Featured Original Articles Urdu Articles

سُنی اسلام کے نام پر دیوبندیت کے شدت پسند فرقہ باز ماڈل کا نفاذ – عامر حسینی

Sunni cleric Maulana Ahmed Ludhianvi (C), leader of Ahl-i-Sunnat Wal Jamaat (ASWJ), a political and religious group, leads a protest rally against the ongoing "freedom march" in Islamabad August 22, 2014. Some hundreds of supporters of ASWJ staged a protest rally on Friday against an ongoing march led by Tahir ul-Qadri, Sufi cleric and leader of political party Pakistan Awami Tehreek (PAT) and Imran Khan, the Chairman of the Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) political party, trying to bring down Prime Minister Nawaz Sarif since last Friday. REUTERS/Akhtar Soomro (PAKISTAN - Tags: POLITICS CIVIL UNREST RELIGION) - GM1EA8M1SBB01

میں نے ایک ویڈیو دیکھی جس میں مولوی خادم رضوی کی ایک تقریر کے حصے کو لیکر آخر میں ایک فلم کے ایک چھوٹے سے مزاحیہ منظر کو جوڑا گیا اور پیروڈی بنائی گئی ہے

یہ پیروڈی ویڈیو کلپ بہت شیئر ہورہا ہے

میں نے ایسے پیروڈی ویڈیو کلپ خاص طور پر لبرل اشراف اور اُن کے فالورز کی جانب سے کثیر تعداد میں شیئر ہوتے دیکھے ہیں جن میں “خادم رضوی/اشرف جلالی(جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا بارے اُس کے بے ادبی پر مبنی اور بے احتیاطی پر مشتمل جُملے والی ویڈیو کلپ کے وائرل ہونے سے بھی پہلے)، الیاس قادری، طاہر القادری اور ضمیر نقوی سمیت زیادہ تر ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا تعلق یا تو عُرف عام میں مشہور بریلوی فرقہ سے ہوتا ہے یا پھر وہ شیعہ فرقہ سے ہوتے ہیں جبکہ دیوبندی فرقے سے طارق جمیل، مولانا فضل الرحمان زیادہ ایسی پیروڈیز کا نشانہ بنتے ہیں

لیکن میں نے ابتک کوئی ایک پیروڈی ویڈیو نہ تو خود دیکھی کہ جس میں کسی تکفیری کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے کی کسی تقریر کی ویڈیو سے کلپ نکال کر اُسے کسی کامیڈی سین کے ساتھ جوڑا گیا ہو یا اُس کلپ کے عقب میں کسی گانے کے بُول شامل کیے گئے ہوں جس سے طنز و مزاح کی کیفیت پیدا ہو، کیوں؟

زیادہ دور مت جائیں میں پوچھتا ہوں کہ مولوی عبدالعزیز لال مسجد والے برقعہ پہن کر فرار ہوتے ہوئے پکڑے گئے اور اُن کے بعد ازاں بھی منافرت پر مبنی بیانات کی ویڈیوز سامنے آتی رہیں، حال ہی میں اسلام آباد میں وہ اور اُن کی بیگم اپنے حامی طلباء و طالبات کے ساتھ مولوی عبداللہ کے قائم کردہ مدرسے پر قبضہ کرنے/واپس لینے کے دھاوا بولے تو اس موقعہ پر مرد اور عورتوں کی لڑائی کی کلپ وائرل ہوئی، یہ بات زیر بحث آئی لیکن اس دوران پیروڈی ویڈیو میکرز خاموش رہے، آپ نے آج تک مولوی عبدالعزیز پر کوئی پیروڈی ویڈیو دیکھی؟ ہاں اُن کے آپریشن کے دوران فرار کی تصویر ضرور وائرل ہوئی، اُس پر عام آدمی کے تبصرے اور شیئر بھی نظر آئے لیکن وہ بھی زیادہ تر شیعہ اور بریلوی کمیونٹیز کی طرف سے

کیا ہم نے کبھی سپاہ صحابہ پاکستان /اہلسننت والجماعت کی قیادت کی تقاریر /بیانات/افعال کی کسی ویڈیو کے کلپ پر پیروڈی ویڈیو بنتے دیکھی؟

