Featured Original Articles Urdu Articles

درِ عدالت ِ علی علیہ السلام پہ پہنچا ناطق تو کیا ملا اٌسے؟ – عامر حسینی

برادرم علی اکبر ناطق کی طرف سے اُن کی نئی کتاب “در عدالت علی” موصول ہوگئی اور اس کتاب میں اُن کی لکھی نعتیں، منقبت، سلام کی ایک بار قرآت میں کرچُکا ہوں، انھوں نے یہ کتاب “من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ، من عاد علیا فعاد اللہ ورسولہ” کی اثناعشری شیعی تعبیر سے پیدا تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لکھی ہے، ظاہر سی بات ہے کہ ایک سُنی ماتریدی تعبیر کے تقاضے اُس سے قدرے مختلف ہوں گے لیکن مودت اہل بیت علیھم السلام کے باب میں دونوں متفق ہیں اور ناصبیت و خارجیت کو کرارا جواب دینے میں بھی دونوں کے ہاں اتفاق پایا جاتا ہے

اس کتاب کے آغاز میں جو ایک شعر لکھا ہے جسے پڑھ کر طبعیت وجد میں آجاتی ہے

نتھری لفظیں بولنے والے بوزر، میثم لوگ
ناد علی کے مَنکے گن کر دار کا جھولا جھول

ناصبیت و خارجیت کے زیر اثر ہمارا نام نہاد مین سٹریم مسلم تاریخی شعور ہے وہ مسلم تاریخ کے کئی ایک انتہائی مکرم و محترم و جذب و مستی عشق سے سرشار کرداروں کو یا تو گوشہِ گمنامی میں دھکیلتا ہے یا اُن پر تہمت کفر و ضلالت لگا دیتا ہے- یہ نام نہاد مین سٹریم مسلم تاریخی شعور اس قدر بانجھ ہے اور اسقدر بے بصیرت ہے کہ یہ مروان، یزید، حجاج کے فضائل ڈھونڈ نکالتا ہے اور محمد بن قاسم جیسے اموی ملوکیت کے ایجنٹ اور عداوت اہل بیت میں لتھڑے کو مجاھد اسلام بناکر پیش کردیتا ہے لیکن اسے حجر ابن عدی، میثم تمار جیسے کرداروں کی کچھ خبر نہیں ہوتی اور ایسے ہی یہ جناب ابوطالب کے بارے میں بھی سوئے بے ادبی کا مرتکب ہوتا رہتا ہے اور اس مرکزی تاریخی شعور کا سارا زور ابوطالب کو معاز اللہ نار کا کس قدر عذاب پہنچنا ہے کو دکھانے میں صرف ہوتا رہتا ہے

اللہ پاک کا کروڑہا شُکر ہے کہ فی زمانہ اُس نے سُنی اسلام میں ایسی جاندار آوازیں اس طرح کے عام فکری مغالطوں کو چیلنج کرنے والی پیدا کردی ہیں جو دلائل کی سیوف سے مائل بہ ناصبیت غلط شعور کی کاٹ کرتی ہیں

علی اکبر ناطق کی کتاب میں آغاز جناب ابوطالب کی شان میں منقبت سے ہوتا ہے اور منقبت کا عنوان ہے “ابوطالب کا قصہ”

ابو طالب کا قصہ پوچھنے والو
ابو طالب کا قصہ اِک صحیفہ ہے
ازل سے تا ابد کا ایک سورہ ہے

بدر پنہاں، اُحد پنہاں، جمل پنہاں ہے صفین و وفائے کربلا پنہاں
ابوطالب کے قصے میں زمین و آسماں کا عدل قائم ہے

ابو طالب کا قصہ مختصر کیسے بیاں ہوگا
فقط یہ جان لے مومن
ابو طالب کے قصے میں خدا کی ذات پنہاں ہے

