Featured Original Articles Urdu Articles

کیا پنجاب مذہبی آزادیوں کا قبرستان بننے جارہا ہے؟ – ایم اے حسینی

پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دنوں متفقہ طور پر بنیاد تحفظ اسلام نامی ایک بل کی منظوری دے دی ہے جو اب گورنر پنجاب کے پاس جائے گا اور اگر وہ اس بل کی منظوری دے دیتے ہیں تو اس بل کی تمام شقیں قانون بن جائیں گی

یہ بل ایک ایسے ممبر صوبائی اسمبلی نے پیش کیا ہے جو ایک کالعدم تنظیم کا رکن ہے اور فورتھ شیڈول میں اس کا نام شامل رہا ہے- یہ رکن صوبائی اسمبلی ناصبیت کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے

(ناصبیت ایسا نظریاتی رجحان جو آئمہ اہل بیت سلام اللہ علیھم بشمول امام علی علیہ السلامکی طرف معاندانہ رویہ رکھتا ہو یا ان کے قتل_ خلیفہ راشد سوم سیدنا عثمان غنی ابن عفان علیہ السلام سے بری ہونے بارے شکوک رکھتا ہو اور جناب علی المرتضی علیہ السلام کی جانب جنگ جمل و جنگ صفین و نھروان میں حق کے ہونے بارے تاویل کا راستا اختیار کرتا ہو)

آئین پاکستان کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ مسلمانوں میں شیعہ اسلام کے ماننے والوں کو مسلمان نہیں سمجھتا اور ان کو کافر قرار دیتا ہے- ایسے خیالات کا اظہار کرنے والا فرقہ وارانہ منافرت کا مرتکب ہوتا ہے جس کی جگہ اسمبلی کا ہال نہیں بلکہ جیل کی کوٹھڑی بنتی ہے

لیکن پاکستان کے آئین سے انحراف کرنے اور الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخاب لڑنے کی اہلیت کے لیے درکار قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے کے باوجود یہ شخص پنجاب اسمبلی کا رکن بنا- نہ تو الیکشن کمیشن، نہ ہی ریٹرننگ افسر اور نہ ہی پاکستان کی کوئی عدلیہ اس شخص کو الیکشن لڑنے اور جیت کر اسمبلی میں بیٹھنے سے روک سکا

قابل ذکر بات یہ ہے کہ راولپنڈی کے کینٹ ایریا میں ایک مسجد کا شیعہ مولوی مرزا افتخار اپنی ایک اشتعال انگیز ویڈیو کلپ کے وائرل ہونے کے سبب سپریم کورٹ کے سوموٹو نوٹس کا نشانہ بنا ہے- اس شیعہ مولوی کی سوشل میڈیا پر موجود تمام ويڈیو کلپس کو منگواکر ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو کہا گیا کہ وہ ان ویڈیوز کا فرانزک کرے اور یہ دیکھے کہ ان ویڈیوز میں کہاں پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی ہوئی اور کہاں مولوی افتخار مذہبی منافرت پھیلاتا نظر آتا ہے- شیعہ مولوی کی سینکڑوں ويڈیو کلپس کا فرانزک ہوچکا اور سائبر کرائمز ونگ کہتا ہے کہ وہاں کوئی قابل اعتراض بات نہین ملی

پاکستان کی عظما کو کبھی معاویہ اعظم کی سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز کا فرانزک ایف آئی اے کے زریعے کرنے کا خیال کیوں نہیں آتا؟

خیبر سے کراچی تک پاکستان کے گلی کوچوں میں دیواروں پر شیعہ مسلمانوں کو کافر، بریلوی مسلمانوں کو مشرک، دیوبندی اور اہلحدیث کو گستاخ اور توہین باز اور “ہندؤ کا ایک علاج-الجہاد الجہاد” اور ایسے ہی مسیحیوں کے خلاف وال چاکنگ پر سوموٹو کبھی نہیں لیا گیا

