Featured Original Articles Urdu Articles

مون سون بارشیں – عامر حسینی

اگر تو آر ٹی ایس کا بیٹھنا اور پولنگ اسٹیشن کے اندر و باہر فوجی اور رینجر والے 6 بجے کے بعد پولنگ پر موجود دھاندلی کا الزام لگانے والوں کے پولنگ ایجنٹوں کو زبردستی باہر بٹھانے اور رزلٹ تبدیل کرنے والے کا مبینہ کام اپنے افسران بالا اور اُن افسران بالا کا یہ حُکم اپنے سپہ سالار اعلیٰ کے حُکم پر تھا تو پھر 25 جولائی کا یوم سیاہ کے دن سب سے بڑی مذمت کا حقدار بھی وہی ٹھہرتا ہے

لیکن اگر وہ اس سارے عمل کا زمہ دار نہیں تو پھر کمانڈ اینڈ کنٹرول کی صلاحیت سے وہ محروم گردانا جائے گا تو اس صورت میں جس نے اُسے پہلی بار چیف بنانے کی سمری پر دستخط کیے وہ بڑا زمہ دار اور جس نے توسیع ملازمت کی راہ ہموار کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی وہ بہت بڑے زمہ دار اور جو اس کے بعد ایک ایسے شخص سےملاقات کرے جس کی سربراہی میں بے نظیر بھٹو، آصف زرداری سمیت پیپلزپارٹی کی صف اول کی قیادت بدکردار ٹھہرانے والی ایک غیرملکی بلاگر کو پی پی پی کے احتجاج کے بعد بھی آئی ایس پی آر میں ملازمت پر برقرار اور اسلام آباد کورٹ میں دائر ایک پیتشن کے جواب میں اٹارنی جنرل اور وزرات داخلہ و آئی ایس پی آر دفاع کرے اور اس دفاع کو بدترین تنقید کا سامنا کرنا پڑے اور ابھی بلند وبانگ “سلیکٹر” کے خلاف بیانات کی سیاہی خشک نہ ہوئی ہو اور پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول کی 25 جولائی کی پریس کانفرنس اور مطیع اللہ جان کے گھر ادا کیے گئے جملوں کی سوشل میڈیا پر جیالوں کے ہاں بار بار تکرار کی صورت ختم نہ ہوئی ہو ایسے میں قبلہ رحمان مِلک سپہ سالار سے ملاقات کریں اور اس کی تصویر وائرل ہوجائے تو سوال یہ جنم لینے لگتا ہے کہ “سلیکٹر” اگر 73ء کے آئین اور پارلیمنٹ و پارلیمانی جماعتوں سے یہ سب سلوک کرکے بھی ملاقات کے قابل ہے اور اقتدار کی راہ اُس سے ہموار ہونی ہے جو رات کی تاریکی میں ملے وہ تھوڑے شرم والے لگنے لگتے ہیں

اے پی سی سے پہلے کوئی بیماری کا بہانہ لیکر اپنی جماعت سے یہ منڈیٹ لے لیتا ہے کہ شرکت صحت سے مشروط ہے (مطلب نہیں ہوگی) اورکوئی اس اعلان کے بعد اپنے خاص ترین چیلے کو “سلیکٹر اعظم” سے ملنے بھیج دیتا ہے

پی پی پی سمیت اپوزیشن نے کلبھوشن کے حوالے سے اپنی تمام تر نعرے بازی کے باوجود کَل پارلیمنٹ میں کلبھوشن کو قونصلر تک رسائی کے لیے قانون کا بل منظور ہونے تک خاموشی اختیار کیے رکھی

جبکہ بعد ازاں اپوزیشن اور حکومت کے کراچی سے تعلق رکھنے والے اراکین کراچی تیز بارش سے پیدا صورت حال پر ایک دوسرے پر خوب برسے

مون سون کی بارشوں سے آج کَل سیلاب تو آتے نہیں کیونکہ خلاف فطرت ترقیاتی منصوبوں نے سیلابوں میں باقاعدگی ختم کردی اگرچہ سیلابی پانی جمع کرنے کے لیے ڈیم بنانے اور سیلابی نہریں نکالنے کے منصوبوں کی خبریں آتی رہتی ہیں

