Original Articles Urdu Articles

میاں ارشاد الحق: ایک چراغ اور بُجھا – عامر حسینی

 

رئیس فروغ نے کہا تھا

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

ابھی روزنامہ خبریں مُلتان کے ڈسٹرکٹ رپورٹر برادرم عدنان سعید سے بات ہوئی تو پتا چلا کہ میاں ارشاد الحق دنیائے فانی کو تیاگ گئے اور ہم سب کو اس جگہ اُن کا مرثیہ لکھنے کو چھوڑ گئے

اس خبر کو سُنکر میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے اور آواز بھرا گئی، مجھ سے مزید بات نہ ہوئی، میں نے انا للہ والی آیت پڑھی اور فون بند کردیا

یادوں کی پوٹلی کو اب کھولے بیٹھا ہوں، ایک بعد ایک یاد ہے جو آتی چلی جاتی ہے، دل دکھاتی ہے اور انسان کی بے بسی کا احساس دلاتی جاتی ہے- کیفی اعظمی نے کہا تھا

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

آخری بار میں نے میاں ارشاد الحق کو سول لائن میں اُن کے گھر کے سامنے کُرسی ڈال کر بیٹھے دیکھا تھا- میں اُن کے پاس رُکا، وہ خاصے کمزور دکھائی دے رہے تھے، آواز بھی بہت کمزور تھی اور لہجہ بھی دھیما تھا، سلام کیا تو جواب دیا اور بس اتنا کہا، حسینی! اب تو بہت کم نظر آتے ہو

اُس ملاقات کے بعد آج اُن کے مرنے کی خبر آگئی یعنی مرگ یوسف کی خبر سچی نکلی اور مصلے پر بیٹھی بیبیوں کی مناجات تقدیر مبرم کے سامنے ہار گئیں

میں جہاں گردی کے بعد جب واپس خانیوال آیا اور مجھے اپنے والد کی بیماری میں اُن کے کاروبار کی دیکھ بھال کرنا تھی، اس دوران اور کچھ تو ہوسکتا نہیں تھا میں نے اپنی ذہنی تسکین اور اپنے شوق قلم نگاری کی تشفی کے ساتھ ساتھ شام کی بیٹھک کے لیے تلاش شروع کی تو ایک ٹھکانا تو پیپلز کالونی میں پروفیسر ضیغم شمیروی صاحب کا گھر تھا لیکن وہاں حاضری رات کے نو بجے ہوتی اور پروفیسر صاحب کی پیرانہ سالی کے سبب ایک گھنٹے بعد اٹھنا پڑتا تو دوسرا ٹھکانا مرکزی جامع مسجد چوک میں استاد گپّی(غفار عرف غفی) کے برف کے بیٹھے کے گرد جمی محفل ہوا کرتی- شعیب الرحمان مرحوم اس مجلس کی جان ہوا کرتے تھے اور اُن کے ساتھ روز کی حاضری بھرنے استاد شاعر قدیر طاہر، طاہر نسیم، شمس القمر قاسمی مرحوم، کبھی کبھار چلے آنے والے ممبر بلدیہ سیٹھ شیخ خلیل مرحوم، اکثر و بیشتر آنے والے اکرام القادری اور پھر قمر رضا شہزاد، ملک عطا شہزاد ایڈوکیٹ بھی یہیں آیا کرتے تھے-عطا شہزاد اُن دنوں نیشنل بینک غلہ منڈی برانچ میں کام کرتے تھے- یہ رات گئے تک کی سنگت کا ٹھکانہ تھا- میں شام کو عصر سے کچھ پہلے ہی کاروبار دنیا نمٹا لیتا تو درمیان کے وقفے میں ادھر اُدھر گھومتا پھرتا رہتا تھا

ایسے ہی ایک دن میں نے سوچا کہ کالم نگاری شروع کی جائے-چودھری ادریس سابق صدر کاتب یونین نوائے وقت سے زکر کیا تو انھوں نے مجید نظامی سے بات کی اور روزنامہ نوائے وقت ملتان میں لیل و نھار کے نام سے میں نے کالم نگاری شروع کردی- ابھی میرے درجن بھر کالم ہی چھپے تھے کہ میرا میاں ارشاد الحق سے ملنے کا سبب بن گیا- میرا روز کا معمول تھا کہ سبزی منڈی سے فارغ ہوکر گیارہ بجے شہر خانیوال کی واحد نیوز ایجنسی کہچری بازار جاتا اور اخبارات و رسائل لیتا، میری ڈاک بھی ایجنسی کے پتے پر آیا کرتی تھی- ایک دن جب میں طاہر نیوز ایجنسی پر پہنچا تو ایک نوجوان لڑکا میرے پاس آیا اور کہا، آپ کو میرے والد بُلارہے ہیں- اُس نے جانبِ شُمال سڑک کے دوسری جانب بنی ایک دُکان کے کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا- میں اخبارات و رسائل کا بنڈل بغل میں دبائے دُکان کی طرف چلا-دُکان کے شٹر کے اوپر بڑا سا کرکے نیلے رنگ سے ‘فیروز پور جنرل اسٹور کہچری بازار’ لکھا ہوا تھا- اور دکان کے ایک طرف بورڈ لگا ہوا تھا “میاں ارشاد الحق نامہ نگار نوائے وقت”

