Featured Original Articles Urdu Articles

شاؤنزم اور ابتذال دونوں کی کسی شکل کو ہم کسی بھی طرح سے جواز نہیں دینے والے – عامر حسینی

میں ہمیشہ سے لسانی اور نسلی شاؤنسٹ رویوں کی مذمت کرتا رہا ہوں اور کرتا رہوں گا لیکن کوئی جواب میں شاؤنزم پھیلائے گا تو اُس کی مذمت بھی کروں گا اور میں نے کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کا اسلرین شاٹ شئیر نہیں کیا بلکہ میں نے اپنے لیے کئی لحاظ سے قابل فخر دوستوں کے ٹوئٹر پر جاری بحث کے دوران انتہائی شاؤنسٹ خیالات پر مبنی ٹوئٹ کو ناپسند کرتے ہوئے اپنی بات رکھی ہے

میں جانتا تھا اور جانتا ہوں کہ کچھ لوگ اس پر اتفاق نہیں کریں گے اور وہ اردو اسپیکنگ سندھیوں کو ہمیشہ ماضی کی ارود اسپیکنگ مہاجر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے کئی ایک لوگوں اور اُس کی باقیات کے شاؤنسٹ ماضی اور حال سے جوڑکر اور ان سب کو ان جرائم اور بلنڈرز کا زمہ دار ٹھہرائیں گے جو پاکستان کے اندر نسلیاتی-قومیتی تضادات کو گہرا کرنے کے دوران پاکستان کی ابتدائی تاریخ میں اردو اور پنجابی نسلیاتی-قومیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والی حکمران اشرافیہ کے طبقے میں شامل لوگوں سے سرزد ہوئے تھے

مختلف نسلیاتی-قومیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے اشرافی گروہوں کے درمیان پاور کے کیک میں شئیر کی لڑائی میں پہلے پہل مہاجر اردو اسپیکنگ اشرافیہ اور پنجابی اشرافیہ کے درمیان جو گٹھ جوڑ تھا اور اُس نے سندھ اور اس کے قدیم باشندوں کو جو نقصان پہنچایا اُس کا زمہ دار کوئی جمہوریت پسند ترقی پسند کارکن عام اردواسپیکنگ سندھی کو ٹھہرائے چاہے وہ سرائیکی جیالہ و جیالی ہو یا سندھی یا پشتون یا بلوچ یا گلگتی یا بلتی وہ شاؤنسٹ قوم پرستانہ رجحان کے گڑھے میں گرجاتا ہے

باشعور اور بالغ سیاسی کارکن کبھی پیٹی بورژوازی /مڈل کلاسی شاؤنسٹ رویے کے ساتھ کسی بھی نسلیاتی-قومیتی گروہ کی عام عوام بلکہ ورکنگ کلاس کہیں کو اُس نسلیاتی – قومیتی ثقافتی گروہ کی حکمران کلاس اور پیٹی بورژوازی کے مبینہ جرائم، شاؤنزم ، استحصال کے ساتھ نہیں جوڑتا یہ لُوٹ کھسوٹ کرنے، پیسنے والے اور جبر کرنے والے گروہ کے لُٹ جانے، پِس جانے اور مجبور و محکوم طبقات و گروہ کے ساتھ محض لسانی/نسلی/قومیتی اشتراک کے سبب “دُشمن، ظالم، استحصال کرنے والا” ٹھہرانے کے متراف ہے

شاؤنسٹ قوم پرست/نسل پرست/لسانیت پرست آخری تجزیے میں فاشسٹ ہوا کرتے ہیں اور میں سندھی اسپیکنگ سندھی اور اردو اسپیکنگ سندھی، سرائیکی اسپیکنگ سرائیکی اور اردو اسپیکنگ سرائیکی، ایسے ہی پنجابی اسپیکنگ پنجابی اور اردو و ہریانوی اسپیکنگ پنجابی پیٹی بورژوازی پس منظر سے آنے والے ترقی پسند دوستوں کو عاجزانہ مشورہ دوں گا کہ وہ جس نسلیاتی-قومیتی گروہ کے بالادست ظالم و استحصالی ٹولے کے کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے اگر اس سارے گروہ کی لسانی یا نسلی ثقافتی شناخت کو مورد الزام ٹھہرادیتے ہیں اور سارے گروہ کو یکساں کہٹرے میں کھڑا کردیتے ہیں تو پھر وہ ترقی پسندی کے دائرے سے اُس زیر بحث ایشو پر باہر نکل آتے ہیں اور

Below the belt

اور فری اسٹائل حملے کے مرتکب ہوتے ہیں، ساتھی مجھ سے کہیں زیادہ عقلمند اور صاحبان مطالعہ ہیں اور انھوں نے “فاشزم کی نفسیات” اور “بالشتیہ” جیسی ولہم ریخ کی کُتب پڑھ رکھی ہوں گی اور اس روشنی میں اپنے رویے، لہجے، موقف سب کا نتارا کرسکتے ہیں