ہاں ان بارشوں سے ٹاؤن پلاننگ کے سمیت بدحال ٹاؤن کمیٹی، مونسیپل کمیٹیاں، کارپوریشن، صوبے کے لوکل گورنمنٹ محکمے، ویسٹ منیجمنٹ کمپنیاں، ڈویپلمنٹ اتھارٹیز، پی ایچ اے اور مقامی ایڈمنسٹریشن کی اہلیت اور پہلے سے تیاری کے پول کھل ضرور جاتے ہیں اور یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ٹاؤن پلاننگ شعبے کی یا بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، لوکل گورنمنٹ محکمے کی بدعنوانی، غفلت اور غیر قانونی ٹاؤنز اور تجاوزات اور ایسے ہی سیوریج، بارش کے پانی کی نکاسی کے کام میں بددیانتی نے عوام کو کس مصیبت میں ڈال دیا ہے

ٹوئٹر ، فیس بُک، یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پر مون سون کی بارشوں کے پانی کی نکاسی نہ ہونے، بجلی کے پول کے گرے یا لٹکے ننگے تاروں سے کرنٹ لگ کر یا خستہ حال، کچے، کمزور بنیادوں والے گھروں کی چھتیں گرنے سے یا کسی کے سڑک پر کھلنے والے مین ہول میں نظر نہ آنے سے ہونے والی اموات، لوگوں کو شہر میں آمد ورفت میں پیش آنے والی روکاوٹوں اور پہلے سے معاشی مجبوریوں کے تحت مون سون کی بارشوں سے پہلے این ڈی ایم اے کی طرف سے بتائے جانے والے اقدامات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے نقصان اٹھانے والوں کی خبر سامنے آنے پر کیا ردعمل دینا ہے؟ اس کا طریقہ پاکستان کی وفاق اور صوبوں میں حکومتیں کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں نے جو نکالا ہے وہ “ردعمل” کے مواد اور پوزیشن کے اعتبار سے ایک جیسا ہے اور اسے انگریزی میں

Blame shifting

کہتے ہیں

اگر آپ صوبے میں حاکم ہیں اور اُس صوبے کے ایک یا چند بڑے شہروں میں آپ کی جماعت کی حمایت کم اور وہاں اپوزیشن کی حمایت زیادہ ہے جو ماضی میں کئی بار صوبے، مرکز اور جبکہ مقامی حکومتوں میں ہمیشہ رہی اور اب بھی ہو تو آپ کے پاس بڑا آسان حل ہے کہ آپ یہ کہیں کہ مون سون کی بارشوں کے جُملہ مسائل کی گھمبیرتا کا سبب اپوزیشن کی جماعت یا جماعتیں ہیں اور شہر کی حکومت بھی اُن کی ہے یہ نااہلی اُن کی ہے

اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا جواب بھی ہے جسے جوابی الزام کہتے ہیں

اگر صوبے میں اپوزیشن پارٹیوں کے ٹرولنگ بریگیڈ صوبے کے دارالحکومت اور دیگر شہروں کی ابتر صورت حال بارے تصویر، ویڈیو شئیر کریں تو جواب میں صوبے میں حکومتی پارٹی کے حامی ٹرولنگ بریگیڈ اس صوبے کی اپوزیشن پارٹی جس صوبے اور اگر وفاق میں برسر حکومت ہے وہاں مون سون کی بارشوں سے پیدا صورت حال کی تصویری یا ووثول منظرکشی پیش کریں

لاہور شہر کی بارش کے بعد کی تصویر یا وڈیو کلپ کے نیچے لکھا ہو “کراچی/سندھ ڈوب گیا اور کراچی کی تصویر یا وڈیو کلپ کے نیچے لکھا ہو پنجاب /لاہور ڈوب گیا

مسلم لیگ نواز، پی ٹی آئی نے کراچی سمیت سندھ کے اندر جہاں جو خرابی ہے اس کی ذمہ داری پیپلزپارٹی پر ڈالی اور

یہ بات درست ہے کہ گزرے سالوں میں پی پی پی کے زیرحکمرانی سندھ بارے اور وفاق بارے پاکستان کے اردو اور انگریزی پرنٹ میڈیا اور پھر الیکٹرانک میڈیا اور اس کے بعد سوشل میڈیا کا جو ڈسکورس ہے وہ صرف غیر متوازن ہی نہیں بلکہ معاندانہ حد تک میڈیا ٹرائل و دشمنی تک پہنچا رہا

