Featured Original Articles Urdu Articles

وہ مرگیا تو ہم نے کون سا سدا رہنا ہے – عامر حسینی

طارق عزیز فوت ہوگیا، سب نے مرنا ہے- طارق عزیز کے مرنے کی ہمیں کوئی خوشی نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس کے خواہش مند تھے- لیکن طارق عزیز کے مرنے پر کئی ایک لوگوں نے اُن کا وہ امیج بلڈ کرنا شروع کیا جو کہ طارق عزیز کبھی تھا ہی نہیں

طارق عزیز ایک فنکار اور شاعر تھا-اُسے تحت اللفظ شاعری پڑھنے کا ڈھنگ آتا تھا اور اُس کی اپنے فن و شاعری کے سبب بہت جلد ہی پاکستان کے ادبی و فنی حلقوں میں جانا پہچان ہوگئی

یہ 60ء کی آخری دہائی چل رہی تھی جب طارق عزیز ڈرائنگ روم میں چائے کی پیالی پر ترقی پسندانہ گفتگو کرنے سے باہر نکل کر اُس سوشلسٹ انقلابی کے روپ میں سامنے آئے جب پاکستان پیپلزپارٹی وجود میں آگئی تھی اور عوامی مقبولیت کے ریکارڈ توڑ رہی تھی

طارق عزیز سوڈو سوشلسٹ انقلابی بنکر سامنے آئے اور زوالفقار علی بھٹو کے بولنے، چلنے، کپڑوں سے لیکر ہاتھ لہرانے تک کی نقل کرنے لگا- اور یہاں تک کہ بھٹو نے اُسے اپنے جلسوں کا نقیب بنا ڈالا

جنرل یحییٰ نے اُسے پی ٹی وی سے نکالا اور ایک سال قید بامشقت بھی سنائی

یہ 1971ء میں دیگر اسیران مارشل لاء کے ساتھ رہا ہوکر باہر آیا اور پھر بھٹو صاحب نے اُسے دوبارہ پی ٹی وی کی جاب دلوائی اور طارق عزیز نے اس زمانے میں سیاست کو چھوڑا ور مکمل طور پر پی ٹی وی کا ہورہا

پھر مُلک میں مارشل لگا اور ہم نے دیکھا کہ اس دور میں طارق عزیز نے ایک مذھبی لبادہ اوڑھا اور نیلام گھر شُو کو جنرل ضیاء الحق کی خواہشات کے عین مطابق بناکر رکھا، جنرل ضیاء الحق نے نیلام گھر کو “اسلامی اقدار” کا ناشر قرار دیا- طارق عزیز ضیاء الحقی جعلی اسلامائزیشن کا برانڈ ایمبیسڈر بن گیا تھا- اسے آئی ایچ برنی اور زیڈ اے سلہری کا مارشل لاء کا وائٹ پیپر عظیم صداقت لگتا تھا- یوں 11 سال “عظیم سوشلسٹ انقلابی” چین کی زندگی بسر کرتا رہا جب جمہوریت پسند کوڑے کھارہے تھے، پھانسی چڑھ رہے تھے- اور شاہی قلعے کے عقوبت خانوں میں پڑے سڑ رہے تھے- اُس زمانے میں ہمارا انقلابی جنرل ضیا کے انٹرویو کررہا تھا, اُسے ھیرو بناکر پیش کررہا تھا

پاکستان پیپلزپارٹی 1988ء میں برسراقتدار آئی تو اس نے بڑی کوشش بے نظیر بھٹو کے قریب آنے کی لیکن وہ ناکام رہا- یوں 1990ء میں طارق عزیز نے پی پی پی کی مخالفت میں دوبارہ سے باقیات ضیاءالحق سے رابطے میں آگیا، اور بھٹوز اور آصف علی زرداری سمیت پی پی پی کی دوسرے درجے قیادت کے خلاف لکھے لکھائے اسکرپٹ کو صحافت کے نام سے پیش کرنے لگا

طارق عزیز پی ٹی وی میں ضیاء الحقی ٹولے کے ساتھ ترقی پسند ملازمین کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوگیا، اسی سازشی کردار دیکھتے ہوئے پی پی پی کے دوسرے دور حکومت میں پی ٹی وی کی ایم ڈی رعنا شیخ نے طارق عزیز کو برخاست کردیا گیا

طارق عزیز نے برخاستگی کے بعد اپنی قلمی خدمات نواز شریف کو پیش کیں انھوں نے طارق عزیز کو شانگلہ ہل سے لاہور ہجرت کرکے ٹمپل روڈ پر واقع ایک ہندؤ کی چھوڑی جائیداد اپنے آپ کو مہاجر ظاہر کرکے نوائے وقت کا دفتر قائم کرنے والے مجید نظامی کے حوالے کردیا

نوے کی دہائی میں بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کی کردار کُشی اور اُن کے خلاف جھوٹے کرپشن کے مقدمات کو “ناقابل تردید” شواہد کہہ اپنے بغض اور کینے سے بھرے کالموں میں پیش کرتا رہا

ان کالموں کا مجموعہ بعد ازاں “داستان” کے عنوان سے کتابی شکل میں شایع بھی ہوا

یہ کالمز پیپلزپارٹی کے خلاف اُس بدترین میڈیا ٹرائل کے اہم نُکات کو بیان کرتے ہیں جو 94ء سے نومبر 96ء تک مسلم لیگ نواز کے پروپیگنڈا سیل سے اپنے کرائے کے کالم نگاروں، صحافیوں، رپورٹروں تک زرخرید میڈیا مالکان کے زریعے سے پہنچائے جایا کرتے تھے
نوائے وقت، دی نیشن، ہفت روزہ نوائے ملت انھی جیسے زرخرید اخباروں میں سے تھے- ادیب جاودانی ہو یا نذیر ناجی یا چوہان ہو یا نیازی ہو یا قاسمی یہ سب پیپلزپارٹی کی کردار کُشی کررہے تھے۔ ان میں طارق عزیز نیا اضافہ تھے- اور ان سب کے انچارج یا مسٹر گوئبلز پرویز رشید تھے

میں نے طارق عزیز کی کالم نگاری کے چند نمونے چُنے ہیں اُن کو پڑھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کس قبیل بلکہ کس قُماش کے آدمی تھے