Original Articles Urdu Articles

ہوئے تُم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو؟ – عامر حسینی

میرے بہت ہی شاندار دوست کمال پہ کمال کیے جاتے ہیں اور وہ کراچی کے معاملے میں پی پی پی کی ترجمانی کے فرائض ایسے سرانجام دے رہے ہیں کہ مجھے کہنا پڑا

خامہ انگُشت بدنداں ہے اُسے کیا کہیے
ناطقہ سر بہ گریباں ہے اُسے کیا کہیے

میرا پیارا اپنی ہی پوسٹ کے نیچے کمنٹ میں لکھتا ہے کہ اُس کے ساتھ فیس بُک پر بدتمیزی کرنے والوں کے سبب وہ سخت الفاظ لکھ گیا ہے

جانی! تُمہارے الفاظ سخت نہیں بلکہ کراچی سمیت پورے سندھ میں بلکہ پاکستان بھر میں رہنے والے اُن مہاجر خاندانوں کی اولاد اور اُن کے ہجرت کرکے آنے والے آباء کے لیے سخت توھین اور ذلت آمیز ہیں جن کو آپ نے اردو اسپیکنگ بولنے والی برادری کی صف سے خارج کردیا ہے اور نہ صرف خارج کیا بلکہ سندھ میں رہائش پذیر خود کو اردو اسپیکنگ مہاجر کمیونٹی سے بتلانے والے ایسے افراد جن کا تعلق بقول آپ کے “غریب” اور “نچلے” سماجی طبقات سے تھا وہ سب کے سب “اردو بولنے والوں کی شاندار تہذیبی کمیونٹی” میں شامل ہی نہیں تھے اور اُن کی اولاد زبردستی چھوٹی سی اردو اسپیکنگ برادری کا خوامخواہ حصہ بن گئی ہے

“اردو اسپیکنگ” کو محدود کردیا ایک چھوٹی سی اشرافیہ میں اور باقی سب جو غریب، نچلے طبقات سے تھے وہ ٹھہرادیے گئے “مہاجر نَسَل پرست” اور تو اور اردو اسپیکنگ ٹھہرے یوپی کے بس تین سے چار شہروں کے اشراف اور باقی جو یوپی کے دیگر شہروں سے تھے اُن کا کیا کریں بھیا؟ کیا واپس مودی جی کے دیش بھیج دیں؟

اصل میں کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں جو ہجرت کرکے آباد ہوئے اُن میں صرف یوپی کے افراد نہیں تھے بلکہ اس میں سی-پی، بہار، ممبئی پریذیڈنسی، بنگال، حیدرآباد دکن، راجھستان، دلی، موجودہ ہریانہ، ہماچل پردیش، گجرات، کاٹھیاوارڈ سے ہجرت کرکے آنے والے لوگ بھی تھے- سندھ میں مہاجر نسلیاتی ثقافتی شناخت بلاشبہ صرف نستعلیق اردو بولنے والوں کا گروہ نہیں بلکہ اس میں تو اودھی، راجھستانی، ہریانوی،برج بھاشا، بھوجپوری، بہاری اور دیگر کئی بولیوں اور زبانوں اور وہاں کے مقامی لہجوں کے ساتھ آنے والے مہاجر بہت بڑی تعداد میں تھے- دوسرا اردو جو لکھنؤ، دہلی، حیدرآباد وغیرہ میں اشراف کے ہاں رائج تھی اُس لہجے میں اور بازار و قصبات، گلی محلے میں اردو کے لہجے میں زمین آسمان کا فرق تھا اور اردو میں جو سلینگ خود اردوکے بڑے مراکز میں عام مستعمل تھی اُس کے لیے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے کسی ماہر لسانیات سے دریافت کرنا بہتر رہے گا

