Featured Original Articles Urdu Articles

کیا ابتدائی اسلامی تاریخ کا زکر کرنا بھی توھین کے زمرے میں داخل ہوگیا ہے؟ – عامر حسینی

آج ایک اردو قومی روزنامے کی تمام اشاعتوں میں پہلے صفحے پر ایک خبر کی شکل میں اعتذار/معذرت چھپی ہوئی ہے

یہ معذرت قومی اخبار نے اپنے اخبار میں اسلام کی پہلی صدی ھجری میں چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور کے واقعات کا زکر ایک کالم میں آجانے پر اپنے قارئین جن کی دل آزاری ہوئی سے کی ہے- اخبار کی ادارے کی جانب سے خبر کے آخر میں لکھا ہے کہ پہلی صدی ھجری میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے درمیان اختلافات کا زکر نہیں کرنا چاہیے

میں نے اخبار میں چھپا وہ کالم بعنون ‘اسلام کا نظام ریاست’ مکمل پڑھا ہے-اُس کالم میں صاحب مضمون نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے جن واقعات کا زکر کیا وہ واقعات من و عن احادیث اور ابتدائی اسلامی تاریخ کی مستند کُتب میں اسناد حسن کے ساتھ موجود ہیں

اور جن خیالات کا اظہار صاحب مضمون نے کیا وہ خیالات جمہور علمائے اہلسنت، سُنی محدثین، مفسرین، مورخین اور جمہور سُنی فقہھا نے اپنی معروف کُتب میں بیان کردیے ہیں- لیکن اس کے باوجود وہ کُون سے قاری تھے جن کی ابتدائی اسلام کی سن 35 ھجری تا 40 ھجری (شہادت خلیفہ رابع امام علی علیہ السلام) کی اسلامی تاریخ کے بیان سے دل آزاری ہوئی

اہلسنت کے جمہور علماء و مشائخ کا یہ عقیدہ کبھی نہیں رہا کہ وہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کے تذکرے کو ہی توھین قرار دے ڈالیں نہ انہوں نے کبھی یہ پوزیشن اور موقف اختیار کیا کہ پہلی صدی ھجری میں بعد از وصال رسول اللہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے درمیان جو سیاسی، سماجی، فقہی معاملات میں اختلافات واقع ہوئے اُن اختلافی مسائل میں کس کا موقف اقرب الی الحق ہے اور کس کا بعید از حق ہے، اس کا تعین توھین یا گستاخی ہے بلکہ انھوں نے یہ کہا کہ سیاسی و سماجی و فقہی مسائل میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا اختلاف جو ہوا، اس میں اکثر معاملات میں حق کس طرف تھا معلوم ہے جبکہ چند معاملات میں وہ قطعی یا طاقتور ظنی دلیل سے حق کس طرف تھا معلوم نہیں ہوتا

جمہور علماء اہلسنت و مشائخ عظام نے اختلاف مابین صحابہ کرام میں کئی ایک معاملات میں حق اور ناحق کا فیصلہ صادر کیا لیکن اُس کی بنیاد پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا ادب، احترام تَرک کرنے کو بدعت و گمراہی قرار دیا- اور جہاں حق نہیں تھا اُس کیمپ میں موجود صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی ذات پر طعن زنی کرنے سے منع کردیا اور اس کا سبب اہلسنت کے نزدیک نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے

مثال کے طور پر جمہور علمائے اہلسُنت و مشائخ عظام کی متفقہ اقرب الاجماع یہ رائے ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم چوتھے خلیفہ راشد تھے اور اُن سے خلافت پر یا قصاص پر لڑنے والے غلطی پر تھے اور وہ امام برحق و جماعت سے لڑائی کے مرتکب ہوئے تھے

حضرت معاویہ ابن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں جمہور اہلسنت کا مذھب کُتب متداولہ میں شایع ہے اور تمام دیوبندی و بریلوی سُنی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے- لیکن اُن کی صحابیت کا احترام ہر سُنی پر فرض ہے اگرچہ جمہور اہلسُنت سے ہٹ کر جہاں ایسے سُنی موجود ہیں جو حضرت علی علیہ السلام کی خلافت پر اجماع کے منکر ہیں اور وہ حضرت معاویہ ابن ابی سفیان رض کی حضرت علی سے لڑائی کو درست مانتے ہیں وہیں سُنی علماء و مشائخ میں ایسے لوگ بھی اقلیتی طور پر موجود ہیں جو تفضلیہ ہیں اور حضرت علی کے مقابلے میں آنے والے ہر شخص کے مقابلے سکوت کو ترک کردیتے ہیں، یہ دونوں گروہ جمہور علما و مشائخ اہلسنت کے موقف سے دور ہیں