اس دوران پی پی پی سے اس زیادتی کے خلاف لوگ پی پی پی کی حکومتوں کو مظلومیت کے مارکس دے کر شدت سے جہاں تک بن سکا ڈیفینڈ کرتے رہے – اور سوشل میڈیا پر پی پی پی کو مدافعتی نظام بھی تنخواہ دار باقاعدہ آفیشل میڈیا مینجرز سے کہیں زیادہ اس جماعت سے اور بھٹو فیلیا کے شکار لوگوں سے ہی میسر آیا جن پر اندھے مقلدین کی پھبتی بھی کَسی جاتی رہی

پاکستان کا مین سٹریم میڈیا اور اس میڈیا کا ویب و سوشل میڈیا سیکشن کبھی سندھ کی بالعموم اور کراچی سمیت اردو اسپیکنگ کی اکثریت کی نمائندہ ایم کیو ایم یا جن اضلاع میں پی پی پی کے مخالف سندھی سیاسی جماعتوں کا کنٹرول رہا اُن سے سندھ اگر مکمل تباہ ہے یا زیادہ تباہ یا اردو اسپیکنگ کے علاقے زیادہ برباد ہیں کو کہٹرے میں کھڑا نہیں کیا

پی پی پی کے مخالف پاکستان میں جنرل ضیاءالحق کے گیارہ سال اور پھر 90ء سے93ء اور پھر 97ء سے 99ء اور پھر 2000ءسے 2008ء اور ایسے ہی 2018ء سے 2020ء تک قریب قریب 23 سال (ایم کیو ایم کو پیپلزپارٹی کے ادوار میں بھی شرکت حکومت کا موقعہ ملا) بنتے ہیں اور پی پی پی کے 13 یہ اور نوے کی دہائی کے ساڑھے پانچ اور بھٹو کے 6 سال 21 سال جبکہ وفاق میں اُس کے پہلے چھے سال کے بعد 11 سال سخت ترین اپوزیشن کاٹنے کے بعد ڈھائی سال اور پھر تین سال اپوزیشن کاٹ کر تین سال اور پھر 14 سال کی سخت ترین اپوزیشن کاٹنے کے بعد 5 سال ملے اور وفاق اور سندھ میں اس کے اقتدار کے دوران جو کچھ ہوتا رہا وہ الگ تاریخ ہے تو اس حساب سے پی  پی پی کو میڈیا، اسٹبلشمنٹ بشمول عدالتیں اور اس سے شیر وشکر پہلے پرنٹ اور پھر الیکٹرانک میڈیا اور پھر لمبے عرصے تک سوشل میڈیا پر جس تناسب سے ٹرائل جس میں بیشتر جھوٹ کا تومار شامل ہے اُس کے مقابلے میں مسلم لیگ نواز کا پنجاب اور وفاق میں اس کے ادوار کو لیکر، پی ٹی آئی کا کے پی کے کو لیکر کم از کم 2018ء تک آٹے میں نمک برابر ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا

پی ٹی آئی کی اسٹبلشمنٹ کے طاقتور دو ستونوں سے ملنے والی بے تحاشہ مدد کے باوجود میڈیا اور سوشل میڈیا پر نواز لیگ نے 2018ء تک کم از کم معیاری اور باقاعدہ پروفیشنل اینٹی اسٹبلشمنٹ آئیکون سمجھنے جانے والے اسلام آباد، لاہور، کراچی کے دیوتاؤں کی حمایت حاصل کیے رکھی اور اب بھی ایک بڑا سیکشن اس کے ساتھ ہے اور اس نے نواز لیگ کی معشیت کو کمزور کرنے اور پارلیمنٹ، عدلیہ اور سویلین ایڈمنسٹریٹو اداروں کو عسکری ھئیت مقتدرہ کی ادارہ جاتی مضبوطی کامقابلہ کرنے کے لیے درکار قانون سازی کی طرف جانے کی بجائے ذاتی وفاداری پر زور دینے کے عمل کو چھپایا جس سے نواز لیگ کی جعلی گڈگورننس کی کہانی کم از کم پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے اربن چیٹرنگ کلاس کی اینٹی پی پی پی پَرت کو سچ لگنے لگی