آج سندھ کے اندر مہاجر نسلیاتی ثقافتی گروہ میں کاٹھیاواڑ اور گجرات و ممبئی اور حیدرآباد و جونا گڑھ سے پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں آکر آباد ہونے والے بہت سے خوجے، بوھرے، میمن اور ایسے ہی انبالہ ڈویژن (جو بعد میں ہریانہ بنا)، گوڑگاؤں، اور راجھستان و ہریانہ کی پٹی میں آباد مسلم میواتیوں کی بڑی تعداد بھی خود کو اسی نسلیاتی ثقافتی گروہ کا حصہ خیال کرتے ہیں اور پاکستان بننے کے بعد 60 اور 70 کی دہائی میں یہاں آکر آباد ہونے والے روہتک، حصار سمیت آج کے ہریانہ صوبے سے تعلق رکھنے والے بہت سے خاندان بھی خود کو مہاجر نسلیاتی ثقافتی – ایتھنک گروپ کا حصہ خیال کرتے ہیں- جیسے سرائیکی اور بلوچی بولنے والے اور بلوچ قبائل سے تعلق رکھنے والے اپنے آپ کو اُس گروہ سے جوڑتے ہیں جو لسانی اعتبار سے سندھی اسپیکنگ ہے لیکن یہ سب ایک دوسرے سے لسانیاتی ثقافتی اشتراک محسوس کرتے ہیں لیکن یہ اشتراک ان کو مہاجر نسلیاتی ثقافتی گروہ سے محسوس نہیں ہوتا

پیپلزپارٹی کے ساتھ سندھ میں آباد مہاجر نسلیاتی ثقافتی گروہ کی اکثریت کی بے گانگی کا عمل اصل میں 1972ء کے بعد شروع ہوا، جب ممتاز بھٹو اور اُن کی کابینہ نے سندھی لینگویج بِل متعارف کرایا، جس کی مخالفت میں سب سے زیادہ شور اور سب سے زیادہ سندھی زبان اور سندھیوں کے عام لوگوں کے خلاف شاؤنزم اُس چھوٹے سے حلقے کے دانشوروں نے مچایا جن کو جناب میرے فاضل دوست “غازی صاحب” تہذیب و ثقافت میں نفیس ترین بتلارہے ہیں اور سندھی لینگویج بل کے نفاذ کو اردو کا جنازہ نکالنے کے مترادف ٹھہرادیا- امروہہ کا اشراف سید خاندان جس نے دائیں، بائیں اور اوپر نیچے سارے اطراف اپنے ایک ایک چشم و چراغ کو ودیعت کیے ہوئے تھے کا ایک ہونہار بروا” رہئس امروہی” نے لکھا

“اردو کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے”

یہ جو بہتر کے سال کے آخری مہینے تھے یہ پی پی پی کے لیے ویسے بھی امتحان کی گھڑی تھے

کراچی جو صنعت و حرفت کا مرکز اور مزدوروں کا سب سے طاقتور مرکز تھا – کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ورکنگ کلاس اپنے حقوق کی جنگ لڑرہی تھی اور لیفٹ ٹریڈ یونینز بہت مضبوط تھیں اور کراچی کی اس لیبر پاور پر کنٹرول تھا بائیں بازو کے اُن گروپوں اور پارٹیوں کا جو بہرحال پی پی پی اور اس کی لیڈرشپ کے بارے میں یہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ 68-69 کے انقلابی ابھار کو ختم کرنے کے لیے آئی ہے، یہ تاثر لیفٹ گروپوں میں اس لیے اور پختہ ہوا جب زوالفقار علی بھٹو نے یکم جنوری 1972ء کو ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے

Nationalization and Economic Reforms Order – NERO

بطور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جاری کیا- اور صنعتی اداروں اور کارپوریشنز کو ورکرز کنٹرول میں دینے کی بجائے سویلین نوکر شاہی لو دے ڈالا- اُس وقت کی تمام بڑی لیفٹ مائل ٹریڈ یونینز اور اُن کی فیڈریشنز نے اس پالیسی کے کئی نکات پر سخت تنقید کی اور پرائیویٹ مالکان صنعت کے خلاف لڑائی نئی تعینات ہونے والی بابو شاہی سے شروع ہوگئی، جنوری سے جون تک کراچی میں لیبر موومنٹ کی صنعتی منجیمنٹ سے لڑائی میں پولیس بھی شامل ہوگئی اور جون 1972ء کو ہی پولیس کی اندھادھند فائرنگ سے مزدور ہلاک و زخمی ہوئے اور درجنوں گرفتار ہوئے، پولیس نے کئی ایک لیفٹ سیاسی ورکرز کو بھی گرفتار کیا اور ریاستی طاقت مزدور یونینز کو کرش کرنے اور اُن کی جگہ پاکٹس یونین کو لانے میں مصروف ہوگئی

