Featured Original Articles Urdu Articles

عوام بھٹو فیلیا سے دستبردار نہیں ہوں گے – عامر حسینی

تاریخی حقائق من گھڑت قصوں میں دب جاتے ہیں اور من گھڑت قصوں سے کسی تاریخی واقعہ کو مسخ کردیا جاتا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی دو روزہ(30 نومبر1967/یکم دسمبر 1968) کنونشن منعقدہ لاہور کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی تھی اور اس کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو، جنرل سیکرٹری جے اے رحیم منتخب ہوئے تھے

یہ پارٹی جب معرض وجود میں آئی تو اُس وقت کمبائنڈ اپوزیشن کی 9 سیاسی جماعتیں اپوزیشن کررہی تھیں جبکہ سرکاری جماعت کنونشن لیگ تھی جسے اُس وقت فوج کی مکمل حمایت حاصل تھی اور عدلیہ و انتظامیہ بھی اُس کے پورے کنٹرول میں تھیں جبکہ کنٹرولڈ میڈیا بھی تھا

اگر 30 نومبر 1967ء اور یکم دسمبر 1968ء کے دنوں سمیت اگر ہم اُس زمانے کے اخبارات میں پی پی پی کی تشکیل بارے خبر تلاش کریں تو اندرونی صفحات میں ایک کالمی خبر ملے گی

پاکستان پیپلز پارٹی مغربی پاکستان کے ایسے سیاسی کارکنوں اور سیاسی گروپوں نے بنائی تھی جو کمبائنڈ اپوزیشن کی سمجھوتے باز اپوزیشن سے تنگ تھے- اور بایاں بازو کی مغربی پاکستان کی ایلیٹ زدہ اور پراسراریت پر مبنی روایت سے باغی تھے

ذوالفقار علی بھٹو نے جون 1966ء کو ایوب خان کی کابینہ سے استعفا دیا، اُس وقت تک دور دور تک ایوب خان کے خلاف کسی عوامی مزاحمتی تحریک کے آثار نہ تھے- ہاں ایوب خان کے خلاف مختلف طبقات اور عوامی حلقوں میں بے چینی موجود تھی

ذوالفقار علی بھٹو نے جیسے ہی ایوب خان کی کابینہ سے استعفا دیا تو سرکاری اور غیر سرکاری کنٹرولڈ میڈیا جس نے استعفا سے پہلے نہ کبھی ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان بارے کوئی منفی بات چھاپی تھی اور نہ ہی ذوالفقار علی بھٹو کی ذات بارے کوئی پروپیگنڈا کیا تھا وہ ایک دَم سے بھٹو صاحب اور اُن کے خاندان کے بارے میں گھوسٹ نیوز اسٹوریز شایع کرنے لگا

اس زمانے کے اخبارات میں ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں پہلے پہل جو پروپیگنڈا شروع ہوا اُس کا براہ راست تعلق معاہدہ تاشقند سے بنتا ہے

زوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کو للکارا، اُن پر الزام لگایا کہ وہ میدان میں جیتی جنگ مذاکرات کی میز پر ہار گئے- وہ بھارت مخالف سیاستدان کے طور پر سامنے آئے

ایوب کی پروپیگنڈا مشینری نے جس کا کنٹرول الطاف گوہر کے پاس تھا نے اس کے جواب میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کیا

زوالفقار علی بھٹو بھارت کے شہری ہیں

زوالفقار علی بھٹو کی ماں ہندؤ تھی اور گھاسی رام کنٹرورسی

زوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو کی وجہ سے جونا گڑھ پاکستان کا حصہ نہ بن سکا

اسی طرح کے کچھ اور کلیشے بھی اُن دنوں اخبارات کی زہنت بنے

اپریشن جبرآلٹر (جس کی وجہ سے بھارت نے 65ء کی جنگ شروع کی) کا مشورہ بھٹو نے دیا تھا

