنا گھر بار سب کچھ چھوڑنا پڑ جائے گا- کیا آپ نے مسلم لیگ کی پنجاب اور بنگال کی قیادت سے پوچھا تھا کہ مسلم نیشنل گارڈ کو وہ جو اسلحہ، بارود دے رہے ہیں اس سے ممبئی، مغربی پنجاب، سنٹرل پنجاب میں ہندؤں اور سکھوں کا وہ قتل عام ہوگا کہ جس کے جواب اور بدلے میں آر ایس ایس اور اکالی جھتے ہندؤ-سکھ اتحاد کے نام پر پنجاب میں اور آر ایس ایس مغربی بنگال اور بہار میں بے سرو سامان مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلے گی اور اس کے بعد جون سے اگست کے زمانے تک دونوں اطراف سے ایسی خون ریزی ہوگی کہ اندازے کے مطابق 20 لاکھ افراد کھیت ہوجائيں گے

جناح، نوابزادہ اور نہرو صاحب! جب آپ ہندوستان کی تقسیم کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ حلف برادری کی تقریبات دہلی اور ہندوستان میں موجود تھے تو کیا آپ کو اندازہ تھا کہ پنجاب اور بنگال دونوں جگہوں پر سکھ، ہندؤ اور مسلمان ایک دوسرے کا خون بہا رہے تھے- اور اکثریت کے علاقے اقلیت کے لیے کربلا بن کئے تھے- اور ہر فریق زخم خوردہ تھے- کیا آپ تینوں وہ نہیں کرسکتے تھے جو بنگال اور بہار میں حسین شہید سہروردی اور گاندھی نے ملکر کیا؟ گاندھی بہار اور بنگال کے دورے پر نکلے- انہوں نے حسین شہید سہروردی کو اس گھر میں ٹھہرایا، جس گھر میں وہ بطور چیف منسٹر متحدہ بنگال ٹھہرے ہوئے تھے اور خود گاندھی بھی وہیں ٹھہر گئے- انھوں نے حسین شہید سہروردی کے بستر کے ساتھ بستر لگایا اور آر ایس ایس کے غنڈوں کو کہا کہ ہمت ہے تو حسین شہید سہروردی کے گھر کو آگ لگاکر دکھائیں

بنگال اور بہار کی عوام کی اکثریت نے آر ایس ایس کے اندؤ-مسلم منافرت کے پروپیگنڈے کو مسترد کیا اور فرقہ وارانہ تشدد ختم ہوگیا- گاندھی نے اس پہ ہی بس نہیں کیا- وہ واپس دہلی پہنچے اور انھوں نے دلّی میں پرانے لال قلعے میں محصور مسلمانوں کی آبادی کو واپس دلّی میں بسانے اور مسلمانوں کا قتل عام بند کرانے کے لیے حکومت کو الٹی میٹم دیا اور پھر “مرن بھرت” (تادم مرگ بھوک ہڑتال) کردی اور پاکستان کے حصّے کی رقم پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی اس کے ساتھ رکھ دیا- انھوں نے پنجاب میں بھی امن بحال کرانے کا مطالبہ کیا- ان کی بھوک ہڑتال کا اثر ہوا، پٹیل نرم پڑگئے اور آج دہلی میں بستے مسلمان گاندھی کے مرن بھرت کا صدقہ ہیں

نوابزادہ صاحب! بطور وزیر اعظم پاکستان آپ جواہر لال نہرو وزیراعظم انڈیا انبالہ ڈویژن کے دورے پر اس وقت پہنچے جب وہاں مسلمان ڈھونڈے سے بھی نہیں ملنے والے تھے- آج کا ہریانہ اور اس وقت کا مشرقی پنجاب کا انبالہ ڈویژن مسلمانوں سے ویسے ہی خالی ہوگیا جیسے مغربی پنجاب کے راولپنڈی ڈویژن، لاہور ڈویژن، ملتان ڈویژن، ریاست بہاول پور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن ہندؤ اور سکھوں اور جینیوں سے خالی ہوگئے تھے- اگر فسادات کے آغاز میں ہی آپ اور نہرو پنجاب کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرلیتے اور گاندھی کی طرح مرن بھرت کی ہمت کرلیتے تو ایک کروڑ تیس لاکھ لوگوں کو ہجرت کرنا نہ پڑتی اور 20 لاکھ کے قریب لوگ لقمہ اجل نہ بنتے

