Featured Original Articles Urdu Articles

جناح، لیاقت، تھیاکریسی اور پاکستان – عامر حسینی

جس وقت جناح برصغیر پاک و ہند میں یہ دعویٰ کررہے تھے کہ مُسلمانان ہند ایک قوم ہیں اور ہندؤ دوسری قوم تو اُس زمانے میں ہندوستان میں مختلف فرقوں اور مسالک کے مذھبی رہنماؤں کی سیاسی جماعتیں ہوں یا اُن فرقوں کے مولویوں کی بنائی “خالص مذھبی“ تنظیمیں ہوں ان کی اکثریت کے نزدیک قوم وطن سے بنتی تھی اور ملت/کمیونٹی مذھب سے، اور برطانوی راج کے دور میں جو برصغیر ہند تھا اُس میں رہنے والے سب لوگ” ہندوستانی” قوم کے باشندے تھے، جبکہ مذھبی برادری/ملت دنیا بھر میں اس برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کا نام تھا جو ٹرانس نیشنل تھی

جتنے فرقوں کے ملاں اور اُن کی جماعتیں “مُسلم قومیت” کے انکاری اور ہندوستانی قومیت کے قائل تھے وہ بار بار مسلم قومیت کے تصور کو خلاف شرع ثابت کرتے تھے

ان ملاؤں کی جانب سے جناح کے ایک اور دعوے کی شدت سے مخالفت تردید ہوتی تھی اور جناح کا وہ دعویٰ تھا کہ آل انڈیا مُسلم لیگ مسلمانان ہند کی واحد سیاسی نمائندہ جماعت اور اُس کی قیادت مسلمانوں کی واحد نمائندہ قیادت ہے

اب ہمارے لیے یہ بھی جاننا اشد ضروری ہے کہ مختلف فرقوں کی تھیاکریسی/مذھبی پیشوائیت دوسرے دعوے کی تردید کس دلیل سے کرتی تھی؟

اگر آپ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولوی حسین احمد مدنی کا کتابچہ “جناح اور سول میرج” پڑھیں یا پھر انجمن مجلس احرار الاسلام ہند کی مرکزی قیادت کے بیانات اور تقاریر کے آرکائیوز کھنگالیں اور ایسے ہی جماعت اسلامی پاکستان کے بانی امیر سید ابوالاعلیٰ مودودی کی “مسلمانان ہند کی سیاسی کشمکش” دیکھ لیں اور جناح و آل انڈیا مسلم لیگ کے خلاف قریب قریب ہر صوبے اور ریاست میں موجود کسی بھی فرقے کے مستند مفتی کے زیر دستخط فتوے کی متنی قرآت کرلیں آپ کو سب مسلم لیگ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت اس دلیل سے ماننے سے انکاری تھے کہ

کسی کے نزدیک جناح اور اُن کے ساتھی قائدین سرے سے مسلمان ہی نہ تھے، کیونکہ جناح اُن کے نزدیک ایک پارسی گھرانے کی لڑکی سے سول میرج کرنے کے سبب کافر ہوگئے تھے(یہ جمعیت علمائے ہند کے سربراہ مدنی اور احرار کے رہنماء اس کے ہی قائل تھے)

جبکہ مولانا مودودی کے خیال میں “لیگ کے چھوٹے مقتدی سے لیکر بڑے قائد تک سب کے سب غیراسلامی ذہنیت کے مالک تھے- اور مولانا مودودی ” مسلم قومیت” نام کی ہر شئے کو” بت پرستی” اور اسلام کے تصور” امت” کے منافی بتلاتے تھے

آل انڈیا مُسلم لیگ اور جناح کے مخالف جتنے بھی ملاں تھے جن میں سب سے بڑے مخالف احراری اور جمعیت علمائے ہند تھے وہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ جناح کو کافر و مرتد، منکر قرآن وہ ہی نہیں بلکہ لیگی علماء بھی کہتے تھے- اس حوالے سے ایک کتابچہ بھی شایع کیا گیا

