Featured Original Articles Urdu Articles

علامہ طالب جوھری اور برصغیر شیعی سماجی-علمی روایت – عامر حسینی

علامہ طالب جوھری 21جون2020 بروز اتوار کراچی میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے- ان کے انتقال سے برصغیر پاک و ہند میں کلاسیکل اردو مجلس خوانی اور شیعی سماجی علمی روایت کا ایک بہت روشن باب ختم ہوگیا ہے

علامہ طالب جوھری 27 اگست 1939ء کو تقسیم سے قبل بہار کے شہر پٹنہ میں پیدا ہوئے(پٹنہ آج کل شوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کو لیکر ہندوستانی میڈیا کی خبروں میں بہت ہے)-ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی- ان کے والد مولانا محمد مصطفی جوہر بذات خود ایک بہت بڑے عالم دین تھے- اگرچہ علامہ طالب جوھری کے دادا حکیم محمد مسلم پیشہ کے اعتبار سے طبیب تھے اور ایک حکمت خانہ چلایا کرتے تھے

علامہ طالب جوھری کے والد 1895ء میں بہار کے قصبے بھاگل پور میں جنمے- انھوں نے ابتدائی تعلیم بھاگلپور کے ایک انگریزی میڈیم اسکول میں حاصل کی اور اس کے بعد وہ سلطان المدارس لکھنؤ پڑھنے کے لیے بھیج دیے گئے- جہاں سے انھوں نے علوم عقلیہ و نقلیہ پر عبور حاصل کیا-1923ء میں معروف شیعہ عالم مولانا محمد باقر نے پٹنہ بہار میں مدرسہ عباسیہ کے نام سے ایک بڑے مدرسے کی بنیاد رکھی جس میں دینی و دینوی علوم دونوں پڑھائے جاتے تھے- مولانا محمد باقر نے مولانا محمد مصطفی جوہر کو مدرسے کا نائب پرنسپل/نائب مدرس اعلی مقرر کردیا- اس طرح سے علامہ طالب جوھری کا خاندان ان کی پیدائش سے پہلے بھاگل پور سے پٹنہ بہار منتقل ہوگیا

مولانا محمد مصطفی جوہر کو جہاں شیعہ مذہب کے اصول و فروع پر عبور تھا،وہیں ان کو انگریزی ادب پر بھی کافی دسترس حاصل تھی- وہ مجالس عزا سے بھی خطاب کیا کرتے تھے- اور انہوں نے چند کتابیں بھی شیعہ اصول و فروع پر لکھیں- جبکہ ان کو فلسفہ،منطق اور حکمت میں بھی خصوصی شغف تھا

علامہ محمد مصطفی جوہر تقسیم ہند کے بعد 1951-54 کے درمیانی عرصے میں پاکستان کے شہر کراچی میں آکر بس گئے- اس وقت علامہ طالب جوھری کی عمر تیرہ سے چودہ سال کے درمیان ہوگی- اور کراچی میں آباد ہوجانے کے بعد علامہ طالب جوھری سرکاری اسکول میں داخل ہوئے اور ابتدائی تعلیم مکمل کی

شواہد و آثار یہ بتاتے ہیں کہ علامہ طالب جوھری 60ء کی دہائی میں عراق میں آیت العظمی السید محمد خوئی کے نجف اشرف میں واقع مدرسے میں پڑھنے گئے اور وہاں ان کے اساتذہ میں سب سے نمایاں آیت اللہ السیستانی اور آیت اللہ باقر الصدر تھے- اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ علامہ طالب جوھری اور ان کے والد علامہ محمد مصطفی جوہر نے اپنے آپ کو براہ راست سیاست میں ملوث کرنے سے گریز کا جو راستا اپنایا وہ راستا خود آیت اللہ علی السیستانی کا تھا-اور انہوں نے باقر الصدر کا راستا نہیں اپنایا

علامہ طالب جوھری نے اپنے والد کی حیات میں 70ء کے آخری عشرے میں مجالس خوانی شروع کردی تھی- کراچی میں مجالس خوانی میں ان دنوں علامہ رشید ترابی اور پھر علامہ عقیل ترابی کا توتی بولتا تھا۔ اور کراچی سمیت پورے سندھ اور ایسے ہی پنجاب میں جو امام بارگاہیں اردو اسپیکنگ سادات کے زیر انتظام تھیں، ان امام بارگاہوں میں لکھنؤ سے سید دیدار علی عرف غفران مآب کے دور سے عروج پکڑنے والی مجلس خوانی کا ڈسکورس ہی غالب تھا- مجلس کا آغاز تقریر سے ہوتا جو چار اجزا پر مشتمل ہوتی- پہلے توحید، پھر رسالت پھر اہل بیت اطہار اور اس کے بعد مصائب پڑھے جاتے تھے- اور آج تک اردو بولنے والوں کی امام بارگاہوں میں یہی طریقہ کار چلا آرہا ہے