جناح صاحب ، لیاقت جی

آخرکار کمیونل ایشو کا نتیجہ برٹش ہندوستان کو دو ملکوں کی صورت میں تقسیم کرنا نکلا اور وہ کانگریس جو مذہبی بنیاد پر کیا تو پورے ہندوستان کی تقسیم کو مہا پاپ کہا کرتی تھی، اس نے ہندؤ اور مسلمان اکثریت (مذہبی شناخت) کی بنیاد پر پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ کردیا- اس وقت جب کانگریس نے پنجاب اور بنگال کی ہندو اور مسلم اکثریت کی بنیاد پر تقسیم کا مطالبہ کیا تھا تو پنجاب میں یہ مسیحی برادری تھی جس کے تین اراکین صوبائی اسمبلی نے باؤنڈری کمیشن کو آل انڈیا کرسچن ایسوسی ایشن کی طرف سے یہ میمورنڈم بھیجا تھا کہ مسیحی پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور اس لیے مغربی پنجاب اور سنٹرل پنجاب میں رہنے والوں کو “مسلمان آبادی” میں گنتی کیا جائے- اور احمدیہ کمیونٹی کے خلیفہ اور امیر نے بھی باؤنڈری کمیشن کو میمورنڈم بھیجا تھا کہ وہ بھی پاکستان میں شامل ہونے والے پنجاب کا حصّہ بننا چاہتے ہیں

نوابزادہ صاحب! بنگال میں امبیدکر بابا صاحب کے انتہائی قابل اعتماد آل انڈیا دلت ایسوسی ایشن میں اہم مقام رکھنے والے سیاستدان جوگندرناتھ منڈل بھی آل انڈیا مسلم لیگ کے ساتھ جڑ گئے- دلت پارٹی بنگال کے سربراہ ہونے کی حثیت سے انھوں نے دلت برادری کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ بہار میں شامل سلہٹ اور بنگال کی انڈسٹری و صنعت و تجارت کے لیے اہم ترین بندرگاہ پر مشتمل چٹاگانگ کو پاکستان میں شامل ہونے والے مشرقی بنگال میں شامل کرنے کے لیے پاکستان کو ووٹ دینے پر راضی کرلیا- یہ امبیدکر بابا صاحب کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا- دلت کی بھاری اکثریت نے اپنے آپ کو سلہٹ اور چٹاگانگ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا حصّہ مان کر مسلمانوں کے ووٹوں کے ساتھ سہلٹ اور چٹاگانگ کے مغربی بنگال اور بہار کا حصّہ بننے کے یقین کو پاش پاش کردیا

نوابزادہ صاحب! آپ کو اچھے سے یاد ہوگا کہ جب آپ پنجاب میں سکھوں اور آل انڈیا شیڈولڈکاسٹ کے صوبائی رہنماؤں سے ملے تھے تو انھوں نے پاکستان کے ساتھ جانے سے انکار کیا تھا اور یہ دیوان بہادر ایس پی سنگھا اور ان کے ساتھی تھے جنھوں نے 23 فروری 1947ء کو پاکستان کی حمایت میں ووٹ دیکر پنجاب کے مغربی حصّے کو مشرقی پنجاب کے ساتھ جانے سے بچایا تھا ،خاص طور پر لاہور ڈویژن کو جہاں مسیحی ووٹ نہ ملتے تو لاہور ہندوستان کا حصّہ بن جاتا جہاں مسلمان اور ہندؤں کے درمیان بہت کم فرق تھا اور مسلمانوں کی تھوڑی سی اکثریت کو سکھوں اور شیڈولڈ کاسٹ کے ہندؤں سے اتحاد نے ختم کردیا تھا

آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ جناح نے 11 اگست 1948ء کو پاکستان کی مرکزی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں پہلی تقریر کیا کی تھی؟ اور انہوں نے اپنی پہلی کابینہ کا انتخاب کس طرح کیا تھا- گورنر جنرل کا (ذاتی) مذہب شیعہ اثنا عشری ، وزیر اعظم لیاقت علی خان سنّی ، وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل، وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان ق۔۔۔۔۔۔ اس انتخاب کے ساتھ ہی جناح نے واضح طور پر کہا تھا کہ سیاسی معنوں میں مذہب کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور مملکت پاکستان کے شہری ہر امتیاز سے بالاتر ہوکر برابر کے شہری ہوں گے

نوابزادہ صاحب! آپ کو زرا پتا نہیں چلا کہ وہ کون تھا جس نے بانی پاکسان کی 11 گست 1948ء کے خطاب کے دوران ریڈیو ٹرانسمیشن میں خرابی پیدا کردی تھی؟ اس وقت ذوالفقار بخاری جو ریڈیو پاکستان کے سربراہ تھے ،ان کے ہوتے ہوئے یہ کیسے ہوا؟ آپ نے کوئی انکوائری کمیشن نہ بٹھایا- اور اس تقریر کا ریکارڈ بھی کہیں گم ہوگیا- یہ تو روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین نے جرآت کرتے ہوئے تقریر چھاپ دی تھی

نوابزادہ صاحب! آپ کو جناح کی اس تقریر کا پتا تھا لیکن آپ نے کیسے جناح کی وفات کے فوری بعد مارچ 1949ء میں قرارداد مقاصد کیسے پاس کروالی تھی؟ کیا آپ کو پنجاب سے دیوان بہادر سنگھ ایس پی سنگھا کا ناراض ہونا، اس قرارداد مقاصد کو مسیحی برادری سے کیے گئے وعدوں سے انحراف قرار دینے والے بیان نے جھنجھوڑا نہیں تھا؟ کیا ان کے استعفے نے ضمیر میں کوئی خلش پیدا نہیں کی تھی؟ کیا جناح نے آپ سے پوچھا نہیں کہ جس جن کو 11 اگست 1949ء کی تقریر میں جناح نے بوتل میں بند کیا تھا ، اسے قرارداد مقاصد کے زریعے سے 1949ء میں کیوں پھر باہر نکالا؟

کیا آپ نے جوشوا فضل الدین کا مضمون پڑھا تھا، جس میں انہوں نے آپ سمیت ساری حکمران جماعت مسلم لیگ سے پوچھا تھا کہ کیا قرارداد مقاصد پاس کرانے کے لیے 23 فروری 1947ء کو ان کے ووٹ لیکر پنجاب کو پاکستان کا حصّہ بنایا گیا تھا؟ کاش آپ زندہ ہوتے اور جوشوا فضل الدین کی کتاب ” پاکستان کا مستقبل ” پڑھتے اور آج جو کچھ پاکستان میں ہورہا ہے اس کتاب کی پیشن گوئیوں پر جوشوا فضل الدین کو دانش کی تیسری آنکھ سے فیض یاب ہونے پر کوئی شک نہ کرتے