کاؤنٹر کے دوسری طرف کُرسی ڈال کر بیٹھی ہوئی شخصیت میاں ارشاد الحق کی تھی اور مجھے بُلانے والا نوجوان لڑکا اُن کا فرزند عمیر تھا

میاں ارشاد الحق نے میرے کالموں کی تعریف کی اور مجھے کہا کہ میں اُن کے پاس آیا جایا کروں

میں نے اپنے والد سے میاں ارشاد الحق کے بارے میں زکر کیا تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ اُن کے والد میاں عبداللہ بی اے فیروز پور مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے آئے تھے اور خانیوال شہر کے چند مٹھی بھر گریجویشن افراد میں سے ایک تھے- جماعت اسلامی پاکستان کے ابتدائی کارکنوں میں سے تھے اور سید ابوالاعلیٰ موددی کے قریبی ساتھی تھے- روزنامہ نوائے وقت کے تحصیل خانیوال کے پہلے نامہ نگار تھے اور انجمن صحافیان خانیوال و پریس کلب کے بانی صدر تھے- نہایت ایماندار اور ثالثی میں نیک شہرت رکھتے تھے اور اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پنچائت میں فریقین کے پاانی کے بھی روادار نہ تھے اور جب دور دراز جانا ہوتا تو اپنا کھانا ساتھ باندھ کر لے جاتے تھے-اُن کی سچائی اور دیانت و امانت کا ایک زمانہ گواہ تھا

وہ صحافیوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جو نظریاتی وابستگی کی چادر پر موقعہ پرستی اور کمرشل ازم کا داغ لگنے نہیں دیتے تھے

میرے والد کا سیاسی تعلق پہلے پہل آزاد پاکستان پارٹی سے بنا اور پھر جب پی پی پی بنی تو وہ اس کے بانی رُکن بنے لیکن اپنے مذھبی رجحان کے سبب جب اُن کو اُن کے مرشد سید ولی محمد حسینی نقشبندی خلیفہ مجاز امیر ملت محدث اعظم پیر جماعت علی شاہ علی پوری نے کہا کہ یہ جماعت اسلام کی مخالف اور الحاد پرست نظریہ سوشلزم کی حامی ہے تو انہوں نے پی پی پی کی بنیادی رکنیت کا کارڈ جس پر (شہید) زوالفقار علی بھٹو کے دستخط تھے پھاڑ دیا اور ان کے بقول گھر باقاعدگی سے آنے والے ماہنامہ نصرت اور روزنامہ مساوات کو بند کردیا اور اُس کی جگہ وہ افریشیا، چٹان، روزنامہ آفتاب اور روزنامہ کوہستان ملتان و روزنامہ نوائے وقت لینے لگے تھے- میرے حوالے انھوں نے 70ء کی دھائی کے اینٹی پی پی پی ان اخبارات و رسائل کی فائلز کیں- یہ ایک بیش بہا ریکارڈ ہے- وہ جمعیت علمائے پاکستان کے رکن بن گئے جسے خادم کہا جاتا تھا کیونکہ میرے والد کے سب چچا زاد اور تایا زاد بھائی بھی جے یو پی میں تھے اور یہ سب بعد ازاں 1970ء اور پھر 1977ء کے انتخابات میں جے یو پی اور پھر پی این اے کے سرگرم کمپئن کرنے والے رہے

پی این اے کی تحریک میں میرے والد کے پی این اے میں شامل پی ڈی پی (نوابزادہ نصراللہ)، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام – مفتی محمود، جمعیت اھل حدیث- علامہ احسان اللہی ظہیر، مسلم لیگ- خان عبدالقیوم گروپ کے خانیوال کے کارکنوں اور عہدے داروں سے تعلقات پیدا ہوئے- روزنامہ آفاق لاہور کے اُس زمانے میں نمائندے صدیق پراچہ مرحوم تھے جو پی ڈی پی کے سرگرم کارکن تھے اور میرے والد کے کلاس فیلو بھی تھے اور میاں ارشاد الحق جو جماعت اسلامی کے رکن تھے سے اُن کے تعلقات بن گئے- بعد ازاں میاں ارشاد الحق اپنے والد کی وفات کے بعد روزنامہ نوائے وقت کے نامہ نگار بن گئے

