Featured Original Articles Urdu Articles

پنجاب میں فرقہ وارانہ فساد کا خدشہ – عامر حسینی

“پنجاب تحفظ بنیاد اسلام بل” جسے پراسرار طریقے سے پنجاب اسمبلی سے اس وقت منظور کرایا گیا،جب 59 اراکین ایوان میں موجود تھے- اس بل کو گورنر پنجاب چودھری سرور نے واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے- پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے درجنوں پنجاب اسمبلی کے اراکین نے بھی اس بل کو واپس کمیٹی میں لانے کی درخواست کی ہے- جبکہ پی ٹی آئی کے اراکین صوبائی اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بتائے کہ یہ حکومتی بل ہے یا پرائیویٹ ممبر کا بل ہے

اراکین پنجاب اسمبلی جن میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں طرف کے ممبران شامل ہیں نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز اللہی اور وزیر قانون بشارت راجا پر بھی کڑی نکتہ چینی کی ہے اور ان پر لاعلمی میں رکھ کر متنازعہ بل منظور کرانے کا الزام عائد کیا ہے

پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز اللہی اور وزیر قانون راجا بشارت کے بارے میں یہ چہ مگوئیاں ہورہی ہیں کہ وہ ایک کالعدم تنظیم کے ممبر کے ساتھ ملکر اس مجوزہ قانون کو منظور کرانے میں اتنی دلچسپی اس بل میں شامل واضح فرقہ وارانہ شقوں سے کہیں زیادہ اس بل میں کتاب اور تحریر کی اشاعت میں ڈالی جانے والی روکاوٹوں پر مبنی شقوں کو منظور کرانے میں زیادہ سیریس ہیں- اور یہ شقیں اس بل میں موجود ایوب و ضیاء الحق سے کہیں زیادہ آزادی اظہار پر پابندی والی شقوں کو قانون بنانے کے لیے بطور سودے بازی اور بلیک میلنگ کے استعمال کی جارہی ہیں- گویا مقصد اسلام یا بزرگ ہستیوں کی عزت کا تحفظ نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کی مخالف طاقتوں کی زبانوں کو جبری قوانین سے روکا جاسکے

گریڈ 20 کا ایک افسر کسی بھی طرح کے اشاعتی مواد پر نگران بٹھانے کی سازش ہورہی ہے- اور اس کام کے لیے ایسے ملاؤں کا استعمال کیا جارہا ہے جو پاکستان میں کسی بھی صورت فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے

یہ ملاں پاکستان میں عرصہ دراز سے مذہبی بنیادوں پر خانہ جنگی کرانا چاہتےہیں- اور ایک مرتبہ پھر اقتدار میں بیٹھے چند سیاست دان جو ایک درجن بھر سیٹوں کے مالک ہیں پوری پنجاب اسمبلی کو مذہب کے نام پر یرغمال بنائے ہوئے،ملائیت کو فرقہ وارانہ نعروں کے شور میں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں

پاکستان میں جب شیعہ اور سنّی مسلمانوں کی اکثریت متنازعہ بل کو مسترد کرچکی ہے تو ایسے میں لاہور میں جمعیت علمائے اسلام –سمیع الحق گروپ کے جنرل سیکرٹری مولوی عبدالرؤف فاروقی نے مولویوں کا ایک اجلاس بلایا جس میں سپاہ صحابہ پاکستان کی نرسری میں تیار مذہبی جنونیوں اور کچھ پرانے شیعہ- سنّی لڑائی کرانے کے خواہاں مولوی طلب کیے گئے- اور انتہائی سخت موقعہ پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، فرید پراچہ اور جے یو پی- انس نورانی گروپ کے قاری زوار بہادر کو بھی شامل کرلیا گیا- ابتسام اللہی ظہیر بھی شامل ہوئے- جبکہ دیوبندی فرقے سے فتنہ تکفیر کو پروان چڑھانے والے اور شیعہ،صوفی سنّی، اعتدال پسند دیوبندی، کرسچن، سکھ کے خلاف اور ان کی عبادت گاہوں پر دہشت گردانہ حملہ کرنے والوں کے نظریہ ساز جیسے لدھیانوی جیسے بھی وہاں موجود تھے- انھوں نے تحفظ بنیاد اسلام کو سنّی اسلام کے تحفظ کا نام دے کر پنجاب میں عوام کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے

اسپیکر صوبائی اسمبلی چوہدری پرویز اللہی ممتاز دولتانہ کی طرح کی پنجاب میں فرقہ پرستانہ ہتھکنڈا استعمال کررہے ہیں- وہ یا تو جانتے نہیں ہیں یا پھر جان بوجھ کر عارضی مفادات کے لیے پنجاب کو فرقہ وارانہ آگ کے سمندر میں دھکیل رہے ہیں

یہ سنّی اسلام میں ایک اقلیتی ٹولے کو ریاستی سرپرستی میں پنجاب کی فرقہ وارانہ ہم آہنگ فضا کو برباد کراکر یہاں مزید جابرانہ اقدامات کے لیے راستا ہموار کرنا چاہتے ہیں- مسلم لیگ ق پی ٹی آئی کی اسمبلی میں کمزور اکثریت ہونے کے کارن بلیک میلنگ کو ٹول کے طور پر استعمال کررہی ہے