لیکن یہ کیا کہ گزشتہ تیرہ سالوں سے صوبہ سندھ میں برسراقتدار چلی آنے والی پاکستان پیپلزپارٹی کراچی سمیت سندھ کے وہ علاقے جہاں حقیقت میں اردو بولنے والے ووٹرز میں اس کے قیام کے وقت سے حمایت کم ہے وہاں ٹاؤن، مونسپل کمیٹی، کارپوریشن میں سیوریج کی ناکامی، پینے کے پانی کی کمی، تعلیم، صحت اور اس سمیت دیگر مسائل کی سنگینی کی طرف توجہ دلوائیں تو اس پارٹی کے حکومتی ترجمان اور تنخواہ دار میڈیا مینجرز کی طرف سے اُس سنگینی کی زمہ داری سب حکومتوں میں رہی یا تو ایم کیو ایم پر ڈال کر نچنت ہوجاتے ہیں یا پھر وہ جی ڈی اے پر ڈالتے ہیں یا پھر ق لیگ و مشرف لیگ پر اور اس سے پیچھے جنرل ضیاء پر

تیرہ سالوں میں کراچی کے پینے کے صاف پانی، اکثر علاقوں میں ویسٹ منیجمنٹ، مون سون کی بارشوں کے پانی کی نکاسی اور دیگر مسائل کی شدت کو اگر پیپلزپارٹی اور اپوزیشن نے صوبائی کنٹرول میں موجود محکموں اور ایم کیو ایم یا پی ٹی آئی کے کنترول میں موجود وفاقی اور مقامی حکومت کے محکموں کے درمیان بہتر کوارڈینشن کو عام آدمی کے بہتر ہونے کے ضروری سمجھ کر کسی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں وقت ضایع کیا

پاکستان پیپلزپارٹی نے اگرچہ اردو اسپیکنگ آبادی کو رام کرنے اور یہ دکھانے کے وہ سندھی شاؤنزم سے بالاتر ہے سندھ حکومت میں پریس اور سوشل میڈیا پر نظر آنے والے چند اردو اسپیکنگ چہرے رکھے ہوئے ہین، کوئی شک نہیں وہ سب ٹیلنٹڈ ہیں اور کافی چُست و چالاک بھی جواب دینے میں طاق بھی لیکن کیا پیپلزپارٹی ان 13 سالوں میں سندھ کے اردو اسپیکنگ اکثریت کو ایم کیو ایم سے ہٹ کر بطور پارٹی اور صوبائی حکومت کے طور پر یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوئی کہ وہ اردو اسپیکنگ آبادی کی نہیں بلکہ کراچی میں بسنے والی ہر لسانی شناخت کی عوامی اکثریت کی نمائندہ بننے کی اہل ہے؟

اگر اُسے کراچی کی اکثریتی ووٹر سے اپنے مخالف جانے جیسی حقیقت کا علم ہے تو کیا اُسے کراچی کے اردو اسپیکنگ مہاجروں کی طرف سے زیادہ تعداد میں پی پی پی کو ووٹ نہ کرنے کی روایت کو ایک طعنہ بناکر پیش کرنے کی پالیسی بنانا ٹھیک ہے؟

کیا کراچی سندھ کے سَتے /حکومت سے باہر ہے؟ اگر نہیں تو بقول ہندوستانی مشہور سوشلسٹ سابق صدر طلباء یونین جے این یو دہلی کنہیا کمار

“مودی صاحب! جو سَتے میں ہوتا ہے سوال اس سے ہوتا ناکہ جو ماضی میں سَتے میں تھا اور اب اپوزیشن میں ہو اس سے حال میں کسی مدے بارے پوچھیں، مودی جی حکومت میں کانگریس نہیں تُم ہو سوال بھی تم سے ہوگا اور یہ کہہ کر بھاگنے نہیں دیں گے بُھک مری کی وجہ کانگریس ہے، سیلاب کا کارن راھول گاندھی ہے

