Original Articles Urdu Articles

نتاشہ احمد: کابل میں دہشت گردی کا ایک اور شکار – عامر حسینی

افغانستان کے شہر کابل میں ایک کار کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے نتیجے میں “آزاد تنظیم برائے انسانی حقوق افغانستان” کے دوملازمین شہید ہوگئے

ان میں ایک کام نام نتاشہ احمد تگا جس کی عمر 22 سال تھی، وہ بیک وقت پانچ زبانوں پر عبور رکھتی تھی اور دو ماسٹرز ڈگریوں کی حامل تھی

نتاشہ کی والدہ نے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ سے ٹوئٹس کیے

میں اپنی بیٹی کی موت کی زمہ دار ہوں- میں نے اُسے واپس ملک میں آنے کو کہا- میں نے اُسے کہا کہ افغانستان کو اُس کی ضرورت ہے میں کیسے اپنے آپ کو معاف کر پاؤں گی

میری بیٹی کسی بھی ایسے آدمی سے کہیں زیادہ غربت میں پروان چڑھی جو غربت کے سبب دہشت گردی اور نفرت کا انتخاب کرسکتا تھا- وہ کیوں سراپا محبت و زندگی تھی؟ وہ ایک غریب ملک کے مہاجر بچے کے طور پر انتہائی مشکل وقت میں ایک غریب گھرانے سے تھی- اُس کے قاتلوں کی یہ غربت والی منطق یہاں کیسے کام کرسکتی ہے

جب میری بیٹی نتاشہ کا جنم ہوا تو ہمارے پاس دایہ کو دینے کے لیے 500 دوپے بھی نہ تھے- وہ میری بیٹی کو میرے پاس میری ماں کے ہاں چھوڑ کر چلی گئی-غربت نے تو اُسے دہشت گرد نہیں بنایا-16 سال کی عمر میں وہ پانچ زبانوں پر عبور رکھتی تھی، 22 سال کی عمر میں اُس نے دو ماسٹرز ڈگریاں حاصل کرلی تھیں- وہ افغان-ترک اسکول میں پڑھی تھی، دہشت گردوں سے زیادہ دین اسلام کو سمجھتی تھی