Featured Original Articles Urdu Articles

کچھ ربط بے ربط باتیں – عامر حسینی

محترمہ فاطمہ جناح لیاقت علی خان سے خفا تھیں، جب اُن کا قتل ہوگیا اور مُلک میں خواجہ ناظم الدین ربر اسٹمپ وزیراعظم بن گئے، گورنر جنرل غلام محمد مرزا نے اُس کے بعد جب اسکندر مرزا کے مارشل لاء لگانے تک جو کردار ادا کیا، اُس بارے محترمہ فاطمہ جناح کے خیالات کیا تھے؟

کیا انھوں نے کبھی سویلین بابو شاہی اور فوجی بیوروکریسی کے باہم گٹھ جوڑ اور حکمران لیگ کے سیات دانوں کی اُن کے پیچھے لگ جانے کی روش پر کوئی بات کی تھی؟

محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کے درمیان سخت اختلافات تھے اور یہ انتہائی ناپسندیدگی کیا اُن کے درمیان سویلین بالادستی کے کاز پر متحد ہونے میں روکاوٹ بن گئی تھیں؟

جس وقت جنرل ایوب نے اسکندر مرزا کو نکال کر باقاعدہ فوجی مارشل لاء لگایا تو کیا محترمہ فاطمہ جناح نے اس اقدام کی مذمت کی تھی؟

یہ کہا جاتا ہے کہ ابتداء میں محترمہ فاطمہ جناح نے جیسے غلام محمد کی طرف سے اسمبلی توڑنے کے اقدام پر انھوں نے ردعمل نہ دیا، ایسے ہی مارشل لاء کے بارے میں انھوں نے آغاز میں کوئی ردعمل نہ دیا، بعد ازاں ایوب رجیم سے اُن کی ناراضگی بڑھتی رہی

محترمہ فاطمہ جناح کے ہاں ہمیں پاکستان بننے کے ساتھ ہی جو پنجابی-مہاجر سویلین و فوجی افسر شاہی اور سیاست دانوں کے درمیان پہلے گٹھ جوڑ اور پھر باہمی رسا کَشی اور اس کے نتیجے میں لیاقت علی خان کا قتل تک جو واقعات رونما ہوئے اُن پر بھی فاطمہ جناح کی کوئی بڑی سیاسی پوزیشن سامنے نہیں آئی تھی-

دیکھا جائے تو مختلف خیالات و رجحانات کی حامل اپوزیشن جماعتوں کو ایوب خان کے خلاف ایک پاپولر عوامی طاقتور شخصیت کی تلاش تھی، اُس وقت ایسی مقبول شخصیت اگر کوئی ہوسکتی تھی تو وہ فاطمہ جناح کی تھی جسے ایسٹ و ویسٹ دونوں پاکستان میں یکساں طور پر ہمدردی حاصل تھی – تو اپوزیشن نے کسی نہ کسی طرح محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب کے خلاف الیکشن لڑنے کے لیے راضی کرلیا-
یہ الیکشن ایوب خان کے لیے انتہائی مُشکل ثابت ہوا-

مجھے یہ جاننے میں دلچسپی رہی ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں انتخابی کمپئن کے دوران کن ایشوز پر بات کی؟

اس کمپئن کے دوران ایوب رجیم نے سرکاری اور غیر سرکاری پروپیگنڈا میڈیم کے زریعے محترمہ فاطمہ جناح کی ذاتی زندگی کو اسکینڈلائز کیا، اُن پر بالواسطہ ملک دشمنوں سے اتحاد بنانے کی تہمت لگائی اور اُن کے خلاف پوری طاقت سے مذھبی پروپیگنڈا بھی کیا-

مولانا مودودی کی جماعت اسلامی، دیوبندی جماعت جے یو آئی(مفتی محمود)، مشرقی پاکستان سے مولوی فرید کی پارٹی نظام اسلام یہ متحدہ اپوزیشن جو 9 سیاسی جماعتوں کا اتحاد تھا کا حصہ تھیں نے ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کو “کم نقصان دہ اور کم بُرا” انتخاب قرار دیکر حمایت کی-

اس حمائت میں محلاتی سازشوں میں شریک سابقہ حکمران مسلم لیگ کے کھڑپینچ ممتاز دولتانہ جن پر لیاقت علی خان کے قتل کی سازش کرنے کا الزام بھی تھا اور حسین شہید سہروردی کا راستا روکنے والے خواجہ ناظم الدین جو خود بھی بعدازاں زلیل کرلے نکالے گئے شامل تھے-

بائیں بازو اور قوم پرست رجحانات کا مجموعہ جن میں نیپ بھاشانی اور نیپ ولی خان گروپ دونوں شامل تھے

مولانا بھاشانی پر یہ الزام ہے کہ وہ چینی اشارے پر اندرون خانہ ایوب سے مل گئے تھے-

الغرض کل تک حکمران مسلم لیگ کے ایوب خان کے زمانے راندہ درگاہ ہوئے جاگیردار، سردار اور خان اور اُن سابق حکمرانوں سے غداری، مَلک دشمن کا فتوی سینے پر سجائے بائیں اور دائیں کے سیاست دان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے تھے

ایوب خان کو بھی پنجاب، سندھ، بلوچستان اور صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے کئی جاگیردار، صنعت کار اور اشراف گھرانوں سے تعلق رکھنے والوں کی حمایت حاصل تھی- جبکہ سرکاری کنٹرول میں موجود میڈیا اور بکے ہوئے مالکان اخبارات بھی ایوب خان کو مدد دے رہے تھے جن میں سیٹھ ہارون خاندان کا ڈان میڈیا گروپ بھی تھا-

محترمہ فاطمہ جناح کی کھل کر حمایت نوائے وقت کررہا تھا اور دیگر کچھ نیوز پیپرز بھی کررہے تھے-

ایوب خان کی کابینہ میں اُس وقت نوجوان زوالفقار علی بھٹو بطور وزیرخارجہ موجود تھے اور کنونشن مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری بھی

زوالفقار علی بھٹو کو زرا اندازہ نہ ہوگا کہ ایک سال بعد یعنی جون 1966ء کو وہ ایوب خان سے الگ ہوجائیں گے اور پہلے وہ بائیں بازو کی نیپ ولی خان میں جانے کی کوشش کریں گے اور پھر بھاشانی کی نیپ میں، دونوں سے ناکامی کے بعد وہ جے اے رحیم کی نئی پارٹی بنانے کی تجویز مان جاتے ہیں-