سندھ حکومت کے سوشل میڈیا آفیشل اور نان آفیشل سوشل اکاؤنٹس کی اکثریت یا تو بلیم شفٹنگ یا الزامی ہتھکنڈوں کی سیاست کررہی ہے جبکہ حقیقی مسائل جو حقیقت میں موجود ہیں جن کی طرف حکومت پر نگران حکومتی پارٹی کے تنظیمی عہدے داران کو نظر رکھتے ہوئے پیپلزپارٹی کے وزراء، مشیران اور بیوروکریسی کی کمی، کوتاہی، غفلت، اور بدعنوانی، اقربا پروری اور جہاں پی پی پی ہاری ہے وہاں پر مسائل کا ادراک کرتے ہوئے اپنی حکومت کا محاسبہ اور حکومتی محکموں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنے اور وہاں پر کسی امتیازی سلوک کے پائے جانے پر نوٹس لینے جیسے اقدامات بالکل غائب نظر آتے ہیں- پیپلزپارٹی کی تنیظم اور حکومت دونوں کا فرق ہی مٹ گیا ہے اور پیپلزپارٹی کا سوشل میڈیا اس وقت بس یہ بیانیہ سندھ بارے رکھتا ہے

چین ہے سماج میں
بے مثال فرق ہے
کل اور آج میں
اپنے آپ تنگ ہیں
لوگ تیرے راج میں

یہی طریقہ واردات دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی ہے اُن کے ہاں بھی جہاں اُن کا راج ہے وہاں بس چور ڈاکو لیٹرے چیخ چلارہے ہیں باقی سب چین ہے اور کَل جب وہ نہیں تھے تو کَل بڑا خراب تھا، آج بے مثال چین ہے

مون سون کی بارشوں سے پنجاب، سندھ، بلوچستان ، کے پی کے، گلگت بلتستان ، آزادے سب جگہ شہری و صوبائی و وفاقی حکومتوں اور اداروں کے زمہ داران کی کارکردگی کا پُول کھلتا رہا تھا اور کھل رہا ہے، اس حمقم میں سب ننگے اور سب زمہ دار ہیں، سیاسی جماعتوں کی تنظیم اور ان کے حکومتی سیٹ اپ کے درمیان فرق ہی مٹ گیا ہے جس سے خود احتسابی کا چَلن ختم ہوکر رہ گیا ہے

سیاسی کارکنوں کے نام پر اکثریت

Excuses seeker
Blame shifter
Hard rebuttal givers
Binary makers
Expert in Obfuscation
Apology seeker
Career makers

کی ہے

جو اقتدار میں یا اقتدار سے باہر باری کے منتطر اشرافیہ کے کلب میں شامل ہونے کی جستجو کررہے ہیں

پی پی پی جس کے پاس کافی مثبت پوائنٹس ہیں اُس کے کارکنوں کی نہایت بہتریں لاَٹ نے بھی اس سال کے مون سون میں اپنا ٹمپرامنٹ کھودیا ہے اور پہلی بار پنجاب سے لیکر کے پی کے اور بلوچستان سے سندھ تک اور گلگت بلتستان سے آزاد کشمیر تک اس کے 99 فیصد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کراچی میں تباہ کُن بارشوں کے ایشو کو لیکر ایم کیو ایم، پی ٹی آئی ، جی ڈی اے، ق لیگ اور دیگر حکومتی اتحاد کے سوشل میڈیا ٹرولنگ بریگیڈ سے آگے کراچی کے عام ووٹر کی لسانی شناخت کو لیکر اُس کے ووٹ دینے کے ٹریک ریکارڈ کو لیکر کراچی میں انفراسٹرکچر کی بربادی کا زمہ دار ٹھہرانے کے ساتھ ساتھ اُن کے ووٹ دینے کے ریکارڈ کو (جس میں بہت سارا ووٹ دور یرغمالی کی نشانی بھی ہے بقول پی پی پی کے)

“باجی کسی اور کو دینے اور ماموں پی پی پی کو بنانے کی خواہش” سے تعبیر کرتا ہے یا سندھی ڈاکٹر عرفانہ ملاح یا ہماری ساتھی اَمر سندھو لغاری سمیت ترقی پسند سندھی دوست ہوش کا دامن چھوڑ اور ایم کیو ایم /پی ٹی آئی کے شاؤنزم کے مقابلے میں شاؤنسٹ ہونے کا طعنہ کراچی کے اردو اسپیکنگ مہاجر ووٹر کو دیتا ہے

یہ جوابی الزامی طعنہ دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن سے جواب الجواب الزامی طعنے پر مبنی سوال یہ کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے 1947ء سے لیکر 2020ء تک آزاد اور جھرلو انتخابات میں کتنے اردو اسپکینگ مہاجر سیاست دان نام نہاد سندھی اسپیکنگ اکثریت علاقوں سے منتخب کرکے سندھ اسمبلی میں بھیجے تھے یا ہیں؟

