Original Articles Urdu Articles

پاکستان اسٹاک ایکسیچینج پر حملہ اور شہری مراکز کا ردعمل – عامر حسینی

سوشل میڈیا پر پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے کے بعد ایک رجحان یہ بنا کہ اس حملے کی ذمہ داری مبینہ طور پر چونکہ بی ایل اے نے قبول کرلی ہے تو وہ لوگ جو جبری گمشدہ بلوچوں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں یا ماورائے عدالت قتل پر آواز اٹھاتے ہیں یا بلوچستان کی سرزمین کے وسائل کے استعمال کے طریقے پر آواز بلند کرتے ہیں، وہ سب کے سب اس حملے کے زمہ دار ہیں

اگر اس رجحان کا تنقیدی جائزہ لیں تو اس رجحان کا مقدمہ یہ بنتا ہے

بلوچستان میں جبری گمشدگی، ماورائے عدالت قتل، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، غربت، احساس محرومی، مرکز کا نوآبادیاتی طرز عمل، سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیز کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی جیسے تمام امور پر آواز اٹھانے کا مطلب بلوچستان کے نام پر سویلین، افواج پاکستان، سیکورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز، غیر بلوچ مزدور اور دیگر غیر بلوچ ملازمین پر دہشت گرد حملوں اور ہلاکتوں کی حمایت کرنا ہے اور اس کا دوسرا مطلب بھارت اور اُس کی انٹیلی جنس اہجنسی راء کا ایجنٹ ہونا ہے

بلوچ، پشتون،سندھی،سرائیکی، گلگتی بلتی اور کشمیری(پاکستانی کنٹرول میں رہنے والے) عوام اپنے حقوق کی مانگ جب کرتے ہیں، مرکز کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں اور وہاں پر سیکورٹی فورسز و ایجنسیوں کے مبینہ غیرقانونی و غیر آئینی حربوں پر آواز بلند کرتے ہیں تو اس کو دہشت گردوں کی حمایت سے جوڑ دیا جاتا ہے

یہ وہی منطق ہے جو مودی سرکار اپنے زیر قبضہ کشمیر میں حقوق کی بازیابی کی جنگ لڑنے والے کشمیری عوام کے باب میں اپنائے ہوئے ہے

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اذیت رسانی اور سنسر شپ کے خلاف جب مرکز دہلی یا دیگر ہندوستانی علاقوں سے دانشور، سیاسی ورکر، ادیب، طالب علم رہنماء، مزدور رہنماء جب آواز بلند کرتے ہیں تو مودی سرکار اُن کو دیش دروہیوں کے حامی، باغی، دہشت گردی کے حامی، ملک دشمن اور غدار کہہ کر اُن کے خلاف کاروائی کرتی ہے- ارون دھتی رائے سمیت ابتک درجنوں ہمدوستانی غیر کشمیری ادیبوں اور دانشوروں کو کشمیر، منی پور، چھتیس گڑھ، تری پورہ سمیت کم از کم 12 ریاستوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اُن ریاستوں میں چل رہی حقوق کی بازیابی کے لیے تحریکوں کو کچلنے کے خلاف آواز اٹھانے پر اُن کو ان ریاستوں میں متشدد اور مسلح کاروائیاں کرنے والے رجحان کا حامی قرار دیا جارہا ہے

بلوچ، پشتون،سرائیکی،سندھی،گلگتی بلتی، کشمیری عوام کے حقوق کی بازیابی کے لیے اور وہاں پر ریاستی اداروں کے جبر کے خلاف جاری پُرامن جدوجہد کا مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر بلیک آوٹ کرنے کی کوشش اور اُس جدوجہد کے حق میں پاکستان کے اربن علاقوں سے اٹھنے والی آوازوں کو دہشت گردی کی حامی بناکر پیش کرنے کا رحجان پنجاب اور مرکز سے ان اقوام کو اور دور کرے گا- اور یہ دوری وفاق پاکستان کے خلاف علیحدگی پسند پرتشدد رجحان کے لیے ہمدردیاں اور حمایت کو جنم دے گا- ان اقوام میں وفاقیت کے حامی مزید مشکلات کا شکار ہوں گے

ہمارے کئی عزیز ترین بلوچ دوست جو کَل تک اردو میں لکھ رہے تھے، آج اردو کو تیاگ کر بس صرف بلوچی میں لکھنے تک محدود ہوگئے ہیں- اور وہ بجا طور پر شکوہ کناں ہیں کہ پاکستان کے اربن علاقوں میں اور پنجاب سے بلوچ قوم کے ساتھ پیش آنے والے جبر وزیادتی کے واقعات پر وہ ردعمل نہیں آتا جو کَل پی ایکس پر دہشت گردانہ حملے کے بعد دیکھنے کو ملا

یہ جبر و دہشت گردی کے ایک جیسے واقعات پر

Selective Rage

اور حقوق کے مطالبے و جبر کے خاتمے پر احتجاج کی دہشت گردی کے ساتھ برابری یعنی

 

False Binary

ہے جس سے حالات سدھرنے کی بجائے خراب ہوگی