بھٹو نے بھارت سے بات چیت کے لیے ایوب خان کو کہا تھا

سن 65ء کی جنگ سے لیکر معاہدہ تاشقند تک جو بھی خرابی ہوئی اُس کا ذمہ دار بھٹو کو ٹھہرانے کا آغاَز ہوا اور بعد ازاں ہم نے گوہر الطاف، ایس ایم ظفر اور روئیداد خان سے کہانیاں بھی سُنیں

اس سارے پروپیگنڈے کا مقصد ذوالفقار علی بھٹو کی ساکھ کو برباد کرنا اور یہ دکھانا بھی تھا کہ بھٹو کا ہندوستان مخالف موقف ایک جھوٹا پروپیگنڈا اور تہمت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

ایوب خان تو بہت ہی معصوم، نیک فطرت اور ملک و قوم کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے والا قوم کا باپ ہے

یاد رہے کہ جون 1966ء کو جب ذوالفقار علی بھٹو نے استعفا دیا تھا تو ایوب خان کے اقتدار کا سورج نصف النھار پر تھا- ایوب خان کے خلاف جانا آسان کام نہیں تھا

زوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کو جن بنیادوں پر چیلنج کیا وہ بذات خود بڑی اہمیت کی حامل تھی

ایوب خان پاکستان کا دفاع کرنے کے قابل نہیں ہے- یہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے جس وژن کی ضرورت ہے اس کے لیے اَن فِٹ ہے- معاہدہ تاشقند ایوب خان کی حُب الوطنی پر سوالیہ نشان ہے

ایوب خان کی معاشی ترقی کے دعوے اشرافیہ کے حق میں تو ٹھیک ہوں گے لیکن باقی کے پاکستان میں اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے

زوالفقار علی بھٹو کا ایوب شاہی کو یہ وہ چیلنج تھا جو ایوب خان کے لیے بہت ہی تکلیف دہ تھا

ایوب خان اسٹبلشمنٹ کے اُس ٹولے کا حصہ تھا جو اپنے آپ کو حُب الوطنی، ملکی سلامتی اور مُلک کی معاشی ترقی کا گھنٹہ گھر سمجھتا تھا اور اُن جے گھنٹہ گھر کو مسمار کرنے کی کوشش اُن کو برداشت ہی نہ تھی تو ایوب خان کی پروپیگنڈا مشینری دن رات زوالفقار علی بھٹو کو ہندؤ کی اولاد، ہندؤ کا ایجنٹ اور تو اور اُسے ہندوستانی شہری بتانے میں جُت گئی

نومبر 1967ء سے پہلے جب تک پیپلزپارٹی کے قیام کا اعلان نہیں ہوا تھا، اُس وقت تک اگر آپ اخبارات و رسائل کے آرکائیوز دیکھیں بھٹو پر بھولے سے بھی یہ الزام نہیں سامنے آتا

بھٹو فاطمہ جناح کے خلاف نازیبا الزام لگاتا رہا
بھٹو صدر ایوب خان کا پولنگ ایجنٹ تھا

کمبائنڈ اپوزیشن جس کی فاطمہ جناح متفقہ امیدوار تھیں، فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کے دوران کسی ایک جماعت کے سربراہ کا پریس میں. بیان نہیں ملتا جس میں ہلکا سا اشارہ موجود ہو کہ بھٹو فاطمہ جناح کے بارے میں بَدزبانی کا مرتکب ہورہا ہے

مائی فاطمہ جناح کے خلاف ایوب خان کے دیے گئے اشتہارات کے اخباری تراشے مل سکتے ہیں تو پھر بھٹو کی پریس کانفرنسوں کا ریکارڈ کہاں گُم ہوگیا؟

اس تفصیل سے ہمیں یہ صاف پتا چل جاتا ہے کہ فاطمہ جناح کے خلاف جنسی الزامات اور ایوب خان کے پولیٹکل ایجنٹ ہونے کی کہانی بعد میں گھڑی گئی