میاں ارشاد الحق کے ہم عصر صحافیوں میں جن لوگوں کی نیک نامی آج بھی لوگوں کی زبان پر ہے ان میں عبدالواحد قادری ایڈوکیٹ(پاکستان ٹائمز)، شاہد قادری ( روزنامہ مساوات)، شام جعفری (روزنامہ جنگ)، مہر اشرف سیال( پہلے ڈیلی ایوننگ سٹار کراچی، پھر ڈیلی فرنٹئر پوسٹ پشاور، ڈیلی_ ٹائمز لاہور) ثاقب قریشی(روزنامہ مساوات) شامل تھے- یہ سارے لوگ خانیوال میں تقسیم کے بعد کی صحافت میں دوسری نسل سے تعلق رکھتے تھے- اور نظریاتی طور پر دائیں اور بائیں اطراف کے تھے

میاں ارشاد الحق کے پاس میں اکثر وبیشتر بیٹھا کرتا تھا اور ان کے ہاں باقاعدگی کے ساتھ حاضری دینے والوں میں شیخ نصیر، شمس القمر قاسمی تھے

میں کالم نگاری اور سیاست دونوں ساتھ ساتھ کررہا تھا-اکثر پی پی پی کے بیانات بنایا کرتا اور میاں صاحب کو دیتا تو وہ نہ صرف اخبار کو بھجواتے بلکہ کئی بار فون بھی کردیا کرتے اور اگلے روز دو کالمی، تین کالمی خبر شایع ہوجایا کرتی-میاں صاحب جب کبھی سیاسی ڈائری بھیجنے لگتے تو کبھی کبھار مجھے لکھ کر دینے کو کہہ دیتے، میں حسب معمول پی پی پی کا حصہ زیادہ کردیتا تو ڈائری دیکھتے اور پڑھ کر ہنسنے لگتے اور پھر میرے سامنے ڈاک کے لفافے میں اُسے بند کرتے اور اپنے بیٹے عمیر کو کہتے بھیج دو

اکثر کہتے کہ تمہارے والد نے کیسے تمہیں بائیں بازو اور پی پی پی کی طرف جانے دیا؟ اور کبھی اُن سے معاملہ خراب نہیں ہوا؟ میں برجستہ کہتا کہ جب میرے والد کو میرے بائیں سمت والے بزرگ دائیں سمت جانے سے نہ روک سکے تو مجھے وہ کیسے روک سکتے تھے؟ ایک دن میں میاں صاحب کی دکان پر بیٹھا تھا کہ والد محترم وہاں سے گزرے تو میاں صاحب نے اُن کو آواز دی تو وہ دکان پر آگئے- میاں صاحب نے مذاق مذاق میں والد سے پوچھ ہی لیا، کہنے لگے ایک نقشنبدی مجددی صوفی گھرانے میں سوشلسٹ حسینی کیسے پیدا ہوا تو والد نے کہا میرے کچھ بزرگوں سے بھی لوگ یہی سوال یوں پوچھا کرتے تھے کہ کانگریسی سوشلسٹوں کے ہاں نقشبندی مجددی کا جنم کیسے ہوا؟

پھر میرے والد نے میاں صاحب کو بتایا کہ یہ جب کراچی سے لوٹ کر آیا تو اس نے گھر میں اوپر والی منزل کے ایک کمرے کو اپنے نشست و آرام کی جگہ بنایا-اور وہاں بڑی بڑی پوٹریٹ ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو، شاہنواز بھٹو کی لگائیں اور ساتھ ساتھ کارل مارکس کی پوٹریٹ بھی لگائیں- میں نے انجان بنکر اس پورٹریٹ بارے پوچھا تو کہنے لگا” یہ اندلس کے ایک بڑے صوفی کی تصویر ہے” میں نے اسے بتایا کہ ہاں یہ وہی صوفی ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا ” دماغتش کافر است و دل او مومن است” تو یہ شرمندہ سا ہوگیا- میں نے کہا بیٹا تمہارا اٹھنا بیٹھنا جس اعظم خان، بلال خانزادہ، چوہدری ظفر اقبال، منیر کامریڈ وغیرہ کے ساتھ ہے یہ سب کے سب اس شہر کے بایاں بازو کے معروف کارکن ہیں اور میں ان سب سے اچھے سے واقف ہوں

میاں ارشاد الحق نے ایک دن مجھے بتایا کہ پی این اے کی تحریک کا جو حشر ہوا، اور پھر بعد ازاں بحالی جمہوریت کی تحریک بعد دائیں اور بائیں دونوں طرف موقعہ پرستی اور کمرشل ازم کی جو تحریک چلی، اُس نے نظریاتی طور پر کمٹمنٹ کے پکے کارکنوں کو ایک جیسی صورت حال سے دوچار کیا-دائیں بازو کا سچا کارکن تھا یا بائیں کا دونوں کا ہی خالص مال ملاوٹی مال کے مقابلے میں شکست کھاگیا- کمرشل ازم حاوی ہوگیا