کیا پاکستان کی عظما ایسا سوموٹو لال مسجد کے سابق خطیب مولوی عبدالعزیز ، کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان/ اہل سنت والجماعت کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی،اورنگ زیب فاروقی ، مولوی مینگل، خادم رضوی، اشرف جلالی، میاں مٹھو پیر اور ایسے کئی ایک شیعہ ذاکروں کے خلاف کبھی لے گی اور ان کے سوشل میڈیا پر پھیلے کلپس کا فرانزک کرنے کا ٹاسک ایف آئی اے کو دے گی؟ اور ان سب کی بلامشروط معافی کو ویسے ہی رد کردے گی جیسے مولوی افتخار کے باب میں کیا گیا؟

ایک جیسے مبینہ جرائم کا ارتکاب کرنے والے مختلف فرقوں کے مولویوں سے مختلف سلوک کی وجہ کیا ہے؟

“بنیاد تحفظ اسلام بل” کی منظوری پاکستان کے آئین 1973ء کی کئی شقوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے- آئین پاکستان 1973ء کی شق نمبر دو کے تحت ریاست پاکستان کا سرکاری مذہب “اسلام” ہے- اس شق کو اگر 1973ء میں کی گئی چوتھی ترمیم کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے تو احمدی غیر مسلم فرقہ ٹھہرتے ہیں جبکہ اس سے ہٹ کر آئین کی کوئی اور شق ایسی نہیں ہے جو پاکستان میں شیعہ اسلام اور سنّی اسلام میں سے کسی ایک کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دیتی ہو

آئین کی شق نمبر دو تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے اور ایسے ہی شق نمبر19 تقریر کی آزادی اور شق نمبر 20 مذہبی آزادی کی ضمانت دیتی ہے- یہ شق نمبر 20 بہت اہم ہے- یہ ہر مذہب کے ماننے والے کو اس مذہب پر عمل پیرا ہونے، اس کی تبلیغ کرنے اور اس بارے پروپیگنڈا کرنے اور اس کی ذیلی شق ب اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے ، ان کو برقرار رکھنے اور ان کا انتظام و انصرام کرنے کو بنیادی حق میں شمار کرتی ہے

آئین پاکستان 1973ء کی شق نمبر 22 بہت اہم شق ہے جو کہتی ہے کہ کسی بھی فرد کو جو کسی تعلیمی ادارے میں ہو ایسی مذہبی تعلیم کو حاصل کرنے، کسی ایسی مذہبی تقریب میں شرکت کرنے یا کسی ایسی مذہبی عبادت میں شریک ہونے کی ہدائیت نہیں کی جائے گی، جو اس شخص کے مذہب سے تعلق نہ رکھتی ہو- اس آئین کی شق نمبر 22 کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہم “تحفظ بنیاد اسلام” بل کا جائزہ لیں اس کی 5 تا 11 شقیں ہندؤ،مسیحی، پارسی، سکھ سمیت تمام غیر مسلمان مذاہب کے افراد کے اس حق کو متاثر کرتی ہیں جو حق آئین پاکستان1973ء کی شق نمبر 22 ان کو دیتی ہے- اب آجائیں ان شقوں کا مسلمان فرقوں پر اطلاق پر- پاکستان میں عرف عام میں جن کو بریلوی مسلمان کہا جاتا ہے جن کی اکثریت خود کو محض سنّی مسلمان کہلوانا پسند کرتی ہے ان کے علماء اور مشائخ کے درمیان غیر انبیاء بزرگ شخصیات کے ساتھ علیہ السلام لکھنے یا لگانے پر اختلاف ہے

 ایک طرف وہ ہیں جو اہل بیت اطہار، صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین اور صالحین امت کے نام کے آگے رضی اللہ عنہ، رحمۃاللہ علیہ، نور اللہ مرقدہ ، دامت برکاتہ، علیہ السلام /سلام اللہ علیھا لگانے اور لکھنے کو قرآن و سنت کی روشنی میں جائز سمجھتے ہیں-دوسرا گروہ وہ ہے جو ان تمام دعائیہ کلمات کو قرآن و سنت کے مطابق جائز تو سمجھتا ہے لیکن وہ شیعہ امامیہ (اس میں اثناعشری و اسماعیلی امامی دونوں شامل ہیں) کی طرف سے امام اور علیہ السلام ان دو کو نظریہ امامت سے مختص کرنے کے سبب خاص طور پر اہل بیت اطہار کے ساتھ علیہ السلام/ امام/ سلام اللہ علیھا لگانا جائز نہیں سمجھتا- اب اگر سنّی اسلام میں اپنےخدشات کے تحت جو چیز قرآن و سنت سے جائز ثابت ہورہی ہے اس کو ممنوع قرار دینے والوں کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں غیر انبیاء کے ساتھ رضی اللہ عنہ/عنھا/عنھم لگانے کو لازم کیا جائے گا تو یہ سنّی اسلام کے اندر اس گروہ کے افراد کے مذہبی حق کو سلب کرنے کے مترادف ہوگا جو علیہ السلام کے دعائیہ کلمہ کو غیر انبیاء کے لیے استعمال کرنے کو جائز تصور کرتے ہیں