دلچسپ بات یہ ہے کہ جستن جانز کا تحقیقی مقالہ “ہندوستانی شیعہ اثناء عشری کے تحریکِ پاکستان بارے رجحانات” ہمیں یہ خبر دیتا ہے شواہد اور ثبوت کے ساتھ کہ ممبئی کی معروف تاجر اور “آل انڈیا شیعہ پولیٹکل کانفرنس” کے صدر نے جنوری 1946ء میں برٹش پارلیمانی بورڈ کو ایک ریزولیوشن “شیعہ مسلمانوں کا موقف” ارسال کی، جس میں انھوں نے مسلم لیگ کو سُنی مسلمانوں کے غلبے پر مشتمل فسطائی جماعت قرار دے ڈالا اور یہ دعویٰ کیا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا “پاکستان” اگر قائم ہوا تو وہ” سُنی استھان” ہوگا جس میں سُنیوں کی حکومت سنُی عوام کے زریعے سُنیوں کے لیے ہوگی

حُسین لالہ بھائی جس پاکستان کا نقشہ “سُنیستان” کے طور پر کھینچ رہے تھے، آل انڈیا نیشنل کانگریس کے “ہندوستانی قومیت” کے علمبردار جس میں دارالعلوم دیوبند کا مرکزی دھارا اور اس سے الحاق سینکڑوں مدرسے سوائے شبیر احمد عثمانی، اشرف علی تھانوی اور اُن کے پیروکاروں کے سب کے سب اس بات پر متفق تھے کہ جناح اور اُن کے دیگر چھوٹے بڑے قائدین کو سرے سے مسلمان ہی نہیں سمجھتے تھے

خود شبیر احمد عثمانی اور مولانا اشرف علی تھانوی کے نزدیک آل انڈیا مسلم لیگ میں سارے قائدین مَسلمان نہ تھے، وہ راجا آف محمود آباد سمیت لیگی صف میں موجود شیعہ اثناء عشری کو مسلمان نہیں سمجھا کرتے تھے- یہی وجہ تھی کہ شبیر احمد عثمانی اور اشرف علی تھانوی کے پیروکار لیگی حامیوں میں یہ بات مشہور تھی کہ جناح نے مولوی اشرف علی تھانوی کے ہاتھ پر شیعہ اثناءعشری مذھب تبدیل کرکے سُنی (دیوبندی اسلام) قبول کرلیا تھا

گویا جناح جو بقول حسین احمد مدنی اور مولوی مظہر علی اظہر کے ایک کافرہ (رتی بائی) سے سول میرج کرنے اور نص کا انکار کرنے کے سبب کافر و مرتد ہوگئے تھے مولوی اشرف علی تھانوی کے ہاتھ پر توبہ تائب ہوکر سُنی (دیوبندی) مسلمان ہوگئے تھے

بریلوی علماء میں مولانا احمد رضا کے شاگرد مولوی حشمت خاں اور حزب الاحناف لاہور کے سید دیدار علی شاہ سمیت کئی علماء جناح اور مسلم لیگ کے خلاف کَفر کے فتوے دے بیٹھے تھے

جناح کے ساتھ سر ظفراللہ خان کا ہونا اور پھر سر ظفراللہ جیسے اور دیگر لوگ، ایسے جناح کا اپنا خاندانی شیعہ اسماعیلی مذھبی پس منظر اور پھر کنورٹ کرکے شیعہ اثناءعشری پس منظر بھی کم از کم مختلف فرقوں کی تھیاکریسیی کے نزدیک یہ سب کسی کو مسلمانوں کا رہنماء اور اُس کی جماعت کو مسلمانوں کی نمایندہ جماعت قرار دینا خود اپنی پیشوائیت کے لیے خطرہ تھا

ایسے میں جناح، لیگ اور پاکستان تینوں کو کانگریسی ملاں اسلام اور مسلمانوں سے اجنبی قرار دیتے اور جو لیگی ملاں تھے وہ جناح کو اپنا آبائی اور پھر رتی سے شادی کے بعد اختیار کردہ مذھب کو چھوڑ کر “سُنی مسلمان” (دیوبندی پارٹی کے نزدیک دیوبندی اور بریلوی پارٹی کے نزدیک بریلوی) بتلاکر ہی لیگ کے جھنڈے تلے آیا جاسکتا تھا