علامہ طالب جوھری کے والد شیعہ مذہب کے اصولی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے- جسے ریاست اودھ اور ایسے ہی بہار میں لکھنؤ کے مولانا دیدار علی غفران مآب نے فروغ دیا تھا جو عراق جانے سے پہلے اخباری شیعہ تھے اور برصغیر میں عامۃ الناس میں یہی اخباری شیعیت ہی جاری و ساری تھی- مجلس خوانی میں بھی شعر خوانی غالب ہوا کرتی تھی-علامہ طالب جوھری بھی اسی روایت کے پیرو تھے

علامہ طالب جوھری سے پہلے کراچی کے آسمان پر علامہ رشید ترابی کی مجلس خوانی کا شہرہ تھا- شام غریباں کی مجلس جو وہ پڑھا کرتے وہ پاکستان ٹیلی ویژن پر براہ راست شایع ہوا کرتی تھیں- پھر ان کے بعد علامہ طالب جوھری کی مجلس خوانی کی دھاک عوام الناس کے دلوں پر بیٹھنا شروع ہوگئی- علامہ طالب جوھری مجلس عزا میں قرآن پاک کی عقلی و منطقی اعتبار سے ایسی تشریح فرماتے کہ مجمع عش عش کر اٹھتا تھا- وہ آغاز میں نکات تو حید قرآن کی روشنی میں بیان کرتے- پھر عقیدہ رسالت کو عقلی و نقلی دلائل سے سامنے لیکر آتے اور پھر قرآن اور محمد علیہ السلام سے اہل بیت اطہار کے تعلق و رشتے اور اللہ کے ہاں ان کے مقام کی وضاحت کرتے-اور آخر میں مصائب پڑھتے اور مجمع کی ہچکیاں بندھ جایا کرتیں

میں اور میرا ایک دوست عمیر عبداللہ جب کبھی چھٹیوں میں واپس گھر نہ جاتے اور عاشورہ کراچی مں منانے کا فیصلہ کرتے توہم دونوں باقاعدگی سے انچولی سوسائٹی کراچی کی امام بارگاہ جاتے جہاں دس دن کے لیے علامہ طالب جوھری خطاب فرماتے- میں اگر صوفی سنّی گھرانے کا نوجوان تھا تو عمیر عبداللہ دیوبندی سنّی گھرآنے سے تعلق رکھتا تھا- ہمیں طالب جوھری کی خطابت کا نشہ سا ہوگیا تھا- طالب جوھری کی تقریر میں اشاروں اور کنایوں میں نزاعات مابین شیعہ و اہلسنت بات ہوا کرتی تھی وہ قرآنی آیات، احادیث اور عقلی و منطقی دلائل لطیف پیرائے میں اپنے مسلک کے حق میں بیان کرتے تھے اور جب وہ ایسا کرتے تو ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور دبی دبی ہنسی کے ساتھ دماغ سے علامہ جوھری کی بات کو نکال دیاکرتے

بلاشبہ علامہ طالب جوھری کی مجلس خوانی نہ صرف شیعہ میں مقبول تھی بلکہ ہمارے جیسے اہلسنت کے کثیر افراد ان کی مجالس کو سننے آیا کرتے- اور علامہ نے کسی موقعہ پہ بھی شیعہ-سنی تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے- لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں تھا کہ وہ اتحاد و اتفاق کے نام پر اپنی شیعی شناخت اور اس کی پہچان نظریات کو بیان کرنے سے سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ اور یہی صلح کلیت کا جوھر ہے کہ اپنا مسلک چھوڑیں نہیں،دوسروں کا مسلک چھیڑیں نہیں

علامہ طالب جوھری نے واقعات کربلا کے بارے میں ایک کتاب ‘ حدیث کربلا’ کے نام سے قلمبند کی جو اردو زباں میں “کربلا ناموں” میں سب سے بڑی اور مقبول کتاب ہے- اس کے علاوہ انہوں نے قرآن پاک کی اردو تفسیر بھی لکھی جو کافی مقبول ہوئی- ان کی شاعری کی تین کتابیں “حرف نمو”،”پس افق” اور شاخ صدا شایع ہوئیں- ان کا کلام معروف ادبی جریدوں (فنون،ادب لطیف،مکالمہ) وغیرہ میں شایع ہوتا رہا

علامہ طالب جوھری 80 سال کی عمر میں کراچی میں رحلت فرماگئے- ان کی پھیلائی ہوئی افکار کی روشنی ان کی ہمیشہ یاد دلاتی رہے گی