جب یہ کہا جاتا ہے کہ کنونشن لیگ سے لیکر نواز لیگ تک اور ایسے ہی ق لیگ سے لیکر انصاف تک سب جماعتیں آمریت کی پیداوار ہیں یا جماعت اسلامی سمیت فلاں فلاں جماعت آمریت کی حامی رہی ہیں تو پھر حقیقت واقعہ سے ہٹ کر من گھڑت بات سامنے لائی جاتی ہے

“پی پی پی بھی آمریت کی پیداوار ہے کیونکہ بھٹو اسکندر مرزا کی کابینہ کے کم عمر وزیر تھے”

یہ دلیل اُس وقت درست ہوتی جب پی پی پی کے چیئرمین بننے کے بعد بھٹو ایوب خان کی کابینہ کا حصہ ہوتے اور پی پی پی کنونشن لیگ ساتھ کھڑے ہوجاتے

پیپلزپارٹی کا چیئرمین بھٹو ایوب شاہی کا سب سے بڑا مخالف اور مغربی پاکستان میں ایوب شاہی کے کرتوت کو عوام میں بے نقاب کرنے والا تھا

دوسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان سے مولانا بھاشانی کی نیپ اور مغربی پاکستان سے پی پی پی فقط دو جماعتیں تھیں جنھوں نے ایوب شاہی سے مذاکرات کرنے کی بجائے نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگایا اور یہی وجہ ہے کہ ایوب خان نے جب اقتدار چھوڑا تو اُس نے اقتدار اسپیکر قومی کو دینے کی بجائے ایک اور جرنیل یحییٰ خان کو اقتدار پر قبضہ کروایا

اب زرا یہاں رُک جائیں اور چند سوالات اٹھالیں

جنرل یحییٰ نے اپنا وزیراطلاعات کسے بنایا تھا؟

دو قومی نظریہ کہ تھیوری مطالعہ پاکستان میں کون لایا؟

اور جنرل یحییٰ اور جماعت اسلامی کے درمیان تعلقات کیسے تھے؟

(اور یہ بھی سوال اٹھائیں کہ مشرقی پاکستان میں کون سی جماعت کی مسلح پراکسی تنظیمیں جرنیل شاہی کا تزویراتی بازو بنی تھیں؟ اور کس قدر وہ بنگالی انٹلیجنٹیسیا کے قتل عام میں ملوث تھے؟ کیا بنگلہ دیش کے شیخ مجیب سے لیکر شیخ حسینہ واجد تک کسی ایک رہنماء نے ذوالفقار علی بھٹو کو بنگلہ دیش کا زمہ دار قرار دیا؟)

ایوب خان کے دور کی غالب اسٹبلشمنٹ اور جنرل یحییٰ کی غالب اسٹبلشمنٹ دونوں کی دونوں کنٹرولڈ پریس میں ذوالفقار علی بھٹو کی کردار کُشی کرتی ہیں جبکہ یحییٰ خان کے زمانے کی عسکری اسٹبلشمنٹ جماعت اسلامی کے ساتھ عسکریت پسندانہ تزویراتی اتحاد قائم کرتی ہے اور اُس کی طلباء تنظیم کے نوجوانوں کی دہشت گرد ملیشیائیں البدر اور الشمس قائم کرتی ہے اور پھر جنرل ضیاء الحق کے دور میں جہادی پراکسی کو افغانستان اور کشمیر کے لیے اور وسعت دی جاتی ہے

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یحییٰ خان کی عسکری اسٹبلشمنٹ اپنا وزن دائیں بازو کی جماعتوں کے حق میں ڈالے ہوئے تھی اور وہ چاہتی تھی کہ الیکشن کا رزلٹ ایسا ہو کہ دائیں بازو کے بغیر کوئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ ہو اور یحییٰ خان کو صدر بنانے اور اسٹبلشمنٹ کے کردار کو برقرار رکھنے کے لیے دو بڑی پارٹیوں کو مجبور ہونا پڑے