میں فروری میں علی اکبر ناطق سے لاہور میں ملا تو وہ مجھے بتانے لگے کہ وہ اسلام آباد کے کسی کالج میں تدریس کی خاطر منتقل ہونے کی تیاری کررہے ہیں اور ساتھ ہی بتلایا کہ وہ محمد و آل محمد کی شان میں منظوم کلام پر مشتمل ایک کتاب تیار کررہے ہیں اور کتاب تیاری کے آخری مراحل میں ہے- انھوں نے مجھے اس وقت ایک نوحہ سُنایا جو عباد ابن لوقا جو گھوڑوں کا تاجر ہے کی زبانی ہے جو عین شہادت امام علی علیہ السلام کے دن کوفہ میں اترتا ہے- میں اُن کے منہ سے یہ کلام سُن کر جہاں درد و غم کی کیفیت کا شکار ہوا وہیں اپنے دوست علی اکبر ناطق کے نُدرت خیال پر اُسے بے ساختہ داد دینے پر مجبور بھی ہوا- یہ نوحہ اس کتاب کے آخری حصے میں شامل ہے – نوحہ لامیہ شہادت امیر المومنین علیہ السلام

کہ اس بار کوفہ میں گردوغبار اور اندھی کے جُز کچھ نہیں تھا
فقط اڑ رہے تھے وہاں بھوت نوحہ گری کے
مکانوں کے کنگرے پڑے گر رہے تھے شہابون کی صورت
شبوں کے ستاروں میں کرنیں نہیں تھیں
دنوں کے اُجالے سپیدی سے خالی
فقط دھند آسا سیاہی کے گولے
نہ کوفہ کی راہوں میں سبزہ
نہ کوفہ کے دریا میں پانی
نہ کوفہ کے سینے میں کوئی حرارت بچی تھی
شریف ابن مہدی
قیامت تک اب یہ کوفہ نہیں بس سکے گا

نعت کا یہ شعر دیکھیے

سویرے شام روتا ہوں غمِ شبیر میں ناطق
بہت ہے معتبر رشتہ رسول پاک کا مجھ سے

سلام کے یہ اشعار دیکھیے

منبرِ حمد پہ کرتے ہیں ثنائے حیدر
خود کو رکھتے ہیں مودت میں عطا کے بندے
ناز کرتا ہے صلیبوں کی بلندی پہ تمار
کاٹ لیتے ہین زباں اُس کی ہوا کے بندے

“شیعہ عورتوں گیت” ایک ایسی نظم ہے جس کو کافی مقبولیت ملی
ہمارا گریہ حسین کے لیے ہے
مگر کبھی کبھی اپنے یوسفوں پر بھی رونے کو جی چاہتا ہے
ہم شیعہ عورتیں وہ یعقوب ہیں
جن کے کئی کئی یوسفوں کو بھیڑیے کھاگئے
وہ یعقوب کے بیٹوں کی طرح واپس نہیں آئے
نہ ہماری آنکھیں واپس آئی ہیں
حالانکہ ہماری کوکھ بانجھ نہیں تھیں
نہ ہماری چھاتیاں رزق دینے میں بخل کرتی تھیں

اس مجموعہ کلام میں، ناطق نے ایک پنجابی منظوم کلام بھی شامل کیا ہے، جس سے آئندہ یہ امید بندھتی ہے کہ اُن کا محمد و آل محمد علیھم السلام کی مدح میں پنجابی کلام کا مجموعہ بھی جلد سامنے آئے گا

جاوے ماہی کوفے وسے
جاوے بیبا ماہی کوفے
کوفے میثم امبر ویکھے
نال کھجی دے وصلاں جھولے
میں میثم نوں سانواں کملا
وچ علی دے عشق وے بیبا
جا وے میں تاں علی دا کملا

علی اکبر ناطق نے در عدالت علی علیہ السلام پر دستک دی اور جواب میں اُن کو منظوم فیض ملا جو کتابی شَکل میں ہمارے سامنے ہے اور ہم بھی اُس سے فیضیاب ہورہے ہیں
یاعلی تیرے غلاموں پہ یہ زمانے ششدر
بے نیازی کے خدا ہیں یہ خدا کے بندے

کتاب عکس پبلیکیشنز لاہور سے چھپی ہے، خوبصورت سرورق زیف سید کا بنایا ہوا ہے

ناطق سے آج بات ہوئی تو پتا چلا کہ کورونا کی وبا اور لاک ڈاؤن کے سبب وہ لیکچرر کی نوکری نہ پاسکے اور بیماری و بےروزگاری میں وہ اپنے گاؤں کے گھر میں پڑے ہوئے ہیں

تلخی اُن کے لہجے سے صاف عیاں تھی، کہہ رہے تھے کہ پڑھنے والے صاحبان استطاعت سے کہیں کہ ادب کو زندہ دیکھنے کی خواہش ہے تو ادیبوں کی لکھی کتابوں کو خرید کر پڑھنے کی عادت ڈال لیں