Featured Original Articles Urdu Articles

شہید بے نظیر بھٹو کا سیاسی ورثہ – عامر حسینی

محترمہ بے نظیر بھٹو شھید کو سالگرہ مبارک ہو

تریپن سال کی زندگی میں شہید بے نظیر بھٹو 5 جولائی 1977ء کے بعد میدان سیاست میں اتریں اور چار اپریل 1979ء کے دن سے پہلے گھر پر نظر بند ہوئیں اور پھر سنٹرل جیل سکھر اور ایسے ہی کراچی کی جیل بھگتی- گیارہ سال کے دور آمریت میں اُن کی والدہ،خود اُن کی جان لینے کی کوشش ہوتی رہی اور اُن کے چھوٹے بھائی شاہنواز بھٹو کو پیرس میں آمر ضیاءالحق کے قاتل ہرکاروں نے مار ڈالا

بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے بھٹو کی پھانسی کے بعد پی پی پی کی سنٹرل کمیٹی کے کہنے پر پارٹی قیادت سنبھالی، اگرچہ بیگم نصرت بھٹو اعلانیہ چیئرپسن تھیں اور بی بی شہید غیر اعلانیہ شریک چیئرپرسن

دونوں ماں اور بیٹی کا کارنامہ یہ تھا کہ دونوں نے جنرل ضیاءالحق کی تمام تر اشتعال انگیزی اور افتراپردازی کے کبھی جنرل ضیاء کی ان خواہشوں کو پورا نہی‌ں ہونے دیا تھا

پی پی پی عدم تشدد پر مبنی سیاسی راستا ترک کردے

وہ وفاقی پارلیمانی جمہوری سیاست کی بجائے علیحدگی پسند قوم پرست جماعت بن جائے

آمر ضیاء الحق اور اُس کے جرنیل حواریوں کے سب جرائم کا قصوروار فوج، عدلیہ اور سویلین انتظامیہ کو ٹھہرا کر اُن کے خلاف جنگ چھیڑ دیں

بھٹو شہید کے زمانے میں جو دوریاں اور رنجش سیاسی جمہوری جماعتوں سے پیدا ہوئی تھیں، اُن کو مزید گہرا کرتے ہوئے پی پی پی کو آمریت کے خلاف لڑائی میں تنہا کردے

لیکن بیگم نصرت بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو نے اپنی سنٹرل کمیٹی کے اکثر اراکین کی حمایت سےوفاق پرست پارلیمانی جمہوری سیاست اپنا طریق سیاست بنائے رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے تشدد اور عسکریت پسندی کا راستا نہیں اپنایا

جمہوریت پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا

لسانی و نسلی شاؤنزم کو اپنانے سے انکار کردیا

بندوق کی نالی کی بجائے عوام کی عدم تشدد پر مبنی اجتماعی جدوجہد پر ایمان کو تازہ کیا

شہید بے نظیر بھٹو کا طریقہ کار تھا جس کے سبب ایم آر ڈی وجود میں آئی اور ایم آر ڈی بننے کے ایک سال کے اندر جنرل ضیاء کو ملک میں ننگا مارشل لاء ہٹانا اور فوجی عدالتیں ختم کرنا پڑیں

ضیاء رجیم کے خلاف بے نظیر بھٹو نے جہاں مُلک کے اندر بڑے پیمانے پر نفرت و بے زاری عوام میں پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی، وہیں کامیاب حکمت عملی کے ساتھ اپنی جلاوطنی کے دو سالوں میں انھوں نے عالمی سطح پر ضیاء رجیم کو تنہا کردیا


چھ اپریل 1986ء میں لاہور میں بے نظیر بھٹو کا فقیدالمثال استقبال اُن کی جدوجہد کی کامیابی کے قریب پہنچنے کی سب سے بڑی نشانی تھا

اور اگر جنرل ضیاء 17 اگست کے روز 1988ء کو زمین و آسمان کے درمیان پھٹ نہ گیا ہوتا تو بھی وہ زلیل ہوکر اقتدار سے بہت جلد اکیلا ہوتا

