Featured Original Articles Urdu Articles

اینٹی شیعہ سنڈروم – عامر حسینی

مباش در پی آزار و هر چه خواهی کن
که در شریعت ما غیر از این گناهی نیست

حافظ شیرازی

جو کام دوسروں کے لیے باعث آزار ہو اس سے دور رہ اور اس کے سوا جو چاہے کر
کیونکہ ہمارے قانون(شریعت) میں اذیت رسانی کے سوا جو بھی ہے وہ جرم(گناہ) نہیں ہے

بزرگوار سید طاہر زیدی واسطی نے آج صبح سویرے حسب عادت حافظ شیرازی کا یہ شعر فیس بک پر اپنی دیوار پہ نقش کیا تو مجھے لگا کہ آج میں جو لکھنے جارہا ہوں، اس کی شروعات کے لیے یہ ہی شعر بہت مناسب اور حسب حال ہے

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز –پمز اسلام آباد میں کوویڈ-19 سے صحتیاب ہونے والے ایک شخص نے اپنا پلازما ایک ایسے مریض کو دینے سے انکار کردیا جب اسے پتا چلا کہ مریض شیعہ(مسلمان) ہے- اس بات کا انکشاف اسلام آباد میں پلازما ڈونرز اور کوویڈ-19 کے انتہائی نازک صورت حال کا شکار مریضوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرنے والے سماجی رضا کاروں کے ایک گروپ ممبر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس بات کا انکشاف کیا

اس واقعے کی جیسے ہی خبر سوشل میڈیا کے زریعے وائرل ہوئی تو ایک بار پھر بہت سارے لوگوں نے اسے اپنی نوعیت کا واحد واقعہ قرار دینے کی کوشش کی- اور جب انسانی حقوق کے کئی ایک کارکنوں نے اس ضمن میں یہ کہا کہ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف منافرت ایک باقاعدہ سنڈروم میں بدل رہی ہے تو اس پر شدید ردعمل آیا

جن شیعہ مسلمانوں نے اپنی فیس بک وال پہ پوسٹ کی شکل میں یا ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹوئٹ کی شکل میں اس پر احتجاج کیا تو میں نے یہ دیکھا کہ ان پر فوری طور پر فرقہ پرست ہونے کا الزام دھر دیا گیا اور اس کے بعد ایسے کئی شیعہ مسلمان سوشل ایکٹوسٹ یہ وضاحت دیتے نظر آئے کہ ان کا مقصد کسی سنّی، دیوبندی یا غیر مقلد کے خلاف نفرت پھیلانا نہیں بلکہ معاشرے میں ایسے رجحانات کی طرف توجہ دلانا تھا

مذکورہ بالا واقعے پر شیعہ مسلمانوں کی احتجاجی پوسٹوں کو فرقہ پرستی قرار دینا یا ان کو مذہبی منافرت قرار دینا اور شیعہ مسلمان سوشل میڈیا ایکٹوسٹ میں سے کئی ایک کا اعتذار کی پوسٹ کرنا اینٹی شیعہ سنڈروم کے حقیقی ہونے کا ثبوت ہے

میرے اپنے تجربات و مشاہدات اس حوالے سے انتہائی تلخ اور اینٹی شیعہ سنڈروم کے حقیقی امر ہونے کی تصدیق کرتے ہیں

پاکستان بننے سے پہلے بھی شیعہ مسلمانوں کے خلاف بہت سے کلیشوں کو حقیقت سمجھا جاتا رہا- محرم میں شیعہ مسلمانوں کی جانب سے نیاز کے بارے میں پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے کہ شیعہ مسلمان سنّی مسلمانو ں بچوں کا خون اور اعضا نیاز کے چاول اور حلیم میں ملادیتے ہیں یا تھوک ملاکر سنّی مسلمانوں کو دیتے ہیں