ابھی حال ہی میں ایک ویڈیو کلپ بہت وائرل ہوا جو زیادہ تر یا تو تعریفی کلمات سے شیئر ہوا یا مذمتی بیانات کے ساتھ اور وہ تھا پنجاب اسمبلی کے رکن معاویہ اعظم کا اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور ہونے اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور ہونے والے بِل “تحفظ بنیاد اسلام” کا مسودہ لیکر اپنے والد اعظم طارق، اپنی کالعدم جماعت کے بانی صدر حقنواز، دوسرے صدر ضیاء الرحمان فاروقی، اور رہنماء ایثار القاسمی کی قبروں پر حاضری کا کلپ اس کلپ پر بھی پیروڈی میکرز کی حس مزاح نہ پھڑکی اور کوئی پیروڈی کلپ سامنے نہیں آیا

ہم نے مفتی نعیم مرحوم اور تو اور پروفیسرمنور امیرجماعت اسلامی پر کوئی پیروڈی کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے نہیں دیکھا ہاں سراج الحق پر بڑی نظر کرم دیکھی ایسے ہی ہم نے کسی زمانے میں قاضی حسین احمد کو نواز شریف کے خلاف ہونے اور اسلامک فرنٹ بنانے پر طنز و مزاح کا نشانہ بنتے دیکھا تھا سوشل میڈیا کے عروج سے پہلے وہ آنجہانی ہوگئے

لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ جن لیڈرز پر ہمارے سماج کے اندر مختلف مسالک و مذاھب کے لوگوں کی مذھبی شناخت پر کم از کم لاکھ کے قریب پہنچ جانے والی تعداد میں لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ سے لیکر کئی ایک فرقوں کے عوام کی نسل کُشی کرنے والوں کے استاد ہونے بارے کسی کو شَک نہیں ہے اُن کی پیروڈی ویڈیوز کیوں نہیں بنتیں؟ وہ وائرل کیوں نہیں ہوتیں؟ ہمارا لبرل اشرافیہ اُسے شئیر کیوں نہیں کرتا؟

کیا ہمارے سماج میں کسی کو سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت کے زندہ یا فوت ہوگئے کسی لیڈر پر بنا کوئی مزاحیہ یا طنزیہ کارٹون یاد ہے؟ کوئی پیروڈی ویڈیو یاد ہے؟ کیا کوئی ویڈیو کلپ جس میں شیعہ کافر کہے جارہے ہوں یا بریلوی مشرک و بدعتی اور پیروڈی ویڈیو سامنے آئی ہو؟

میں نے شیعہ مسلمانوں کو دیکھا ہے کہ وہ معروف فرقہ پرست دیوبندی مولویوں کے مرجانے کے بعد اُن کی قبروں سے خوشبو کی لَپٹیں آنے کی ویڈیو کلپ یا تصویروں پر طنزیہ انٹرو یا کیپشن لکھ کر سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کرتے پائے گئے لیکن میں نے اُن ویڈیو کلپ کو پیروڈی میں بدلتے ہوئے کسی ایسے معروف آدمی کو سوشل میڈیا پہ اُس جوش و خروش سے شئیر کرتے نہیں دیکھا جو فرقہ پرستی، انتہاپسندی، شناخت کی بنیاد پر نسل کشی یا مارا ماری بارے خود کو لبرل/لیفٹ نظریہ ساز سمجھتا ہو یا اپنے آپ کو بہت بڑا لبرل/لیفٹ کرانتی کاری گردانتا ہو جس جوش، جذبے اور لگاؤ اور استقلال کے ساتھ وہ خادم رضوی/ضمیر اختر نقوی/طاہر القادری /طارق جمیل/فضل الرحمان کی پیروڈی، کارٹونز، ویڈیو کلپس وغیرہ شئیرز کرتا ہے

دایاں بازو کی جماعتیں جن میں نواز لیگ، پی ٹی آئی وغیرہ شامل ہیں ان کے ٹرولنگ بریگیڈ بھی ہمیں کبھی بھول کر بھی تکفیری دہشت گردی کے نظریہ سازوں کے بارے میں “ٹرولنگ مواد” سوشل میڈیا پر شیئر کرتے نظر نہیں آئیں گے، کیوں؟