نوابزادہ صاحب! میرے سامنے جوگندرناتھ منڈل وزیر قانون کا آپ کو لکھا گیا آخری خط پڑا ہے- منڈل صاحب نے یہ خط لکھ تو پاکستان میں لیا تھا لیکن وہ پاکستان میں ہوتے ہوئے، یہ خط آپ کو سپرد نہ کرسکے- اس میں انھوں نے آپ کی کابینہ سے مستعفی ہونے اور پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے ہی مستعفی ہونے کی اطلاع ہی نہیں دی بلکہ انہوں نے پاکستان کی شہریت کو خیرباد کہہ کر انڈیا میں اپنے آبائی شہر کلکتہ بسنے اور انڈیا کی شہریت اختیار کرنے کی اطلاع بھی دی- کیوں؟ انھوں نے اس خط میں بتایا کہ کڑوے گھونٹ بھر کر ، انتہائی مجبوری میں قرارداد مقاصد کی حمایت کرنے کے کے باوجود بھی دلت برادری کو پورے مشرقی بنگال میں کوئی جائے پناہ نہ ملی- ان کے خلاف 1950ء میں کیسے فوجی آپریشن ہوا اور کیسے ان کی ماؤں اور بہنوں کے ساتھ ظلم ہوا- اس پر جوگندرناتھ منڈل کی دہائی پر بھی کچھ نہ ہوا- ڈھاکہ کیسے ہندؤ اور دلت برادری کا مدفن بنادیا گیا- لیکن کسی نے اس کو روکنے کی کوشش کی اور سلہٹ و چٹاگانگ سے دلت کو زبردستی مغربی بنگال دھکیل دیا گیا-مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیسے آپ اور آپکی کابینہ اس کلیجہ چیرنے والے خط میں لکھی تلخ حقیقتوں کو پی گئے؟

کیا آپ کو پتا تھا کہ جس بے وردی اور باوردی نوکر شاہی کے ساتھ ملکر آپ اپنی جماعت کے اندر، حکومت میں اور خارجی اپوزیشن کو دبا رہے ہیں اور آئین کی تشکیل کے عمل کو دور لیجارہے ہیں، جس طرح آپ شبیر عثمانی، سید مودودی، حامد بدایونی جیسے ملّاؤں کی مدد سے پاکستان کی ریاست کو تھیاکریٹک بنانے کی طرف لیجارہے ہیں، وہی آپ کے قتل کی سازش اقتدار میں ہوکر بھی بے سروسامانی کا احساس رکھنے والے لیگی سیاستدانوں (جیسے ممتاز دولتانہ تھا) کو ساتھ ملاکر آپ کے قتل کی سازش رچا چکی ہے- اس وردی بے وردی نوکر شاہی نے اپنے اندر اور باہر اپنے پوٹنشل سیاسی مخالفوں(جیسے کمیونسٹ تھے) کا خوف دلاکر آپ سے ان کا کنڈا راولپنڈی سازش کیس قائم کرواکے کردیا اور پھر آپ کو راولپنڈی کی سڑک کے پار لیاقت پارک میں قتل بھی کروادیا اور وہی قاتل آپ کے خون کے وارث ایسے بنے کہ آج تک آپ کے قتل کا آج تک ہمیں تو سراغ ملا نہیں- آپ کو وہاں پتا چلا ہو تو ہمیں بھی بتائیے گا- ویسے آپ بتاسکتے ہیں کہ کیا واقعی آپ زیارت ریذڈنسی یہ دیکھنے گئے تھے کہ جناح کا دم کب نکلے گا؟

کیا آپ نے جناح کو خراب ایمبولنس میں لانے کا حکم جاری کیا تھا؟ مس فاطمہ جناح نے کیوں آپ کو ممکنہ قاتل جناح قرار دیا؟ کیا آپ سے آج تاریخ کا طالب علم یہ پوچھ سکتا ہے کہ جناح کے دو جنازے کیوں ہوئے؟ کیا چیز آڑے آئی تھی کہ جناح کا جنازہ اور آخری رسومات چپکے سے فلیگ اسٹاف ہاؤس کے ایک کمرے میں ادا کی گئیں اور آپ نے اور وزیر خارجہ ظفر اللہ نے اس کمرے میں بھی جناح کی نماز جنازہ میں شرکت تک نہ کی- اور جناح کا جنازہ عام آخر ایک سنّی دیوبندی مولوی کے زریعے پڑھوانے کے پیچھے کیا منطق تھی؟ جبکہ آپ تو بعد ازاں کراچی کورٹ میں فاطمہ جناح کے کیس برائے تقسیم جائیداد جناح میں بطور گواہ شریک ہوئے اور آپ نے گواہی دی کہ مسٹر جناح کھوجہ اثناعشری شیعہ تھے- تو ایک شخص جب آپ کی گواہی کے مطابق تھا ہی اثنا عشری شیعہ تو آپ نے اس کا سرکاری جنازہ ایک ایسے مولوی سے کیوں پڑھایا جو اعلانیہ شیعہ کے کافر ہونے کا قائل تھا؟ ویسے نوابزادہ صاحب! میری معلومات کے مطابق آپ اور آپ کے آباؤاجداد بھی عرف عام میں صوفی سنّی مسلمان تھے جو اسی مولوی کے نزدیک قریب شرک بدعتی تھے