ایسے ہی دسویں محرم کی شب مجالس شام غریباں کے بارے میں انتہائی واہیات اور دلخراش فحش باتیں حقیقت بناکر پیش کی گئیں اور یہ حقیقت ہے کہ صرف قدامت پرست سنّی گھرانوں میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تعلیم یافتہ شہری مڈل کلاس سنّی گھرانوں کے نوجوانوں کے اندر بھی ان سب افسانوں کو سچ سمجھا جاتا ہے-اور ہمارے معاشرے کے سنّی گھرانوں میں ایسے گھرانوں کی کمی نہیں ہے جہاں یہ نفرت باقاعدہ ذہنوں میں نقش کرائی جاتی ہے- اور مرکنٹائل شہری مراکز میں یہ اینٹی شیعہ سنڈروم بہت طاقتور انداز میں موجود ہے

پاکستان جن علاقوں پر مشتمل تھا ان میں اکثریت دیہی علاقوں پر مشتمل تھا- اور ان علاقوں کی اکثریت میں فرقہ واریت کے اثرات زیادہ نہ تھے جیسے اثرات ہم برصغیر کے اکثر مرکنٹائل شہروں کے اندر پاتے تھے اگرچہ کچھ علاقوں میں اینٹی شیعہ سنڈروم کے ابتدائی جرثومے ہمیں نظر آجاتے ہیں

جیسے خیرپور ریاست میں یہ سنڈروم موجود تھا- ایسے ہی سرگودھا ڈویژن میں سیال شریف کے سنّی پیر جاگیرداروں اور شیعہ پیر جاگیرداروں کی باہمی کشاکش کے سبب اس سنڈروم کے جراثیم ماقبل تقسیم ہی موجود تھے

ایسے ہی فاٹا، ہزارہ ڈویژن کے اندر بھی یہ کشاکش موجود تھی- لیکن پاکستان کے دیہی سماج میں عمومی طور پر شیعہ- سنّی سماجی ہم آہنگی اکثر جگہوں پر موجود تھی- ان میں باہم رشتہ داریاں عام بات تھی ایک دوسرے کی مذہبی تقریبات میں شرکت کا چلن تھا- کئی مساجد تو شیعہ اور سنّی مسلمانوں کی مشترکہ تھیں(آج بھی چیدہ چیدہ جگہوں پر ایسی مساجد موجود ہیں)

یہ دل خراش حقیقت ہے کہ پاکستان بننے کے بعد یو پی، سی پی ، ھریانہ و مشرقی پنجاب سے ھجرت کرکے آنے والوں نے فرقہ وارانہ سنڈروم کو پھیلانے کی کوشش کی اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف بہت سے کلیشوں کو سچ بناکر پیش کیا گیا- آگے چل کر اس سنڈروم کو پھیلانے میں کسی خاص نسل و زبان و علاقے کے لوگوں کا کردار ہی نہ رہا بلکہ یہ کثیر النسلی و کثیر القومی اینٹی شیعہ سنڈروم میں بدل گیا

خاص طور پر اسّی کی دہائی سے جو سعودی عرب نے ایران میں شیعہ اسلامی انقلاب کے خلاف جو عالمی اینٹی شیعہ اسلام پروجیکٹ شروع کیا اس کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے اس کو دیکھتے ہوئے پاکستانی جرنیلوں اور دائيں بازو کے بہت سے ملّاؤں نے اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے کا فیصلہ کیا

اس نے جنوبی ایشیا کے صلح کل اسلام کو نشانے پر رکھا اور اینٹی شیعہ سنڈروم اتنا شدید طور پر معاشرے میں سرایت کیا کہ جو صوفی سنّی مسلمان کہلاتے ہیں اور عام طور پر شیعہ مسلمانوں سے ہم آہنگ سمجھے جاتے ہیں میں بھی اس سنڈروم کے شکار ہوگئے اور اب تو لگتا ہے کہ ان کے علماء و مشائخ میں بھی چند ایک ایک منظم تنظیمی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں جیسے دیوبندی فرقے کے اندر ایک منظم اینٹی شیعہ سنڈروم کو فروغ دینے والا تنظیمی عنصر موجود ہے

اینٹی شیعہ مسلمان سنڈروم اصل ایک بڑے سنڈروم کا حصّہ ہے جسے ہم اینٹی جنوبی ایشیائی اسلام سنڈروم کہہ سکتے ہیں

اس سنڈروم کی کچھ علامتیں میرے اپنے تجربات ہیں-میں ان کو کلیہ نہیں بنارہا لیکن یہ ہمارے سماج میں موجود ہیں