جتنی پروجیکشن (تعریفی انداز) میں پاکستان کے مین سٹریم میڈیا نے فرقہ پرست، کچھ مذھبی شناختوں کو “جُرم” بناکر اُن شناختوں کے حامل انسانوں کے قتل کو “جہاد” بناکر پیش کرنے والے لیڈروں کی کی، کیا اُن کی پیروڈی میں ایک ویڈیو کلپ، ایک کارٹون شایع یا نشر کرنے کی ہمت کی؟ اور اس میں کسی میڈیا گروپ کو استثناء نہیں ہے چاہے وہ خود کو اسٹیبلشمنٹ مخالف صف میں شمار کرتا ہو یا “بھاگ لگے رہن، بوٹ قیم رہن” کیمپ میں شامل کرتا ہو

ہمارے مین سٹریم میڈیا کا وہ سیکشن جو خود کو فوجی جرنیل شاہی جیسی طاقت سے ٹکرانے اور اُن کے خلاف طنز و مزاح میں تو بہت آگے خود کو دکھانے کی کوشش کرتا رہا ہے اور رہتا ہے لیکن اُس کے بڑے بڑے ناموں کی “حسِ مزاح” اور” طنزیہ جُملے” کسنے اور اس کے نیوز چینل پر نشر ہونے والے طنزیہ و مزاحیہ پروگرام میں پیروڈی کا ھدف کبھی تکفیری فرقہ پرست عسکریت پسندی کے نظریہ ساز نہیں ہوتے؟ کیوں؟

نجم سیٹھی نے فرائیڈے ٹائمز میں جب بھی شناخت کے نام پر انتہاپسندی اور بلاسفیمی کے متاثرہ اقلیتوں پر لکھا تو سب سے زیادہ نشانہ اُس نے کسی اضافت اور کسی استثنائی نشانی کے بریلوی انتہا پسند، بریلوی بلوائی، بریلوی شدت پسند، مطلق اصطلاح استعمال کرکے بنایا اور ہمیشہ “شیعہ فرقہ پرست” “شیعہ دہشت گرد”، شیعہ انتہاپسند” اصطلاحیں بھی خوب استعمال کیں لیکن جب اسے شیعہ نسل کُشی پر فرائیڈے ٹائمز میں کچھ لکھنا ہوا تو حرام ہے جو اس نے کہیں “دیوبندی شدت پسند”، “دیوبندی فرقہ پرست” یا پھر “دیوبندی انتہاپسند” جیسی کوئی اصطلاح استعمال کرلی ہو، اُس وقت تو سو میں نناوے مرتبہ اس نے پہلے تو اسے شیعہ-سُنی، ایران-سعودی عرب بائنری میں رکھا اور پھر “مسلم انتہاپسندی” یا “سُنی شدت پسند” تنظیم یا فرد کے ساتھ لگایا اور اس سارے معاملے کو یا تو موجودہ جیو پولیٹکل فریم ورک میں رکھ کر بیان کیا یا پھر اس کی تشریح شیعہ-سنی تاریخی تنازعے میں رکھ کر کی

اُس کے ہاں کچھ موضوعات اور اصطلاحیں شدت سے ممنوعہ یا سیلف سینسرشپ کا شکار رہیں جیسے پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء میں ابھرتی ہوئی “دیوبندی عسکریت پسندی” ، ” معاصر دیوبندی فرقے کے اندر تکفیری شدت پسندی کا بڑھتا ہوا رجحان”، فرقہ پرست دہشت گرد دیوبندی تنظیم” وغیرہ وغیرہ