نوابزادہ صاحب! اگر کہیں ظفر سے رابطے کی کوئی سبیل پیدا ہو تو ان سے ضرور پوچھیے گا کہ سکھوں کا ایک نمائندہ وفد جب آپ اور نوابزادہ راجا غضنفر علی خان سے ملا تھا(جنوری کے اوائل میں ) اور اس نے آپ سے ممکنہ پاکستان میں اپنے اسٹیٹ س بارے سوال کیا تھا تو آپ نے بہت ہی متکبرانہ انداز میں ان کو جواب دیا تھا- اس وقت کا گورنر پنجاب سر ایون جیکنز نے وائسرائے کو لکھے مراسلے میں لکھا ہے کہ ظفر نے ان سے ملاقات کے دوران دوسرے مذہبی گروہوں کے ذمی اسٹیٹس بارے بات کی تھی جسے سن کر وہ حیران بھی ہوئے اور غصّہ بھی آیا- یہی رویہ راجا غضنفر علی خان کا بھی تھا- تو آج ان سے پوچھیے کہ اپنی زندگی میں انھوں نے پہلے پچاس کی دہائی میں، پھر 70 کی دہائی میں اور اس کے بعد ضیاء آمریت کے ابتدائی دور میں جو ہوتے دیکھا ، اس کے بعد ان کو سکھوں کی بے بسی بارے کوئی خیال آیا تھا کہ نہیں اور شرمندگی ہوئی تھی کہ نہیں؟

کمیونل ایشو کو ہندؤ-مسلمان ایشو قرار دینےوالو،میرے پیارے اور عظیم رہنماؤں

تم وہاں اپنے اپنے مقام سے دیکھتے ہو، پاکستان میں یہ ایشو اب صرف ہندؤ-مسلمان تک محدود نہیں رہا- نوابزادہ صاحب آپ اور آپ کے رفقا نے ہندؤں اور دلت سے جان چھڑانے کی کوشش میں پاکستان کو تھیاکریسی کے قریب کیا تو آگے آنے والوں نے اسے خود مسلم کمیونٹی کو پاک صاف بنانے کے لیے ایک قدم اور اگے بڑھایا- ہندؤ، دلت، کرسچن اور احمدی پاکستان میں دونمبر شہری بنادیے گئے اور اب معاملہ اس سے آگے چلا گیا ہے- اس ملک میں قانون سازی کے زریعے ریاست کی مہر لگاکر اپنے پسندیدہ عقیدے والے اسلام کو نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے- اس بار جو قلم تلوار بن کر چلنے والی ہے وہ شیعہ اور ایک مخصوص صوفی ازم کو پارہ پارہ کرنا چاہتی ہے

کیا جناح صاحب! آپ نے سوچا بھی تھا کہ مسلم شناخت کو ایک قوم منوانے کے لیے جن دلائل کو آپ تھیالوجی سے استعمال کررہے ہو، ان دلائل کی دھار سے وہ آپ کی شناخت کو مسلم قوم سے کاٹ ڈالیں گے؟

کیا آپ نے سوچا بھی تھا کہ جمعیت علمائے ہند اور احرار آپ کے سیکولر و ماڈرن طرز زندگی اور آپ کی مسلکی شناخت کو لیکر آپ کو بے دین، کافر، مرتد کہتے ہیں، ایک دن آپ کے بنائے پاکستان میں آپ کے لیے قائداعظم کا لقب استعمال کرنے والے اسے قانون کے زریعے اعتبار بخشنے کی کوشش کریں گے؟