میں نے اسکول کے زمانے میں اپنے نام کے ساتھ لفظ حسینی بڑھا لیا تو جو میرے خاندانی پس منظر سے ناواقف تھے ایسے سنّی(کیا بریلوی،کیا دیوبندی،کیا غیر مقلد)دیکھے جو مجھے شیعہ سمجھتے اور جب انھیں سنّی پس منظر کا پتا چلتا تو پھر سوال یہ ہوتا کہ لفظ حسینی کیوں لگایا ہوا ہے؟ کبھی کبھی تو میں ایسے سوالات پر کہہ بیٹھتا

کیا حسن، حسین، مہدی، جعفر و قاسم یہ نام شیعہ مسلمانوں نے پیٹنٹ کرالیے ہیں جو کوئی اور اسے استعمال نہیں کرسکتا؟

اور رفتہ رفتہ میں نے یہ دیکھا کہ محرم اور اس کی ثقافت کو بھی شیعہ مسلمانوں کی وراثت بتائی جانے لگی اور جنوبی ایشیاء کے سنّی مسلمانوں نے اس کی تزئین و آرائش اور اس ثقافت کو صلح کل بنانے میں بے مثال کام کیا وہ بھی نسیا منسیا کردیا گیا- اور یہ اینٹی شیعہ سنڈروم کے زریعے شیعہ مسلمانوں کو محرم میں ہی نہیں بلکہ باقی کے مہینوں میں بھی آئسولیٹ کرنے کی طرف تیزی سے سفر کرنے لگا

شیعہ مسلمانوں کی مارجنلائزیشن (کمتر بنائے جانے کا عمل)، ان کے خلاف عوام میں نفرت پھیلانے کا منظم و مربوط پروسس ایک حقیقت ہیں- اس سے انکار حقیقت بدل نہیں سکتا- کئی ایک ذہن اس سے پراگندہ ہوچکے ہیں اور یہ اینٹی جیوش سنڈروم اور سامی مخالف جیسا سماجی مظہر بن چکا ہے

شیعہ شناخت سنّی مسلمان اکثریت کے معاشروں میں ایک ٹیبو جیسی چیز بنتی جارہی ہے- یہ ایسا ممنوعہ موضوع بنتا جارہا ہے کہ اگر سنّی مسلمان عالم و اسکالرز اس کی خرابی واضح کریں تو ان پر بھی تہمت تشیع لگادی جاتی ہے- جیسے ڈاکٹر طاہر القادری ہیں، مفتی گلزار نعیمی ہیں- ہم نے دیوبندی عالم مولوی طارق جمیل کی طرف سے ایک شیعہ مسلمان عالم سے ملاقات اور مولی علی المرتضی کی شان میں تقریروں پر اپنے مسلک کے عقابوں کی شدید تنقید کا سامنا کرتے دیکھا ہے- اور کئی ایک قدامت پرست سنّی علماء کو ہم نے ان پر شیعہ ہوجانے کا فتوی لگاتے دیکھا

پاکستان میں شیعہ گیٹوز میں اضافہ ہورہا ہے- والڈ رہائشی کالونیاں جنم لے آرہی ہیں- مخلوط آبادی کا رجحان بھی کم ہورہا ہے

 

The Takfiri Khariji mindset mischaracterises Sunni Sufism as polytheism (shirk) and Shia Muslims as infidels (kafir). The same mindset which wants a COVID-19 positive Shia patient to die is also responsible for attacks on Sunni Sufi shrines and massacres of Sufi Pirs. It’s the same mindset that kills Sunnis such as Sabeen Mahmud, Sarfraz Naimi and Amjad Sabri and Shias such as Mohsin Naqvi, Sibte Jafar and Khurram Zaki.

Takfiris are a common enemy of Sunni and Shia Muslims as well as non-Muslims. Such sectarian bigots (including the one who refused to donate plasma to a COVID-19 patient) must be publicly named, shamed and prosecuted for their hateful words and deeds.

A Takfiri anti-Shia syndrome has been rooted deeply in our society. Muslim societies where Shias are in minority under Takfiri ideologies, spread stereotypes about Shia Muslims. These stereotypes have captured the minds of even those people who are highly educated and have well established upper-middle class origin.