پنجاب کے شہری علاقوں جن میں فیصل آباد، راولپنڈی، لاہور و ملتان کے صنعتی مراکز شامل تھے وہاں بھی لیفٹ ٹریڈ یونینز اور لیفٹ گروپ حکومت سے تصادم میں آگئے

سن 1972ء کا وسط شہری صنعتی مراکز میں سرگرم لیفٹ اور مارکس واد گروپوں کی پیپلزپارٹی سے علیحدگی اور ایسے ہی جہاں پر کسان، ہاری تحریکوں کا زور تھا وہاں سے بھی کئی ایک لیفٹ و مارکس واس گروپوں کی علیحدگی کا دور تھا

اسی دوران ممتاز بھٹو جو سندھ کے چیف منسٹر تھے، انہوں نے جُون میں ہی سندھی لینگویج بِل لانے اور اسے تعلیمی اداروں میں لازمی زبان کے طور پر نافذ کرنے کا اعلان کردیا- پی پی پی کے بہت سے مرکزی رہنماؤں نے ممتاز بھٹو اور ان کے سندھی اسپیکنگ وزراء کی طرف سے اس معاملے پر اشتعال انگیزی دکھانے اور رجعت پسند کراچی کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے اَکسانے والے بیانات پر ردعمل دینے کو سیاسی غلطی سے تعبیر کیا تھا-

ایک طرف شہری سندھ اور خاص طور پر کراچی میں لیبر پاور جن کے رہنماؤں کی اکثریت نسلیاتی ثقافتی مہاجر گروپ سے تعلق رکھتی تھی پولیس سمیت انتظامیہ کے متشدد اور غیر ضروری ٹارچر و گرفتاریوں سے سخت غصے میں تھے تو دوسری طرف ممتاز بھٹو اور اُن کی کابینہ کے کئی ایک اراکین کی تیزی نے مہاجر نسلیاتی ثقافتی برادری کے اندر شدید جذبات کو جنم دیا- اور اس سے کم از کم بھٹو مخالف کراچی کی ملائیت، زخم خوردہ صنعتکار، تاجر اور اردو اسپیکنگ اشرافیہ کے شاؤنسٹ سیکشن کو ان جذبات کو اور آگ دکھانے کا موقعہ مل گیا- اور کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، نواب شاہ، میرپور خاص سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں آباد مہاجر کمیونٹی کی طرف سے شدید ردعمل آیا اور جواباً سندھی اکثریتی علاقوں میں سندھی اکثریت کے اندر سے لوگوں نے جواب دیا

سات جولائی 1972ء کو سندھی لینگویج بل منظور ہوگیا- اس روز سے ہی کراچی سمیت سندھ کے کئی اضلاع میں فسادات، ہنگامے پھوٹ پڑے اور تین روز تک یہ جاری رہے جس دوران کم از کم 72 افراد کی جانیں گئیں اور سندھی اکثریتی علاقوں جیسے لاڑکانہ تھا سے بہت سے غیر سندھی افراد کو نقل مکانی کرکے کراچی آنا پڑا جبکہ بہت سارے سندھی مہاجر اکثریتی علاقوں سے نکال باہر کیے گئے

قصوروار کون بنتا تھا؟ کی بحث میں نہیں جاؤں گا لیکن ایک بات ضرور کہوں گا کہ جون 1972ء میں صنعتی ایریا کراچی میں مزدوروں پر پولیس فائرنگ اور ریاستی تشدد کے ہاتھوں کراچی کی لیبر موومنٹ کا کرش ہوجانے اور 72ء جولائی کے تین دنوں میں نسلیاتی و لسانیاتی فسادات کے دوران سندھ میں شہروں میں ایڈمنسٹریشن کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور پھر فوج کی آمد اور کرفیو کے نفاذ نے مہاجر نسلیاتی ثقافتی گروہ کی بہت بڑی اکثریت کو پی پی پی سے بے گانہ بنادیا- بلکہ صرف پی پی پی ہی نہیں بلکہ اُن دنوں میں کراچی کی سیاست پر جو سیاسی مذھبی جماعتیں راج کرتی تھیں یعنی جماعت اسلامی، جے یو پی اور جمعیت علماء اسلام اُن کی قیادت سے یہ شکوہ پیدا ہوگیا کہ وہ “مصیبت و ابتلاء” کے وقت اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہے

