Original Articles Urdu Articles

پروفیسر عرفانہ ملاح : ہم شرمندہ ہیں – عامر حسینی

پروفیسر عرفانہ ملاح کا مولویوں کے ایک گروہ کے بلاسفیمی ھتیار سے بچنے کے لیے دوسرے گروہ کے مولویوں سے مدد لینا اور اُن کے حضور اپنے عقیدے کی صفائی دینا اس کلیشے کی دھجیاں اڑا گیا ہے کہ سندھ کی دھرتی پر ملائیت کے خلاف مضبوط محاذ موجود ہے

ایک نڈر ترقی پسند، روشن خیال بائیں بازو کی سندھی استاد رہنماء کو ملاؤں کے من گھڑت فتوؤں اور توھین کے جعلی الزامات کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں شکستہ لہجے اور کپکپاتی و روہانسی آواز میں ملاؤں کے لکھے بیان صفائی کو ملائیت کے دربار میں پڑھنا پڑا، ریکارڈ کرانا پڑا اور پھر اُسے جنونی ملاؤں کے ہاتھوں فاتحانہ انداز میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے دیکھنا پڑا

سب سے تکلیف دہ امر یہ ہے کہ یہ سب اُس صوبے میں ہوا جہاں پر پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور جہاں پر سندھ اسمبلی میں سردار علی شاہ سمیت قریب قریب بیس سے زیادہ ایسے اراکین ہیں جو خود کو ترقی پسندی کی علامت بتلاتے نہیں تھکتے

پی پی پی بطور جماعت سندھ میں بروقت عرفانہ ملاح کے خلاف بلاسفیمی کے نام پر راشد سومرو اور اُس کی جماعت کی بلیک میلنگ کو روکنے کے لیے کوئی اقدام اٹھانے میں ناکام رہی

سندھ حکومت جس سے عرفانہ ملاح نے تحفظ مانگا تھا، تحفظ نہ دے سکی

سندھ کی قوم پرست سیاسی جماعتیں، سندھی ترقی پسند بائیں بازو کے حلقے اور سندھ بھر کے ترقی پسند صحافی، ادیب، دانشور، کراچی کے بڑے بڑے ترقی پسند نام یہ سب کے سب ڈاکٹر عرفانہ ملاح کے گرد ایک محاذ کھڑا کرنے میں ناکام ہوگئے

سندھ لیکچرر ایسوسی ایشن سمیت سندھ بھر کی اساتذہ تنظیموں کی طرف سے عرفانہ ملاح کا دفاع نہ کیا جاسکا

لاہور، اسلام آباد، یورپ اور امریکہ میں تشریف فرما لبرل اشراف بین الاقوامی برادری کو سینسٹائز نہ کرسکے

ویمن ایکشن فورم کی شاخیں سوائے پریس ریلیز جاری کرنے کے اور کچھ نہ کرپائیں

میں بایاں بازو کے ترقی پسند اور لبرل کیمپ کو الزام تراشی کی زد میں نہیں لارہا بلکہ صرف یہ توجہ دلانے کی کوشش کررہا ہوں کہ نوبت بہ ایں جا رسید کہ دایاں بازو کا ملائیت ونگ اب اسقدر طاقتور ہے کہ وہ ہر مزاحتمی آواز کے خلاف بلاسفیمی کارڈ آسانی سے کھیل لیتا ہے اور ایک گروہ مولویان یہ کارڈ کھیلتا ہے تو دوسرا اس کے مقابلے میں جان بچانے کی شرط یہ رکھتا ہے کہ آئیندہ کسی مذھبی جبر کا شکار گروہ یا فرد کے لیے آواز نہیں اٹھانی

ہم سب ڈاکٹر عرفانہ ملاح سے سخت شرمندہ ہیں، ہم بحثیت معاشرہ ہی ناکام ہوگئے ہیں- سندھ رجعت پسندوں اور مذھبی ٹھیکے داروں کے آگے ڈھیر ہوگیا ہے

پاکستان میں مذھبی فاشزم کے خلاف ایک وسیع تر عوامی فرنٹ قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے جو مذھبی جبر کی یر ایک شکل کے خلاف گراس روٹ لیول تک مزاحمتی محاذ تشکیل دے

میں نے دی پیپلز وائس پر جب ڈاکٹر عرفانہ ملاح کی ویڈیو دیکھی تو آواز کے بھرائے ہونے اور انتہائی کمزور لہجے کو سُن کر…

Posted by Muhammad Aamir Hussaini on Saturday, June 27, 2020