غلام شہباز بٹ نے اپنی وال پر چند اشعار لکھے ہیں؛

ہر گھڑی چشم خریدار میں رہنے کے لیے
‏کچھ ہنر چاہئے بازار میں رہنے کے لیے

‏میں نے دیکھا ہے جو مردوں کی طرح رہتے تھے
‏مسخرے بن گئے دربار میں رہنے کے لیے

‏اب تو بدنامی سے شہرت کا وہ رشتہ ہے کہ لوگ
‏ننگے ہو جاتے ہیں اخبار میں رہنے کے لیے

میں میاں ارشاد الحق کی یہ بات سُنکر سوچ میں پڑا اور میں نے دیکھا کہ واقعی اس چھوٹے سے شہر میں بھی دائیں اور بائیں کے گنے چنے سیاسی کارکن، وکیل، صحافی میر تقی میر کے اس شعر کی تصویر بنے پھرتے ہیں

پھرتے ہیں میر خوار، کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

سیاست، صحافت اور وکالت یہ تینوں ہر صورت میں ہر طریقے سے مال بنانے اور اوپر والے طبقے میں چھلانگ لگانے کا نام ہوگئی اور جنھوں نے اس راستے میں حائل ہونے کی کوشش کی وہ دیوار سے لگادیے گئے

میاں ارشاد الحق انجمن صحافیان خانیوال و پریس کلب کے پلیٹ فارم کا نام بدلنے پر کبھی راضی نہیں ہوئے- یہاں تک کہ جب مجھ سمیت چودہ افراد نے لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کی رُکنیت کے لیے رٹ دائر کی تب بھی میاں ارشاد الحق اپنی رائے پر قائم رہے- امتیاز علی اسد، انجم بشیر، اشرف گادھی، خالد حسنین یہاں تک کہ اشرف سیال کا خیال تھا کہ ہم ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے اندر بیٹھ کر موقعہ پرستی اور کمرشل ازم کے خلاف لڑائی لڑ سکیں گے- اور ہائیکورٹ کے حُکمنامے سے ہم ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے ممبر بن بھی گئے اور ایک موقعہ تو ایسا آیا ہمارے تین ساتھی (بشمول میرے) ڈسٹرکٹ پریس کلب کا الیکشن جیتے اور ایگزیگٹو باڈی میں بیٹھ گئے اور آج جب میاں ارشاد الحق اس دنیا سے چلے گئے ہیں تب بھی معاملات میں کوئی سدھار نہیں آیا بلکہ جو میاں صاحب سے یہ کہہ کر الگ ہوئے تھے کہ سدھار لائیں گے اُن میں سے کئی ایک تو بگاڑ لانے والوں کے گروپوں میں جونیئر بنکر بیٹھے ہوئے ہیں اور کئی ایک خود نمک کی کان میں نمک ہوگئے ہیں

میں جب ایک انٹرنیشنل خبر رساں ایجنسی سے وابستہ ہوا اور لکھنے پڑھنے کے سلسلے میں شہر سے باہر زیادہ رہنے لگا تو میاں ارشاد الحق سے میری ملاقاتیں بہت کم رہ گئی تھیں- میاں صاحب کی خبریں مجھے برادرم عدنان سعید سے ملتی رہتی تھیں جن کا میاں صاحب سے اکثر وبیشتر ملنا ہوا کرتا تھا

سچی بات یہ ہے کہ میاں ارشاد الحق، اشرف سیال اور شان جعفری جو خالص مال بیچنا چاہتے تھے وہ نئے آنے والوں کے نزدیک ازکار رفتہ اور ایکسپائر ہوگیا تھا

شوکت ہمارے ساتھ عجب حادثہ ہوا
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

میاں ارشاد الحق کے نیک نام ہم عصر ساتھی ایک بعد ایک چلے گئے اور اب وہ اُس نسل کے خانیوال میں آخری چراغ تھے-اختر نظمی کا شعر ہے

اب نہیں لوٹ کے آنے والا
گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا

میاں ارشاد الحق اب کبھی لوٹ کر نہیں آنے والے مگر انہوں نے جو اقدار صحافت کی دنیا میں قائم کیں وہ آج بھی میرے جیسوں کے لیے مشعل راہ ہیں- پروفیشنل ازم دیانت داری، اصول پسندی کے بغیر کمرشل ازم میں بدل جاتا ہے اور صحافتی ہنر داغدار ہوجایا کرتا ہے- اس بات کی پرواہ آج بہت کم صحافی کرتے ہیں، میاں ارشاد الحق ایسے ہی تھے