پی پی پی میں کراچی سے جو اردو اسپیلنگ ممتاز سیاسی رہنماء شامل تھے جن میں جے اے رحیم، معراج محمد خان وغیرہ تھے وہ بھٹو سے ملے تو اس موقعہ پر کراچی کے رہنماؤں نے سیکورٹی اداروں کی جانب سے ہوئی مس ہینڈلنگ اور خاص طور پر اردو اسپیکنگ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کا معاملہ اٹھایا اور کافی تلخی ہوئی بلکہ ایک موقعہ پر بھٹو اس قدر غصے میں آئے کہ انہوں نے کہا، “دھیان رہے، میں بھی سندھی ہوں”، اگرچہ بعد میں بھٹو نے سندھی اور اردو اسپیکنگ رہنماؤں کو باہم مل بیٹھ کر اس صورت حال سے نکلنے اور درمیانی راستا نکالنے کو کہا- لیکن جو نقصان ہوگیا تھا وہ کافی بڑا تھا

کمیونل سوال ہو یا نسلیاتی ثقافتی تضاد پر مبنی سوال ہو، اس معاملے میں باہم تضاد میں آنے والے گروہ لاجک اور سینس سے کام کم اور جذباتیت سے کام زیادہ لیتے ہیں- اور جس گروہ میں یہ “وکٹم” ہونے کا احساس پیدا ہوجاتا ہے تو وہ گروہ زیادہ

Sectarian & emtional

ہوتا ہے- کمیونل اور ایتھنک سیاست کی بنیاد

More and more rights, protection, safeguards, guarantees

پر مبنی مطالبات کی طرف ہوا کرتی ہے- اور مقابلے میں جو غیر فرقہ وارانہ، جمہوری سیاست کرنے کا دعوے دار سیاسی گروہ ہوتا ہے، اُس کا تعلق اگر مرکز کے اعتبار سے نسبتاً چھوٹا اور اپنے علاقے میں بڑا ہو تو وہ بیک وقت وکٹم اور غالب گروہی نفسیات کے تضاد کے ساتھ سامنے آتا ہے – بدقسمتی سے پاکستان کی تشکیل کو دیکھا جائے تو یہ بھی بیک وقت مظلوم اور غالب گروہی نفسیات کے رہنماؤں کی زیرقیادت وجود میں آیا جو ہندؤ اکثریت کے حکمران طبقے کو ظالم اور خود کو مظلوم خیال کرتا تھا اور پھر جب اپنی اکثریت کے علاقے میں موجود دوسرے گروہوں سے معاملہ کرتا تو اٌن کو مطیع و محکوم دیکھنے کا خواہاں تھا یعنی متحدہ ہندوستان میں وہ سمجھتا تھا کہ اُس کو دوسرے درجے کی اہمیت ملے گی، وہ حثیت اُس نے غیر مسلم کمیونٹیز کو دی بلکہ ساتھ ساتھ اُس نے (پنجابی و مہاجر اشرافیہ) نے دیگر لسانی-نسلیاتی گروہوں کو دے ڈالی- اور ایک نئی کمیونل و قومیتی لڑائی کی بنیاد رکھ دی