پاکستان سے پہلے پاکستان کے حامی ملاؤں میں یہ بحث موجود تھی کہ پاکستان میں اسلام کی شکل کیا ہوگی؟

راجا آف محمودآباد نے جناح سے لیگ کی مجلس عاملہ میں پوچھ لیا تھا کہ پاکستان کیسی مسلمان ریاست ہوگا؟

جناح کے نزدیک پاکستانی ہونے کا مطلب اور پاکستان کا مطلب وہ تو ہرگز نہیں تھا جو مولانا عبدالحامد بدایونی سمیت آل انڈیا سُنی کانفرنس منعقدہ بنارس یا مولانا شبیر احمد عثمانی و مولوی اشرف علی تھانوی کی جمعیت علمائے اسلام کے نزدیک تھا

پاکستانی ہونے سے جناح کی مراد کیا تھی؟ کیا جناح پاکستانی قومیت اور مسلم قومیت کے لیے وہ سب اقدام اٹھانے کے حق میں تھا جو 1949ء میں لیاقت علی خان نے اور پھر دوسری دستور ساز اسمبلی نے 1956ء می‍ں اور پھر آمر ایوب خان کے 64ء کے آئین میں اٹھائے؟

جناح نے دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں پاکستانی قومیت کو اور اس قومیت کے تحت حقوق و فرائض کو فرقوں اور مذھب کے ساتھ مشروط نہیں کیا اور واضح کہا کہ

پاکستان تھیاکریٹک ریاست نہیں ہوگا جہاں فیصلے ملاں کرتے ہوں

پاکستان کے “مذھبی بلکہ تھیاکریٹس” مقاصد کو ایجاد معذرت سے خان لیاقت علی اور اُن کے ساتھیوں نے کیا اور جب “مذھبی مقاصد” کو آئین کا دیباچہ بنادیا گیا تو پاکستان کیسی تھیاکریٹک ریاست ہوگا یہ بحث خود بخود سامنے آگئی

لیاقت علی کے زمانے میں پاکستان کے اندر دو قومی نظریے کی نے ایک قومی نظریہ کو ملاؤں کا نصب العین بنایا اور وہ تھا پاکستان اور اس کے رہنے والے باشندوں میں سے پہلے مسلمان قوم کا شناخت کی بنیاد پر سب سے زیادہ حقوق کا حامل ہونا تصور کیا گیا اور اس سے آگے مسلم سے کونسا مسلمان شیعہ یا سُنی مسلمان یہ جو ملاں مسلم قومیت اور پاکستان کو غیر اسلامی قرار دے چکے تھے اچانک سے اس مُلک کو اسلام کا قلعہ اور اس کے مسلمان باشندوں میں پیورٹن خالص مسلمانوں کو بھی شناخت کرنے کا فرض اذ خود سنبھال لیا اور بات پھر پاکستان کو سعودی ماڈل والے ” وھابی اسلام” یا پھر ایران والے شیعہ اسلام یا پھر ترکی جیسے جماعتی اسلام یا پھر قومی اتحاد والے نظام مصطفی والے اسلام کے مطابق ڈھالنے تک پہنچی اگرچہ اس دوران ضیاء الحق اور اس کی باقیات نے پاکستان کو تھیاکریٹک ریاست میں بدلنے کے پورے اقدامات اٹھا لیے تھے

پاکستان کی خالق آل انڈیا مسلم لیگ کا صدر اور بانی پاکستان کا تصور پاکستان ہی نہیں، لیاقت علی خان کا “مقصدی” قراداد پر مبنی مسلم ریاست کا تصور سب کے سب پیچھے رہ گئے اور ملاں کا تصور ریاست غالب آگیا

آج پاکستان کو ایک صوبے کی صوبائی اسمبلی نے نئے سرے سے ڈیفائن کیا ہے اور یہ تعریف صوبائی اسمبلی کا رکن جو ایک کالعدم تنظیم کا ممبر ہے نے متعین کرانے میں اہم کردار ادا کیا، ساری پنجاب اسمبلی تھیاکریسی کے آگے سجدہ ریز ہوگئی اور پاکستان میں ایک بار پھر مذھبی شناختوں کے تنوع کی بجائے یک نوعی شناخت کو قانون ی شَکل دینے جارہا ہے