فرائیڈے ٹائمز، ڈیلی ٹائمز، جیو-جنگ نیوز وغیرہ نے یہیں پر بس نہ کی بلکہ انھوں نے ایک زمانے تک دیوبندی مسلک کے اندر سے اگر کسی کو اعتدال پسند مذھبی اسکالر کے طور پر پروجیکٹ کرنے کا نائن الیون کے بعد فیصلہ کیا تو اُن اعتدال پسندوں میں سب سے زیادہ ان کی نظریں محمد احمد لدھیانوی، پھر مفتی نعیم، اُس کے بعد مولوی طاہر اشرفی پر ٹکیں اور ان پر تعریفی فیچرز، ان کے انٹرویوَز اور اُن کو پرائم ٹائم ٹاک شوز میں جگہ دی گئی

آج بھی اگر پاکستان میں فرقہ واریت کے زمہ دار اور خاتمے کے لیے پرامن حل پر مین سٹریم میڈیا کے ٹاپ کے اینکرز نے کوئی پروگرام کرنا ہو تو اُن کو دیوبندی فرقے کی ترجمانی کے لیے دیوبندی جمہور مذھب کو بدنام کرنے اور اُسے ہی دہشت گردی کی نرسری ثابت کرنے میں جن کا کردار رہا ان کو دعوت برائے انتشار شر ملے گی ان کو اس مسلک کے اعتدال پسند نہیں ملیں گے

اور حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پاکستان میں دیوبندی اسلام کے سب سے زیادہ شدت پسند برانڈ کی آئین پاکستان میں زیادہ سے زیادہ شمولیت اور اس برانڈ کی زیادہ سے زیادہ پروجیکشن جبکہ پورے پاکستان کے “سُنی اسلام” کی اکثریتی اعتدال پسند روایت کی مارجنلائزیشن اور اس کے “شیعہ اسلام” کے ساتھ اشتراکی پہلوؤں اور دونوں کی کئی ایک ثقافتی جہتوں کے کمپوزٹ کلچر کا حصہ ہونے کے پہلو کو اہمیت نہ دینے کا زبردست میڈیائی رجحان آج تک فرقہ واریت بلکہ نام نہاد اسلامائزیشن کا موضوع نہیں بن سکا ہے

پاکسان میں لبرل /لیفٹ/سیکولر اور یہاں تک کہ اعتدال پسند اسلام پسندوں کے ہاں شدت پسند اسلامائزیشن کی اصطلاح ملتی ہے اور وہ وہابائزیشن کی بات تو کرتے ہیں لیکن

Branding of extremist Deobandization

Or

Deobandization (Inclined to extremism) of Pakistan/Society

Or legislation supporting to turning the country into Pro-militant Deobandism

کی بات نہیں کرتے

وہ یہ نہیں بتاتے کہ فرقہ پرستی پر مبنی شدت پسند دیوبندیانہ منصوبے کی سرکاری/ریاستی اداروں کی سرپرستی اور اور اس شدت پسندی کی ووٹ پاوور کو اپنے حق میں کرنے کی سیاسی جماعتوں کی موقعہ پرستی نے اعتدال پسند/صوفیانہ رنگ میں رنگے اعتدال پسند سُنی اسلام اور شیعہ اسلام کے سبھی مرکزی دھارے کی ترجمانی کرنے والوں کو پیچھے دھکیل دیا اور اب وہاں بھی خادم رضوی، جلالی کی سُنی جارہی ہے طاہر القادری جیسوں کی نہیں

مین سڑیم میڈیا نے پی پی پی اور اے این پی سمیت اعتدال پسند سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ جو سلوک کیا اور اپنی پیروڈی کو جتنا اُن کے باب میں استعمال کیا جو

 

Satirical sense

کی حدوں کو توڑتا ہوا

Mocking, trolling and character-assassination

کی سطح کو چھونے لگا جبکہ اس ملک میں کیا اقلیت کیا اکثریت سب ہی مذھبی شناختوں پر دہشت گردانہ حملہ آوروں کے نظریہ سازوں کو جو احترام بخشا گیا اور اٌن کے معاملے میں طنز و مزاح کی کوئی شئے بنانے پر

Self imposed censorship

کا طریقہ اختیار کیا گیا، اس نے ہمارے سماج میں امن و شانتی اور مذھبی آزاد کی علمبردار آوازوں کو اور کمزور بلکہ مین سٹریم میڈیا سے غائب ہی کردیا- یہ ایک طرح سے مجرمانہ کردار ہے