Featured Original Articles Urdu Articles

منور حسن اور این ایس ایف – حسن جاوید


منور حسن صاحب کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر کئی تعزیتی پیغامات میں یہ بات تواتر سے دہرائی گئی کہ وہ اسلامی جمعیت طلبا سے منسلک ہونے سے قبل این ایس ایف کے صف اوّل کے رہنما تھے اور اس کی کراچی تنظیم کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ یہی بات کسی تحقیق کے بغیر بی بی سی جیسے موقر نشریاتی ادارے نے ۲۶ جون کو اپنی ویب سائیٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں شامل کی۔

 

https://www.google.co.uk/amp/s/www.bbc.com/urdu/amp/pakistan-53189387


دراصل مکمل برخلاف حقیقت اس دعوے کی بنیاد خود منور حسن صاحب مرحوم کے اپنے ویب پیج پر ایک زمانے میں موجود یہ بیان ہے


‏Syed Munawwar Hasan joined the National Students Federation (NSF) – a student body with leftist leaning – and was elected its President in 1959.


ان دعووں کی روشنی میں یہ ضروری ہے کہ حقائق کا تعین کیا جائے


سوال نمبر ۱۔ کیا منور حسن صاحب این ایس ایف سے وابستہ رہے؟


جواب- منور حسن صاحب جب میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج ناظم آباد میں مزید تعلیم کے لئے داخل ہوئے تو انہوں نے این ایس ایف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ این ایس ایف کے ابتدائی دور کے رہنما حسین نقی صاحب جو منور حسن صاحب کے ناظم آباد نمبر تین میں پڑوسی بھی تھے، اور کراچی یونیورسٹی میں ان کے ہم عصر بھی، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اسی سال وہ کالج کی تعطیلات میں پشاور اپنے بڑے بھائی کے پاس گئے جو اس وقت اسلامی جمعیت طلبا سے وابستہ تھے، پشاور سے واپسی پر وہ خود بھی جمعیت سے منسلک ہوگئے۔


سوال نمبر ۲- کیا منور حسن ۱۹۵۹ء میں این ایس ایف کراچی کے صدر تھے؟


جواب۔ نہیں۔ کیونکہ پہلی بات یہ کہ ۱۹۵۹ء میں این ایس ایف صرف کراچی تک ہی محدود تھی اور اس کی علیحدہ مرکزی اور کراچی کی تنظیمیں نہیں تھیں۔ صرف ایک ہی تنظیم تھی جس کے صدر ڈاؤ میڈیکل کالج کے سینئر طالب علم شیر افضل ملک تھے جو ۱۹۵۷ء میں دوسرے کونسل سیشن میں منتخب ہوئے تھے۔ اسی سال مارشل لا کے احکامات کے تحت این ایس ایف پر پابندی لگ گئی جو ۱۹۶۲ء تک جاری رہی۔ پابندی اٹھنے کے بعد شیر افضل کی جگہ جمیل صدیقی کو عبوری صدر اور شفیع ادبی کو عبوری جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔ ۱۹۶۳ء میں تیسرے کونسل سیشن میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے باقر عسکری صدر اور جوہر حسین جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔


دوسری بات یہ کہ ۱۹۵۹ء میں منور حسن کی عمر صرف ۱۵ سال تھی اور اس عمر میں یہ ناممکن ہے کہ وہ این ایس ایف جیسی تنظیم کے مرکزی صدر منتخب ہوں۔


تیسری بات حسین نقی صاحب کا یہ دو ٹوک موقف ہے کہ منور حسن این ایس ایف کے صدر تو کجا، کسی بھی تعلیمی ادارے کے یونٹ سیکریٹری تک نہیں رہے۔ ان کی این ایس ایف سے وابستگی صرف چند مہینوں پر محیط تھی۔


نوٹ: اس تحریر کا مقصد صرف ریکارڈ کی درستگی ہے، کسی کی توصیف یا تضحیک قطعی نہیں۔