اب آجائيں شیعہ اثنا عشری/اسماعیلی مذاہب و مسالک کی طرف- ہم سب جانتے ہیں کہ شیعہ امامیہ کے جتنے بھی گروہ ہیں وہ اسلام کے ایک ایسے تصور کو مانتے ہیں جس میں نائـب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکوینی و دینوی اور روحانی تینوں امور پر اختیار “نص’ سے حاصل کیے ہوئے ہوتا ہے اور پہلا نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیعہ کے نزدیک امام علی علیہ السلام/رضی اللہ عنہ ہیں- اور ان کی یہ امامت وصایت سے لیکر منصوص ہونے تک ہے اور وہ بعد از رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضل البشر بھی ہیں اور معصوم عن الخطا بھی ہیں- اور وہ سنّی اسلام کے تصور خلافت و امامت کو نہیں مانتے اور نہ ہی ان کے نزدیک تین خلفاء یعنی سیدنا حضرت ابوبکر صدیق، سیدنا حضرت عمر فاروق اعظم، سیدنا عثمانابن عفان رضوان اللہ اجمعین خلفاء راشدین مھدین تھے- ان کا عقیدہ امامت و عدالت سنّی اسلام سے ان کے بنیادی اور اصولی اختلاف کی سب سے بڑی پہچان ہے

 ایسے میں ہم شیعہ اسلام کے ماننے والوں کو کیسے پابند کرسکتے ہیں کہ وہ غیر انبیاء کے ساتھ خصوصی طور پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے اسمائے گرامی کے آگے وہ رضی اللہ عنہ / عنھا لگائيں- اور اہلبیت اطہار اور اپنے آئمہ کے ناموں کے آغاز میں امام اور آخر میں علیہ السلام / سلام اللہ علیھا نہ لگائيں بلکہ محض رضی اللہ عنہ/عنھا اور عنھم لکھیں- یہ واضح طور پر ان کو آئین پاکستان کی شق نمبر 22 میں ملے حق سے ان کو محروم کرنے کے مترادف ہے

ہاں شق نمبر 22 میں ملے حق کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ اس میں اپنے عقیدے کے مطابق پبلک مقامات اور سوشل میڈیا پر پبلک سیٹنگ کرکے سب و شتم کے الفاظ پر مبنی تقریر یا تحریر ڈال دیں-ایسا کرنا آئین پاکستان کے تحت فرقہ وارانہ منافرت کے زمرے میں آئے گا جیسا کہ کوئی شیعہ مسلمانوں کو کافر کہے یا ان کے شعار و رسوم کے خلاف پبلک میں تقریر کرے یا سوشل میڈیا پر ویڈیو یا تحریر پوسٹ کرے

اس لیے میرے نزدیک “بنیاد تحفظ اسلام” بل کی کئی ایک شقیں جہاں اہل بیت اطہار ، صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین اور اولیائے اسلام کے بارے میں صوفی سنّی اسلام کے ماننے والوں کی اکثریت کے نظریات اور عقائد کے برخلاف ہے،وہیں یہ شیعہ اسلام کے پیروکاروں کے مذہبی نظریات کے خلاف ہے- اور ان پر مذہبی جبر کے مترادف ہے- ایسے ہی یہ بل غیر مسلم مذبی اقلیتوں کی مذہبی آزادی کے منافی ہے- یہ بل قرآن کے حکم صریح ” لا اکراہ فی الدین” کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس لیے آئین پاکستان کے منافی ہے جو قرآن و سنت کے خلاف کسی بھی قسم کی قانون سازی کرنے کی مخالفت کرتا ہے

