Featured Original Articles Urdu Articles

ابوتکفیر مولانا زاھد الراشدی کے تکفیری نظریات اور تکفیری دہشت گردوں کی حمایت پر مبنی ماضی

ایڈیٹرز نوٹ: گو کہ موجودہ چند برسوں میں زاہد الراشدی نے تکفیری خارجی انتہا پسند سوچ اور منافقت سے دوری کا اظہار کیا ہے اور لاہور میں ایک اجلاس میں سنی اور شیعہ مسلمانوں کی مشترکہ نماز کی امامت بھی کی ۔ ان کے ایک صاحبزادے عمار خان ناصر بھی تکفیری خارجیت سے دور ہیں اگرچہ وہ جاوید غامدی کے ناصبی نظریات کی زد میں آچُکے ہیں ۔ رب کریم سے دعا ہے کہ تمام اہل اسلام کو قرآن، ختم نبوت اور عظمت اہلبیت کے مشترکات پر اکٹھا کرے اور تکفیری خارجیت اور فرقہ پرستی کا خاتمہ کرے ۔ آمین

زاہد الراشدی کون ہیں؟

مولانا زاھد الراشدی معروف تکفیری عالم سرفراز گکھڑوی کے فرزند ہیں۔ سرفراز گکھڑوی قیام پاکستان سے پہلے 1930 کی دہائی میں لکھنو میں عاشورا کے دن مدح صحابہ کا فتنہ کھڑا کر کے فساد کرنے والے مولانا حسین احمد مدنی اور عبد الشکور لکھنوی کے شاگرد تھے۔ پاکستان میں شیعوں کے قتل عام میں ملوث تکفیری فاشزم کیلئے سرفراز گکھڑوی اور زاھد الراشدی روحانی دادا اور باپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپنے ایک مضمون میں فرماتے ہیں

” متحدہ مجلس عمل میں بھی اہل تشیع کے دیگر مکاتب فکر کے ساتھ قیادت کا حصہ رہ چکے ہیں، اس طرح دینی تحریکات کے حوالے سے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جو روایت اور تسلسل چلا آرہا ہے، وہ بدستور قائم ہے اور یہ دراصل سیکولر حلقوں کے اس اعتراض یا الزام کا عملی جواب ہے کہ پاکستان کے اسلامی تشخص، ملک میں اسلام اور شریعت کی حکمرانی کے بارے میں ملک کے مذہبی مکاتب فکر پوری طرح متفق اور پاکستان میں نفاذ اسلام فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں بلکہ متفقہ قومی مسئلہ ہے۔

ایک موقع پر بعض دوستوں نے یہ سوال کیا ہے کہ ہمارے والدمحترم امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ کا موقف اور طرزعمل کیا تھا؟ خصوصاً اس پس منظر میں کہ انہوں نے اثناء عشری اہل تشیع کی تکفیر پر’ ’ارشاد الشیعہ‘‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی ہے، میں نے گزارش کی کہ انہوں نے ’’ارشادالشیعہ‘‘ تصنیف فرمائی اور اس میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ صرف ان کا موقف نہیں بلکہ یہ تو اہل سنت کا موقف ہے اور خود ہمارا موقف بھی اثنا عشری اہل تشیع کی حد تک یہی ہے”۔

مذکورہ مضمون پڑھنے کیلئے اس لنک پر جائیں۔

http://zahidrashdi.org/129

اس کے علاوہ ان کی ویب سائٹ پر قیام پاکستان کے بعد شیعہ مخالف نفرت کو ہوا دے کر پنجاب اور سندھ میں عزاداری کے جلوسوں پر حملے کروانے کے ماسٹر مائنڈ مولانا نور الحسن بخاری اور مولانا عبدالستار تونسوی کے بارے میں خراج عقیدت پر مبنی مضامین بھی ملتے ہیں جن کو ان لنکس پر پڑھا جا سکتا ہے:۔

http://zahidrashdi.org/1614

اور

http://zahidrashdi.org/168

یاد رہے کہ انہی لوگوں کی نفرت انگیزی نے بھکر، نارووال، لاھور، کراچی سمیت ملک کے کئی علاقوں میں فرقہ وارانہ تصادم کو جنم دیا تھا۔ 1963ء میں ٹھیری میں ہونے والا قتل عام انہی کی تکفیری تبلیغ کا نتیجہ تھا۔

On June 6, 1963, at least 116 Shia Muslims were massacred

وادئ سندھ میں شیعہ کشی کی تاریخ – گل زہرا رضوی

انیس سو 80 کی دہائی میں اس تکفیریت کا بیڑہ حق نواز جھنگوی اور مولانا سمیع الحق نے اٹھایا۔ اس کے بعد سپاہ صحابہ بنی۔ مولانا زاھد الراشدی کی ویب سائٹ پر سپاہ صحابہ کے رہنماؤں کے حق میں بھی مضامین موجود ہیں۔

حق نواز جھنگوی کے بارے میں مضمون

http://zahidrashdi.org/1051

ضیا الرحمان فاروقی کی مدح سرائی

http://zahidrashdi.org/1156

گستاخ اہلبیت اعظم طارق سے پیار کا اظہار

 

http://zahidrashdi.org/1052

 

 

علی شیر حیدری کے بارے میں مضمون

http://zahidrashdi.org/855

 

ان کے علاوہ دسیوں مضامین میں مولانا حسین احمد مدنی کے اس پیروکار نے فسطائی سوچ کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کر دیا ہے۔