کیا آپ نے سوچا تھا کہ آپ کی مذہبی شناخت والی کمیونٹی کے مرد،عورت اور بچے ‘مرتد” کہہ کر قتل کردیے جائيں گے؟ آپ نے جسے وزیر خارجہ بنایا اس کے ہم عقیدہ لوگوں کو قتل کیا جائے گا؟ کیا آپ نے سوچا تھا کہ جن کے ووٹوں سے کئی علاقے پاکستان میں شامل ہوئے،وہ بری طرح سے کمتر بنائے جائیں گے؟ کیا آپ کے ذہن کے کسی گوشے میں ہلکا سا بھی یہ احساس جاگزیں ہوا تھا کہ آپ کے بنائے پاکستان میں نہ مسجد، نہ مندر، نہ مزار، نہ کلیسا ، نہ احمدی عبادت گاہیں ، نہ امام بارگاہیں محفوظ نہیں رہیں گی ،ان پر بارود سے حملے ہوں گے اور ہزاروں مرد،عورتیں، بچے ماریں جائیں گے؟

آپ کا بھتیجا راجا آف محمود آباد جسے اس کے والد راجا آف محمود آباد نے آپ کی سرپرستی میں دیا تھا، اس نے کروڑوں خرچ کرڈالے تھے، کیا یہ اس کا نصیب تھا کہ پاکستان میں جو کچھ ہو ،وہ اسے اسے دیکھ کر ذہنی توازن ہی کھوبیٹھے؟ اس کا کیا یہ نصیب تھا کہ اس کی شناخت اس کے بنائے پاکستان میں جرم بن جائے؟ دھمال، قوالی، رقص، فنون لطیفہ سب کے سب ناقابل تلافی جرم ٹھہرجائیں۔

جناح صاحب! کبھی قبر سے اٹھیں اور زرا پاکستان کی سیر کریں جو اب بس مغربی پاکستان تک محدود ہے- اور زرا دیکھیں لیں، آپ کی باقیات کتنی نااہل نکلی، کہ انھوں نے جن کی مدد سے پاکستان کو “مسلمان” کرنا چاہا اور اس راستے پر جب پاکستان دولخت ہوگیا تو ان مددگاروں کے نمائندے کہا،” اللہ کا شکر ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ تھے، ہمارے اکابر جو کہا کرتے تھے سچ نکلا۔” حالانکہ آپ جانتے تھے کہ ان کے اکابر تو یہ کہا کرتے تھے کہ جناح پاکستان کو سیکولر بنانا چاہتا ہے ، اسے شریعت کی ا ب نہیں آتی، شیعہ کھوجا ،بے دین ہے، اور آپ کہا کرتے تھے کہ پاکستان کا انتظام مذھبی پیشوا نہیں چلائیں گے ، لیکن یہ انتظام و انصرام انھی کے فتوؤں کی روشنی میں چلایا گیا اور جب پاکستان دو ٹکڑے ہوگیا تو یہ ملاں فوری کہنے لگے یہ تو ہونا ہی تھا- آج بھی انہی جیسے مخالفین پاکستان ملاؤں کی آل اولاد ہی پاکستان کی مالک ہے اور تباہی کی یہ ذمہ داری آپ پر ڈالتے ہیں، کیونکہ آپ کے بعد آنے والوں نے ملائیت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے اور اس ریاست کو تھیاکریٹک ریاست میں بدل ڈالا تھا

میرے بابائے قوم، قائد ملت! ہم ایسے تاریخی حقائق سے آنکھیں دوچار کرنے پر مجبور ہیں جن میں فخر اور خوشی کے چند ہی مقام آتے ہیں، باقی مقامات پر نظریں نیچی کرنا پڑتی ہیں اور اقوام عالم کے درمیان ہمیں شرمندہ ہونا پڑتا ہے