اور لسانی شاؤنزم کی رَو میں اس وقت بہہ جانا جب اردواسپیکنگ مہاجر آبادی کو ایک لسانی شاؤنسٹ جماعت جس کے کراچی پر تسلط کی کہانی ہر شخص جانتا ہے یہ باور کرارہی ہو کہ تُم سیاسی یتیم بنادہے گئے ہو، تمہارے ساتھ جو ہورہا ہے وہ تمہاری لسانی شناخت کے سبب ہورہا ہے اور تمہارا اردو بولنا تمہاری سزا ہے اور جو مسئلہ پیدا ہوتا ہے اس کی وجہ صوبے میں پیپلزپارٹی ہے جو سندھیوں کی جماعت ہے بہت خطرناک ہے

نسلی /لسانی/مذھبی اکثریت ہو یا بڑی اقلیت کسی اکائی میں حکومت کرتی ہو اور وہ دوسری لسانی/مذھبی/نسلی اکثریت یا بڑی اقلیت کا احساس اور تاثر محرومی کا ختم کرنے کی بجائے اُس کے ووٹ دینے کے رجحان کو لیکر اُس پر شاؤنسٹ حملے کرے یا ان کو کمتر بنانے کی کوششش کرے تو پھر حالات اُس طرف جاتے ہیں جس طرف 1937ء میں کانگریس کی مرکز اور یوپی میں حکومت بنانے کے بعد گئے تھے یا پھر 1950ء میں مشرقی پاکستان میں گئے، اکثر کو انڈرمائن کرکے حالات 71ء جیسے ہوتے ہیں لیکن سندھ کی ڈیموگرافی ایسی ہے کہ یہاں پر 71ء میں بہاریوں جیسا سلوک دیہی سندھ میں تو ہوسکتا ہے ہوجائے لیکن کراچی سمیت اردو اسپیکنگ کے اکثریتی علاقوں میں حالات الٹ ہوسکتے ہیں

یوپی، سی پی، ہریانہ، ممبئی، گجرات، کاٹھیہ وارڈ سے آکر سندھ میں جم جانے والوں کو کے لیے 47ء سے 51ء تک پیچھے کھائی آگےپناہ کا معاملہ تھالیکن یہاں آگے سمندر، پیچھے کھائی اور درمیان میں اپنا علاقہ ہے اور باہر سے مدد کی امید بھی بہت ہے (خدا نہ کرے معاملات اس انتہا پر کبھی پہنچیں) لیکن سندھ تب ہی امن و آشتی سے اور سب کے لیے رہنے کی جگہ رہ پائے گا جب یہاں سندھی اسپیکنگ اکثریت اور اردو مہاجر بڑی اقلیت (دونوں کے پاس بڑی بڑی انتخابی نشتیں ہیں اور اکثریت کے ہاں اگرچہ پی پی پی سب سے بڑی پارٹی ہے لیکن پیپلزپارٹی کو کراچی، اور دیگر اردو اکثریت کی شہری حلقے سندھ میں پی پی پی مخالف کسی اتحاد کی تھوڑی بڑی کامیابی کو اپوزیشن میں بٹھاکر وہی کرسکتے ہیں جو کانگریس کے ساتھ برطانوی راج میں جناح کی قیادت میں مسلم لیگ نے کیا تھا مرکز میں انگریز اسٹبلشمنٹ کی لڑاؤ، تقسیم کرو اور بالادست رہو پالیسی کو اپناکر، مرکز، پنجاب، نیشنلسٹ یہ تین فیکٹر ایسے ہیں جو پی پی پی کی فیڈرل جمہوری سیاست کو اس کی کسی ایک غلطی سے ناکام بناسکتے ہیں

سندھ کی اردو اسپیکنگ آبادی اور ووٹر کی صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد کو دیکھ کر اُن کے خلاف رعونت بھرا رویہ پیپلزپارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا جبکہ یہ سندھ سمیت پورے پاکستان میں تنظیم کو ٹکٹ ہولڈرز اور ان کی لابنگ کے ہاتھوں اور کمرشل مینجرز، دیہاڑی داروں کے زریعے پہلے ہی یرغمالی کفیت میں ہے