اگر زیادہ گہرائی میں جاکر دیکھا جائے تو آپریشن جبرآلٹر کی جس اجلاس میں تیاری کی گئی اُس میں زوالفقار علی بھٹو کبھی نہیں بیٹھے تھے

ایسے ہی مشرقی پاکستان میں مارچ 1971ء کو آپریشن سرچ لائٹ کا آغاز بھی یحییٰ خان رجیم نے خود کیا اور پوری وار سٹریٹجی فوج کی اپنی ترتیب دی ہوئی تھی

پاکستان پیپلز پارٹی کی خوش قسمتی یا بدقسمتی کہہ لیں کہ اس نے اپنے قیام کے وقت سے لیکر آج تک چار آمروں کے ادوار دیکھے اور کسی آمر کے ساتھ تعاون نہیں کیا- ہاں اس نے جب جب جمہوریت بحالی کے سوال پر آمر کو مجبوری میں مذاکرات کی میز پر آنا پڑا تو اس نے بہت بالغ نظری سے یہ بات واضح کی کہ

آمریت ختم ہو، جمہوریت بحال ہو اور سیاسی و شہری آزادیاں بحال ہوں تو وہ فوج کی باآسانی بیرکس میں واپسی اور اُن کا اپنا کام کرنے کے لیے راستا ہموار کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے

پی پی پی اداروں کی دُشمن نہ کبھی بنی نہ اُسے ایسا کوئی شوق ہے بلکہ اس نے اداروں کا وقار بحال کروایا

ذوالفقار علی بھٹو اور اُس کی پارٹی عوام میں جس محبت اور مقبولیت کی سزاوار ٹھہری، اُس نے اپنے تئیں بائیں بازو کے بہت سارے مارکس و لینن و چی گیورا کے دل میں حسد کی آگ بھڑکائی، اور بہت سارے دائین بازو کے قائدین جو آیت اللہ خمینی بننے کے خواب دیکھ کر سوتے تھے اُن کا دل غصے سے بھردیا

ذوالفقار علی بھٹو سرمایہ داروں، ملاؤں، بڑے بڑے پرانے جاگیردار – پیر-وڈیرہ، سول و ملٹری کے سازشی بابوشاہی ٹولے کی نفرت کا مشترکہ مظہر تھا اور ان سب طبقات نے اپنی آمریت پسندی، طالع آزمائی، اشرافیت، عوام دشمنی چھپانے کے لیے بھٹو کے چہرے پر ہر عیب مَلنے کی کوشش کی اور آج تک یہ کوشش جاری و ساری ہے اور اسی کا نام بھٹو دشمنی یا اینٹی بھٹو کیمپ ہے

بھٹو نواز کیمپ وہ ہے جو بھٹو فیلیا(عشق) میں مبتلا ہے اور بقول مرحوم ڈاکٹر فیروز یہ عوام کا بھٹو ہے جو تاریخی حقیقتوں کے ساتھ ساتھ عوام کے اپنے آدرشوں /آئیڈیلز /خوابوں کی تجسیم بھی ہے- اس بھٹو فیلیا کو اخبار کی سرخیاں، ٹی وی چینلز کی ہیڈلائنز یا ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے سے ختم نہیں کیا جاسکتا

بھٹو کے عشق کو ختم کرنے والی قوتوں کے پاس بھٹو کے عشق میں مبتلاء غریب عوام کی اکثریت کو “امید” دلانے والا پروگرام نہیں ہے، اُن کے ہاتھوں میں یا تو آمریت کا عَلَم ہے یا پھر نامعلوم سے ملا جیت کا جعلی نوٹیفیکشن جو عوام کے ووٹوں کی توھین کرتا ہے، اسی لیے عوام بھٹو فیلیا سے دست بردار نہیں ہوتے