وقت گزرنے کے ساتھ جب پنجابی-مہاجر حکمران اتحاد ٹوٹا اور پنجابی حکمران طبقات اور اُن کے حامی وردی-بےوردی بابوشاہی کے طاقتور لوگ لیاقت علی خان کو منظر سے ہٹانے میں کامیاب رہے اور پھر ایوب شاہی کے دور میں مہاجر اردو اشرافیہ کو پہلی بار اقتدار سے محرومی اور اشراف کلب میں پچھلی نشتوں پر بٹھائے جانے کا احساس ہوا تو مہاجر نسلیاتی ثقافتی تضاد کے ابتدائی جرثومے پیدا ہوگئے یہ تضاد مہاجر اشرافیہ اور عام مہاجر عوام کے درمیان احساس برتری کو پہلی چوٹ لگانے والا تھا حالانکہ مہاجر نسلیاتی ثقافتی گروہ کی ورکنگ کلاس کی نچلی پرتیں تو کبھی بھی مراعات یافتہ نہیں تھیں اور نہ ہی شریک اقتدار ہوئی تھیں بلکہ وہ تو بنا مراعات اور حقوق کے اپنے نسلیاتی ثقافتی گروہ کے اشراف کا احساس برتری ہی شیئر کرتی تھیں

بات بہت لمبی ہوجائے گی، مختصر کرتا ہوں کہ پی پی پی نے پہلے دن سے اپنی سیاست کا مرکز و محور وفاقی پارلیمانی جمہوری طرز حکمرانی کو بنایا تھا اور بہت حد تک اس نے اس طرز کو ہر ایک صوبائی اکائی میں برقرار رکھا، کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں کافی اچھی تعداد میں مہاجر نسلیاتی ثقافتی گروہ سے تعلق رکھنے والی سیاسی شعور کی مالک پرت نے پی پی پی کو جوائن کیا

میں حیدرآباد، میر پور خاص، شہداد پور، نواب شاہ، سکھر، کراچی، لاڑکانہ وغیرہ میں اردو اسپیکنگ کئی ایک

Localities

کو جانتا ہوں جو پی پی پی کا گڑھ شمار ہوتی تھیں اور اس وقت وہ غریب اور کچی آبادیوں یا نچلے متوسط طبقے کے مہاجر علاقے تھے- جیسے حیدرآباد میں فقیر کا پِڑ، پھلیلی فریٹ آباد وغیرہ جن کو ہمارے پیارے دوست لالو کھیت کے رہائشی مہان اردو اسپیکنگ اشرافی کلب کے رُکن عثمان غازی “اَبے تَبے، ترے کو، مرے کو” والے مہاجر نسل پرست بتلاکر اردو اسپیکنگ گروہ سے نکال رہے ہیں

پیپلزپارٹی میں ایسے وکیل تو دیکھے تھے جو “اردو اسپیکنگ مہاجر نَسَل پرست” اصطلاح استعمال کرکے کراچی کے اردواسپیکنگ ووٹر کے ووٹ کرنے کے رجحان کو لیکر پی پی پی کی حکومت کی کارکردگی پر طعنہ زن ہونے والوں کو اپنے تئیں جواب دے رہے تھے، ہمارے دوست تو الفاظ کی کھونڈی تلوار لیکر ٹوٹ پڑے بہت دور کی کوڑی لائے

انہوں نے مہاجر گروہ کی سب کی سب نچلی و غریب پرتوں کو بالواسطہ دشمن قرار دے ڈالا

ایسے کیا 1972ء سے بیگانگی کا شکار چلی آنے والی مہاجر آبادی کے ووٹروں کی ووٹ کرنے کا رجحان بدل جائے گا؟

سن 1972ء میں کراچی کی لیبر موومنٹ اور لسانی سوال پر کراچی کے مہاجر گروہ کے ساتھ غیردانشمندانہ سلوک نے پیپلزپارٹی کے ساتھ جڑی ایک بڑی ورکنگ کلاس، تعلیم یافتہ مڈل کلاس اور کچی آبادیوں اور غریب آبادی کے مکینوں کو بےگانہ کیا بلکہ خود پارٹی میں شامل کئی بڑے اردو اسپیکنگ نامو‌ں کو پارٹی سے الگ کردیا تھا- اس لیے بار بار کہتا ہوں کم از کم جو پی پی پی کے سرکاری عہدے دار ہیں، آفیشل سوشل میڈیا چلاتے ہیں وہ “بقراط” مَت بنیں بلکہ بہتر ہوگا کراچی کی جنگ سعید غنی، شہلا رضا، نجمی عالم سمیت پی پی پی کے تجربہ کار سیاسی کارکنوں کو لڑنے دیں اور میرے پیارے دوست ہمارے ساتھ مل کر سینیئر ساتھیوں کے تجربے سے سکھیں