بے نظیر بھٹو نے جنرل مشرف کے مارشل لاء کے خلاف ایک بار پھر وہی حکمت عملی اپنائی جو اُس نے ضیاءالحق کے خلاف اپنائی تھی

جمہوریت کی بحالی کے لیے انھوں نے اسٹبلشمنٹ کے سابق لاڈلے نواز شریف کی پارٹی کو نوابزادہ نصراللہ کے کہنے پر ساتھ ملاکر اے آر ڈی کی تشکیل کی

اس مرتبہ بھی ملک کے اندر بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی تو دنیا بھر کے اندر انھوں نے مشرف رجیم کی جعلی ترقی پسندی اور روشن خیالی کا پُول کھولا اور اپنی بہترین صلاحتیوں سے یہ انتظام کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مشرف کی حمایت سے دست بردار ہوجائیں اور مشرف اُن سے مذاکرات پر مجبور ہو

شہید بی بی کے مذاکرات میں اہداف تھے

مشرف وردی اتار دیں
سیاسی بنیادوں پر بنے مقدمات ختم کریں
سابق وزرائے اعظم پر الیکشن لڑنے کی پابندی ختم کریں

الیکشن ممکنہ حد تک شفاف ہوں

بے نظیر بھٹو شہید نے یہ سارے اہداف ایک لحاظ سے پورے کرلیے تھے اور ایک بار پھر خود کو لیجنڈ بالغ نظر سیاست دان ثابت کردکھایا

مشرف اور اُن کے طالع آزما حواری جرنیلوں نے بے نظیر بھٹو کی اس شاندار کارکردگی کا جواب کینے اور منافقت سے دیا اور پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے سامنے پی پی پی اور اے این پی کو چارہ بناکر ڈال دیا

بے نظیر بھٹو ناقص سیکورٹی اور مشرف کی سوچی سمجھی پالیسی کے سبب لیاقت باغ میں طالبانی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوگئیں

لیکن اُن کی شہادت کے بعد بھی اُن کے شریک حیات اور اُن کی وصیت کے مطابق بننے والے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری نے تمام تر اشتعال انگیزی اور اس ملک میں کھلا مارشل لاء یا صدارتی نظام کی آڑ میں آمریت کے تسلسل کو جاری رکھنے کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے اٹھارویں ترمیم پاس کرادی

اٹھارویں ترمیم اینٹی ون یونٹ تحریک سے لیکر اینٹی ایوب تحریک اور پھر اینٹی ضیاء و اینٹی مشرف تحریکوں کے سب سے بڑے آردش وفاق اور صوبوں کے درمیان متوازن اختیارات کی تقسیم اور وفاق پاکستان کے تجربے کو کامیاب تجربہ بناکر دکھانے کا ایک آئینی و قانونی زریعہ تھی اور ہے

بے نظیر بھٹو کا سیاسی کرئیر چالیس سالوں پر محیط تھا اور ان چالیس سالوں میں انھوں نے آمریت بشمول سخت گیر مرکزیت، صدارتی نظام اور علیحدگی پسندی کے سیاسی رجحانات کو مسترد کرتے ہوئے وفاقیت کے اندر مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کا توازن ممکن ہونے کی سیاست کی- یہ سیاست آج بھی پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا نصب العین ہے-اسی لیے وہ عمران خان اور غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کو بار بار یہ باور کرارہے ہیں کہ وفاق پاکستان کی بقاء کا ضامن 1973ء کا آئین ہے جس میں جنرل ضیاءالحق کی پیدا کردہ 80 فیصدی خرابیاں 18ویں ترمیم سے دور ہوچکی ہیں- اگر اس ترمیم کو ختم یا غیر موثر کرنے کی کوشش ہوئی تو اس سے وفاق کمزور ہوگا، کنفیڈریشن اور علیحدگی پسندی کے رجحانات طاقتور ہوں گے

بے نظیر بھٹو کی سیاست سے لاکھوں سیاسی کارکن سیاسی بلوغت کی منزل کو پہنچے اور انھوں نے فرقہ پرستی، لسانی و نسلی شاؤنزم سے ہمیشہ کنارہ رکھا اور وہ کبھی جہادی و فرقہ پرستانہ پراکسی نہیں بنے