جبکہ ایک اقلیتی گروہ ایسا ہے جو مشاجرات صحابہ میں سرے سے کوئی موقف اور پوزیشن ہی نہیں اختیار کرتا- اور اُس کا رجحان درجات صحابہ (اولین و سابقین، فتح مکہ سے پہلے اور بعد والے) بارے میں بھی مبہم ہے اور ان میں جو مائل بہ ناصبیت ہیں وہ حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت معاویہ ابن ابی سفیان کے درمیان شعوری یا غیرشعوری مطابقت و ہم آہنگی دکھاتے ہیں اور درجات کا جو نظام قرآن، احادیث و تواریخ متداولہ سے جمہور اہلسنت نے اخذ کیا ہے اُس سے انحراف کرتے ہیں

اس گروہ کا رویہ مابین المسالک ہم آہنگی کی نفی کا ہے اور یہ گروہ چاہتا ہے کہ پاکستانی سماج میں فرقہ وارانہ فسادات بپا ہوں

یہ گروہ پاکستان کے اندر جاری مقتدر طاقتوں کی باہمی کشاکش میں اور 80ء کی دہائی سے شروع ہونے والے جہادی پروجیکٹس اور مابعد سوویت یونین سے پوسٹ نائن الیون اپنی حامی مُلکی، علاقائی اور بین الاقوامی لابیوں کے بَل بوتے اتنا طاقتور ہوگیا ہے کہ اب یہ جنوبی ایشیائی تکثریت اور کمپوزٹ کلچر سے بننے والی فضا کو ہی غیر اسلامی، توھین، گستاخی کے زمرے میں لے آتا ہے اور یہ اپنے تکفیری و ناصبیت مائل کلامیہ/ڈسکورس کو اتنا دباؤ والا بنا چُکا ہے کہ اس نے اپنے کلامیے میں کئی ایسے بیانیے

 

Narratives

کو مین سٹریم کردیا ہے کہ اُس کے مقابلے میں جو مذھب، مذھبی تاریخ بارے جمہور سُنی اسلام کا ڈسکورس اور اُن کے اندر بیانیے بری طرح سے مارجنلائزڈ ہوئے ہیں

یہی وجہ ہے کہ ابتدائی اسلام کی تاریخ پر جو سُنی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان متفقہ ماخذ تاریخ ہیں جن میں سب سے پہلے تاریخ طبری ہے جو بعد میں لکھی گئی سب تواریخ اسلام کا سب سے بنیادی ماخذ ہے- اُن میں پہلی صدی ھجری کی تاریخ کو حیلے بہانوں سے پہلے رد کرنے کی کوشش ہوئی اور اب اُس کا تذکرہ توھین کے زمرے میں آنے لگا ہے

یہی معاملہ صحاح ستہ اور دیگر متفق مجموعہ احادیث اہلسنت میں بیان اور محفوظ پہلی صدی ھجری کی اسلامی تاریخ کا تذکرہ بھی مشکوک بنانے کا رجحان پھر زندہ ہورہا ہے

یہ پہلی صدی ھجری کے مسلمانوں تاریخ بارے خود اہلسُنت میں موجود متنوع بیانیے اور تعبیرات

Diversified narratives and interpretations

کو ختم کرکے یک نوعی بیانیہ اور یک خطی تعبیر پر مبنی ڈسکورس کو مسلط کرنے کا رجحان ہے

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ فروعات فقہ میں جدیدیت، لچکداری

Modernity and flexibility in Islamic Jurisprudence

کے ساتھ سامنے آنے والے غامدی جیسے کیسے اسلام کی ابتدائی تاریخ کے باب میں کٹھ ملاں، یک خطی و بے لچک مائل بہ ناصبیت نظر اتے ہیں اور دوسرے کسی نکتہ نظر کے لیے جان ہی نہیں چھوڑتے

پاکستان میں اہلسُنت کے ہاں صدیوں سے ابتدائی تاریخ اسلام بارے چلے آرہے متنوع بیانیوں کے سمندر کو ایک تنگ ندی بنانے کی یہ کوشش ہمارے پورے سماج کی بنیاد “صلح کُلیت

Peace for all

کے لیے ہلاکت انگیز ثابت ہورہی ہے

ابتدائی اسلام کی تاریخ پر متنوع اور لچک دار بیانیوں کا ڈسکورس جنوبی ایشیا کے شیعہ اور سُنی مسلمانوں کو اتنے بڑے خون آشام المیوں سے دوچار ہونے سے بچاتا آیا ہے جیسے تاریخ وسط ایشیا اور عرب کے باسیوں کے دوچار ہونے بارے ہمیں بتاتی ہے- اگرچہ جب جب یہ متنوع بیانیوں کا ڈسکورس پیچھے دھکیل کر یک نوعی اور یک خطی بیانیے کا ڈسکورس آیا، اس نے کافی خون خرابہ کروایا