ایسے ہی آئین کی شق نمبر 143 کے مطابق کوئی صوبائی اسمبلی ایسا قانون بناتی ہے جو پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کے منافی ہو تو اس صورت میں پارلیمنٹ کا بنایا قانون ہی نافذ العمل ہوگا- اس لیے آئین پاکستان 1973ء کے آئین کے منافی صوبائی اسمبلی سے پاس ہونے والا “بنیاد تحفظ اسلام بل” پہلے دن سے ہی منسوخ تصور ہوگا- اور ان امور کو لیکر جن فرقوں اور مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں ان کو سپریم کورٹ میں اس قانون کو چیلنج کرنے کی اشد ضرورت ہے

پاکستان کا آئین اصولی طور پر تمام افراد کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے- وہ آزادی تقریر کا حق بھی دیتا ہے- ایسے ہی اجتماع اور تنظیم سازی کا حق بھی دیتا ہے- وہ ہر فرد کو اپنے مذہب پر عمل کرنےکی ہی نہیں بلکہ اسے اس کی تبلیغ، پھیلانے کی اجازت اور اس مذہب کے تحت ادارے کے قیام کی اجازت بھی دیتا ہے- یہ وہ حق ہیں جو 1973ء کے آئین میں یہ سمجھ کر اس آئین پر دستخط کرنے والوں اور اس آئین میں دوسری ترمیم کرنے والوں نے دیے تھے کہ یہ قرآن و سنت کے عین مطابق ہیں

پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں، ترقی پسند و روشن خیال سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کو پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والے اس بل کو ” فرقہ وارانہ کش مکش” قرار دے کر صرف نظر کرنا مناسب نہیں ہے- یہ بل براہ راست مذہبی جبر کو نافذ کرنے کی کوشش اور اقدام ہے- یہ پاکستان میں صوفی سنّی اسلام ، شیعہ اسلام، اور مسیحیت،ہندؤ مت، سکھ مت اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی مارجنلائزیشن کے پروسس کو طاقتور بنانے کی کوشش ہے- اس کے متاثرہ شیعہ ہی نہیں بلکہ کئی ایک سنّی گروہ اور غیر مسلم اقلیتیں بھی ہیں- سول سوسائٹی کو بھرپور مزاحمت دکھانے کی ضرورت ہے

سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن جماعتیں یعنی مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلزپارٹی کے ممبران اسمبلی نے اس بل کو آئین پاکستان کی روشنی میں پڑھنے اور اس پر بحث کرنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ انھوں نے کبوتر بنکر آنکھیں بند کرکے اسے منظور ہوجانے دیا

اس بل کے پاس ہوجانے پر پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی مذہبی جماعتیں جن میں سنّی اتحاد کونسل اور ایم ڈبلیو ایم شامل ہیں نے کوئی ردعمل نہیں دیا-یہ بل اگر خدانخواستہ سندھ اسمبلی میں پاس ہوا ہوتا تو نجانے کیا قیامت آتی؟

پاکستان کے اندر رجعت پرست طاقتیں انسانوں کو اپنے ضمیر کی آواز کے برخلاف جانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں- تکفیر و تضلیل اور خارجیت کی آندھیاں اعتدال و میانہ روی کی ہر راہ مسدود کرنا چاہتی ہیں- اور وہ پاکستان کو مذہبی آزادی کا قبرستان بنانے پر تلی بیٹھی ہیں- یہ طاقتیں جمہوریت مخالف، عوام کو طاقت کا سرچشمہ نہ سمجھنے والی غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ کی سرپرستی اور تحفظ میں کھل کر کھیل رہی ہیں اور سلیکٹڈ کٹھ پتلیاں عوام میں کمزور بنیادیں ہونے کے سبب ان کی انگلیوں کے اشارے پر ناچ رہی ہیں- اگر جناح کے بچے کچھے پاکستان کو بچانا ہے تو ان سب سے نجات حاصل کرنا ہوگی